Rajesh Kumar Sagar-Official

Rajesh Kumar Sagar-Official � Police Officer
� Serving with honesty, courage & discipline
� Law, duty & public safety

22/08/2026

Thanks God, 4 years completed in Punjab Police. 🚔💚
A journey filled with duty, dedication, challenges and unforgettable memories.
Proud to wear the uniform and serve the people with honesty and commitment. 🇵🇰
4 Years Down, A Lifetime to Serve. 💪

*آج 22 اگست 2026 ہے* آج سے دو سال قبل *22 اگست 2024* رحیم یار خان پولیس کی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جسے کبھی فراموش نہیں ک...
22/08/2026

*آج 22 اگست 2026 ہے*
آج سے دو سال قبل *22 اگست 2024* رحیم یار خان پولیس کی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس دن سانحہ ماچھکہ ہوا تھا اس سانحہ میں رحیم یار خان پولیس کے 12 بہادر جوانوں نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

آج ان عظیم شہداء کی دوسری برسی کے موقع پر ہم ان کی لازوال قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی جانیں دے کر یہ ثابت کیا کہ وطن، عوام اور فرض کی حفاظت ایک پولیس جوان کے لیے محض ذمہ داری نہیں بلکہ عہد ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبروں کو نور سے منور فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
*آمین یا رب العالمین۔* 🤲

*_شہداء زندہ ہیں، ہماری یادوں میں بھی اور ہمارے دلوں میں بھی۔_*
*_سلام ہو ان بہادر سپوتوں پر جنہوں نے فرض کی خاطر اپنی جان قربان کر دی۔_* 🇵🇰🫡

🔥 Duty mode: ON 🏍️💪رات، سڑک، بائیک اور اپنی ڈیوٹی… بس یہی زندگی کا اپنا انداز ہے۔ 😎“خاموشی سے فرض نبھاؤ، پہچان خود بن جا...
08/08/2026

🔥 Duty mode: ON 🏍️💪
رات، سڑک، بائیک اور اپنی ڈیوٹی… بس یہی زندگی کا اپنا انداز ہے۔ 😎
“خاموشی سے فرض نبھاؤ، پہچان خود بن جائے گی۔” 🖤

*ایک بزرگ کی خاموش زندگی نے مجھے بہت بڑا سبق سکھا دیا...*میں روز صبح سیر کے لیے اپنے گھر کے قریب ایک پارک جاتا ہوں۔ وہاں...
07/08/2026

*ایک بزرگ کی خاموش زندگی نے مجھے بہت بڑا سبق سکھا دیا...*

میں روز صبح سیر کے لیے اپنے گھر کے قریب ایک پارک جاتا ہوں۔ وہاں ایک بزرگ اکثر نظر آتے تھے۔ وہ باقاعدگی سے ورزش کرتے، پھر پارک کے ایک درخت کے نیچے چادر بچھا کر بیٹھ جاتے۔

کبھی قریبی دکان سے نان چنے منگوا کر ناشتہ کرتے، کبھی کتاب پڑھتے، اور جب اونگھ آتی تو اسی کتاب کو تکیہ بنا کر کچھ دیر آرام کر لیتے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ شام تقریباً پانچ بجے تک وہیں موجود رہتے۔

پارک میں آنے والے لوگ مختلف باتیں کرتے۔ کوئی کہتا شاید پردیسی ہیں، کوئی سمجھتا کہ گھر والوں نے نکال دیا ہوگا۔ مگر ان کی شخصیت سے لگتا تھا کہ وہ پڑھے لکھے، باوقار اور خوشحال انسان ہیں۔

ایک دن میں گھر سے ناشتہ لے گیا اور انہیں اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی۔ پہلے انہوں نے انکار کیا، مگر بہت اصرار پر مان گئے۔

باتوں ہی باتوں میں معلوم ہوا کہ ان کا اپنا ذاتی گھر صرف دو گلیاں دور ہے، وہ مالی طور پر بھی محتاج نہیں۔

میں نے حیرت سے پوچھا:

"پھر آپ سارا دن یہاں کیوں گزارتے ہیں؟"

انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور دھیرے سے کہا:

"بیٹا! زندگی میں کچھ گھنٹے گھر سے باہر گزارنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ چاہے دفتر ہو، دوست ہوں یا کوئی اور مصروفیت... لیکن روزانہ چند گھنٹے ضرور باہر رہنا چاہیے۔"

میں نے وجہ پوچھی تو ان کی بات نے دل کو چھو لیا۔

انہوں نے کہا:

