صدام حسین

صدام حسین Freedom Fighter

Strength and
growth come only
through
continuous effort
and struggle . ...
The truth is, we all
face hardships of
some kind, and you
never know the
struggles a person
is going through. ...
Dream, struggle ,
create, prevail. ...
Human progress is
neither automatic
nor inevitable...

15/12/2025

⚡️ بجلی بحران، پونچھ میں احتجاج اور عوام کی دہائیاں
ازقلم صدام حسین۔​پونچھ ڈویژن میں حالیہ عوامی احتجاج کو محض ایک ٹرانسفارمر یا پول کے خراب ہونے کا واقعہ سمجھنا صورتحال کی سنگینی کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ یہ احتجاج دراصل بجلی کی فراہمی کے فرسودہ نظام، محکمہ برقیات کے غیر فعال رویے اور عوام کی طویل عرصے سے دبے ہوئے غصے کا اظہار ہے۔ یہ مسئلہ صرف ایک تکنیکی خرابی کا نہیں، بلکہ ایک ناکام اور بوسیدہ انتظامی ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے جسے فوری طور پر تبدیلی کی ضرورت ہے۔
​ایک فیوز سے دنوں کا سفر
​پاکستان کے بڑے شہروں میں جب کوئی معمولی فیوز یا لائن میں خرابی آتی ہے تو محکمہ برقیات کا عملہ آدھے گھنٹے کے اندر اندر اسے ٹھیک کر دیتا ہے۔ مگر آزاد کشمیر کے پونچھ ڈویژن میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔
یہاں ​ لائن مین کو فون کیا جائے تو وہ فوری طور پر 'مصروفیت' کا بہانہ بنا کر ٹال مٹول سے کام لیتا ہے۔
​غیر سرکاری بھتہ خوری: بالآخر، لائن مین کی جانب سے ایک غیر سرکاری شخص کو بھیج دیا جاتا ہے جو فیوز تو ٹھیک کر دیتا ہے، مگر عوام سے 500 سے 1000 روپے کی "غیر اعلانیہ فیس" بھی وصول کرتا ہے۔
​بجلی کی بندش: یہ سارا عمل گھنٹوں اور بعض اوقات دنوں پر محیط ہو جاتا ہے، جس سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔​
​ٹرانسفارمر کی خرابی کی صورت میں محکمہ برقیات کی لاپرواہی اور طوالت انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔
خرابی کی رپورٹ کے بعد 4 سے 5 دن کی تاخیر سے ٹرانسفارمر کو چیک کیا جاتا ہے۔
​ چیکنگ کے بعد یہ کہہ کر کام مزید لٹکا دیا جاتا ہے کہ اسے مین ورکشاپ لے جانے کے لیے محکمہ کی گاڑی 15 دن تک مصروف رہے گی۔
​اس صورتحال سے تنگ آ کر علاقہ کے عوام مجبوراً چندہ جمع کرتے ہیں، اپنے ذاتی پیسوں سے ڈمپر منگواتے ہیں تاکہ ٹرانسفارمر کو ورکشاپ پہنچایا جا سکے۔
​یہ سب کرنے کے بعد بھی مرمت کے لیے ایک ہفتے کا مزید انتظار کرنا پڑتا ہے۔
نتیجہ: ایک خراب ٹرانسفارمر کی وجہ سے عوام کو بغیر بجلی کے 20 سے 25 دن گزارنے پڑتے ہیں۔
​بوسیدہ نظام: '80 کی دہائی کے ٹرانسفارمر'
​احتجاج کی بنیاد میں ایک اہم مطالبہ بجلی کے نظام کی فوری اپ گریڈیشن ہے۔ اس وقت پونچھ ڈویژن میں اکثریت ٹرانسفارمرز کی ہے جو 1980 کی دہائی میں لگائے گئے تھے۔
​آبادی میں کئی گنا اضافہ اور بجلی کے آلات کے زیادہ استعمال کی وجہ سے یہ پرانے ٹرانسفارمرز موجودہ لوڈ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
​ لوڈ زیادہ ہونے کے باعث یہ مسلسل خراب ہوتے رہتے ہیں، جس سے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
​احتساب اور شفافیت کا مطالبہ
​احتجاجی مطالبات صرف تکنیکی خرابیوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ انتظامی بے ضابطگیوں کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔
​بجلی چوری پر خاموشی: اس کے علاوہ، بجلی کی چوری میں ملوث افراد اور ان کی پشت پناہی کرنے والے محکمے کے اہلکاروں کو بھی احتساب کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ شامل ہے تاکہ نظام میں شفافیت لائی جا سکے۔
​پونچھ ڈویژن کا احتجاج ایک عام شہری کی طرف سے ان افسران کے لیے ایک تنبیہ ہے جو اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس احتجاج کو صرف چند مراعات دینے سے ختم کرنے کے بجائے، پورے بجلی کے نظام کی جڑ سے اصلاحات کرے، ٹرانسفارمرز کو جدید بنائے، عملے کی کارکردگی کو بہتر کرے اور کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کرے۔ ورنہ یہ چنگاری پورے علاقے میں پھیل سکتی ہے۔

