15/12/2025
⚡️ بجلی بحران، پونچھ میں احتجاج اور عوام کی دہائیاں
ازقلم صدام حسین۔پونچھ ڈویژن میں حالیہ عوامی احتجاج کو محض ایک ٹرانسفارمر یا پول کے خراب ہونے کا واقعہ سمجھنا صورتحال کی سنگینی کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ یہ احتجاج دراصل بجلی کی فراہمی کے فرسودہ نظام، محکمہ برقیات کے غیر فعال رویے اور عوام کی طویل عرصے سے دبے ہوئے غصے کا اظہار ہے۔ یہ مسئلہ صرف ایک تکنیکی خرابی کا نہیں، بلکہ ایک ناکام اور بوسیدہ انتظامی ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے جسے فوری طور پر تبدیلی کی ضرورت ہے۔
ایک فیوز سے دنوں کا سفر
پاکستان کے بڑے شہروں میں جب کوئی معمولی فیوز یا لائن میں خرابی آتی ہے تو محکمہ برقیات کا عملہ آدھے گھنٹے کے اندر اندر اسے ٹھیک کر دیتا ہے۔ مگر آزاد کشمیر کے پونچھ ڈویژن میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔
یہاں لائن مین کو فون کیا جائے تو وہ فوری طور پر 'مصروفیت' کا بہانہ بنا کر ٹال مٹول سے کام لیتا ہے۔
غیر سرکاری بھتہ خوری: بالآخر، لائن مین کی جانب سے ایک غیر سرکاری شخص کو بھیج دیا جاتا ہے جو فیوز تو ٹھیک کر دیتا ہے، مگر عوام سے 500 سے 1000 روپے کی "غیر اعلانیہ فیس" بھی وصول کرتا ہے۔
بجلی کی بندش: یہ سارا عمل گھنٹوں اور بعض اوقات دنوں پر محیط ہو جاتا ہے، جس سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔
ٹرانسفارمر کی خرابی کی صورت میں محکمہ برقیات کی لاپرواہی اور طوالت انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔
خرابی کی رپورٹ کے بعد 4 سے 5 دن کی تاخیر سے ٹرانسفارمر کو چیک کیا جاتا ہے۔
چیکنگ کے بعد یہ کہہ کر کام مزید لٹکا دیا جاتا ہے کہ اسے مین ورکشاپ لے جانے کے لیے محکمہ کی گاڑی 15 دن تک مصروف رہے گی۔
اس صورتحال سے تنگ آ کر علاقہ کے عوام مجبوراً چندہ جمع کرتے ہیں، اپنے ذاتی پیسوں سے ڈمپر منگواتے ہیں تاکہ ٹرانسفارمر کو ورکشاپ پہنچایا جا سکے۔
یہ سب کرنے کے بعد بھی مرمت کے لیے ایک ہفتے کا مزید انتظار کرنا پڑتا ہے۔
نتیجہ: ایک خراب ٹرانسفارمر کی وجہ سے عوام کو بغیر بجلی کے 20 سے 25 دن گزارنے پڑتے ہیں۔
بوسیدہ نظام: '80 کی دہائی کے ٹرانسفارمر'
احتجاج کی بنیاد میں ایک اہم مطالبہ بجلی کے نظام کی فوری اپ گریڈیشن ہے۔ اس وقت پونچھ ڈویژن میں اکثریت ٹرانسفارمرز کی ہے جو 1980 کی دہائی میں لگائے گئے تھے۔
آبادی میں کئی گنا اضافہ اور بجلی کے آلات کے زیادہ استعمال کی وجہ سے یہ پرانے ٹرانسفارمرز موجودہ لوڈ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
لوڈ زیادہ ہونے کے باعث یہ مسلسل خراب ہوتے رہتے ہیں، جس سے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
احتساب اور شفافیت کا مطالبہ
احتجاجی مطالبات صرف تکنیکی خرابیوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ انتظامی بے ضابطگیوں کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔
بجلی چوری پر خاموشی: اس کے علاوہ، بجلی کی چوری میں ملوث افراد اور ان کی پشت پناہی کرنے والے محکمے کے اہلکاروں کو بھی احتساب کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ شامل ہے تاکہ نظام میں شفافیت لائی جا سکے۔
پونچھ ڈویژن کا احتجاج ایک عام شہری کی طرف سے ان افسران کے لیے ایک تنبیہ ہے جو اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس احتجاج کو صرف چند مراعات دینے سے ختم کرنے کے بجائے، پورے بجلی کے نظام کی جڑ سے اصلاحات کرے، ٹرانسفارمرز کو جدید بنائے، عملے کی کارکردگی کو بہتر کرے اور کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کرے۔ ورنہ یہ چنگاری پورے علاقے میں پھیل سکتی ہے۔