ویلج کونسل کھن بٹل مانسہرہ

ویلج کونسل کھن بٹل مانسہرہ Khhan Vally located 40 Km north side of Mansehra 8 km from battal city. hill top view forest and mountain very beautiful place ideal place for tourist

ویلج کونسل کھن بٹل شہر سے 12 کلو میٹر
اور CPEC روٹ سے 14 کلو میٹر مانسہرہ شہر سے 40 کلو میٹر اور اسلام آباد سے 220 کلو میٹر پر شمال کی جانب پہاڑی علاقہ میں واقع ہے۔

03/04/2026

اظہار تعزیت
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
حاجی عبدالستار گجر (جوائنٹ روڈ، کوئٹہ والے) کی زوجہ محترمہ اور حاجی محمد فیاض گجر و حاجی محمد ریاض گجر (واپڈا والے) کی والدہ محترمہ کے انتقال پر دلی رنج و غم ہوا۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور تمام لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
منجانب:
چوہدری ممتاز مجید

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شانگلہ، اورنگزیب صاحب پر ہونے والے بزدلانہ حملے کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ یہ نہایت افسوس...
03/04/2026

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شانگلہ، اورنگزیب صاحب پر ہونے والے بزدلانہ حملے کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ یہ نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے.
اورنگزیب صاحب کی فرض شناسی ، دیانت داری اور میرٹ کی بالادستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
ہم متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔
ہم اورنگزیب صاحب کی سلامتی کے لیے دعاگو ہیں اور اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

جالگالی سے کھن شکورہ  تک کے لوگوں کی بھی قسمت جاگ گئی ہے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف صاحب کے  ڈیولپمنٹ فنڈ (PS...
29/03/2026

جالگالی سے کھن شکورہ تک کے لوگوں کی بھی قسمت جاگ گئی ہے

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف صاحب کے ڈیولپمنٹ فنڈ (PSDP) سے ضلع مانسہرہ کے مختلف علاقوں کے لئیے تقریبا 86 کروڑ سے زائد کے فنڈز کے ٹینڈرز جاری۔

ضلع مانسہرہ میں بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 81 ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر تقریباً 86 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ ان منصوبوں میں سڑکوں کی تعمیر، سیوریج سسٹم، آر سی سی کلورٹس اور دیگر عوامی سہولیات شامل ہیں، جن سے عوام کو بہتر سفری سہولیات اور نکاسی آب کے مسائل میں واضح بہتری میسر آئے گی