😔 قوم کی بے چینی اور امید کا رخت سفر 😔​از قلم!صدام حسین ​پاکستان کی موجودہ فضا پر اگر ایک سرسری نگاہ بھی ڈالی جائے تو ہر...
13/12/2025

😔 قوم کی بے چینی اور امید کا رخت سفر 😔
​از قلم!صدام حسین
​پاکستان کی موجودہ فضا پر اگر ایک سرسری نگاہ بھی ڈالی جائے تو ہر طرف ایک غیر یقینی کی کیفیت اور شدید اقتصادی دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ یہ وہ دباؤ ہے جس نے نہ صرف عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، بلکہ بڑے بڑے سرمایہ داروں اور کاروبار چلانے والوں کو بھی ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماضی میں جب ملک کسی مشکل دور سے گزرتا تھا تو اہل وطن امید کا دامن تھامے رکھتے تھے، لیکن آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ امید کا رخت سفر باندھنے والے درجنوں نہیں، بلکہ ہزاروں میں ہیں۔
​📉 سرمایہ کاری کا خوف اور اندرونی نچوڑ
​یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری کا بہاؤ تقریباً خشک ہو چکا ہے۔ جب بیرون ملک سے ایک روپے کی بھی نئی سرمایہ کاری ملک میں نہیں آ رہی تو حکومت کو اپنے اخراجات اور عالمی قرضوں کی ادائیگی کے لیے اندرونی ذرائع پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ مگر یہ انحصار ایک صحت مند مالیاتی پالیسی کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ قوم کو 'نچوڑنے' کے مترادف ہو گیا ہے۔
​اس سال کے آخری مہینوں میں جرمانے اور چالان کی شرح میں جو غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، وہ اسی دباؤ کا عکاس ہے۔ چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر اداروں کو کروڑوں کے جرمانے، اور کاروباری طبقے پر بلاوجہ کے ٹیکس اور ریگولیٹری بوجھ نے ہر شخص کو ہزار بار سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا وہ کوئی نئی سرمایہ کاری کرے یا بازار میں پیسے خرچ کرے۔ اس معاشی بدحالی میں کوئی بھی شخص اپنی جمع پونجی خطرے میں ڈالنے کو تیار نہیں۔ نتیجتاً، کاروبار منجمد ہو کر رہ گیا ہے۔
​✈️ روکنے کی کوشش یا مایوسی کا اعتراف؟
​جب ایک ملک کا کاروباری طبقہ، اور تعلیم یافتہ نوجوان، اپنا سب کچھ بیچ کر بیرون ملک جا رہے ہوں، تو یہ ملک کی معیشت اور مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ بڑے سرمایہ داروں کا اپنا کاروبار نیلام کر کے جانا یہ پیغام دیتا ہے کہ انہیں حکومتی پالیسیوں اور مستقبل کی معاشی سمت پر ذرا برابر بھی اعتماد نہیں رہا۔
​مایوسی کی اس فضا میں، جب ملک سے Brain Drain اور Capital Flight کا عمل تیز ہوتا جا رہا ہے، تو وزیر داخلہ کا بیرون ملک جانے والے افراد کے کاغذات کی ایئرپورٹ پر خاص جانچ پڑتال کروانا، محض ایک عارضی تدبیر معلوم ہوتا ہے۔ یہ اقدام باہر جانے والوں کو یہ تاثر دیتا ہے کہ ان کے پیسے ڈوبنے کا خطرہ ہے، تاکہ وہ خوفزدہ ہو کر اپنے ملک میں ہی رک جائیں۔ لیکن یہ طرز عمل آزادی کی خلاف ورزی اور اس بات کا اعتراف ہے کہ ملک میں حالات کنٹرول سے باہر ہیں۔ لوگ اس لیے نہیں جا رہے کہ ان کے کاغذات میں کمی ہے، بلکہ اس لیے جا رہے ہیں کہ انہیں اپنے مستقبل کی فکر ہے۔
​🤐 خوف کا سایہ اور دبی ہوئی آوازیں
​اقتصادی بدحالی کے ساتھ ساتھ ملک میں سیاسی خوف کا ماحول بھی سرایت کر چکا ہے۔ صحافیوں کو مختلف قسم کے کیسوں کا سامنا ہے، اور ہر وہ آواز جو اقتدار کے ایوانوں پر تنقید کرتی ہے، اسے خاموش کرانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ عام آدمی کی کیفیت یہ ہے کہ وہ بات کرتے ہوئے بھی ڈرتا ہے۔ ہر طرف خوف و ہراس کا یہ عالم ہے کہ لوگ کسی بھی قسم کے ردعمل یا احتجاج سے گریز کر رہے ہیں، مبادا انہیں اگلے دن اٹھا لیا جائے۔
​یہ صورتحال کسی بھی ملک کے لیے تشویشناک ہے۔ جب ملک کی قیادت معاشی استحکام، قانونی حکمرانی، اور آزادی اظہار کی بجائے خوف اور غیر یقینی کو فروغ دینے لگے، تو قوم کا اپنے گھروں کو چھوڑ کر جانا ایک فطری ردعمل بن جاتا ہے۔
​پاکستان کی حکومت کو یہ سمجھنا ہو گا کہ معیشت اعتماد پر چلتی ہے، اور اعتماد بہترین پالیسیوں، قانون کی بالادستی، اور اظہار رائے کی آزادی سے جنم لیتا ہے۔ خوف کے سائے میں نہ کوئی سرمایہ کاری کر سکتا ہے، اور نہ ہی کوئی ملک سے وفاداری کا پختہ مظاہرہ کر سکتا ہے۔ جب تک یہ خوف اور غیر یقینی کی فضا ختم نہیں ہوتی، لوگوں کا "نچوڑ" تو ہو سکتا ہے، مگر ملک اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔

مخمصہشہداء جموں 6نومبر ۔۔۔۔۔22اکتوبر قبائیلی حملے کا ردعمل ۔۔۔قارئین کرام آج کل سوشل میڈیا پر پونچھ آذاد جموں کشمیر سے ل...
06/11/2025

مخمصہ
شہداء جموں 6نومبر ۔۔۔۔۔
22اکتوبر قبائیلی حملے کا ردعمل ۔۔۔
قارئین کرام آج کل سوشل میڈیا پر پونچھ آذاد جموں کشمیر سے لوگوں نے واویلا مچا رکھا ہیکہ جموں میں مسلم ابادی کا 6نومبر کو قتل عام کیا گیا 2015میں راقم نے چور مچاۓ شور کے عنوان سے تحقیقی مضمون لکھا تھا جس پر سوشل میڈیا قارئین نے فتووں کی بوچھاڑ کی تھی رفتہ رفتہ لوگ سمجھ گئے مگر آج بھی ضرورت ہیکہ حقائق عوام کے سامنے رکھے جاہیں۔
ہم تاریخ کے طالب علم جب کسی سانحے پر لکھتے ہیں تو یاد رہے ہمارے پاس اس زمانہ کی مردم شماری واحد ابادی کا تناسب دیکھنے کا ذریعہ ہوتی ہے دوسرا اس زمانہ کے لوک گیت اس زمانہ کے سرکاری ریکارڈ ہمارا ذریعہ ہوتے ہیں ۔
ہم مذہبی وفرقہ وارانہ تعصب کی عینک اتار کر انسانی نقطہ نظر سے لکھتے ہیں خود کو غیر جانبدار رکھ کر لکھتے ہیں کیونکہ
عقیدہ اپنا اپنا ریاست سانجھی مسائل سانجھے ۔۔۔
شور کیا جاتا ہیکہ 6نومبر کو جموں میں مسلم ابادی کو لاکھوں کے حساب سے نشانہ بنایا گیا جو کہ مبالغہ آرائی ہے جب کہ مردم شماری میں مسلم ابادی درج ہے اس سے تخمینہ لگایا جاسکتا ہے ۔
6نومبر 1947کا پس منظر 22اکتوبر 1947سے شروع ہوتا ہے
سب سے اہم بات یہ کہ پونچھ ضلع جو تقسیم ہوا اسکے قباہیلی علاقے پاکستان کے زیر قبضہ آے وہ جموں کا انتظامی حصہ تھے ۔جہاں غیر مسلم ابادی پندرہ فی صد تھی سکھ ،ہندو آباد تھے جن کا یہاں نام ونشان نہیں ہے اس پر آج تک کوئی نہیں بولا؟؟
وجہ ایک ہی ہے ان ہندوؤں کی بڑی بڑی زمینوں پر آج بھی لوگ قابض ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو واویلا کرتے ہیں
باغ میں سدھن گلی سے لیکر کوٹھیاں تک چھ گاؤں تھے ہاڑی گہل سے دھیرکوٹ تک چار گاؤں تھے پھر متیال میرہ سے منگ تک دو گاؤں تھے راولاکوٹ سے تولی پیر تک چار گاؤں تھے جن کے کاغذات آج بھی جموں میں موجود ہیں سوشل میڈیا رابطوں کیوجہ سے آج یہ زمینوں کے کاغذات لینا آسان ہے ۔
یہ ہندو سکھ عام رعایا تھے البتہ ان میں چند دکان دار تھے انہیں کھتری کہا جاتا تھا یہ راشن سمیت ہر وہ چیز ادھار دیتے تھے جس کی ضرورت ہوتی تھی۔۔۔یہ پنجاب سے اشیاء گھوڑوں پر لاتے تھے
جموں میں 6نومبر کو جو قتل عام ہوا جس کی درست تعداد معلوم تو نہیں البتہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ مارے گئے جیسا کہ یوسف سراف نے لکھا ہے اس کا پس منظر 22اکتوبر 1947کا غدر ہے
جب نام نہاد آزاد کشمیر سے ہندو سکھ ہجرت کرکے پونچھ پہنچے تو انہیں کیمپوں میں رکھا گیا وہاں سے وہ جموں شہر پہنچے اب بیتیاں سنائی گئیں کہ ان کے ساتھ پونچھ ،راولاکوٹ ،باغ میرپور کوٹلی اور مظفرآباد میں کیا ہوا ۔
چونکہ ان علاقوں میں ہندوؤں ،سکھوں کا قتل بھی کیا گیا تھا ان کے کچے مکانات ،عبادت گاہوں کو آگ لگا دی گئی تھی ان کے بچوں کو زندہ بھی جلانے کے واقعات سامنے آے تھے البتہ اس زمانہ کے بادشاہ کا خاندان سری نگر سے جموں تک محفوظ رکھا تھا جس پر کسی نے حملہ نہیں کیا بلکہ اسکا بدلہ عام ہندوؤں سے لیا گیا جو خود رعایا تھے اور اقلیت تھے عام ہندوؤں سکھوں کو قتل بھی کیا گیا تھا اور انہیں رات کے اندھیرے میں ہجرت بھی کرنی پڑی تھی وہ وہاں جاکر اپنے اوپر ہونے والے ظلم وستم بیان کرنے لگے۔

