The Chakwal

The Chakwal Discovering Chakwal : A Journey Through Heritage

بھون گاوں 1898 میں پیدا ہونے والے رائے بہادر موہن سنگھ اوبرائے (Rai Bahadur Mohan Singh Oberoi)  جو انڈیا میں ہوٹل انڈسٹ...
28/08/2026

بھون گاوں 1898 میں پیدا ہونے والے رائے بہادر موہن سنگھ اوبرائے (Rai Bahadur Mohan Singh Oberoi) جو انڈیا میں ہوٹل انڈسٹری کا عظیم نام امیر ترین انڈیا کے لوگوں کی فہرست میں شامل تھے۔
موہن سنگھ اوبرائے 1898 بھون گاوں عطار سنگھ کے ہاں پیدا ہوئے۔ عطار سنگھ ٹھیکیدار تھے پشاور میں۔ ابھی موہن سنگھ چھہ ماہ کے تھے کہ ان کے والد عطار سنگھ پشاور میں فوت ہو گئے۔ ایک کٹھن زندگی کا آغاز تھا والدہ نے اکیلے پرورش کی۔
موہن سنگھ نے ابتدائی تعلیم بھون گاوں سے حاصل کی پھر چکوال مذید تعلیم کے لیے گئے جہاں سے وہ راولپنڈی چلے گئے۔ راولپنڈی سے لاہور گئے معاشی حالات بہت تنگ تھے اپنے چچا کے گھر لاہور رہنے لگے لیکن کسی وجہ سے چچا نے اپنے گھر سے نکال دیا۔ لاہور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی۔
اوبرائے نے 1920 میں اپنے ہی گاؤں بھون کے شری اُشناک رائے کی بیٹی، اِشران دیوی سے شادی کی۔ سنہ 1922ء میں وہ طاعون کی وبا سے بچنے کے لیے شملہ گئے، جہاں انہوں نے صرف 50 روپے ماہانہ تنخواہ پر 'دی سِسِل ہوٹل' (The Cecil Hotel) میں بطور کلرک نوکری کی۔ یہ وقت تھا جب اوبرائے کی قسمت نے راستہ بنانا تھا۔ اس ہوٹل میں موہن سنگھ نے پوری محنت لگائے ایمانداری دیکھ کر ہوٹل مالک نے سارے ہوٹل کی مینجمنٹ موہن سنگھ اوبرائے کے حوالے کر دی اور خود کچھ عرصہ کے لیے کہیں چلے گئے واپسی پر جب ہوٹل کی آمدنی دکھائی گئی مالکان حیرت میں چلے گئے دوگنے سے بھی زیادہ ہوٹل نے کمایا ہے۔
اس محنت لگن اور ایمانداری سے مون سنگھ کو ہوٹل چلانے کا تجربہ ہو گیا جس سے انہوں نے اپنا پہلا ہوٹل کھولا اور اپنے ہی نام سے کامیابی سمیٹی نام بنایا مشہور ہوٹل بزنس کے مالک بن گئے انگریز ان کے قریب ہونے لگے۔ انگریز حکومت نے ان کو 'رائے بہادر' کا خطاب دیا۔
ایک کامیاب کاروباری شخصیت ہوٹل انڈسٹری میں ماہر موہن سنگھ نے اپنی ایمپائر بنانے کا سوچا اس سوچ کے ساتھ انہوں نے لاہور، راولپنڈی، مری، پشاور کلکتہ، شملہ، دہلی اور مختلف جگہ ہوٹل خریدنے شروع کر دیے اور یوں اوبرائے ہوٹل انڈسٹری کا نام بن گیا۔
1947 کے بعد اوبرائے گروپ کو ایک دھچکہ لگا کیونکہ کے ان کے کچھ ہوٹل پاکستان میں آگئے لیکن اوبرائے نے اسے نقصان نہ سوچا اس کے بدلے انڈیا میں مذید ہوٹل خریدے جن میں انڈیا کے بہت مشہور ہوٹل شامل تھے۔
ہوٹل انڈسٹری کے ساتھ ساتھ اوبرائے سیاست میں بھی کامیاب رہے بھارت کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے رکن رہے۔
انڈیا کے بعد اوبرائے گروپ نے دوسرے ممالک میں جانے کا فیصلہ کیا اپنی ہوٹل انڈسٹری کو دوسرے ممالک میں آزمانا چاہا دبئی، سعودیہ عرب، مصر، انڈونیشیا اور افریقہ کے کچھ ممالک میں ہوٹل بنائے اور کامیاب رہے۔ آج اوبرائے گروپ پوری دنیا میں مشہور ہیں۔
سال 2002 میں موہن سنگھ اوبرائے 103 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ ان کے دو بیٹے، تلک راج اور پرتھوی راج سنگھ، اور تین بیٹیاں، سوراج، راج رانی اور پریم تھیں۔ تلک راج کا انتقال 1984 میں ہوا، اور اوبرائے کی وفات کے بعد 2002 میں پرتھوی راج سنگھ اس گروپ کے چیئرمین کی حیثیت سے ان کی جگہ سنبھالی۔ اوبرائے کے بھتیجے برج راج اوبرائے جنہیں خود اوبرائے نے "ڈائمنڈ اوبرائے" کا لقب دیا تھا نے بھی ہوٹل انڈسٹری کی صنعت میں قدم رکھا اور ہمالیہ کے خطے میں کئی 'ہیریٹیج ہوٹلز' تاریخی طرز کے ہوٹل چلائے۔

بھائی پرمانند 1876 کریالہ گاوں بھائی تارا چند چھبڑ کے ہاں پیدا ہوئے ایک اہم ہندوستانی قوم پرست رہنما، سیاست دان اور آریہ...
27/08/2026

