Faisal Aziz

Faisal Aziz Hello friends this page only political …please like share this page .

23/08/2022

راج وہ ہوتا جو دلوں پرکیا جائے ۔۔تخت پر تو یزید بھی بیٹھا تھا

28/07/2022
28/07/2022

سنہری الفاظ❤

*دنیا میں کسی جانور کسی مخلوق نے انسان کا اتنا شکار نہیں کیا جتنا انسان نے انسان کا کیا ہے انسان نے انسان کو جنگوں میں م...
31/03/2021

*دنیا میں کسی جانور کسی مخلوق نے انسان کا اتنا شکار نہیں کیا جتنا انسان نے انسان کا کیا ہے انسان نے انسان کو جنگوں میں مارا رشتوں میں مارا محبت سے مارا دھوکے سے مارا یہ انسان اتنے رنگ بدلتا ہے کہ کوئی مخلوق نہیں بدلتی اور یہ اپنی ہی نسل کا شکار کرنا پسند کرتا ہے کوئی دوست کے روپ میں دشمن ہے کوئی مسافر کے بھیس میں لٹیرا ہے جو سچائی کی قسم کھا رہا ہے وہ سچ سے ہی دور ہے جسے ایمانداری کا غرور ہے وہ برتری کے احساس کا غلام ہے انسان نے سب بن کر رہنا سیکھا ایک انسان ہی بن کر رہنا اس کے لیے مشکل رہا*

29/03/2021

دیکھو زندگی کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے خود کو اذیت مت دو....!! ان دکھوں اور تکلیفوں پر غمگین نہ ہو...!! عنقریب ﷲ رب العزت تمہیں یوں خوش کر دے گا جیسے تم نے کبھی کوئی غم نہ دیکھا ہو....!! ابھی تمہیں لگ رہا ہو گا جیسے کوئی بھی چیز تمہیں خوش نہیں کر پائے گی , جیسے اب کبھی بھی زندگی کی طرف دوبارہ لوٹ کر نہیں آؤ گے مگر یہ حقیقت نہیں ہے...! تم ایسا اس لیے سوچتے ہو کیوں کے تم ابھی تکلیف میں ہو_

دکھ آزمائش کے ساتھ آتا ہے اور آزمائش کے ساتھ ہی واپس لوٹ جاتا ہے , ایسا ہرگز نہیں ہوتا کہ آزمائش کے بعد بھی تم اذیت میں مبتلا رہو...! جیسے خوشی مسلسل نہیں رہتی ویسے ہی ﷲ رب العزت غم بھی مسلسل نہیں رہنے دیتا_
تو اگر تم اب بھی اذیت میں ہو اور ماضی کو بھلا نہیں پا رہے ہو تو جان لو کہ ابھی آزمائش ختم نہیں ہوئی , امتحان تب مکمل ہو گا جب تم اپنی چاہ پر صبر کرنا اور ﷲ رب العزت کی چاہ پر شکر کرنا سیکھ جاؤ گے...!!

تمہاری سوچ تمہارا مقدر ہے...!! تم جیسا سوچو گے ﷲ رب العزت کو بلکل ویسا ہی پاؤ گے , جیسے درد آنکھ میں ہوتا ہے منظر میں نہیں بلکل ویسے ہی جس سکون کو تم دوسروں میں تلاش کرتے ہو وہ صرف تم میں ہے...! جو ماضی میں پھنسے رہتے ہیں وہ پھر حال اور مستقبل کی نعمتوں سے بھی محروم ہو جاتے ہیں , تم آج جس مقام پہ ہو ہمیشہ وہاں نہیں رہو گے , وقت ہمیشہ بدلتا ہے اور یوں بدلتا ہے کہ قسمت کو بھی پلٹ دیتا ہے...!