منصوبوں کی فہرست درج ذیل ہے۔۔

1. Soyal Tambon Chajra Naroati, Bansar (Bisham Road to Danah Chajri) — Rs. 10,784,541
2. Danna Shakroot, Kohistanabad & nearby areas — Rs. 8,984,774
3. Khan Balamang, Ashwal & Baghachhan Phaloti — Rs. 13,475,982
4. Naka Mangi to Kund Bela & Nakashwar — Rs. 13,444,686
5. Bela Jogan, Dhar Numberdar, Thakot & Ochhar Biroj — Rs. 13,444,626
6. Kundal Bayan, Khulay & Samahara — Rs. 13,414,763
7. Rasheedingh & Danaism (Chajra Darya), Tarkhar & Kapparod — Rs. 22,424,925
8. Khallan Kot, Gakhn, Tandpan & Randing — Rs. 15,224,385
9. Ichrian to Tarkinal Jabbor — Rs. 11,663,328
10. Jaggon, Gujjar Pita Karmang Bela & Kanalkot — Rs. 17,832,361
11. Jalgi to Khanashukra/Nandhar Buk — Rs. 25,047,956
12. Peco Road Saidabzar & Shakora, Jal Gali — Rs. 20,467,517
13. Mukrianwal, Mukra Pain & Gujarabad — Rs. 8,979,833
14. Barand to Bela Subai Haji Bela Bedar — Rs. 10,778,282
15. Batangi to Paloli, Dalbanni & Chami — Rs. 13,425,909
16. Char Banda to Tapur — Rs. 8,953,303
17. Chattar Temri, Garang Colony & Kuleghanna — Rs. 9,795,593
18. Kayan Sund Gali & Jhangi Riyan — Rs. 14,358,524
19. Mehtal to Dabar Khatta — Rs. 8,950,606
20. Chakiyari to Hafizabad, Banda Gessat & Jaboni — Rs. 12,732,175
21. Banda More to Goni & Khurd Bagh — Rs. 10,734,468
22. Kalawan, Kopra Gali & Sari Kamasi — Rs. 7,160,485
23. Sarana & PCC Road at Treddu Chotha — Rs. 8,978,975
24. Maan Lajat, Saheeed Road & Barakan — Rs. 8,964,816
25. Dobandh Patti to Chungan, Dulah Kissa & Sar Jabbar — Rs. 10,778,282
26. RCC Culvert Jabbar — Rs. 12,575,022
27. Mandar/Chucha, Jepatile Road & Syala — Rs. 8,980,314
28. Basala, Sultanabad & Dadher — Rs. 9,883,222
29. Bakkar & Rath/Basool — Rs. 13,477,234
30. Chitta Batta Bridge — Rs. 8,786,868
31. Karsorbi, Chatta Batta & Ghara — Rs. 8,988,161
32. Syed Banun, Jhamra & Kamal — Rs. 15,278,622
33. Garlian, Bassian & Damgala — Rs. 11,685,161
34. Kalas Kanshian, Nakassian & Batsanra — Rs. 8,951,902
35. Sewerage & Retaining Wall (various locations) — Rs. 4,770,521
36. Bosa, Riyan Band & Nala Mara — Rs. 10,784,541
37. Ranger Khola, Dohra to GHS Mahmooda — Rs. 10,778,282
38. Jal Madan & Riyan Di Band — Rs. 10,778,282
39. Sandi Kassi, Band Naka Jaba & Oghar — Rs. 17,970,842
40. Phagla Lundha, Arat Khan — Rs. 8,974,627
41. RCC Culvert Jabba — Rs. 4,230,454
42. Badra Band, Ham Mara & Data Village — Rs. 11,667,084
43. Muhallah Mara, Koh Di Bandi & Chakya — Rs. 8,995,576
44. Balyan, Katara Kharkas & Masjid Wali Ahmad — Rs. 8,980,885
45. Retaining Wall Khaas Rash Dand — Rs. 7,146,065
46. Kai, Patlang & Banda Gaon — Rs. 10,765,764

47. Mandhi/Jiggan & Kot Gali (UC Sath Bani) — Rs. 16,173,682
48. Sath Bani (UC Sath Bani) — Rs. 8,983,154
49. Jabarra to Maghri & Sewar (UC Hangrai) — Rs. 8,074,323
50. Cheem to Bam, Machal to Toungi Madan & Jepal Road (UC Hangrai) — Rs. 18,850,170
51. RCC Culvert Bridge Kund Machman & PCC Road Hangam to Mesak Bani (UC Hangrai) — Rs. 10,641,275
52. Kharyan & Phagui (UC Kagan) — Rs. 12,548,403
53. Lohar Banda to Khalas, Bohan, Jamal Mani & Mundhi Bazaar (UC Kagan) — Rs. 14,371,043
54. Kamal Band & R. Wall at Jaran (UC Kagan) — Rs. 7,442,143
55. PCC Road & Sewerage (different locations, NHC Nimalan Khari Bahadar & NHC Nogaazi UC City-1) — Rs. 4,484,769
56. PCC Street / Sewerage (NHC Sainabad UC City-1) — Rs. 2,244,715
57. PCC Street / Sewerage (NHC Channan UC City-1) — Rs. 3,568,323
58. PCC Street / Sewerage (NHC Daba No.2 UC City-4) — Rs. 2,242,384
59. PCC Street / Sewerage (NHC Lohar Banda UC City-4) — Rs. 3,577,602
60. PCC Street / Sewerage (NHC Banda Lal Khan UC City-4) — Rs. 2,668,104
61. Upper Meki Kot to Lower Meki Kot & Dara Shol (UC Balakot) — Rs. 18,081,330
62. Phakna Meira Bara, Upper Sarwah, Lassi Patan, Jabri & Khalifa City (UC Thakha) — Rs. 17,963,803
63. Jabri/Katchi Road to Saran Road (UC Shaml) — Rs. 10,778,282
64. Phatka to Ampbela Road (UC Sobal) — Rs. 8,998,875
65. Soryan to Qamma, Khangri & Banda (UC Shaml) — Rs. 10,778,282
66. Nound & Khushal Pul to Bagh (UC Keval) — Rs. 8,988,161
67. Paras Katha to Logi & Tangas and Paras to Bela Sacha (UC Keval) — Rs. 13,482,241
68. Kawai Bazaar to Shangla (UC Keval) — Rs. 8,975,643
69. Obar Jandi, Jepabla Road, Shalai Nallah & Retaining Wall (UC Manduchi) — Rs. 10,744,111
70. Barkot, Sindoo, Dehri Zaman (UC Ghanoal) — Rs. 10,765,764
71. Ghanoal Bridge to Kandara & Naka Darand (UC Ghanoal) — Rs. 8,988,161
72. Josacha, Bhangyan, Hassamabad to Jabbi Harban & Ground at Bhangian (UC Ghanoal) — Rs. 14,391,034
73. Retaining Wall Bagal Char to Dogha Khatta, PCC Streets (UC Garhi Habibullah) — Rs. 13,455,057
74. Dahaka, Kumar Nakka, Madina Basti, Old Sanday Sar (UC Pindi) — Rs. 11,677,177
75. Rehderiyan, Smayser, Hathi Merra, Mongan & Sewerage (UC Sanday Sar) — Rs. 14,364,784
76. Lundaiyan, Ismail Shaheed, Kalhyan, Toheedabad & VC Labar Kot (UC Labar Kot) — Rs. 17,963,803
77. Shunta Basti, Lama Naka, Koty Manglayan & Sangrian Deh (UC Labar Kot) — Rs. 16,173,682
78. Danna, Safeeda, Ahu Band, Thakra & Danra (UC Mansehra City) — Rs. 12,574,662
79. Batt Darian, Ghanda & Dhangri (UC Mansehra City) — Rs. 8,975,643
80. RCC Culvert, Danra (UC Mansehra City) — Rs. 3,236,915
81. Upper Bela Tandoori, Kilty Di Kassi, Kati Mor & Nowagazi (UC City-2) — Rs. 7,179,262