بھائی پرمانند 1876 کریالہ گاوں بھائی تارا چند چھبڑ کے ہاں پیدا ہوئے ایک اہم ہندوستانی قوم پرست رہنما، سیاست دان اور آریہ سماج کے کارکن تھے۔ بھائی تارا چند چھبر کا تعلق ایک ممتاز پنجابی موہیال برہمن خاندان سے تھا آریہ سماج تحریک کے ایک سرگرم مذہبی مبلغ تھے۔ ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہونے کی وجہ سے تعلیم کے ساتھ دوستی رہی ابتدائی تعلیم کریالہ سے حاصل کی۔ پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھائی پرمانند تاریخ کے استاد کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
اکتوبر 1905 میں پرمانند نے جنوبی افریقہ کا دورہ کیا اور ایک ویدک مبلغ کی حیثیت سے مہاتما گاندھی کے ساتھ قیام کیا۔ پرمانند نے 1910 میں گیانا کا دورہ کیا، جو کیریبین خطے میں آریہ سماج تحریک کا مرکز تھا۔ ان کے لیکچرز کی بدولت وہاں اس تحریک کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ 1911 میں، انہوں نے لالہ ہردیال سے ملاقات کی جب وہ مارٹینیک میں گوشہ نشینی کی حالت میں تھے۔ پرمانند نے ہردیال کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ امریکہ جائیں اور وہاں آریہ لوگوں کی قدیم ثقافت کے فروغ کے لیے ایک مرکز قائم کریں۔ ہردیال امریکہ روانہ تو ہوئے لیکن جلد ہی ہوائی (Hawaii) جا پہنچے، جہاں انہوں نے وائکی کی بیچ (Waikiki Beach) پر دوبارہ گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ پرمانند کے ایک خط نے انہیں سان فرانسسکو جانے پر آمادہ کیا، جہاں وہ انارکسٹ (anarchist) تحریک کے سرگرم کارکن بن گئے۔
سان فرانسسکو میں ہردیال کے ساتھ دوبارہ شامل ہونے سے قبل پرمانند نے جنوبی امریکہ میں برطانوی نوآبادیات کا دورہ کیا۔ وہ غدر پارٹی کے بانی اراکین میں سے ایک تھے۔ 1914 میں وہ پورٹلینڈ کے ایک تبلیغی دورے پر ہردیال کے ہمراہ گئے اور غدر پارٹی کے لیے 'تاریخِ ہند' کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ وہ 'غدر سازش' کے سلسلے میں ہندوستان واپس آئے اور دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ 5,000 غدری کارکن موجود ہیں۔ وہ اس بغاوت کی قیادت کا حصہ تھے اور انہیں پشاور میں بغاوت کو فروغ دینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ انہیں 'لاہور سازش کیس' (اول) کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا اور 1915 میں سزائے موت سنائی گئی۔ بعد ازاں اس سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا؛ انہیں 1920 تک جزائر انڈمان میں قید رکھا گیا اور سخت مشقت کا سامنا کرنا پڑا۔ سیاسی قیدیوں کے ساتھ اس سخت رویے کے خلاف احتجاجاً بھائی پرمانند دو ماہ تک بھوک ہڑتال پر رہے۔ شاہِ وقت جارج پنجم نے 1920 میں عام معافی کے حکم کے تحت انہیں رہا کر دیا۔
1905ء میں تقسیم بنگال کے برطانوی اعلان کے بعد بھائی پرمانند نے یہ مطالبہ کیا کہ سندھ سے پرے کی سر زمین کو شمال مغربی سرحدی صوبے میں ضم کر کے ایک مسلم علاقہ بنا دیا جائے۔ سناتن دھرم کے افراد اس خطہ سے نکل جائیں اور ماندہ ہندوستان سے مسلمان اس مسلم خطہ میں چلے جائیں۔
پرمانند کا انتقال 8 دسمبر 1947 کو دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔ ان کے پسماندگان میں ان کے بیٹے ڈاکٹر بھائی مہاویر شامل تھے، جو جانا سانگھ اور بی جے پی کے ایک نمایاں رکن تھے۔

ہند ایران بینک بلڈنگ ۔ ڈھڈیال (چکوال) اپنے شاندار ماضی پہ نوحہ کناں۔ عصر حاضر کے تھپیڑوں کو سہتی ، زبوں حالی کا شکار ہند...
25/08/2026