جیسے توبہ قبول ہو جائے تو یادِ گناہ بھی ختم ہو جاتی ہے بلکل ویسے ہی جب ﷲ رب العزت کو تمہارا صبر کرنا پسند آ جاتا ہے تو وہ ہر اس یاد کو تمہارے دل سے نکال دیتا ہے جو تمہیں بےچین رکھتی ہے_ وہ دل مطمئن کرنے خوب جانتا ہے...! بھلے تمہاری نظر میں تم بےبس ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ اس نے ہر فیصلہ تمہارے ہاتھ میں تھما رکھا ہے کہ چاہو تو مجھ سے خفا رہ کر سب گنوا دو ارو چاہو تو مجھ کو منا کر وہ بھی پا لو جو کوئی پا نہیں سکا...!

شب بخیر
سدا خوش و آباد رہیں....آمین

اس تصویر میں آپ دیکھ رہے ہیں یہ نیتھن الیگزنڈر ہے ، جو مور ہاؤس کالج (اٹلانٹا) میں ریاضی کا استاد ہے اور اس نے ایک 26 سا...
29/03/2021

اس تصویر میں آپ دیکھ رہے ہیں یہ نیتھن الیگزنڈر ہے ، جو مور ہاؤس کالج (اٹلانٹا) میں ریاضی کا استاد ہے اور اس نے ایک 26 سالہ طالب علم کی بیٹی کو اپنے بانہوں میں پکڑا ہوا ہے۔ اس صبح اس کا طالب علم اسے سمجھانے کے لئے منت کرتا ہے کہ وہ اس کورس سے غیر حاضر رہے گا ، کیوں کہ اسے اپنی پانچ ماہ کی بچی رکھنے کے لئے کوئی نہیں ملا ہے۔
نیتھن نے اپنے طالب علم کو یہ کہتے ہوئے جواب دیا ، "اگر یہ مسئلہ ہے تو ، اسے کلاس میں لے آئے۔
تاکہ اس کا طالب علم کورس پر چل سکے ، جب تک وہ پڑھاتا رہا تب تک وہ اپنے طالب علم کی بچی کو گود میں سنبھالے ہوئے تھے
جب ہمارے معاشرتی کردار ، اپنے پیشے ، اپنی ذہنی سکیموں سے پہلے ہم انسانوں کو اہمیت دیں گے تو یقیناً معاشرے میں نہ صرف تبدیلی بلکہ انسانیت کےلئے نمونے پا سکےگے.

آٹھ، دس سال کی غریب لڑکی بک سٹور پر  جاتی ھے۔ پینسل اور ایک دس روپے والی کاپی خریدتی ھے۔دوکاندار سے کہتی ھے۔ انکل! ایک ک...
28/03/2021

آٹھ، دس سال کی غریب لڑکی بک سٹور پر جاتی ھے۔ پینسل اور ایک دس روپے والی کاپی خریدتی ھے۔
دوکاندار سے کہتی ھے۔ انکل! ایک کام کہوں، کریں گے؟جی بیٹا بولو، کیا کام ھے؟
انکل! وہ کلر پینسل کا پیکٹ کتنے کا ھے؟ مجھے چاہیے۔
ڈرائنگ ٹیچر بہت مارتی ھے۔ مگر میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ نہ ہی امی ابو کے پاس ہیں۔ میں آہستہ، آہستہ جمع کرکے پیسے دے دوں گی.
شاپ کیپر کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ بولتا ھے، بیٹا کوئی بات نہیں۔ یہ کلر پینسل کا پیکٹ لے جاؤ لیکن آئندہ کسی بھی دکاندار سے اس طرح کوئی چیز مت مانگنا، لوگ بہت برے ہیں۔کسی پر بھروسہ مت کیا کرو.
جی انکل بہت بہت شکریہ۔
میں آپ کے پیسے جلد دے دوں گی اور بچی چلی جاتی ھے.ادھر شاپ کیپر یہ سوچ رہا ہوتا ھے کہ اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے۔ اگر ایسی بچیاں کسی وحشی دکاندار کے ہاتھ چڑھ گئیں تو زینب اور فرشته کا سا حال ہی ہوگا.
ٹیچرز سے گذارش ھے۔
خدارا !! اگر بچے کوئی کاپی، پینسل، کلر پینسل وغیرہ نہیں لا پاتے تو جاننے کی کوشش کیجئے۔کہ کہیں اس کی غربت اس کے آڑے تو نہیں آ رہی۔؟؟؟
ایسے معصوم بچوں کے تعلیمی اخراجات میں حصہ ڈال کر ڈھیروں اجر حاصل کریں