28/03/2026

مسجد عمر فاروق کھن شہڑ گلی میں تقریب ختم القرآن سے مقررین کا خطاب

28/03/2026
27/03/2026

مسجد عمر فاروق کھن شہڑ گلی
🌙 میں
27ویں رمضان المبارک کی مقدس اور بابرکت رات کے موقع پر
تراویح میں تکمیلِ قرآن کے سلسلے میں
ایک روح پرور محفلِ ذکر کا انعقاد کیا گیا

انشاءﷲ تکمیل قرآن
15/03/2026

انشاءﷲ تکمیل قرآن

اللّه تعالیٰ حاجی محبوب صاحب مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلن...
10/02/2026

اللّه تعالیٰ حاجی محبوب صاحب مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ وہ نہایت ہی ملنسار، رحم دل، شفیق اور نیک سیرت انسان تھے۔ بچے ہوں یا بڑے، جو بھی ان سے ملتا، ان کے اخلاق اور اپنائیت سے بے حد متاثر ہوتا۔ ان کی شخصیت محبت، خلوص اور بھلائی کا پیکر تھی۔ اللّه ربّ العزت ان کی تمام نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

30/01/2026

ڈی ایس پی محمد یعقوب گجر مرحوم، جن کا تعلق گاؤں کھن سیری سے تھا، ایک باکردار، محنتی اور فرض شناس انسان تھے۔ بچپن میں جب ...
25/01/2026

ڈی ایس پی محمد یعقوب گجر مرحوم، جن کا تعلق گاؤں کھن سیری سے تھا، ایک باکردار، محنتی اور فرض شناس انسان تھے۔ بچپن میں جب وہ اسکول سے واپس آتے تو والدہ محترمہ محبت اور دعا کے ساتھ انہیں “تھانیدار” کہہ کر پکارتی تھیں۔ یہ محض ایک ماں کی صدا نہیں تھی بلکہ ایک خواب تھا، جو وقت نے پورا کر کے دکھایا۔
تعلیم کے بعد آپ کوئٹہ تشریف لے گئے، جہاں آپ بلوچستان پولیس میں بطور کانسٹیبل بھرتی ہوئے۔ محنت، دیانت اور لگن کے باعث ترقی کے مراحل طے کرتے گئے، حتیٰ کہ والدہ محترمہ کا خواب حقیقت بن گیا اور آپ ڈی ایس پی کے عہدے تک پہنچے۔
باعزت ریٹائرمنٹ کے بعد آپ واپس اپنے گاؤں منتقل ہوئے اور آخری سانس تک عوام کی خدمت، رہنمائی اور بھلائی میں پیش پیش رہے۔ آج آپ ہم میں موجود نہیں، مگر آپ کا کردار، نام اور خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے،
اور ہمیں بھی ایسا ہی باوقار اور خدمت گزار انسان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
چوہدری ممتاز مجید