ہند ایران بینک بلڈنگ ۔ ڈھڈیال (چکوال) اپنے شاندار ماضی پہ نوحہ کناں۔ عصر حاضر کے تھپیڑوں کو سہتی ، زبوں حالی کا شکار ہند ایران بینک کی یہ عمارت اپنے اندر نہ جانے تابناک ماضی کی کتنی سنہری یادیں اور شاندار روایات خاموشی سے مٹنے کو تیار کھڑی ہے کبھی وقت رہا ہو گا کہ بڑے بڑے نامی گرامی تاجر حضرات کی یہاں چہل پہل ہوا کرتی ہو گی مگر آج اس کی حالتِ زار بتا رہی ہے کہ اسکو دیکھنے والا شاید اب کوئی نہیں رہا۔ ڈھڈیال کے عین وسط میں موجود یہ عمارت اپنے شاندار ماضی کی دہائی دیتی نظر آتی ہے۔
تقسیم ہند سے پہلے ڈھڈیال اور اس کے گردونواح میں بڑی تعداد میں سکھ خاندان آباد تھے اور تجارت کا بڑا حصہ ان کے پاس تھا “ میں نے روایتی لفظ تجارت پہ قبضہ کی بجائے “حصہ” لکھا ہے۔ پتہ نہیں کیوں مجھے ہمیشہ سےاس بات سے اختلاف رہا ہے کہ وہ لوگ تجارت پہ قابض تھے مجھے ہمیشہ ایسے لگتا کہ “قابض” لکھ کر ہم انکی کاروباری سوچ و اپروچ ، محنت اور لگن سے زیادتی کرتے ہیں اور اپنی غفلت ، کمزوریوں سے پہلوتہی کرتے نظر آتے ہیں۔
خیر ؛ ڈھڈیال کے سکھ تاجران بہت امیر کبیر ہوا کرتے تھے ، انکی بنی ہوئی ماڑیاں(کثیر المنزلہ عمارتیں) آج بھی موجود ہیں
اور انکی امارت کا پتہ دیتی ہیں انہی سکھ خاندانوں کے رشتہ دار ایران میں بھی تجارت سے منسلک تھے اور انکا آپس میں آنا جانا مسلسل رہتا تھا۔ مذکورہ ہند ایران بینک کی بنیاد 1945 میں سردار صاحب سنگھ نے رکھی جو اس وقت ایران کے بڑے تاجروں میں شمار ہوا کرتے تھے۔ سنا کرتے تھے کہ جو قومیں اپنے ماضی کو بھلا دیتی ہیں وہ مٹ جایا کرتی ہیں پتہ نہیں کیوں ۔ہم بحیثیتِ قوم اسی روش پہ ہیں۔
کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے
وہ آزمائش دل و نظر کی وہ قربتیں سی وہ فاصلے سے
بہت گراں ہے یہ عیش تنہا کہیں سبک تر کہیں گوارا
وہ درد پنہاں کہ ساری دنیا رفیق تھی جس کے واسطے سے
امیدِ واثق ہے کہ متعلقہ ادارے اس ورثہ کی طرف نظر کرم فرمائیں گے اور اس کی شان و شوکت اور جاہ و جلال کے مطابق اس کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جائے گی
جزاکم اللہ خیر و احسن الجزاء
سماجیات ✍️افراسیاب لنگاہ
تصاویر بصد شکریہ :- سید اسد عباس شاہ صاحب۔ڈھڈیال

ترلوچن سنگھ 1933 ڈھڈیال میں پیدا ہوئے والد کا نام بلونت سنگھ تھا جو ڈھڈیال کی کاروباری شخصیت تھے۔ گھر میں پہلا پیدا ہونے...
23/08/2026

ترلوچن سنگھ 1933 ڈھڈیال میں پیدا ہوئے والد کا نام بلونت سنگھ تھا جو ڈھڈیال کی کاروباری شخصیت تھے۔ گھر میں پہلا پیدا ہونے والا بچہ والدین نے 3 سال کی عمر میں ہی مقامی سکول میں داخل کروا دیا سکول کا نام خالصہ سکول ڈھڈیال تھا جسے سکھ کمیونٹی نے ڈھڈیال شہر میں بنوایا تھا۔ تعلیم میں لگاو دیکھ کر ترلوچن سنگھ کے والد بہت خوش تھے۔ ترلوچن نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا ڈھڈیال گاوں نما شہر تھا لیکن سکھ بہت بڑے کاروباری تھے اور بتایا ان کے بزرگ بتاتے تھے ڈھڈیال اور بھون کے سکھ کاروباری لوگوں کی وجہ سے ٹرین کو ڈھڈیال چکوال سے بھون تک چلایا گیا۔
حالات بہترین چل رہے تھے 1947 آیا اور وقت نے سب کچھ تبدیل کر دیا ان کے خاندان کو کسی نے خبر سنائی راولپنڈی کے پاس کسی جگہ بہت سے سکھوں کو مار دیا گیا ہے۔ ڈر خوف ڈھڈیال تک پہنچ گیا یہ ابھی مارچ کا مہینہ تھا۔ ترلوچن بتاتے ہیں اچانک ایک جتھا آیا جو مقامی ڈھڈیال کے نہیں تھے کسی اور جگہ سے آئے تھے گلیوں میں شور کر رہے تھے گھروں میں گھس رہے تھے وہ جتھا ہمارے گھر کے سامنے آیا تو ہمارے ہمسائے دونوں طرف سے باہر آگئے اور اس جتھے کے سامنے کھڑے ہو گئے اور کہتے رہے تم لوگ مقامی نہیں ہو کہاں سے آئے ہو۔ خیر اس دن تو وہ چلے گئے لیکن اچانک ایک دن بہت بڑا حملہ ہوا ان کے گھر کے دروازے توڑنے کی کوشش کی گئے ترلوچن بتاتے ہیں یہ چھت پر گئے جہاں سے ساتھ والے گھر گئے دیواریں پھلانگ کر گردوارہ تک پہنچ گئے جہاں سکون کا سانس لیا ہی تھا کہ لوگ گوردوارے کے سامنے آگئے چونکہ گوردوارے میں بہت سارے سکھ پہنچ چکے تگے جو یہی بات کر رہے تھے ڈھڈیال سے باہر نکل جاتے ہیں کیونکہ یہاں اب انہوں نے ہمیں مار ہی دینا ہے۔
گوردوارا جگہ مناسب نہ ہونے کی وجہ سے ساتھ ہی ایک بہت بڑی حویلی تھے جہاں یہ سارے اکٹھے ہو گئے۔ پٹیالہ کے نواب کے کہنے پر ان جگہ ملٹری بھیجی گئی اور وہ ملٹری ان کو لے کر مختلف کیمپ تک لے جاتی رہی اور آجر کار پٹیالہ پہنچا دیا۔ ترلوچن سنگھ نے بتایا ان کے والد ان کو کہتے رہے یہ عارضی طور پر ہمیں یہاں سے نکالا جا رہا ہے ہم واپس آئیں گے اور اسی امید کے ساتھ وہ دنیا چھوڑ گئے۔
ترلوچن سنگھ انتہائی ذہین تھے ان کے خاندان نے پٹیالہ میں ایک نئی زندگی کا آغاز کیا لیکن تعلیم کو نہ چھوڑا۔ پنجاب یونیورسٹی پٹیالہ سے ترلوچن سنگھ نے اکنامکس میں ماسٹر کیا۔ ترلوچن سنگھ نے پنجاب میں پبلک ریلیشنز آفیسر کی حیثیت سے سول سروس میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے 1972 سے 1977 تک پنجاب مارکفیڈ (Markfed) میں جوائنٹ سیکریٹری (ترقیاتی امور) کے طور پر خدمات انجام دیں۔ مارکفیڈ ایشیا کی سب سے بڑی کوآپریٹو تنظیم ہے۔ اس کے بعد، 1977 میں وہ محکمہ تعلقاتِ عامہ میں جوائنٹ ڈائریکٹر تعینات ہوئے اور 1980 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1980 سے 1982 کے دوران وہ حکومتِ پنجاب کے محکمہ سیاحت، ثقافت، عجائب گھر اور آثارِ قدیمہ میں ایڈیشنل ڈائریکٹر رہے۔ انہوں نے 1982 سے 1983 تک نویں ایشیائی کھیلوں کی آرگنائزنگ کمیٹی، نئی دہلی میں ڈائریکٹر (تشہیر و تعلقاتِ عامہ) کے فرائض سرانجام دیے۔
ان سب فرائض کو سرانجام دینے کے بعد ترلوچن سنگھ نے سیاست میں قدم رکھا اور بہترین سیاست بن کر اپنا نام بنایا۔ اسمبلی میں ہمیشہ اپنے حقوق کی آواز اٹھاتے رہے۔ ترلوچن نے بطور چیئرمین نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز بھی کام کیا۔
ان سب خدمات کے پیش نظر بہت سے ایوارڈ بھی آپ کو ملے۔ اس کے علاوہ آپ نے دو کتب بھی لکھی Narian Tahia Itihas اور Saajan Des Videshre۔