25/03/2021

*محرم رشتے جنسی درندے کیونکر بنتے ہیں؟*

کیا آج کی بچیاں اپنے محرم رشتوں سے بھی محفوظ نہیں؟
ماحول یا معاشرے میں یہ بگاڑ کیونکر پیدا ہو رہا ہے؟
بچیاں جائیں تو کہاں جائیں؟


ان سوالات کے پیدا ہونے کی وجہ کے پیچھے کچھ وجوہات و واقعات ہیں ۔

جن کا ذکر آگے ہوگا. ہم سب اپنے تئیں ایک اسلامی معاشرے کے باسی ہیں جہاں ہمیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے. ہمارے نام مسلمانوں والے اور کام بھی کسی حد تک مسلمانوں والے ہیں. باقی بھول چوک اللہ معاف کرنے والا ہے.

میری یہ سوچ تب تک تھی
جب تک میری والدہ نے محلے کی مسجد کی انتظامیہ کی اجازت سے اپنے محلے کی عورتوں کو نماز و سورتیں سکھانے اور بچیوں کو ناظرہ قرآن پڑھانے کا آغاز نہیں کیا تھا.

عورتوں کی آمد شروع ہوئی اور والدہ کو اپنا ہمدرد سمجھ کر دل کے پھپھولے پھوٹنے لگے. ان کے گھروں کی ایسی بھیانک کہانیاں سننے کو ملیں کہ والدہ سکتے میں آ جاتیں، اور تمام دن پریشان اور غمزدہ رہتیں.

کئی عورتوں کے مطابق ان کے شوہر انھیں کئی بار طلاق دے چکے ہیں، مگر جانے نہیں دیتے.
وہ خود بھی اتنی ہمت جتا نہیں پاتیں کہ اپنے بچے اور گھر بار چھوڑ کر بے آسرا ہو جائیں.

نتیجتا خاموشی سے حرام کاری کی زندگی بسر کر رہی ہیں. کچھ کے مطابق وہ مشترکہ خاندانی نظام میں رہ رہی ہیں۔
اور کبھی ان کی بچی کسی کزن کے "ہتھے" چڑھ گئی یا کبھی چچا تایا ان سے "چھیڑ چھاڑ" کرتے ہیں، اور شوہر کو اپنے بھائی پر پورا "بھروسہ" ہے، تو اسے بتانے کی ہمت نہیں،
اور ان کی سردیاں گرمیاں راتوں کو بچیوں کی چوکیداری میں گزرتی ہیں، جبکہ کچھ کے مطابق بچیوں کا باپ ہی گندی نظر رکھتا ہے.

سوال یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس راستے پر کیوں جا رہا ہے؟
اور اس صورتحال سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟

مفہوم حدیث ہے کہ جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو.

اور انٹرنیٹ میڈیا اس وقت ہمارے گھروں کی حیا ختم کر کے بیٹیوں اور باپوں، بہنوں اور بھائیوں، چچاؤں اور بھتیجیوں، ماموؤں اور بھانجیوں کو ایک ساتھ بٹھا کر اخلاق باختہ ڈرامے اور فلمیں دکھانے میں کامیاب ہو چکا ہے.

