Sarai Muhajir, Bhakkar

Sarai Muhajir, Bhakkar Sarai Muhajir formerly known as Sarai kirishna, and commonly known as Sraan. also Chak No. 205/T.D.A

14/06/2025
Celebrating my 4th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
21/12/2024

Celebrating my 4th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

پنجاب کو جس وجہ سے پانچ دریاؤں کی سرزمین کہا جاتا ہے ان پانچ دریاؤں میں چناب، ستلج، جہلم اور روای کے ساتھ دریا سندھ شامل...
21/06/2024

پنجاب کو جس وجہ سے پانچ دریاؤں کی سرزمین کہا جاتا ہے ان پانچ دریاؤں میں چناب، ستلج، جہلم اور روای کے ساتھ دریا سندھ شامل "نہیں" ہے۔

بلکہ پانچواں دریا "دریائے بیاس" ہے۔

یہ پانچ دریا (چناب، جہلم، ستلج، بیاس، راوی) پاکستان اور ہندوستان کے مشترکہ پنجاب کے اندر ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

جیسے دریائے راوی "احمد پور سیال" کے قریب دریائے چناب میں شامل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح دریائے جہلم بھی "تریمو" (جھنگ) کے مقام پر دریائے چناب میں شامل ہوجاتا ہے۔

دریائے چناب اور دریائے جہلم پنجاب کے وہ دو دریا ہیں جو ہندوستانی پنجاب میں داخل نہیں ہوتے۔ جبکہ دریائے راوی اور دریائے ستلج ہندوستانی پنجاب سے پاکستانی پنجاب میں داخل ہوتے ہیں۔

دریائے بیاس پاکستان میں انفرادی طور پر داخل نہیں ہوتا۔ ہندوستانی پنجاب میں ہی دریائے بیاس، دریائے ستلج میں شامل ہوجاتا ہے، اور یہ دریائے ستلج پاکستان میں آتا ہے۔

ستلج اور بیاس کے ملنے کے مقام پر انڈیا نے 1984 میں ایک بڑی سی نہر نکال کر راجھستان کو سیراب کیا تھا (اندرا گاندھی کینال)

تو اب ہمارے پاس دو دریا بچتے ہیں، یعنی دریائے چناب (جس میں راوی اور جہلم کا پانی شامل ہے) اور دریائے ستلج (جس میں دریائے بیاس کا پانی شامل ہے)۔ یہ دونوں دریا "پنجند" کے مقام پر ملتے ہیں، جو "اوچ شریف" کے پاس ہے۔

یہاں پر یہ دونوں دریا (اور پانچ دریاؤں کا پانی) مل کر دریائے پنجند بناتے ہیں۔ یہ دریا بھی 71 کلومیٹر آگے جاکر پنجاب کے ہی شہر "مٹھن کوٹ" کے پاس دریائے سندھ میں اپنا پانی (یعنی پنجاب کے پانچ دریاؤں کا پانی) شامل کردیتا ہے۔

باقی ان پانچوں دریاؤں میں سے ستلج اور روای سال زیادہ عرصے خشک ہی رہتے ہیں۔

دریائے سندھ پنجاب کا مخصوص دریا نہیں۔ مگر یہ پاکستان کا قومی دریا ضرور ہے۔ سوائے بلوچستان کے یہ پاکستان کے سب صوبوں اور کشمیر سے گزرتا ہے۔ بلوچستان کے علاؤہ باقی سب صوبوں کے دریا، اسی دریائے سندھ میں شامل ہو جاتے ہیں، اور یہ بحیرہ عرب میں جا گرتا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ .. دریائے سندھ صدیوں سے ہند و فارس کی بطور حد استعمال ہوتا رہا ہے.. کبھی ہندوستان کی سرحد دریائے سندھ کو پار کرکے مغربی علاقے تک پھیل جاتی تو کبھی فارس (خراسان) کی حد مشرقی کنارے کے پار تک وسیع ہوجاتی... آج بھی دیکھا جائے تو دریائے سندھ کشمیر تا بلوچستان پنجاب کی سرحد پر واقع ہے. وہ الگ دریائے سندھ کو مطالعہ پاکستان میں پانچواں دریا شمار کیا جاتا ہے. سچ بات یہ بات ہے کہ پشتون علاقے (عیسٰی خیل) و بلوچ (ڈیرہ غازی خان) کو زبردستی پنجاب میں انتظامی بنیادوں پر شامل کیا ہوا ہے وگرنہ جغرافیائی لحاظ سے یہ پنجاب کا حصہ نہیں ہیں..

Bhakkar is located in the Sargodha Division and Punjab province of Pakistan.The geographical coordinates of Bhakkar are ...
30/01/2024

Bhakkar is located in the Sargodha Division and Punjab province of Pakistan.The geographical coordinates of Bhakkar are approximately between 31.38° to 32.45° latitude and 70.22° to 72.18° longitude.

It gained the status of district in 1972, formally it was Tehsil of District Mianwali.It lies in the central part of the province and is situated on the west bank of the Indus River.It comprises of kacha area and Thal Desert.Indus river creates a natural boundary between Punjab (Bhakkar) and KPK (D.I.k).The district is bordered by the Layyah District to the south, Dera Ismail Khan and Kulachi Tehsil to the west (in Khyber Pakhtunkhwa province), Mianwali District to North,Khushab District to the North-East and Jhang District to the South-East.

The agricultural landscape of Bhakkar plays a crucial role in the economy of the region and famous for its chickpea production in deserted areas, and farming being a primary occupation for a significant portion of the population.

The NHA Executive Board recommended the PC-I for 55 Km 4 lanes “Dualization & Improvement of Qureshi Morr (N-55) D I Kha...
07/04/2023

The NHA Executive Board recommended the PC-I for 55 Km 4 lanes “Dualization & Improvement of Qureshi Morr (N-55) D I Khan to Sarai Muhajir, Bhakkar on Mianwali - Muzaffargarh MM Road (N-135), Length: 55 Km D.I Khan road Development Package” at a cost of Rs.16.094 Billion for approval of ECNEC.

Address

Bhakkar
30001

Telephone

+923367832661

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sarai Muhajir, Bhakkar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Sarai Muhajir, Bhakkar:

Share