ست گورو شری انند سائی 16 جنوری 1919 کو چکوال میں پیدا ہوئے ان کی پیدائش کا وقت تاریخ پیدائش سکھوں کے دسویں گرو سری گرو گ...
21/08/2026

ست گورو شری انند سائی 16 جنوری 1919 کو چکوال میں پیدا ہوئے ان کی پیدائش کا وقت تاریخ پیدائش سکھوں کے دسویں گرو سری گرو گووند سنگھ جی سے میل کھاتا ہے۔ ا۔ کا پہلا نام منوہر رکھا گیا جس کا مطلب ہے دل کو موہ لینا۔ چھوٹی عمر سے ہی وہ خاص طور پر خداؤں اور سنتوں کی کہانیاں سنتے تھے اور مقدس تصویروں کو پسند کرتے تھے۔
ان کے گھر بہت سے سنت وقتاً فوقتاً آتے تھے جن کا اثر منوہر پر ہوتا رہا۔ گیارہ سال کی عمر میں منوہر نے بابا سائی ناتھ کے ساتھ چلے جو چکوال کی مختلف جگہ جاتے کر اثرانداز ہوتے تھے۔ چودہ دنوں تک، ریگل، زعفرانی لباس میں ملبوس بابا چکوال کے سنت پورہ جگہ میں ٹھہرے، منوہر کو مقدس منتر سے بپتسمہ دیا اور اسے بھگوا پر مبنی زندگی گزارنے کے لیے مراقبہ سے متعارف کرایا۔
تقسیم 1947 نے منوہر کے خاندان کے لیے ایک پریشانی بنائی جب ان کو معلوم ہوا حالات خراب ہونے رہے ہیں اور چکوال چھوڑ کر اب جانا پڑے گا۔ اس وقت چکوال کی نامی گرامی شخصیت نے سٹیشن پر لوٹ مار شروع کروائی ہندو سکھ لڑکیوں کو زبردستی اٹھانے کی کوشش کرتے رہے اس شخصیت کی موت بھی بہت بری ہوئی جو چکوال کے لیے مثال بن گئی۔ ڈرتے چھپتے بھاگتے منوہر کا خاندان انڈیا کے لیے روانہ ہو گیا اور ان کا خاندان انڈیا میں امرتسر کمپ میں پہنچ گیا۔ منوہر کا خاندان کچھ عرصہ جے پور میں رہے اور پھر ناگپور چلے گئے۔ ناگپور میں منوہر نے اپنی نئی زندگی شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور سیول کنٹریکٹر کا کام شروع کیا۔
سری منوہر جی کو ایک دوست 1953 میں سری سوامی سیتارام داس جی مہاراج کے پاس لے گیا۔ شری منوہر کے پاس علم تھا جس سے شری ستیارام داس نے ان ہر طرح سے آزمایا اور شری منوہر کامیاب رہے اس کامیاب عمل کے بعد سری سوامی سیتارام داس جی مہراج نے 19 اگست 1969 کو سری جی منوہر کو گروتوت عطا کیا۔
شری ستیارام داس نے 28 جنوری 1973 کو شری منوہر کا نام شری انند سائی رکھا۔ شری انند نے بہت سے عمل شری ستیا رام داس سے لیے اور بہت سے عمل شری ستیا رام داس کو دیے۔ شری سائی انند جی 15 نومبر 1994 میں چل بسے۔

اندر سین جوہر (I.S Johar) انڈین فلم انڈسٹری کا بہت بڑا نام ہے ایک کمال ایکٹر، رائٹر، پروڈیوسر اور ڈائرکٹرا۔ اندر سین جوہ...
19/08/2026