یہ سکھوں کے خلاف فسادات مسلم لیگ کی تحریک سے مارچ 1947میں شروع ہوئے۔ کلیدی کردار:
- **مسلم لیگ نیشنل گارڈز** (پیراملٹری ونگ) – حملوں کی منصوبہ بندی اور عمل میں مرکزی۔
- مقامی مسلم لیگ سیاستدان اور کارکن، جیسے **فیروز خان نون** (مسلم لیگ لیڈر، جو بعد میں گورنر بنیں) – سیاسی طور پر ملوث ہیں
- سابق مسلم فوجی، پولیس اور مقامی افسران – حملوں میں مدد کی۔
- یہ فسادات مارچ 1947سے شروع ہوۓ اور 22اکتوبر کی رات مظفرآباد جموں وکشمیر میں سکھوں پر حملے تک جاری رہے
چونکہ اس جموں خطے میں مذہبی تعصب پھیل چکا تھا۔
ہندو انتہا پسند ردعمل کے طور پر سامنے آ چکے تھے جس سے عام ہندو بھی متاثر تھے
1947 کے جموں قتل عام (اکتوبر-نومبر) کے دوران RSS (راشٹریہ سوئیم سیوک سنگھ) کے سرکردہ لوگ اور کلیدی کردار یہ تھے:

- **امدیتا پریتم** (RSS کا جموں کا پرچارک) – قتل عام کی منصوبہ بندی اور ہدایات دینے والے مرکزی رہنما، جنہوں نے RSS کی فوجی ونگ 'شاکھا' کو متحرک کیا۔
- **پریم ناتھ بھالا** – مقامی RSS لیڈر، جو فسادات میں فعال تھے اور ہندو/سکھ ملیشیا کی قیادت کی۔
- **بیدو رام سدھو** – سکھ RSS کارکن، جنہوں نے حملوں میں حصہ لیا۔
- **بال کرشنہ** (جموں کے RSS پرچارک) – علاقائی سطح پر RSS کی سرگرمیوں کا انچارج، جو مہاراجہ کی فورسز کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔
- مرکزی سطح پر **امساری سنگھ** (RSS سر سنک) – تقسیم کے وقت RSS کی قیادت کر رہے تھے، جن کی ہدایات پر مقامی یونٹس نے عمل کیا۔