"گھر والے برسوں تک آپ کی غیر موجودگی کے عادی ہوتے ہیں۔ جب ریٹائرمنٹ کے بعد آپ ہر وقت گھر میں رہنے لگتے ہیں تو خاموش موجودگی بھی انہیں بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ وہ شاید زبان سے کچھ نہ کہیں، مگر ان کے رویے بدلنے لگتے ہیں۔"

پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولے:

"'ابو! آپ کو کیا پتا...' یہ جملہ میں کئی بار سن چکا ہوں۔ آہستہ آہستہ انسان کی حیثیت صرف بازار سے سامان لانے یا چھوٹے موٹے کام کرنے تک محدود ہو جاتی ہے۔"

وہ کچھ دیر خاموش رہے، پھر بولے:

"اسی لیے میں روز صبح یہاں آ جاتا ہوں۔ کتابیں پڑھتا ہوں، اخبار دیکھتا ہوں، کبھی کسی ملازمت کا اشتہار نظر آجائے تو درخواست بھی دے دیتا ہوں، حالانکہ جانتا ہوں کہ اس عمر میں کسی کو بوڑھا ملازم نہیں چاہیے۔"

پھر انہوں نے ایک اور راز بتایا۔

"میں نے گھر والوں کو یہی بتایا ہوا ہے کہ میں اب بھی ایک ادارے میں کام کرتا ہوں۔ میرے کچھ جمع شدہ پیسوں کا منافع آتا ہے، وہ میں گھر دے دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہ میری تنخواہ ہے۔"

ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

"شام جب میں گھر واپس جاتا ہوں تو بیوی پانی کا گلاس لے آتی ہے، کھانے کا پوچھتی ہے، اور بچے بھی احترام سے بات کرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ باپ اب بھی ذمہ دار ہے... اور میں نہیں چاہتا کہ ایک دن ایسا آئے جب مجھے اپنے ہی بچوں سے مانگنا پڑے۔"

یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئے...

مگر ان کی خاموشی میرے دل میں بہت کچھ بول گئی۔

🌸 سبق:

عمر بڑھنے کے ساتھ انسان کو صرف روٹی یا دوا کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ عزت، اہمیت اور اپنائیت بھی اتنی ہی ضروری ہوتی ہے۔ اپنے والدین اور بزرگوں کو کبھی یہ احساس نہ ہونے دیں کہ وہ اب غیر ضروری ہو چکے ہیں، کیونکہ جنہوں نے پوری زندگی ہمیں سنبھالا، وہ بڑھاپے میں صرف احترام اور محبت کے چند لمحوں کے حق دار ہوتے ہیں۔

05/08/2026

یومِ شہداء پولیس
شہداء پولیس کو سلام عقیدت

05/08/2026
آپ کو کیا لگتا ہے اس شدید گرمی میں دھوپ میں دن کے 01 بجے مسجد کے باہر وزنی جیکٹ اور جراب سمیت لانگ شوز پہن کر ڈیوٹی کرنا...
12/07/2026

آپ کو کیا لگتا ہے اس شدید گرمی میں دھوپ میں دن کے 01 بجے مسجد کے باہر وزنی جیکٹ اور جراب سمیت لانگ شوز پہن کر ڈیوٹی کرنا آسان ہے یا ایک کیمرہ اور مائیک پکڑ کر معمولی اینکر بن کر پولیس محکمے پر تنقید کرنا آسان ہے؟ اپنی رائے دیجیے گا
سستے معمولی جرنالسٹ حضرات
خامیاں نکالتے ہیں اور اچھائیوں کو نظر انداز کرتے ہیں اورکوشش کرتے ہیں چھپانےکی سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے

New Assignment PERA FORCE 🏍🚓🗓 June 27, 2026
28/06/2026

New Assignment PERA FORCE 🏍🚓
🗓 June 27, 2026

"میرے والد، میری طاقت، میرا فخر۔ ❤️"
21/06/2026

"میرے والد، میری طاقت، میرا فخر۔ ❤️"

𝓟𝓾𝓷𝓳𝓪𝓫 𝓒𝓸𝓷𝓼𝓽𝓪𝓫𝓾𝓵𝓪𝓻𝔂 𝓜𝓾𝓵𝓽𝓪𝓷🗓️ April 18, 2024📍 Police Lines RawalpindiCricket Match Duty, Rawalpindi                    .....
18/06/2026

𝓟𝓾𝓷𝓳𝓪𝓫 𝓒𝓸𝓷𝓼𝓽𝓪𝓫𝓾𝓵𝓪𝓻𝔂 𝓜𝓾𝓵𝓽𝓪𝓷
🗓️ April 18, 2024
📍 Police Lines Rawalpindi
Cricket Match Duty, Rawalpindi
...

Address

Bhong

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rajesh Kumar Sagar-Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share