اندر سین جوہر (I.S Johar) انڈین فلم انڈسٹری کا بہت بڑا نام ہے ایک کمال ایکٹر، رائٹر، پروڈیوسر اور ڈائرکٹرا۔ اندر سین جوہر 16 فروری 1920 کو تلہ گنگ میں پیدا ہوئے۔ جوہر نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ہمارے علاقہ تلہ گنگ کے لوگ بہت محنتی تھے کوئی نا کوئی کام کرتے رہتے تھے بتایا کہ شام کے وقت بازار میں بہت چہل پہل ہوتی تھی بچپن میں اپنے بزرگوں کے ساتھ کبھی بازار جایا کرتے تھے۔
اندر سین جوہر نے ابتدائی تعلیم تلہ گنگ میں ایک سکول سے حاصل کی اور مذید تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے۔ اندر سین کہتے ہیں لاہور میں جو ایک دفعہ آگیا اس کا لاہور سے نکلنا مشکل ہے لاہور میں دنیا کے ہر رنگ ہیں چہل پہل، رونق میلہ اندر سین مرتے دم تک لاہور کی رونق نہ بھول سکے۔ پیج دی چکوال۔ اندر سین جب لاہور میں زیر تعلیم تھے گھر واپس تلہ گنگ آیا کرتے تھے تو لکھتے ہیں کہ دن رات میں اور رات دن میں بدل جاتا تھا۔ لاہور میں اندر سین نے قانون کی ڈگری حاصل کی لیکن کبھی اس پیشے کو پروان نہ چڑہا سکے۔
لاہور اندر سین کو اس قدر پسند آیا کہ لاہور میں ہی دل دے بیٹھے اور 1943 میں راما ہون سے لاہور میں شادی کر لی۔راما ہون نے بھی اپنی اداکاری کی ۔ اندر سین جوہر 1947 میں پٹیالہ اپنی فیملی کے ساتھ ایک شادی کے لیے گئے جہاں ان کو معلوم ہوا کہ تقسیم کی لکیر لگائی جا چکی ہے تلہ گنگ اور لاہور جہاں ان کا خاندان اور گھر ہیں اب وہ نہیں جا سکتے جس نے اندر سین کے لیے ایک پریشانی کھڑی کر دی۔ پٹیالہ سے اندر سین اپنے فیملی کو دہلی لے گئے۔
اندر سین کی سب سے بڑی پریشانی تھی اپنے خاندان کا پتا کرنا جو تلہ گنگ میں تھے اندر سین بہت سے لوگوں کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن کوئی جواب نہ ملا کہ آخر ان کو کسی نے خبر دی تلہ گنگ کے لوگ اس وقت امرتسر لائے جا چکے ہین جوہر امرتسر گئے لیکن ان کو کوئی نہ ملا اور معلوم ہوا جالندھر ایک کیمپ میں چکوال اٹک راولپنڈی کے لوگ ہیں شاید ہی ان کو واہاں کوئی مل سکے۔ پیج دی چکوال۔ اندر سین جالندھر کمپ میں گئے تو وہاں ان کو تلہ گنگ کے اپنے لوگ مل گئے اور لاہور کے اپنے بھی جالندھر میں ہی مل گئے۔
تقسیم نے ایک نئی زندگی کا آغاز کر دیا اندر سین کبھی واپس لاہور نہ جا سکے۔ اندر سین جالندھر میں رہنے لگے جب کہ ان کی فیملی دہلی میں تھی۔ ایک نئی زندگی کا آغاز کرنا تھا اندر سین نے ایکٹنگ شروع کر دی جو لوگوں کو پسند آنے لگی وجہ مزاحیہ اداکاری تھی جالندھر میں اندر سین کو کسی نے مشورہ دیا کہ آپ بمبئی چلے جائیں جہاں انڈیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری ہے اور وہاں جا کر فلم شوٹ کروائیں۔سال 1949 میں اندر سین بمبئی چلے گئے اور پہلی فلم ایک تھی لڑکی میں کام کیا یہ کام کرنا تھا کہ اندر سین لوگوں کی زبان پر آگئے۔ اندر سین ایک نامور بہترین اداکار بن گئے۔
زندگی کا سفر بہترین شروع ہوا ہی تھا کہ اندر سین کا گھر نہ مذید چل سکا اور راما ہون نے قانونی طور پر طلاق لے لی اور یہ انڈیا کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا تھا کہ کسی عورت نے قانونی طور پر طلاق لی۔ اس شادی سے اندر سین کے دو بچے تھے بیٹا انیل اور بیٹی نیلم دونوں ہی بہترین اداکار ثابت ہوئے بہت سی فلموں میں کام کیا اور فلم بھی کامیاب رہی۔ پیج دی چکوال۔اندر سین نے اس کے بعد چار شادیاں کی جو ان کا گھر مکمل نہ کر سکیں اور اندر سین ذندگی کے آخری ایام تک اکیلے رہ گئے۔ اندر سین نے آخری شادی سونیا ساہنی سے کی جو ایک نامور اداکارہ تھی اور پانچ سال کا کنٹریکٹ اندر سین کے ساتھ کر چکی تھی۔ اندر سین کی یہ شادی بھی بہت عرصہ نہ چل سکی۔
انڈیا کی عوام اندر سین کی اداکاری کی دیوانی ہو گئی اندر سین کی ہر ایک فلم کی کامیاب رہتی اندر سین مزاحیہ اداکار ایسے تھے کہ فلم دیکھنے والے ہنسی بغیر نہ رہ سکتے تھے۔ اندر سین جوہر کی فلم لسٹ بہت لمبی ہے جو کامیاب ترین رہی بہت سے اداکار کو اندر سین نے متعارف کروایا بہت سی اداکارہ کو اندر سین نے متعارف کروایا لیکن سب سے کامیاب ترین اداکارہ ان کے ساتھ سونیا ساہنی رہی۔ انڈیا میں اندر سین کو اتنا پسند کیا جاتا تھا کہ ان کو اٹالین فلم آفر ہو گئی 1963 میں جوہر نے اپنے جوہر اٹالین فلم میں ایسے دیکھئے کہ اٹالین بھی ان کے دیوانے ہو گئے۔ ایک فلم کے بعد دوسری اٹالین فلم آفر ہوئی اور جوہر نے اس میں بھی اپنے خوب جوہر دکھائے۔
ایک کامیاب انسان کامیاب کیریئر مشہور شخصیت لوگوں کے دلوں میں گھر کر جانے والے اداس چہروں پر مسکراہٹ دلانے والے اندر سین جوہر کافی عرصہ علیل رہے اور 10 مارچ 1984 میں بمبئی میں آخر سانس لی۔