یہ لوگ انتہا پسند ہندو/سکھ گروپس کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو نشانہ بنانے میں ملوث تھے۔
پورے ہندوستان سے لوگ ہجرت کر رہے تھے امرتسر سے ریل گاڑیاں اور سڑک پر بسیں براستہ جموں سیالکوٹ سفر کر رہی تھیں جن میں مسلم اور سکھ بھی سوار تھے جو پنجاب سے پاکستانی پنجاب منتقل ہو رہے تھے انہیں جموں کے مضافات میں پنجاب سے آے سکھوں نے علیحدہ کرکے نشانہ بنانہ شروع کردیا مقامی مسلم ابادی بھی اسکا شکار بن گئی
چونکہ پنجاب تقسیم ہوگیا تھا لوگ نوزائیدہ پاکستان کی طرف ہجرت کر رہے تھے ریلوں کی ریلیں مسافروں سے بھری تھیں جنہیں نشانہ بنایا گیا ۔
پنجاب سامراج نے یہ سارا خون خرابہ جموں وکشمیر کے صوبہ جموں پر ڈالا کر خود بری الزمہ قرار پایا
حالانکہ سکھ پرامن تھے ان کے بڑے مذہبی مقامات سارے پاکستان میں تھے تقسیم میں وہ پاکستان کے مخالف نہ تھے بلکہ پورے ہندوستان سے جوق در جوق وہ پاکستان ہجرت کر رہے تھے ان کے مذہبی مقامات درج ذیل پاکستان میں ہیں
1. گوردوارہ دربار صاحب، ننکانہ صاحب (پیدائش گاہ نوازشاہ کے قریب).
2. گوردوارہ پنڈی صاحب، پنجاب میں لاہور کے قریب.
3. گوردوارہ پنجہ صاحب، لاہور.
4. گوردوارہ چوٹہ صاحب، پنجاب.
5. گوردوارہ سید پور، سیالکوٹ کے قریب.
6. گوردوارہ بھائی کالا، سکھوں کی تاریخی جگہ.
7. گوردوارہ بہاؤالدین زکریا صاحب، ملتان کے قریبی علاقے میں بھی سکھوں کا مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔

یہ مقامات سکھوں کے لیے زیارت اور مذہبی رسومات کی جگہ ہیں، جو پاکستان میں تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔
ان مقامات کے لیے سکھ پاکستان ہجرت کر رہے تھے
آر ایس ایس نامی ہندو انتہا پسند تنظیم نے اسی ہجرت کا فاہدہ اٹھایا اور قتل عام شروع کر دیا ۔۔۔۔
پنجاب سامراج نے پاکستان کے علاقوں میں،اباد سکھوں کو نشانہ بنایا جس کے جواب میں ہندوستان کے سکھوں نے ار ایس ایس ہندو انتہا پسند تنظیم کے ساتھ مل کر مسلم ابادی کو اور ہندوستان سے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی ریل گاڑیاں جموں کے مضافات میں روک کر انسانیت سوز قتل عام کیا اسی غدار کا فاہدہ اٹھا کر ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس نے بہتی گنگا میں جموں کی مسلم ابادی کے خون سے ہاتھ دھو ڈالے ۔۔۔
جموں کے ہندو انتہا پسندوں نے راولاکوٹ ،باغ دھیرکوٹ میرپور ،مظفراباد سے اپنے ہم مذہب لوگوں کے خون اور ہجرت کا بدلہ جموں کی مقامی ابادی سے لیا جس کی درست تعداد معلوم نہیں البتہ یوسف سراف نے 20000تک لکھی ہے
انگریزوں نے کو تقسیم کے آلہ کار بھی تھے اور اس خونی کھیل کے سہولت کار بھی انہوں نے لاکھوں میں تعداد لکھی ہے تاکہ یہ خون کے بدلے ہوتے رہیں ۔اور یہاں کھبی استحکام نہ آۓ ۔
ہندوؤں اور مسلمانوں کی تنظمیں شور تو مچاتی ہیں مگر سکھوں کی تنظمیں خاموش ہیں کیونکہ وہ اقلیت سے تقسیم ہو کرمذید اقلیت میں تبدیل ہوگئیں ۔
اصل پس منظر تقسیم ہندوستان کے مذہبی فسادات تھے جو انگریز نے یہاں پھیلا کر خود نکل گیا اور اس خطے میں نہ ختم ہونے والی مذہبی فسادات کی آگ لگا گیا ۔۔۔
مارچ 1947میں مسلم لیگ کے مذہبی فسادات سے شروع ہونے والی خون ریزی جموں میں 6نومبر 1947کو ردعمل کے طور پر سامنے آئی ۔جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔
البتہ آج 2025میں ہم تجزیہ کر سکتے ہیں کہ کن لوگوں نے ان فسادات سے آج تک فاہدہ اٹھایا اور کن لوگوں نے ان فسادات کو ہمیشہ نفرت کی نگاہ سے دیکھاکس نے لاشوں پر سیاست کی اور کس نے انسانییت کی نظر سے ان فسادات کی کھل کر مذمت کی جن میں ہندو /سکھ /مسلم سکھ نشانہ بنے ۔
ہم جموں میں دیکھتے ہیں کسی پل ،سڑک ،سکول یا کسی بھی عمارت کو ان انتہا پسندوں کے نام سے منسوب نہیں کیا گیا ہے اگر عام ہندو انتہا پسند ہوتا تو یقینا اج جموں میں امریتاپریتم سڑک ہوتی کوئی سکول پریم ناتھ کے نام سے منسوب ہوتا
کوئی دکان مکان کوئی بھی عمارت بال کرشنہ کے نام سے منسوب ہوتی ۔
6نومبر 22اکتوبر کا ردعمل تھا تو 22اکتوبر شہداء مظفرآباد آپ کیوں نے مناتے جس میں ماسٹر عبالعزیز سمیت چھ سو خواتین قتل کی گیئں سوچیے گا ضرور ۔
سانحہ باغ سانحہ راولاکوٹ کیوں نہیں منایا جاتا ؟؟
6نومبر کے سانحے ان انتہا پسندوں کی جموں میں کوئی جگہ نہیں البتہ آپ یہ بتائیں کہ آذاد کشمیر میں ہندو /سکھ غیر مسلموں کے قاتلوں کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے نام سے کیا کیا منسوب ہے آپ خود فیصلہ کریں مجھے لکھنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔
(نوٹ میرے مخمصے سے آپکا متفق ہونا ضروری نہیں کیونکہ مخمصے کا مطلب الجھن ہوتا ہے )
عقیدہ اپنا اپنا ریاست سانجھی
فاضل حسین J&K

