02/06/2026
شانگلہ پشلوڑ میں والد کے ق*تل کیس میں بیٹا گرفتار
شانگلہ کے علاقے پشلوڑ میں امان عبدالرحمان کے ق*تل کیس نے ایک ایسا رخ اختیار کر لیا ہے جس نے پورے علاقے کو حیرت اور افسوس میں مبتلا کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے بعد مقتو ل کے بیٹے رحید الحق عرف ریکارڈی کو والد کے ق*تل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ آلۂ ق*تل بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کے فوراً بعد مقتو ل کے بیٹے رحید الحق عرف ریکارڈی نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ ڈی پی او شانگلہ شاہ حسن خان، ایس پی انویسٹی گیشن زاہد خان اور ایس ڈی پی او الوچ فضل الٰہی خان کی ہدایات پر ایس ایچ او مارتونگ روح الامین خان، تفتیشی افسر ممتاز خان اور ان کی ٹیم نے اند ھے ق*تل کی تفتیش شروع کی۔ دورانِ تفتیش جدید طریقۂ کار اور شواہد کی مدد سے کیس کا سراغ لگایا گیا، جس کے بعد مقتو ل کے بیٹے رحید الحق عرف ریکارڈی کو آلۂ قتل سمیت گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم بظاہر سوگوار خاندان کے فرد کے طور پر تمام سرگرمیوں میں شریک رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والد کو ہسپتال منتقل کرنے کے عمل میں بھی موجود تھا اور بعد ازاں نمازِ جنازہ میں بھی شریک ہوا، جس کی وجہ سے کسی کو اس پر شک نہیں گزرا۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران بعض شواہد اور معلومات سامنے آئیں جن کی بنیاد پر دائرۂ تحقیقات کو وسیع کیا گیا۔ مزید چھان بین کے بعد مقتو ل کے بیٹے کو حراست میں لیا گیا اور اس سے پوچھ گچھ شروع کی گئی۔
پولیس کے مطابق ابتدائی بیان میں ملزم نے مبینہ طور پر بتایا کہ اس کے والد امان عبدالرحمان پر مختلف افراد کے قرضے تھے اور قرض خواہ روزانہ بڑی تعداد میں رقم کی وصولی کے لیے گھر آتے تھے۔ ملزم کا دعویٰ ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے گھر میں مسلسل ذہنی دباؤ اور پریشانی کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے اسی پس منظر کو واقعے کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف ایک سنگین جرم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ اس نے معاشرے میں خاندانی تعلقات، مالی مشکلات اور ذہنی دباؤ جیسے اہم موضوعات پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ علاقے کے لوگ اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کر رہے ہیں اور کئی افراد کے مطابق ایک باپ اور بیٹے کے رشتے کا اس انجام تک پہنچ جانا انتہائی المناک ہے۔