ڈاکٹر ہری سنگھ چکوالیا چکوال میں پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر چکوالیا  پڑھے لکھے خاندان سے تھے پڑھنے اور لکھنے میں کافی لگاو رکھتے ت...
18/08/2026

ڈاکٹر ہری سنگھ چکوالیا چکوال میں پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر چکوالیا پڑھے لکھے خاندان سے تھے پڑھنے اور لکھنے میں کافی لگاو رکھتے تھے۔ آپ کا شمار آزادی پسند شخصیات میں ہوتا تھا کئی اخبارات کے ایڈیٹر تھے اور تنظیموں کے سربراہ تھے، یہ سب جدوجہد آزادی کے لیے کام کر رہے تھے۔ بہت دفعہ آپ پر پابندی لگا دی جاتی کیونکہ اکثر انگریز حکومت کے خلاف لکھ دیتے جس کی وجہ سے آپ کی اخبار پر پابندی بھی لگی لیکن آپ نے ہمت نہیں ہاری اور اپنا کام جاری رکھا مشہور آپ کی اخبارات میں "ڈیلی اکالی" امرتسر سے "نوجوان اور غدار" امرتسر سے اور "پیام جنگ" لاہور سے۔ ڈاکٹر چکوالیا لاہور اور امرتسر میں کانگریس ورکنگ کمیٹی جیسی کئی تنظیموں میں بھی شامل
رہے۔
ڈاکٹر چکوالیہ نے اپنی رہائش لاہور رکھی جہاں سے 1947 میں اپنے سارے چکوال کے لوگوں کے ساتھ امرتسر چلے گئے اور پھر امرتسر سے دہلی رہائشی پذیر ہو گئے۔ ڈاکٹر چکوالیا کو دہلی میں آل انڈیا ریفیوجی ایکشن کمیٹی، آل انڈیا ریفیوجی ایسوسی ایشن، اور دہلی میں مغربی پنجاب ریفیوجی ٹریڈرز ریلیف کمیٹی جیسی تنظیموں کا چارج دیا گیا تھا۔ ان کا اخبار، نوجوان مزدور، جو 1930 میں قائم ہوا تھا اور دہلی اور امبالا میں بیک وقت شائع ہوا تھا، تقسیم کے بعد 60 لاکھ مہاجرین کا منہ بولتا ثبوت بن گیا تھا۔ .
تصویر میں ڈاکٹر ہری سنگھ چکوالیا اور ان کی بیٹی ڈاکٹر پرابھجوت کور

Dr. Hari Singh Chakwalia, born in Chakwal (now in Pakistan), was a prominent freedom fighter in Punjab. He was an editor of several newspapers and headed organisations, all of which were working towards the freedom struggle. Numerous newspapers were started by him as each time he wrote 'seditious' content against the colonial government, it was shut down by the government officials. Some of these include The Daily Akali in Amritsar, The Naujawan and Gaddur in Amritsar, and The Piam-e-Jang in Lahore. He was also involved in many organisations such as the Congress Working Committee in Lahore and Amritsar.

Dr. Chakwalia migrated with his family to Amritsar in 1946 after violence began in Lahore. They then shifted to Delhi in 1947 after riots took place in Amritsar. After Partition, Dr. Chakwalia was given charge of organisations like the All India Refugee Action Committee in Delhi, the All India Refugee Association, and West Punjab Refugee Traders Relief Committee in Delhi. His newspaper, The Naujawan Mazdoor, which was established in 1930 and was published simultaneously in Delhi and Ambala became the mouthpiece for 60 lakh refugees after Partition.

Photo Dr. Hari Singh Chakwalia with his daughter Dr. Prabhjot Kaur
The Partition Museum

چکوال میں پیدا ہونے والے سکھ دیو (Sukh Dev)جو دنیا کے مشہور کیمسٹ بنے۔ سکھ دیو ایف این اے، ایف اے ایس سی (17 جون 1923 - ...
17/08/2026