📣 نوید عزیز قتل کیس: عدالتی محاذ پر اہم پیش رفت! ⚖️​نوید عزیز قتل کیس اب باقاعدہ طور پر جوڈیشل ہو گیا ہے! پولیس نے کیس ک...
05/11/2025

📣 نوید عزیز قتل کیس: عدالتی محاذ پر اہم پیش رفت! ⚖️
​نوید عزیز قتل کیس اب باقاعدہ طور پر جوڈیشل ہو گیا ہے! پولیس نے کیس کا نامکمل چالان (عبوری چالان) عدالت میں پیش کر دیا ہے، جس کے بعد اب کیس کی عدالتی کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔
​اہم نکات:
​نامکمل چالان کا مطلب: چونکہ چالان نامکمل ہے، اس کا مطلب ہے کہ پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ فرانزک رپورٹس،پوسٹ مارٹم رپورٹ، اضافی گواہوں کے بیانات، اور دیگر کلیدی شواہد کی تکمیل باقی ہے۔
​عدالت کا اگلا حکم: توقع ہے کہ عدالت پولیس کو جلد از جلد تکمیلی چالان (Supplementary Challan) جمع کرانے کی ہدایت دے گی۔
​باقاعدہ سماعت کا آغاز: اس عبوری چالان کے جمع ہونے سے ملزمان کو اب باقاعدہ طور پر عدالت میں زیرِ سماعت لایا جائے گا، جو انصاف کی طرف ایک قدم ہے۔
​ورثاء کا قانونی محاذ: ورثاء کی جانب سے قانونی نمائندگی کے لیے سینئر وکیل منظور ایڈووکیٹ صاحب کی نامزدگی کے قوی امکانات ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قانونی جنگ بھرپور انداز میں لڑنے کے لیے تیار ہیں۔
​ورثاء اور لواحقین کی طرف سے انصاف کی جدوجہد کو خراج تحسین! ہماری دعائیں اور حمایت ان کے ساتھ ہے۔ امید ہے کہ جلد ہی تمام شواہد عدالت میں پیش ہوں گے اور حق و سچ سامنے آئے گا۔
​ #نویدعزیزکیس #عدالت
​📣 Naveed Aziz Murder Case: Significant Development on the Judicial Front! ⚖️
​The Naveed Aziz murder case has now formally become judicial! The police have submitted an incomplete charge sheet (interim challan) to the court, marking the beginning of the case's formal judicial proceedings.
​Key Points:
​Meaning of Incomplete Charge Sheet: Since the challan is incomplete, it means that further investigations by the police are still ongoing. The completion of forensic reports, statements from additional witnesses, and other key evidence is pending.
​Court's Next Order: The court is expected to direct the police to submit the supplementary challan as soon as possible.
​Start of Formal Hearing: With the submission of this interim challan, the accused will now be formally brought under trial in court, which is a step towards justice.
​Heirs' Legal Front: There is a strong possibility that Senior Advocate Manzoor will be nominated for legal representation on behalf of the heirs, which indicates their readiness to fight the legal battle vigorously.
​Tributes to the struggle for justice by the heirs and bereaved family! Our prayers and support are with them. It is hoped that all evidence will soon be presented in court and the truth will come out.