”منیجر محمد ایوبؒ“ ایک عہد ساز انقلابی شخصیتمنیجر محمد ایوب  نے قیام پاکستان سے اٹھارہ برس قبل برصغیر  یعنی اس وقت کے مت...
08/01/2026

”منیجر محمد ایوبؒ“
ایک عہد ساز انقلابی شخصیت

منیجر محمد ایوب نے قیام پاکستان سے اٹھارہ برس قبل برصغیر یعنی اس وقت کے متحدہ ہندوستان کے صوبہ سرحد کے ضلع ہزارہ کی تحصیل مانسہرہ کے ایک دور افتادہ پسماندہ ترین گاٶں بٹل کھن پاٸیں میں معروف مذہبی،علمی ،وادبی گھرانے میں نامور کاروباری، سیاسی و سماجی شخصیت مولوی برکت اللّٰہ المعروف بادشاہ صاحب کے دولت کدہ میں 13 اکتوبر سنہ1929 کو آنکھ کھولی آپ کا تعلق گجر قوم کے کھٹانہ قبیلے سے تھا۔

منیجر محمد ایوب بچپن ہی سے ایک ذہین ،فطین ، قابل اور منفرد انداز کے مالک طالبعلم تھے آپ کے والد گرامی نے آپ کو ابتداٸی تعلیم و تربیت کا فیض گھر میں ہی عطا کرنے کے بعد گورنمنٹ پراٸمری اسکول بفہ میں داخل کروا دیا پراٸمری تک کی تعلیم اوًل پوزیشن ہولڈر کے طور پر حاصل کرنے کے بعد آپ اپنے والد محترم کے ہمراہ ممبٸی (ہندوستان) چلے گٸے جہاں آپ کے والد محترم مولوی برکت اللَٰہ صاحبؒ پہلے سے ہی حصول روزگار کی غرض سے مقیم تھے منیجر محمد ایوب نے ممبٸی ، دہلی، آگرہ، کلکتہ،ڈھاکہ اور علی گڑھ کی اعلیٰ جامعات سے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ برصغیرمیں مسلمانوں کے لیٸے ایک الگ اسلامی ریاست کے قیام لیٸے تحریک پاکستان میں ایک نوجوان کارکن کی حثیت قاٸداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں زبردست جدوجہد کرتے ہوٸے برصغیر کے مسلمانوں کے لیٸے ایک الگ اسلامی ،فلاحی ریاست وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے میں ایک کارکن کی حثیت سے اپنا ایک اہم کلیدی کردار ادا کیا اور اور یوں پھر 14 اگست 1947ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور ہندوستان اس وقت دو حصّوں میں تقسیم ہوگیا ، قیام پاکستان کے بعد آپ اپنے والد گرامی کے ہمراہ اپنے وطن لوٹ آٸے۔

شہر کی پررونق پرتعیش زندگی کے بجاٸے فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں اور گھنے جنگلات سے محبت کرنے والے
منیجر محمد ایوب نے وطن واپس آکر محکمہ جنگلات کو اپنا نشمیمن بنا لیا وہ ہزارہ ڈویژن کے مشہور و معروف بلند و بالا مقامات دَرشی ، کنڈ بنگلہ ، ندی بنگلہ، سمیت مختلف مقامات میں بطور منیجر تعینات رہے مگر زندگی کا بڑأ اور آخری حصہ تحصیل حویلیاں میں گزارا اور اس شہر سے ان کی دل لگی بھی انتہا کی تھی وہ زندگی کے آخری ایّام میں بھی شہر حویلیاں اور وہاں سے وابستہ حسیں یادوں کو اکثر و بیشتر یاد کرتے تھے۔