چکوال میں پیدا ہونے والے سکھ دیو (Sukh Dev)جو دنیا کے مشہور کیمسٹ بنے۔ سکھ دیو ایف این اے، ایف اے ایس سی (17 جون 1923 - 16 اکتوبر 2024) ایک ہندوستانی نامیاتی کیمیا دان، اکیڈمک، محقق اور مصنف تھا، جو گگلسٹرون کی ترقی میں اپنے تعاون کے لیے جانا جاتا ہے، ایک پودے سے ماخوذ سٹیرائڈ جو علاج اور غذائیت کے ایجنٹ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس نے بائیو میڈیکل سائنس اور قدرتی مصنوعات کی کیمسٹری میں جدید تحقیق کی اور اپنے نتائج کے لیے 55 پیٹنٹ رکھے۔
سکھ دیو 17 جون 1923 میں ہری چند کے گھر چکوال پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم چکوال سے حاصل کی جس کے بعد لاہور چلے گئے انہوں نے 1943 میں پنجاب یونیورسٹی کے دیانند اینگلو ویدک کالج لاہور سے آنرز کے ساتھ گریجویشن کیا اور 1945 میں اسی ادارے سے ماسٹر ڈگری (ایم ایس سی) حاصل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1947 میں سکھ دیو حالات خراب ہونے کی وجہ سے چکوال واپس آگئے۔ چکوال سے اپنے خاندان کے ساتھ انڈیا چلے گئے۔ انڈیا سیٹل ہونے کے بعد انہوں نے
IISc میں قدرتی مصنوعات کے مشہور کیمیا دان پرفولہ چندر گوہا سے تعلیم حاصل کی، 1948 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹریٹ لینے کے بعد، اس نے جان ڈی رابرٹس کے ساتھ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کی۔
سکھ دیو 1951 سے 1953 تک ISc کے سینئر ریسرچ ممبر رہے۔
1953 سے 1958 تک organic chemistry کے ریسرچ ایسوسیٹ رہے University of Illinois Urbana-Champaign۔
1960 میں IISC سے DSc کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد، انہوں نے اسی سال نیشنل کیمیکل لیبارٹری، پونے میں نامیاتی کیمسٹری (قدرتی مصنوعات) ڈویژن کے سربراہ (اسسٹنٹ ڈائریکٹر) کے طور پر شمولیت اختیار کی جہاں وہ 1974 تک رہے، 1968 میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر ترقی کے ساتھ. 1974 میں، وہ نندیساری میں مالتی کیم ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جہاں انہوں نے 1988 تک کام کیا. 1989 میں، انہوں نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، نئی دہلی میں بطور INSA S.N. Bose Research Professor کے طور پر شمولیت اختیار کی، ڈاکٹر B.R. 1994 میں دہلی یونیورسٹی کے امبیڈکر سینٹر فار بایومیڈیکل ریسرچ جہاں وہ وزیٹنگ پروفیسر رہے۔
سکھ دیو نے terpenoids پر تحقیق کی اور ان میں سے کئی کی ساختی وضاحت میں تعاون کیا۔ ان تحقیقات کے دوران ہی اس نے Sesqui- اور diterpenoids میں کنکال کی نئی اقسام دریافت کیں۔ اپنی تحقیق کی بنیاد پر، اس نے دو اصول تجویز کیے: مطلق سٹیریو کیمسٹری بائیو جینیٹک اصول اور یہ کہ غیر ملکی حیاتیاتی مواد غیر ملکی ثانوی میٹابولائٹس پیدا کرتے ہیں۔ اس نے اپنی تحقیق کا ایک حصہ لاکھ، تارپین، سیڈرس دیودار (دیودار) اور ہندوستانی دواؤں کے پودوں جیسے گگلو، کوممیفورا وائٹی پر مرکوز کیا، جن میں سے آخری گگلسٹرون کی نشوونما کا نتیجہ ہے، ایک سٹیرایڈ جس کا دعویٰ ہے کہ کولیسٹرول کو کم کرنے اور غذائیت کی خصوصیات رکھنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کی تحقیق نے اسے 55 پیٹنٹ حاصل کیے اور اس کے کام کا حصہ 290 سے زیادہ سائنسی مضامین میں دستاویزی کیا گیا ہے۔ انہوں نے 10 کتابیں شائع کیں جن میں پرائم آیورویدک پلانٹ ڈرگس شامل ہیں، جو 2006 کی اشاعت ہے جس میں آیوروید کی قدیم اور جدید روایات کو دریافت کیا گیا ہے۔ انہوں نے 92 ریسرچ اسکالرز کی بھی رہنمائی کی، جن میں بہت سے قابل ذکر سائنسدان شامل تھے۔
سکھ دیو نے 1949 میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کا سڈبورو میڈل حاصل کیا جب وہ ایک ریسرچ ایسوسی ایٹ کے طور پر اس ادارے میں کام کر رہے تھے۔ لیکن پہلا بڑا ایوارڈ ان کے راستے میں 1964 میں آیا جب سائنس اور صنعتی تحقیق کی کونسل (CSIR) نے انہیں شانتی سوروپ بھٹناگر پرائز سے نوازا، جو سائنس اور ٹیکنالوجی کیٹیگریز میں سب سے بڑا ہندوستانی اعزاز ہے۔ 1970 کی دہائی میں انہیں دو ایوارڈز ملے۔ 1970 میں انڈین کیمیکل سوسائٹی کا آچاریہ پی سی رے ایوارڈ اور 1979 میں انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی کا وشوکرما میڈل۔ امریکن کیمیکل سوسائٹی نے انہیں 1980 میں ارنسٹ گوینتھر ایوارڈ سے نوازا اور انہیں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے ممتاز سابق طالب علم ایوارڈ، VASVIK انڈسٹریل ریسرچ ایوارڈ، اور اسی سال فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈو کے FICCI ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔ انہوں نے 1980 کی دہائی میں انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی سے دو ایوارڈ حاصل کیے، پروفیسر ٹی آر شیشادری سترویں سالگرہ کی یادگاری تمغہ 1981 میں اور میگھناد ساہا میڈل 1987 میں۔
سکھ دیو، جنہوں نے 1988 سے 1993 تک انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، نئی دہلی میں INSA S. N. Bose Research Professorship حاصل کی، نے 1988 میں TWAS پرائز حاصل کیا اور 1992 میں انڈین سائنس کانگریس ایسوسی ایشن کا سری نواسن رامانوجن کی پیدائش کا صد سالہ ایوارڈ حاصل کیا۔ انہیں دو انڈین کیمیکل ایو کیمیکل انڈین ٹائم کی طرف سے نوازا گیا۔ 1999 میں کیمیکل سوسائٹی اور 2000 میں کیمیکل ریسرچ سوسائٹی آف انڈیا۔ حکومت ہند نے انہیں 2008 میں پدم بھوشن کے شہری اعزاز کے لیے یوم جمہوریہ کے اعزازات کی فہرست میں شامل کیا۔ 2023 میں، انہیں امریکن کیمیکل سوسائٹی کے بورڈ نے "60 سال کی سروس ایکسیلنس" کے لیے اعزاز سے نوازا، اور ان کی 100 ویں سالگرہ نامیاتی اور بائیو مالیکولر کیمسٹری میں شائع ہونے والے فیسٹیچر کے ساتھ منائی گئی۔
دیو کا انتقال 16 اکتوبر 2024 کو 101 سال کی عمر میں ہوا۔

انیل گاہی جن کا خاندان 1947 میں چکوال سے انڈیا چلا گیا انیل گاہی کے دادا کا نام لالہ بودھ راج گاہی تھا جو چکوال کے امیر ...
16/08/2026