وکلاء ٹیم کا موقف اور ہمارا موقف ⚖️ نوید عزیز کیس: قانونی ٹیم پر بھروسہ اور سچائی کی تلاش 🔍​اہم اعلان:​احباب! نوید عزیز ...
05/11/2025

وکلاء ٹیم کا موقف اور ہمارا موقف
⚖️ نوید عزیز کیس: قانونی ٹیم پر بھروسہ اور سچائی کی تلاش 🔍
​اہم اعلان:
​احباب! نوید عزیز کیس سے متعلق کچھ پرانی معلومات/پہلوؤں کو ڈسکس کیا گیا تھا ۔ اس حوالے سے ورثاء اور وکلاء کی ٹیم نے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ چونکہ کیس اب ایک انتہائی حساس اور اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، لہٰذا اس وقت پرانی یا غیر متعلقہ تفصیلات کو منظر عام پر لانا یا بحث کرنا مقدمے کی کارروائی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
​ہمارا مؤقف واضح ہے:
​🗣️ "مزید کہا ہے کہ اس کیس سے جڑی قانونی ٹیم اعتماد کریں ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا خون پسینہ ایک کر کے اس گھناؤنے قتل میں ملوث تمام قاتلوں کو بے نقاب کریں گے اور مین ملزم کو پھانسی کی سزا دلوائیں گے۔"
​اہم نکتہ:
​بیشک، یہ حقیقت ہے کہ اس قتل میں ایک سے زیادہ قاتلوں کے ملوث ہونے کے حوالے سے بہت سارے سوالات اور شکوک و شبہات موجود ہیں، ان سب کو پکڑ کر عوام کو بتائیں جائے کہ کس طرح بےدردی سے قتل کیا گیا۔
​ہم عوام سے گزارش کرتے ہیں:
​صبر اور اعتماد رکھیں: اس نازک موڑ پر، عدالت اور وکلاء کی حکمت عملی کو کام کرنے کا موقع دیں۔
​قانونی پیچیدگیوں کو سمجھیں:
​غیر ذمہ دارانہ بحث سے گریز کریں: کسی بھی ایسی بات کو شیئر کرنے سے گریز کریں جو کیس کو کمزور کرے۔
​آگے کا لائحہ عمل:
​وکلاء کی ٹیم نے مزید تحقیقات کے لیے یہ بھی کہا ہے کہ جب حالات سازگار ہوں گے اور قانونی طور پر اس کی اجازت ہوگی کہ آپ ان مملات کو پبلک میں ڈسکس کر سکے،تو مزید سچائی سامنے لانے کے لیے (نوید کی سوتیلی بہن) کا مکمل انٹرویو شائع کر کے عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔
​🙏 ہم ساتھ جڑے رہیں گے! انشاءاللہ، ہم سچائی کو زمین کے اندر سے کھوج کر نکالیں گے۔

📢 نوید عزیز کی بہن کا جذباتی ویڈیو پیغام: انصاف کا مطالبہ اور آئندہ لائحہ عمل کا اعلان 📢​اسلام علیکم، میں نوید عزیز کی ب...
05/11/2025

