30/03/2026
شکریہ نعیم شاہین صاحب!
تاریخ کے اوراق میں شاید پہلی بار ایسا منظر رقم ہوا کہ خوانین اور بااثر افراد رات کے اندھیروں میں خود چل کر اُن گھروں تک پہنچے، جہاں کل تک ظلم کی داستانیں رقم ہوئی تھیں۔ وہی دروازے، جو کل درد اور خوف کی گواہی دے رہے تھے، آج اعترافِ غلطی اور معافی کے طلبگاروں کے استقبال کے گواہ بنے
یہ وہی بچے ہیں جنہیں چند روز قبل طاقت کے نشے میں چُور افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا، اُن کی معصومیت کو روندنے کی کوشش کی گئی۔ مگر وقت نے ایک نیا موڑ لیا—اور آج وہی طاقتور، سر جھکائے، معافی کے طلبگار نظر آئے۔
یقیناً یہ ایک غیر معمولی لمحہ ہے؛ ایک ایسا لمحہ جو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ظلم جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، سچ اور حق کے سامنے ایک دن جھکنا ہی پڑتا ہے۔