کچھ عرصہ قبل جسٹس سعید الزمان صدیقی کے ایک بیان پر کافی لے دے ہوئی، اور مذاق اڑایا گیا کہ باپ اور بیٹی کا ایک کمرے میں تنہا بیٹھنا اسلامی اعتبار سے درست نہیں،
جبکہ یہ بات حقیقت پر مبنی ہے. میں یہ نہیں کہتی کہ ہمارے معاشرے کا ہر باپ جنسی درندہ ہوتا ہے مگر اس سچائی سے بھی انکار نہیں کہ جب کچھ ذہنی و جنسی بیمار مردوں پر شہوت کا غلبہ ہوتا ہے،
تب وہ باپ بھائی، چچا یا ماموں نہیں رہتے،

اورشیطان کے وار سے بلعم باعور جیسے بڑے بڑے عابد نہیں بچ سکے تو ہم کیا ہیں؟ میری خالہ کے گھر ایک غریب دائی صدقہ لینے آتی ہے.
ایک بار میری موجودگی میں وہ آئی، اور باتوں باتوں میں خالہ کو کوڈ ورڈز میں کہنے لگی کہ اس ماہ میں نے تین کیس "خراب" کیے، جن میں سے ایک باپ، دوسرا بھائی اور تیسرا ایک چچا کا تھا.

یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے نو بالغ لڑکوں یا گھر کے مردوں میں ہیجان سب سے پہلے اپنے گھر کی مستورات کے نامناسب لباس دیکھ کر پیدا ہوتا ہے.

مائیں، بیٹیاں اور بہنیں گہرے گلے، آدھی آستینوں، اور چھوٹے چاکوں والی قمیضوں کے ساتھ چست پاجامے پہن کر بنا دوپٹے کے گھر میں پھریں گی تو شیطان کو اپنا وار کرنے کا بھر پور موقع ملے گا.

اسی لیے اسلام نے عورت کو سینہ چھپانے اور اوڑھنی ڈالنے کا حکم دیا ہے.گھر کا ماحول ماں پاکیزہ بنائے گی تو اولاد حیا دار ہوگی. حیا اپنے ساتھ انوار و برکات لازما لاتی ہے ورنہ جو تربیت میڈیا ہمارے گھروں کی کر چکا ہے، اس کے یہی ثمرات اور نتائج دیکھنے کو ملیں گے.

ایسے معاشرے میں جہاں شادی کی عمر 28، 30 سال ہو، وہاں 14 سال کا ایک نو عمر لڑکا گھر کی عورتوں کے حلیوں سے حظ کشید کرکے مشترکہ خاندانی نظام کا "فائدہ" کیونکر نہ اٹھائے گا.

اس تحریر میں طبقہ اشرافیہ کی بات نہیں ہو رہی کیونکہ
ان کے ہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے.
یہاں موضوع بحث لوئر یا مڈل کلاس دنیا دار گھر ہیں جن میں پرائیویسی کا تصور نہیں،
وہاں ایسے واقعات رونما ہوجا تے ہیں اور "ڈھانپ" دیے جاتے ہیں،
کیونکہ زنان خانہ اور مردان خانہ اب ہمارے نزدیک آؤٹ ڈیٹڈ ہو چکا ہے،

اور ایک یا دو کمروں میں رہائش پذیر خاندان پرائیویسی کے مفہوم سے بھی واقف نہیں. جدیدیت کی دوڑ میں حیا سے غفلت برت کر جو نتائج سامنے آ رہے ہیں، ان کا سدباب نہ کیا گیا تو حالات مزید بھیانک ہوتے جائیں گے.

اس سلسلے میں کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں:
بچیاں اور مائیں ساتر لباس استعمال کریں. فیشن کریں مگر ستر ڈھانپنے کے اہتمام کے ساتھ. فیشن صرف ہاف سلیوز، گہرے گلوں یا چست پاجاموں کا نام نہیں.

حرمت مصاہرت کے مسائل بچیوں، بچوں اور باپوں کو ازبر ہونے چاہییں.

