GHS Malook Shah Bahawalpur

GHS Malook Shah Bahawalpur A Government School in Bahawalpur. Government Boys High School Malook Shah
EMIS Code : 31220047

🌿🚫 سموگ کو روکیں — صاف ہوا، صحت مند زندگی! 🌿سموگ صرف دھند نہیں، بلکہ ہماری صحت اور ماحول کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔آئیں...
16/09/2026

🌿🚫 سموگ کو روکیں — صاف ہوا، صحت مند زندگی! 🌿
سموگ صرف دھند نہیں، بلکہ ہماری صحت اور ماحول کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
آئیں! ہم سب مل کر سموگ کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔ 💚

🌱 زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں
🚯 کچرا اور پلاسٹک نہ جلائیں
🚗 غیر ضروری گاڑیوں کے استعمال سے گریز کریں
🏭 فضائی آلودگی کم کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں
😷 سموگ کے دنوں میں احتیاطی تدابیر اپنائیں

آج کا صاف ماحول، کل کی صحت مند نسل! 🌍💚

Stop Smog • Save Environment • Protect Health
Learn Today • Lead Tomorrow • Serve Pakistan 🇵🇰


📚✨ کر کے سیکھنا — ریاضی کو آسان بنانا! ✨📚🔢 Improper Fractions کو Mixed Numbers میں تبدیل کرنے کی عملی سرگرمیگورنمنٹ ہائی...
16/09/2026

📚✨ کر کے سیکھنا — ریاضی کو آسان بنانا! ✨📚

🔢 Improper Fractions کو Mixed Numbers میں تبدیل کرنے کی عملی سرگرمی

گورنمنٹ ہائی سکول ملوک شاہ بہاولپور میں محمد سہیل اقبال بخاری کی رہنمائی میں جماعت چہارم کے طلبہ نے Activity-Based Learning اور Learning by Doing کے ذریعے غیر مناسب کسر کو مخلوط عدد میں تبدیل کرنا عملی طور پر سیکھا۔ 🧩✏️

طلبہ نے سرگرمی میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے Whole Number اور Fraction کے باہمی تعلق کو سمجھا اور ریاضی کے تصور کو آسان اور دلچسپ انداز میں سیکھا۔ 🌟

🎯 سمجھ کر سیکھیں، کر کے سیکھیں، اعتماد سے آگے بڑھیں!

District Education Officer-Secondary, Bahawalpur School Education Department, Government of the Punjab Rana Sikandar Hayat

🌟 ذمہ دار بنیں، بہتر شہری بنیں! 🇵🇰گورنمنٹ ہائی سکول ملوک شاہ بہاولپور میں Civic Sense & Life Skills کے تحت طلبہ کو ذمہ د...
12/09/2026

🌟 ذمہ دار بنیں، بہتر شہری بنیں! 🇵🇰

گورنمنٹ ہائی سکول ملوک شاہ بہاولپور میں Civic Sense & Life Skills کے تحت طلبہ کو ذمہ داری، صفائی، نظم و ضبط، دوسروں کے احترام اور اپنے اردگرد کے ماحول کا خیال رکھنے کی اہمیت سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ 🤝🌱

✨ آج کے ذمہ دار طلبہ — کل کے عظیم پاکستان کے معمار!

📚 Learn Today • Lead Tomorrow • Serve Pakistan 🇵🇰

📚✨ کر کے سیکھنا — ریاضی جماعت پنجم ➕➖✖️➗گورنمنٹ ہائی سکول ملوک شاہ بہاولپور میں جماعت پنجم کے طلبہ نے سرگرمی پر مبنی تعل...
12/09/2026

📚✨ کر کے سیکھنا — ریاضی جماعت پنجم ➕➖✖️➗

گورنمنٹ ہائی سکول ملوک شاہ بہاولپور میں جماعت پنجم کے طلبہ نے سرگرمی پر مبنی تعلیم (Activity-Based Learning) کے ذریعے ریاضی کے تصورات کو عملی طور پر سمجھا۔ 🧮🌟

