06/09/2026
یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر ہارٹیکلچر ایجنسی بہاولپور اور لکی سنیکس لمیٹڈ کے اشتراک سے گلِ بہار سیزن 1 کا انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب کا مقصد خواتین اور بچوں کو صحت مند تفریح، تخلیقی اظہار اور مثبت سماجی سرگرمیوں کے لیے ایک محفوظ اور خوشگوار ماحول فراہم کرنا تھا۔ یومِ دفاع کی مناسبت سے تقریب میں میجر عزیز بھٹی شہید سمیت وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا گیا۔
گلِ بہار سیزن 1 میں 25 مختلف اسٹالز قائم کیے گئے۔ ویمن چیمبر آف کامرس اور ویمن گروپ آف انٹرپرینیورز کے تعاون سے خواتین کاروباری افراد کو اپنی مصنوعات اور صلاحیتیں متعارف کرانے کے لیے خصوصی مواقع فراہم کیے گئے، جبکہ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی بہاولپور سمیت مختلف تعلیمی اداروں نے بھی یومِ دفاع کے حوالے سے اسٹالز لگائے۔
تقریب میں بہاولپور ڈویژن کے فنکاروں اور موسیقاروں نے بھی شرکت کی۔ شاہد جیون، طلحہ راجپوت، محمد توقیر، شیریں کنول اور رمضان جانی نے ملی نغموں اور معروف پاکستانی گیتوں کے ذریعے شرکاء کو محظوظ کیا۔ وجیہہ الحسن، حسن فادل، شاگان مہدی اور نوشتہ حسن نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
اس موقع پر بہاولپور کی معروف فنکارہ گل بہار بانو کو ان کی فنی خدمات اور شہر کے ثقافتی منظرنامے میں کردار کے اعتراف میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ ان کی کزن شیریں کنول نے ان کی معروف غزل ’’چاہت میں کیا دنیا داری‘‘ پیش کی۔ تقریب کے دوران گل بہار کارنر کا بھی افتتاح کیا گیا، جسے فنکارہ کی خدمات کے اعتراف کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔
بچوں کے لیے جنوبی پنجاب کے معروف میجک آرٹسٹ جام مجاہد، سرفراز علی بادی اور ان کی ٹیم نے میجک اینڈ پپٹ شو پیش کیا، جس نے تقریب میں بچوں کے لیے خصوصی دلچسپی پیدا کی۔
تقریب کے ذریعے اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ عوامی پارکس اور شہری مقامات کو محض سبزہ اور تفریح تک محدود رکھنے کے بجائے خواتین، بچوں، نوجوانوں، مقامی کاروباری افراد اور فنکاروں کے لیے مثبت، محفوظ اور تعمیری سرگرمیوں کے مراکز کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
گلِ بہار سیزن 1 سرکاری اداروں، کاروباری برادری، فنکاروں اور سول سوسائٹی کے باہمی تعاون کی ایک مثال کے طور پر سامنے آیا۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ تقریب کے انعقاد کے لیے سرکاری خزانے سے کوئی رقم خرچ نہیں کی گئی، جبکہ تمام اخراجات کاروباری برادری اور سول سوسائٹی کے تعاون سے پورے کیے گئے۔