📢 نوید عزیز کی بہن کا جذباتی ویڈیو پیغام: انصاف کا مطالبہ اور آئندہ لائحہ عمل کا اعلان 📢
​اسلام علیکم، میں نوید عزیز کی بہن ہوں اور آپ تمام گروپ ممبران سے مخاطب ہوں۔
​میرے بھائی نوید عزیز کو جس بے دردی سے قتل کیا گیا، اس حوالے سے میری طرف سے یہ اہم پیغام ہے۔ گروپ میں یہ بات ہو رہی ہے کہ قاتلوں کی گرفتاری اور سزا کے لیے کوئی کھڑا نہیں ہو رہا، مگر میں یہ واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ میں نوید عزیز کی وارث ہوں اور ہمیں ہر صورت انصاف چاہیے!
​ہم نے قاتلوں کو کسی بھی صورت معاف نہیں کرنا۔ میرا بھائی بے گناہ تھا اور اسے قتل کیا گیا ہے۔ قتل کے بدلے قتل، ہم اسے کسی بھی صورت معاف نہیں کر سکتے۔
​⚠️ جان کا خطرہ اور سکیورٹی کا مطالبہ ⚠️
​ہمیں قاتلوں کی طرف سے پہلے سے ہی دھمکیاں دی گئی تھیں۔
​میرے ماموں ارسلان کے والد ظریف نے بھی ہمیں دھمکیاں دی تھیں۔
​مجھے بھی دھمکیاں دی گئی ہیں اور میرے بیٹوں کو بھی دھمکیاں دی گئی ہیں۔
​ہمیں اپنی جان کا خطرہ ہے!
​لہٰذا، باغ انتظامیہ نوید عزیز کی بہن کو فوری طور پر سکیورٹی فراہم کرے۔
​⏳ انتظامیہ کو 5 دن کا الٹی میٹم! ⏳
​نوید عزیز کی بہن نے انتظامیہ کو مزید 5 دن یعنی 9 نومبر رات 12 بجے تک کا وقت دے دیا ہے۔ اگر اس دوران ہمیں انصاف فراہم نہیں کیا جاتا تو پھر ہمارا اگلا لائحہ عمل انتہائی سخت اور یقینی ہو گا۔
​تمام باشعور لوگوں سے گزارش ہے کہ ہمارے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہو جائیں۔
​جیسا کہ ہمارا طے شدہ منصوبہ تھا، ہم ایک دھڑے سے باغ تک پیدل پرامن لانگ مارچ کا اعلان کر رہے ہیں۔
​آپ سب میرے ساتھ کھڑے ہوں! میں اور میری والدہ ہر احتجاج میں صفِ اوّل پر کھڑی ہوں گی۔
​ہم نہ ہی لمبا کیس لڑ سکتے ہیں اور نہ ہی انتظار کر سکتے ہیں، اس لیے ہمیں فوری انصاف فراہم کیا جائے!
​❓ انتظامیہ سے سوالات اور مالی معاملات کی تفصیل ❓
​انتظامیہ نے ابھی تک ہمیں یہ نہیں بتایا کہ قتل میں کتنے لوگ شامل تھے، کس نے، کب اور کہاں قتل کیا۔ تمام قاتلوں کو فورا سزا دی جائے!
​میں نے خود اپنے ماموں کو گھر جا کر 4 لاکھ 27 ہزار روپے دیے تھے۔ اس کے علاوہ سونے کی انگوٹھی الگ ہے۔
​یہ سب کچھ لینے کے باوجود، ہمارے بے گناہ بھائی کو شہید کروا دیا گیا۔ قاتل کا باپ بھی اس قتل میں شامل تھا۔
​یہ تمام چیزیں فورا واپس کی جائیں کیونکہ یہ سب لے کر بھی آپ نے میرے بھائی کو قتل کر دیا۔
​ہمیں اب اپنے ماموں سے کوئی رشتہ یا تعلق نہیں رکھنا، ہمارے لیے وہ سب مر گئے ہیں!
​ایک سال ہو گیا، انہوں نے ہمیں دھمکیاں دی تھی کہ ہمارے گھر کی طرف کوئی نہیں آ سکتا۔ اس دوران نہ میں گئی ہوں، نہ میری امی اور نہ ہی نوید ان کے گھر کی طرف گیا ہے۔
​اس لیے 4 لاکھ 27 ہزار، ایک سونے کی انگوٹھی اور ایک عدد موبائل فورا واپس کیا جائے!
​نوید عزیز کی بہن کا یہ دلخراش پیغام سن کر آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انتظامیہ کو فوری طور پر کارروائی کرنی چاہیے؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں۔
​ #نویدعزیزکوانصافدو #باغانتظامیہ #فوریانصاف

31/10/2025

💥 جواب اُن سب کو جو کہتے تھے: "یہ خطہ آٹے کی تحریک کے لیے نہیں آزاد ہوا!"جس آٹے کو سستا کروانے کے لیے ہم نکلے، اسی دوران "آٹا سستا کروانے والوں" نے ملک کا قیمتی ائیرپورٹ بھی لے لیا ہے! ✈️💰

روایتی پہناوے، ہماری پہچان!  کشمیر کے مختلف علاقوں کی خوبصورت ثقافتوں اور ملبوسات کی ایک جھلک۔ 🌸🍁   #ثقافت
13/10/2025

روایتی پہناوے، ہماری پہچان!
کشمیر کے مختلف علاقوں کی خوبصورت ثقافتوں اور ملبوسات کی ایک جھلک۔ 🌸🍁
#ثقافت

12/10/2025

اس جذبے کو پہچانو اس کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔

12/10/2025

میں ہوں کشمیری

12/10/2025

Shar pai for peer kanthi

Address

Bagh

Telephone

+923408090934

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when صدام حسین posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share