طلبہ نے صرف کتاب پڑھنے کے بجائے خود کر کے، مشاہدہ کر کے اور تجربہ کر کے سیکھا، جس سے سیکھنے کا عمل مزید دلچسپ، مؤثر اور یادگار بن گیا۔ 🎯👏

آج کر کے سیکھیں، کل اعتماد سے آگے بڑھیں! 🌱🇵🇰


District Education Officer-Secondary, Bahawalpur

10/09/2026

استاد، چاہے کسی بھی شعبے کا ہو، استاد ہی رہتا ہے۔ ❤️
استاد صرف وہ نہیں جو کتاب پڑھائے؛ جو شخص زندگی کے کسی بھی شعبے میں آپ کو کچھ سکھا دے، آپ کو بہتر بنا دے، وہ آپ کا استاد ہے۔ اپنے اساتذہ کے لیے وقت اور احترام ہمیشہ موجود رہنا چاہیے۔
کیونکہ انسان آگے نکل سکتا ہے، مقام بدل سکتا ہے، مگر جس نے اسے کچھ سکھایا ہو، اس کا مقام کبھی نہیں بدلتا۔استاد کے احترام میں کبھی کوئی قاعدہ توڑنا بھی پڑ جائے تو وہ قاعدہ توڑ دینا چاہیے۔ ❤️

#استاد

10/09/2026

🇵🇰✨ Pledge for Pakistan — Our Promise, Our Pride! ❤️

آج ہمارے سکول کے طلبہ نے عہد کیا کہ وہ پاکستان کے ذمہ دار، باکردار، محبِ وطن اور باہمی احترام رکھنے والے شہری بنیں گے۔ 🤝🌱

🌟 چھوٹے عہد، بڑے خواب!
🇵🇰 آج کے ذمہ دار طلبہ — کل کے عظیم پاکستان کے معمار!

📚 Learn Today • Lead Tomorrow • Serve Pakistan 💚

09/09/2026

اگر آپ اپنے شعور کو بڑھانا چاہتے ہیں تو کتابیں پڑھیں، اگر آپ خوفناک تنہائی کو شکست دینا چاہتے ہیں تو کتابیں پڑھیں، اگر آپ ایک زندگی میں سو زندگیاں جینا چاہتے ہیں تو کتابیں پڑھیں۔

🌟 احترام — بہترین کردار کی پہچان! 🤝گورنمنٹ ہائی سکول ملوک شاہ بہاولپور میں طلبہ کو احترام (Respect) کی اہمیت سے آگاہ کیا...
09/09/2026

🌟 احترام — بہترین کردار کی پہچان! 🤝

گورنمنٹ ہائی سکول ملوک شاہ بہاولپور میں طلبہ کو احترام (Respect) کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔ طلبہ نے سیکھا کہ والدین، اساتذہ، ساتھی طلبہ، بزرگوں اور اپنے اردگرد کے ماحول کا احترام ایک اچھے انسان اور ذمہ دار شہری کی پہچان ہے۔ 🇵🇰

📚 آج کا سبق — احترام، بہتر کردار اور روشن مستقبل! 🌱✨

*سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور جانوروں کی بولیاں — ایک سبق آموز حکایت*سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں ایک نوجوان حاضر ...
08/09/2026

*سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور جانوروں کی بولیاں — ایک سبق آموز حکایت*

سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں ایک نوجوان حاضر ہوا اور عرض کیا:

"اے اللہ کے نبی! میں نے سنا ہے کہ آپ تمام حیوانات اور پرندوں کی بولیاں جانتے ہیں۔ جب یہ جانور آپس میں گفتگو کرتے ہیں تو آپ ان کی بات سمجھ لیتے ہیں۔ آپ یہ فن مجھے بھی سکھا دیجیے تاکہ میں جانوروں کی گفتگو سن کر اللہ کی معرفت حاصل کرسکوں۔"

سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے نورِ بصیرت سے اس نوجوان کے دل میں چھپی اصل خواہش کو بھانپ لیا اور فرمایا:

"اس خیالِ خام سے باز آ جاؤ۔ اس میں بہت سے خطرات پوشیدہ ہیں۔ جانوروں کی بولیاں سیکھنے سے خدا کی معرفت حاصل نہیں ہوتی، اس کے لیے اللہ ہی کی طرف رجوع کرو۔"

موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نے اسے بہت سمجھایا، مگر انسان کی فطرت ہے کہ جس چیز سے اسے روکا جائے، اکثر اسی کی طرف زیادہ مائل ہوجاتا ہے۔

نوجوان نے بہت اصرار اور خوشامد کی۔

آخرکار سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا:

"یا الٰہی! تو بے نیاز ہے۔ معلوم ہوتا ہے اس نوجوان کی عقل و خرد کو شیطان نے اپنا کھلونا بنا لیا ہے۔ اگر اسے جانوروں کی بولیاں سکھا دوں تو شاید یہ اس کے حق میں بہتر نہ ہو، اور اگر نہ سکھاؤں تو اس کا دل صدمے سے چور ہوجائے گا۔ میں کیا کروں؟"

اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا:

"اے موسیٰ! اس نوجوان کی خواہش پوری کردو، کیونکہ ہماری سنت ہے کہ ہم کسی کی دعا رد نہیں کرتے۔"

اس حکم کے باوجود سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ایک مرتبہ پھر اس نوجوان کو سمجھانے کی کوشش کی۔ نہایت نرمی سے فرمایا:

"اللہ نے اجازت تو دے دی ہے اور اب تیری مراد پوری ہوجائے گی، لیکن تیرے حق میں بہتر یہی ہے کہ اس خیال کو دل سے نکال دے اور اللہ سے ڈر۔ مجھے اندیشہ ہے کہ تو اس کے ذریعے سینکڑوں آفتوں میں گرفتار ہوجائے گا۔"

نوجوان نے کہا:

"بہت بہتر! میں تمام جانوروں کی بولیاں سیکھنے کی خواہش چھوڑ دیتا ہوں، لیکن کم از کم دو جانوروں کی بولیاں ضرور سکھا دیجیے؛ ایک اس کتے کی جو میرے گھر کے دروازے پر پہرا دیتا ہے، اور دوسری اس مرغ کی جو میرے گھر میں پلا ہوا ہے۔ میرے لیے ان دونوں کی بولی سمجھ لینا ہی کافی ہے۔"

سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

"اچھا، آج سے خدا کے حکم سے میں نے ان دونوں حیوانوں کی بولی کا علم تجھے عطا کردیا۔"

وہ نوجوان خوش خوش اپنے گھر واپس آگیا۔

اگلے دن وہ اپنے پالتو جانوروں کی گفتگو سننے کے لیے دروازے کے قریب کھڑا ہوگیا۔

کچھ دیر بعد گھر میں کام کرنے والی خادمہ ہاتھ میں ایک کپڑا لیے باہر آئی۔ اس میں رات کی بچی ہوئی روٹی کا ایک ٹکڑا تھا۔ خادمہ نے وہ ٹکڑا باہر پھینک دیا۔

مرغ فوراً آیا اور روٹی کا ٹکڑا اپنی چونچ میں دبا لیا۔

کتے نے یہ دیکھا تو مرغ سے کہا:

"یار! تو بڑا لالچی ہے۔ دانہ دنکا چگ کر بھی اپنا پیٹ بھر سکتا ہے۔ یہ باسی روٹی کا ٹکڑا ہمارے حصے کا تھا، وہ بھی تو نے لے لیا!"

مرغ نے جواب دیا:

"بھائی! اس باسی روٹی کا غم نہ کر، ذرا صبر سے کام لے۔ اللہ نے تیرے لیے اس سے کہیں بہتر رزق مقرر کر رکھا ہے۔ کل ہمارے مالک کا چہیتا گھوڑا مرنے والا ہے۔ اس کا گوشت خوب پیٹ بھر کر کھانا۔ یوں اللہ تجھے بغیر کسی محنت کے رزق عطا کرے گا۔"

نوجوان نے مرغ کی یہ بات سنی تو فوراً اصطبل سے گھوڑا نکالا، بازار لے گیا اور اس کے اچھے دام وصول کرکے خوشی خوشی گھر واپس آگیا۔

اگلی صبح پھر خادمہ نے دسترخوان جھاڑا تو روٹی کا ایک ٹکڑا زمین پر گرا۔ مرغ نے پھر جھپٹ کر اسے اٹھا لیا اور کتا دیکھتا رہ گیا۔

آخر کتے نے مرغ سے کہا:

"اے چالاک! تو نے کل کہا تھا کہ ہمارے آقا کا گھوڑا مر جائے گا اور مجھے خوب گوشت کھانے کو ملے گا۔ اب بتا، گھوڑا کہاں مرا؟ آقا تو اسے بازار میں بیچ آیا۔ معلوم ہوتا ہے تو جھوٹا ہے!"

