28/08/2026
بھون گاوں 1898 میں پیدا ہونے والے رائے بہادر موہن سنگھ اوبرائے (Rai Bahadur Mohan Singh Oberoi) جو انڈیا میں ہوٹل انڈسٹری کا عظیم نام امیر ترین انڈیا کے لوگوں کی فہرست میں شامل تھے۔
موہن سنگھ اوبرائے 1898 بھون گاوں عطار سنگھ کے ہاں پیدا ہوئے۔ عطار سنگھ ٹھیکیدار تھے پشاور میں۔ ابھی موہن سنگھ چھہ ماہ کے تھے کہ ان کے والد عطار سنگھ پشاور میں فوت ہو گئے۔ ایک کٹھن زندگی کا آغاز تھا والدہ نے اکیلے پرورش کی۔
موہن سنگھ نے ابتدائی تعلیم بھون گاوں سے حاصل کی پھر چکوال مذید تعلیم کے لیے گئے جہاں سے وہ راولپنڈی چلے گئے۔ راولپنڈی سے لاہور گئے معاشی حالات بہت تنگ تھے اپنے چچا کے گھر لاہور رہنے لگے لیکن کسی وجہ سے چچا نے اپنے گھر سے نکال دیا۔ لاہور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی۔
اوبرائے نے 1920 میں اپنے ہی گاؤں بھون کے شری اُشناک رائے کی بیٹی، اِشران دیوی سے شادی کی۔ سنہ 1922ء میں وہ طاعون کی وبا سے بچنے کے لیے شملہ گئے، جہاں انہوں نے صرف 50 روپے ماہانہ تنخواہ پر 'دی سِسِل ہوٹل' (The Cecil Hotel) میں بطور کلرک نوکری کی۔ یہ وقت تھا جب اوبرائے کی قسمت نے راستہ بنانا تھا۔ اس ہوٹل میں موہن سنگھ نے پوری محنت لگائے ایمانداری دیکھ کر ہوٹل مالک نے سارے ہوٹل کی مینجمنٹ موہن سنگھ اوبرائے کے حوالے کر دی اور خود کچھ عرصہ کے لیے کہیں چلے گئے واپسی پر جب ہوٹل کی آمدنی دکھائی گئی مالکان حیرت میں چلے گئے دوگنے سے بھی زیادہ ہوٹل نے کمایا ہے۔
اس محنت لگن اور ایمانداری سے مون سنگھ کو ہوٹل چلانے کا تجربہ ہو گیا جس سے انہوں نے اپنا پہلا ہوٹل کھولا اور اپنے ہی نام سے کامیابی سمیٹی نام بنایا مشہور ہوٹل بزنس کے مالک بن گئے انگریز ان کے قریب ہونے لگے۔ انگریز حکومت نے ان کو 'رائے بہادر' کا خطاب دیا۔
ایک کامیاب کاروباری شخصیت ہوٹل انڈسٹری میں ماہر موہن سنگھ نے اپنی ایمپائر بنانے کا سوچا اس سوچ کے ساتھ انہوں نے لاہور، راولپنڈی، مری، پشاور کلکتہ، شملہ، دہلی اور مختلف جگہ ہوٹل خریدنے شروع کر دیے اور یوں اوبرائے ہوٹل انڈسٹری کا نام بن گیا۔
1947 کے بعد اوبرائے گروپ کو ایک دھچکہ لگا کیونکہ کے ان کے کچھ ہوٹل پاکستان میں آگئے لیکن اوبرائے نے اسے نقصان نہ سوچا اس کے بدلے انڈیا میں مذید ہوٹل خریدے جن میں انڈیا کے بہت مشہور ہوٹل شامل تھے۔
ہوٹل انڈسٹری کے ساتھ ساتھ اوبرائے سیاست میں بھی کامیاب رہے بھارت کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے رکن رہے۔
انڈیا کے بعد اوبرائے گروپ نے دوسرے ممالک میں جانے کا فیصلہ کیا اپنی ہوٹل انڈسٹری کو دوسرے ممالک میں آزمانا چاہا دبئی، سعودیہ عرب، مصر، انڈونیشیا اور افریقہ کے کچھ ممالک میں ہوٹل بنائے اور کامیاب رہے۔ آج اوبرائے گروپ پوری دنیا میں مشہور ہیں۔
سال 2002 میں موہن سنگھ اوبرائے 103 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ ان کے دو بیٹے، تلک راج اور پرتھوی راج سنگھ، اور تین بیٹیاں، سوراج، راج رانی اور پریم تھیں۔ تلک راج کا انتقال 1984 میں ہوا، اور اوبرائے کی وفات کے بعد 2002 میں پرتھوی راج سنگھ اس گروپ کے چیئرمین کی حیثیت سے ان کی جگہ سنبھالی۔ اوبرائے کے بھتیجے برج راج اوبرائے جنہیں خود اوبرائے نے "ڈائمنڈ اوبرائے" کا لقب دیا تھا نے بھی ہوٹل انڈسٹری کی صنعت میں قدم رکھا اور ہمالیہ کے خطے میں کئی 'ہیریٹیج ہوٹلز' تاریخی طرز کے ہوٹل چلائے۔