منیجر محمد ایوب ایک انقلابی فلاحی سیاسی و سماجی شخصیت اور انتہا کے سخی دل انسان تھے انھوں نے اپنے عہد جوانی میں جو دولت کماٸی اس میں سے ایک بڑا حصہ اپنے غریب عزیز واقارب رشتے داروں کی مالی معاونت، گاٶں کے غریب یتیم نادار بچوں کی تعلیم و تربیت اور بیوہ خواتین کی فلاح و بہبود پر خرچ کی،سینکڑوں یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت سمیت مکمل کفالت کے بعد روزگار اور شادی بیاہ تک کے اخراجات خود برداشت کیٸے اس عظیم انقلابی شخصیت نے ایک مسیحا کا کردار ادا کرتے ہوٸے گاٶں کے بچوں کی تعلیم و تربیت کرنے کے بعد انھیں اپنے چچا ناٸب وزیر معارف و خطیب ریاست قلات فاضل دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا قاضی محمد بوستان سے درخواست کرکے سرکاری اداروں میں برسرِ روزگار بھی بنایا اور آج الحمد اللّٰہ انکے لگاٸے ہوٸے پودوں سے نسل درد نسل گاٶں کے لوگ فیض یاب ہوکر اپنا مستقبل روشن بنا رہے ہیں، یہ بات ہم کہہ سکتے ہیں کہ منیجر محمد ایوبؒ نے گاٶں سے جہالت ،غربت اور بیروزگاری کے اندھیرے ختم کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا جس کے باعث آج الحمداللّٰہ علاقے کی تقدیر نسل در نسل بدل چکی ہے۔

منیجر محمد ایوب ایک عظیم المرتبہ باکمال، لاجواب، بے مثال روادار ، وضح دار شخصیت کے حامل انسان تھے اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق خدا کے دل و دماغ میں انکی عزت و مقام اور محبت ڈال دی تھی وہ غریبوں مظلوموں کے حقیقی و سچے مسیحا تھے اور علاقے کی عوام بچے بوڑھے اور جوان بھی ٹوٹ کر ان کو چاہتے تھے منیجر محمد ایوب کو اپنا ہیرو ، رول ماڈل، اور آٸیڈل قرار دیتے تھے گاٶں کے
بزرگ اپنے بچوں کو واعظ نصیحت کرتے ہوٸے کہا کرتے تھے ”بیٹا تعلیم حاصل کرو محنت کرو تاکہ تم بھی ایک دن بڑے ہوکر منیجر صاحب کی طرح بڑے انسان بن سکو“ یہ بات آج بھی گاٶں کے بزرگوں کی زبان ذدٍ عام ہے کہ جب منیجر محمد ایوب چھٹی گزارنے گاٶں آتے تھے تو پورے کا پورا گاٶں ان کا استقبال کرنے کیلٸے اُمڈ آتا تھا اور معروف سیاستدان خان آف ہلکوٹ مفتی خان مرحوم اپنی گاڑی لیکر بٹل بازار میں منیجر محمد ایوب کا انتظار کرتے تھے اور اپنی جیپ میں انھیں بٹل سے گلی گدا اسٹاپ تک چھوڑنے آتے تھے ، ان تمام تر خوبیوں اوصاف، خدا داد صلاحیتوں ، دولت،شہرت ، نام ، مقام کے باوجود عجز و انکساری انکا شیوہ تھا اپنے نام مقام عہدے اور تعلقات کا ناجائز استعمال کرتے ہوٸے کبھی کسی کو ذاتی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ اپنے ماتحت ملازمین اور گاٶں کے لوگوں کا خاص خیال رکھا اپنے دسترخوان کو ہمیشہ وسیع رکھا غریب و مظلوم کو اپنے سینے سے لگا کر رکھا شاید یہی وجہ ہے آج بھی انکے دور کے ملازمین انکے چاہنے والے ان سے محبت کرنے والے اپنے محسن و مسیحا منیجر محمد ایوب کو اچھے الفاظ میں یاد کرکے آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔

منیجر محمد ایوب ایک علمی ادبی شخصیت کے حامل شخصیت تھے وہ بڑے سے بڑا حساب کتاب اپنے قلم سے لکھ کر یا زبانی کردیا کرتے تھے وہ کیلکولیٹر استعمال کرنے والے شخص کو نکما ، نااہل، اور کام چور کہتے تھے اردو ، انگریزی ، فارسی، ہندی، پنجابی، پشتو، ہندکو اور گوجری زبانوں پر آپ کو مکمل عبور حاصل تھا وہ جو بھی زبان لکھتے پڑھتے یا پھر بولتے تھے ایسا لگتا تھا یہی انکی مادری زبان ہے ۔

منیجر محمد ایوب ایک طلسماتی شخصیت کے حامل انسان تھے جو شخص ایک بار ان کو ملتا تھا بس پھر وہ ان کا ہی ہو کر رہ جاتا تھا آپ خوش مزاج ، خوش اخلاق، باکردار شخصیت تھے، دراز قد، شیر جیسی موٹی موٹی آنکھیں اور گرجدار آواز رکھنے والے منیجر ایوب خوش لباس بھی انتہا کے تھے جسم پر شلوار قمیض پاٶں پر خوبصورت برانڈ کے جوتے ہاتھ پر خوبصورت گھڑی اور سر پر قراقلی (جناح کیپ) آپ کی پرکشش شخصیت کو مزید چار چاند لگا دیتی تھی۔