انیل گاہی جن کا خاندان 1947 میں چکوال سے انڈیا چلا گیا

انیل گاہی کے دادا کا نام لالہ بودھ راج گاہی تھا جو چکوال کے امیر لوگوں میں سے ایک تھے۔ لالہ بودھ راج کا گھر پرانے چکوال اندرون شہر پرانی سبزی منڈی کے ساتھ تھا۔ لالہ بودھ راج کاورباری شخصیت تھے چکوال میں غلہ منڈی کے پاس شیل پمپ ان کا زاتی پمپ تھا جو اب گلشیر گروپ کے پاس ہے۔ اس پمپ میں ان کا دفتر تھا جہاں منموہن سنگھ پی ایم انڈیا کے دادا گاہی گاؤں سے چکوال آتے تو یہاں بیٹھتے تھے۔ اس پمپ کے علاوہ چکوال میں لالہ بودھ راج کی کافی جائداد اور بازار میں دکانیں تھی۔ لالہ بودھ راج کا تعلق آریا سماج برادری سے تھا اور وہ ہر سماج کی مدد کیا کرتے تھے۔
انیل گاہی کے والد کا نام کیشو چند گاہی تھا جنہوں نے تعلیم کا آغاز چکوال سے کیا اور بعد میں گارڈن کالج راولپنڈی چلے گئے۔ چکوال میں بہت اچھی زندگی گزر رہی تھی کہ 1947 آگئی اور اس سارے خاندان کو چکوال چھوڑنا پڑا۔ ریلوے سٹیشن پر لوٹ مار کی جا رہی تھی بقول بزرگوں کے چکوال کی مشہور شخصیت اس لوٹ مار میں ملوس تھی۔ گاہی خاندان اس قدر اہم اور رکھ رکھاؤ والا خاندان تھا کہ ان کے لیے ایک طیارہ بھیجا گیا جو ان کو لی کر دہلی چلا گیا۔
انیل گاہی بتاتے ہیں کہ انہوں چکوال کے بارے اپنے والد اور باقی خاندان کے افراد سے بہت سنا ہے جنہوں نے ان کو بہت سی جگہ کے بارے بتایا۔ انیل گاہی نے دہلی میں اپنے گھر کے باہر تختی پر چکوال ہاوس لکھوایا ہوا ہے۔
کچھ سال پہلے چکوال کی کمیونٹی نے انیل گاہی کے ساتھ رابطہ کیا اور مل کر چکوال کے نام سے ایک کمیونٹی بنائی اس کے لیے انہوں نے کرتارپور گوردوارہ میں ملاقات بھی کی۔ انیل گاہی آج بھی اپنے نام کے ساتھ چکوالیا لکھواتے ہیں ۔

اشوک تالوار 1943 بھون میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مدہن لال تالوار اور دادا کا نام گوند لال تلوار تھا۔ اشوک بتاتے ہیں کہ ب...
15/08/2026

اشوک تالوار 1943 بھون میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مدہن لال تالوار اور دادا کا نام گوند لال تلوار تھا۔ اشوک بتاتے ہیں کہ بھون شہر میں بہت پرسکون زندگی گزار رہے تھے جب تقسیم 1947 کا علان ہوا۔ اس دوران ان کے والد دہلی اپنے بھائی سے ملنے گئے ہوئے تھے اور یہ ان کی فیملی کے لیے بہت ہی مشکل لمحہ تھا۔ انتظار میں رہے کہ شاید ان کے والد واپس آجائیں لیکن ان کو خبر ملی کہ بہت سی جگہ حالات خراب ہو رہے ہیں یہ خبر سنتے ہی اشوک کی دادی نے بھون چھوڑنے کا کہا اور چکوال شہر کو چل پڑے۔ چکوال سٹیشن کے بارے میں اشوک بتاتے ہیں حالات بہت خراب تھے کچھ لوگ مرے پڑے تھے سٹیشن کے ساتھ جس سے لگتا تھا یہاں حملہ ہو چکا ہے۔
ڈر خوف انکھوں میں لیے ایک جگہ چھپ کر ٹرین کا انتظار کرتے رہے ٹرین آئی اور بھاگ کر سوار ہوئے باقی لوگ بھی جلدی سے سوار ہوئے اور چند لمحے میں ٹرین چلا پڑی کہ کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ خوف کے نظارے دیکھتے اشوک بتاتے ہیں ان کا چھوٹا بھائی والدہ اور دادی انڈیا کی طرف چل پڑے۔ دادی سارا راستہ روتی رہیں کہ ہم اپنا گھر وطن چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ انڈیا میں ایک سٹیشن پر جا کر ان کو ٹرین سے اترنا پڑا لیکن ان کا سفر دہلی کو تھا جہاں ان کے والد گئے ہوئے تھے۔ سٹیشن سے دوبارہ دہلی کی ٹرین پر سوار ہو گئے دہلی سٹیشن پر ٹرین رکی تو دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہے جو سب کی شکلیں غور غور سے دیکھ رہا ہے اور وہ شخص اشوک کے والد تھے بھاگ کر آئے دادی کو گلے مل کر رونے لگے بتایا کہ مجھے پتا چلا تھا راولپنڈی کے ساتھ بہت قتل و غارت ہوئی ہے میں پریشان بھگوان سے کہتا کہ میرے گھر والوں کو بچا لے۔
سٹیشن سے اشوک کے والد ان کو لے کر چچا کے گھر گئے۔ گھر اور جگہ اشوک کے والد کو گورنمٹ کی طرف سے الاٹ ہوئے جہاں کچھ عرصہ رہنے کے بعد اشوک کے والد فیملی کو لے کر دہلی آگئے اور ایک خوشحال زندگی کا آغاز کیا۔
The Partition Museum

Address

Chakwal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Chakwal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share