مرغ نے جواب دیا:

"میں جھوٹا نہیں ہوں، میں نے سچ کہا تھا۔ گھوڑا مرنے والا ہی تھا، مگر یہاں نہ مرا، کہیں اور جاکر مرگیا۔ ہمارے مالک نے اسے بیچ کر اپنا نقصان دوسرے کے سر ڈال دیا اور خود نقصان سے بچ گیا۔ لیکن تو غم نہ کر، کل ان شاء اللہ ہمارے مالک کا اونٹ مرے گا، پھر تیری پانچوں انگلیاں گھی میں ہوں گی!"

نوجوان نے یہ سنا تو فوراً اونٹ بھی بازار لے گیا، اسے فروخت کیا اور نقصان سے بچ گیا۔

اسے اپنے آپ پر بڑا ناز ہونے لگا کہ جانوروں کی بولیاں سیکھ کر وہ کس قدر فائدے میں ہے۔

تیسرے دن کتے نے مرغ سے کہا:

"تو بڑا فریبی نکلا! آخر جھوٹ بولنے میں تجھے کیا مزہ آتا ہے؟ تو نے کہا تھا اونٹ مرے گا، مگر اونٹ کہاں مرا؟"

مرغ نے جواب دیا:

"یار! میں نے جھوٹ نہیں بولا۔ ہمارے مالک نے اونٹ بھی بیچ دیا۔ اب وہ اونٹ جس بدنصیب نے خریدا تھا، اس کے گھر جاکر مر گیا ہے۔ بہرحال تو غم نہ کر۔ کل ہمارے آقا کا غلام مرنے والا ہے۔ اس کے مرنے کے بعد ہمارا مالک فقیروں اور محتاجوں میں روٹیاں اور گوشت تقسیم کرے گا، پھر تیرے مزے ہی مزے ہوں گے۔"

نوجوان نے یہ سنا تو غلام کو بھی ایک شخص کے ہاتھ اچھی قیمت پر فروخت کردیا۔

اب وہ دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرنے لگا:

"اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے تین بڑے نقصانات سے بچا لیا۔ اگر مجھے کتے اور مرغ کی بولیاں نہ آتیں تو میرا کتنا نقصان ہوجاتا!"

چوتھے دن کتے نے غصے سے مرغ کو دیکھا اور کہا:

"ابے او جھوٹوں کے بادشاہ! یہ بھی سوچا ہے کہ تیری یہ دروغ گوئی کب تک چلے گی؟ تو کہتا تھا غلام مرے گا، مگر غلام تو کہیں نہیں مرا!"

مرغ نے کہا:

"بخدا! میں نے سچ کہا تھا۔ اگر ہمارے آقا نے غلام کو نہ بیچا ہوتا تو وہ اسی گھر میں مرتا۔ جس شخص نے اسے خریدا، اب وہ اپنے نصیب کو رو رہا ہوگا۔ لیکن اب تو خوش ہوجا، کیونکہ کل ہمارے آقا کی باری ہے۔ کل وہ ضرور مر جائے گا۔ پھر دیکھتا ہوں کہ وہ خود کو موت کے فرشتے سے کیسے بچاتا ہے!"