منیجر محمد ایوب کمال کے روادار، یاروں کے یار، دل بہار سدار بہار شخص تھے جس کسی سے تعلق بنایا پھر ہر حال میں نبھایا اس تعلق کو پروان چڑھایا آپ کے قریبی رفقاء کی ایک بہت بڑی طویل فہرست ہے مگر ان میں سے چند ایک قابل ذکر ہیں جن میں باباٸے قوم قاٸد تحریک سردار عبد الرحٰمن گوجر، سنیٹر شاد محمد خان مرحوم، نعیم خان ، سابق رکن صوباٸی اسمبلی سجادہ نشین گھنیلا شریف میاں ولی الرحمٰن، خان آف ہلکوٹ مفتی خان، سردار محمد یونس مرحوم ، عظیم اللّٰہ خان ، تسلیم خان آف بٹل، ہارون خان آف سم ، حنیف خان آف سم ودیگر۔

تحریک پاکستان کا درخشندہ ستارہ ، غریبوں کا مسیحا، دکھی دلوں کا سہارا ، علم وادب کا مینار ، لوگوں کے دل و دماغ سوچ و افکار اور زبان پر اپنا گہرہ نقش چھوڑنے والی شخصیت منیجر محمد ایوبؒ اپنی بھرپور، بے مثال، لاجواب زندگی گزارنے کے بعد سن90 کی دہاٸی میں علیل ہوگٸے ان کا بہترین علاج و معالجہ کیا گیا ہر طرح سے انکی صحت کا خاص خیال رکھا گیا مگر بیماری نے خوب وفا نبھاٸی اور وہ روبہ صحت نہ ہوسکے اور طویل علالت کے بعد 31 دسمبر 2002 کی شام انکی زندگی کا سورج غروب ہوگیا اور پھر یوں ایک عہد تمام ہوگیا ایک تاریخ ساز باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیٸے بند ہوگیا ان سوگوران میں ان کے بڑے فرزند و جانشین معروف سیاسی سماجی شخصیت علاقے میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھانے والے سابق ناظم سردار محمد اقبال، ہر دلعزیز شخصیت ماہر تعلیم، ماسٹر محمد صدیق، اور (یوٹیلیٹی کارپوریشن آف پاکستان والے محمد جہانزیب شامل ہیں جبکہ بھاٸیوں میں حاجی محمد خورشید، حاجی محمد رفیق، حاجی محمد یونس (ریٹاٸرڈ افسر پاکستان اسٹاک ایکسچینج شامل ہیں،

کچھ لوگ صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ انکے ساتھ ایک جہاں بستا ہے انکے ہونے سے خزاں رُ ت بھی بہار لگتی ہے اور جب وہ جدا ہوجاٸیں تو چمن اُجڑ جاتا ہے محفلیں بے رونق سی ہو جاتی ہیں اور پھر ایسے لوگوں کی جداٸی کے بعد انسان جی ہی نہیں لگتا اس اجڑے ہوٸے دیا میں
بقول بہادر شاہ ظفر:

لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں​
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں​

بُلبُل کو باغباں سے نہ صَیَّاد سے گلہ​
قسمت میں قید لکّھی تھی فصلِ بہار میں​

کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں​
اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں​

ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان​
کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں​

عُمْرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن​
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں​


دِن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی​
۔پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کُنجِ مزار میں​

منیجر محمد ایوبؒ جیسے عظیم االمرتبہ لوگ مرنے کے بعد بھی تاریخ میں ہمیشہ زندہ و جاوید رہتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں دعا ہے رب کریم ہمارے تایا جان منیجر محمد ایوب کی کامل مغفرت کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرماٸے۔ آمین

کالم نگار: سردار شعیب محمد کھٹانہ کی وال سے کاپی
پکچر کریڈٹ چوہدری ممتاز مجید

Address

VC Khhan, UC Battal, Teh & Distt Mansehra, KPK
Battal
21090

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ویلج کونسل کھن بٹل مانسہرہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to ویلج کونسل کھن بٹل مانسہرہ:

Share