بچیاں بلوغت کے بعد والد کو نہ دبائیں نہ ہی کوئی اور جسمانی خدمت کریں یا لپٹیں. جسمانی خدمت بیٹے یا مائیں کریں اور اگر اشد ضرورت یا مجبوری ہو تو اس بارے میں گنجائش کی تفصیلات و مسائل کے لیے مفتیان کرام سے رجوع کریں.

بیٹیاں باپ کے ساتھ بیٹھ کر اکیلے یا سب کے ساتھ ٹی وی دیکھنے سے پرہیز کریں. اور مائیں بھی اپنے چودہ پندرہ سال کے بیٹوں سے جسمانی کنکشن یعنی گلے لگانے یا ساتھ لٹانے سے پرہیز کریں.

باپ بیٹیوں کے کمرے میں دروازہ کھٹکھٹا کر آئیں یا دور سے کھنکھارتے ہوئے آئیں،
تاکہ بچیاں اپنا لباس درست کر لیں. یہی صورت ایک یا دو کمروں کے گھر میں رہائش پذیر ہو کر بھی اختیار کی جا سکتی ہے.

باپ بچیوں کو سوتے سے مت جگائیں، اور یہ ذمہ داری والدہ سر انجام دے، کیونکہ سوتے میں لباس بےترتیب ہو سکتا ہے.

بھائیوں یا محرم رشتوں کے ساتھ ہنسی مذاق میں ہاتھ مارنا، پیار میں گلے لگنا یا سلام کے لیے ہاتھ ملانا صرف ڈراموں فلموں کی حد تک ہی رہنے دیں.

ایک اسلامی معاشرے کے مکینوں کے لیے اس کی کوئی گنجائش نہیں.
مگر اب یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بہنوئیوں یا کزنز سے ہاتھ ملانا اور شادی بیاہ میں ان کے یا محرم رشتوں کے ساتھ ناچناگانا معیوب نہیں سمجھا جاتا، تبھی شیطان اپنے داؤ پیچ آزما لیتا ہے.

لاڈ میں چچاؤں کے گلے جھول جانا، ماموؤں سے بغل گیر ہونا، باپ بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر انڈین ڈرامے دیکھنا جن کی کہانی ہی ناجائز معاشقوں سے شروع ہو کر ناجائز بچوں کے جنم سے آگے بڑھتی ہے، اور حمل و زچگی کے مناظر عام سی بات ہیں، ان سب سے بچیں.

بچیوں کو سکھائیں کہ وہ خود کو جتنا ڈھانپ کر رکھیں گی اور ریزرو رہیں گی، اتنا ہی ان کے ایمان، قلب و چہرے کے نور میں اضافہ ہوگا اور کسی کو ان سے "چھیڑ چھاڑ" کی بھی جرات نہ ہوگی.

یاد رہے کہ یہ سب اقدامات حرف آخر نہیں، بلکہ احتیاطی تدابیر ہیں، جنہیں اپنانے کے باوجود اگر کوئی محرم رشتہ جنسی درندہ بن جائے تو اس کا علاج سنگساری یا بندوق کی ایک گولی ہے تاکہ بقیہ درندوں کی حیوانیت کو لگام دی جا سکے.....

‏پاکستان میں ایک طبقہ ایسا ہے جنہیں وائرس کا خوف نہیں بلکہ اپنے بچوں کے بھوکے رہ جانے کا خوف ستائے جا رہا ہے ۔ 😢یا اللہ ...
25/03/2021

‏پاکستان میں ایک طبقہ ایسا ہے جنہیں وائرس کا خوف نہیں بلکہ اپنے بچوں کے بھوکے رہ جانے کا خوف ستائے جا رہا ہے ۔ 😢
یا اللہ غریبوں کی مدد فرما ..آمین

Address

Bara

Telephone

03449461492

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faisal Aziz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Faisal Aziz:

Share