مرغ نے مزید کہا:

"کاش ہمارا مالک اتنا سمجھ لیتا کہ ایک نقصان کبھی کبھی سینکڑوں نقصانات کا صدقہ بن جاتا ہے۔ جسم اور مال کا نقصان بسا اوقات جان کا صدقہ ہوتا ہے۔ انسان دنیاوی معاملات میں اپنا مال خرچ کرکے اپنی جان بچا لیتا ہے، مگر قدرتِ الٰہی کے رازوں سے ناواقف ہونے کی وجہ سے وہ اپنا مال بچانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اگر وہ اپنی ذات پر سے کچھ مال صدقہ کردے تو یہی نقصان اس کے لیے فائدہ بن سکتا ہے۔"

پھر مرغ نے کہا:

"اب تو قصہ تمام ہونے والا ہے۔ آج ہمارا آقا اس دنیا سے رخصت ہوجائے گا۔ پھر اس کے وارث گائے ذبح کریں گے، دیگیں چڑھیں گی، فقیروں اور محتاجوں کا ہجوم ہوگا، روٹیوں کے ٹکڑے، ہڈیاں اور گوشت اتنی کثرت سے ملے گا کہ تیرا پیٹ بھر جائے گا۔"

"گھوڑے، اونٹ اور غلام کی موت سے ہمارا مالک اپنے مال کے نقصان سے تو بچ گیا، مگر وہ یہ نہ سمجھ سکا کہ وہ سب نقصانات دراصل اس کی اپنی جان کا صدقہ تھے۔ اس نے مال تو بچا لیا، مگر اپنی جان گنوا دی۔"

نوجوان نے مرغ کی زبانی اپنے مرنے کی خبر سنی تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔

بدحواس، گھبرایا ہوا سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور فریاد کرنے لگا:

"اے اللہ کے سچے نبی! مجھے ملک الموت کے پنجے سے بچا لیجیے!"

وہ پھر منت سماجت کرنے لگا اور اتنا رویا کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو اس پر رحم آگیا۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا:

"اے نوجوان! اب تیر کمان سے نکل چکا ہے، اور چھوٹا ہوا تیر واپس نہیں آتا۔ قضا نے تیرے گھر کو تاک لیا ہے اور اسے ٹالنا میرے اختیار میں نہیں۔ البتہ میں بارگاہِ الٰہی میں تیرے لیے یہ دعا کرسکتا ہوں کہ جب تیری روح بدن سے جدا ہو تو اللہ تجھے ایمان کی دولت کے ساتھ دنیا سے رخصت فرمائے۔ کیونکہ حقیقی زندگی وہی ہے جس میں انسان اپنا ایمان سلامت لے جائے۔"

ابھی پیغمبرِ خدا کی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ نوجوان کی حالت بدلنے لگی۔

اس کا دل گھبرایا، ہاتھ پاؤں سن ہونے لگے، یکایک خون کی ایک قے ہوئی۔

وہ قے بیماری کی نہیں، موت کی تھی۔

اسی وقت چار آدمی اسے کندھوں پر اٹھا کر گھر لے گئے۔ گھر پہنچتے ہی اس پر تشنج طاری ہوگیا، زبان بند ہوگئی، آنکھوں کی پتلیاں پھر گئیں، کانوں کی لویں مڑگئیں۔

آخرکار اس نے ایک ہچکی لی اور اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔

سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو جب اس کی وفات کی خبر ملی تو آپ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی:

"اے باری تعالیٰ! اسے ایمان کی دولت نصیب فرما، اپنی شانِ الوہیت کے صدقے میں اسے بخش دے۔ بے شک اس نے ضد اور گستاخی کی، مگر وہ نادان تھا۔"

🌿 سبق:
انسان اپنی محدود عقل سے آنے والے نقصان کو ہمیشہ نقصان سمجھتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت میں کبھی ایک نقصان بڑے نقصان سے بچانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔

اللہ کے فیصلوں پر بھروسہ رکھیں، اپنی تدبیروں پر غرور نہ کریں، اور دنیاوی مال و اسباب کو اپنی زندگی اور نجات کا اصل سہارا نہ سمجھیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا سے اپنا ایمان سلامت لے جائے۔
#حکایت #نصیحت

Address

Basti Malook Shah
Bahawalpur
63100

Opening Hours

Monday 08:45 - 14:30
Tuesday 08:45 - 14:45
Wednesday 08:45 - 14:45
Thursday 08:45 - 14:45
Friday 08:30 - 12:30
Saturday 08:45 - 14:45

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GHS Malook Shah Bahawalpur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category