04/09/2026
جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم بمقابلہ حکومتی ٹیم !
جماعت اسلامی نے حکومت سے مذاکرات کے لیے جس Technical Committee کا انتخاب کیا اُن میں
لیاقت بلوچ جو کہ ملک کے معتبر سیاست دان۔ ہمیشہ ایک ہی سیاسی جماعت سے وابستہ رہے، کئی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، مگر ان کے سیاسی کیریئر پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔ پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر رہے اور مختلف عوامی تحریکوں میں صفِ اول کا کردار ادا کیا۔ اپنے بھائی سادات بلوچ کے معاملے میں بھی، قومی اسمبلی کے رکن ہوتے ہوئے، اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔
انجینئر نصراللہ رندھاوا جو کہ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے، پیشے کے اعتبار سے ٹیلی کام انجینئر ہیں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر (CTO) رہ چکے ہیں اور آج جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر ہیں۔
سید فراست شاہ جو کہ پٹرولیم اور توانائی کے شعبے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، OGRA، OGDCL اور پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (PPL) میں ڈی جی اور ایم ڈی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ آج جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل ہیں۔
نوید علی بیگ ،الخدمت کراچی کے سی ای او ، بنو قابل پاکستان کے چیئرمین ہیں، اس سے قبل مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں میں اعلیٰ انتظامی ذمہ داریوں پر فائز رہ چکے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا سامنا جب رانا ثناءاللہ، عابد شیر علی، خواجہ آصف یا دانیال چوہدری جیسے حکومتی نمائندوں سے ہو تو مقابلہ کس چیز کا ہوگا؟
تجربے کا غلامی سے؟
علم کا تقلید سے؟
صلاحیت کا نااہلی سے؟
یا پھر دلیل کا شور سے؟
کیونکہ مسئلہ یہ نہیں کہ مذاکرات کی میز پر کون بیٹھا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف ملک کے مختلف شعبوں میں عملی تجربہ رکھنے والے لوگ بیٹھے ہوں اور دوسری طرف ایسے سیاسی عہدے دار ہوں جن کی طاقت کا بڑا حصہ، ناقدین کے مطابق، فارم 47 کی سیاست، ایک خاندان کی چاکری اور شاہ سے وفاداری سے آتا ہو۔
تو پھر Technical Committee کے سامنے اصل چیلنج مذاکرات نہیں، مذاکرات کا معیار برقرار رکھنا ہوگا اور جماعت اسلامی والے جانتے ہیں کیسے کیل سے باندھنا ہے۔