Thak village (Babusar,Nayat,thak

Thak village (Babusar,Nayat,thak Thak village is located in chilas ,district diamer GB Pak

Thak village is located in DISTRICT Diamer frm 20km and the people of this area is called THAKOCHY OR KHANO..

27/07/2025
26/07/2025

چلاس تھک اور بابوسر ٹاپ اپ ڈیٹ:
دیامر کے نوجوانوں نے امید کی شمع روشن کردی اور ساتھ میں ہمدردی کی بھی مثال قائم کردی
۔
Source and credit to

26/07/2025

تھک بابو سر شاہراہ ۔۔بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ۔۔۔
گزشتہ دنوں شاہراہ بابو سر پر تھک کے علاقہ میں آنیوالے سیلاب نے جہاں ایک خونی تاریخ رقم کی وہاں علاقہ کے لوگوں کی مہمان نوازی اور انسانیت کی اعلی مثالیں بھی سامنے آئیں ۔۔۔مقامی آبادی نے اپنے گھروں کے دروازے متاثرین کے لیے کھول دیے ۔۔بلکہ ایسا بھی ہوا کہ مقامی افراد نے خود رات گھر سے باہر کھلے آسمان میں گزاری اور متاثرین کو چھت فراہم کی ۔۔۔ان کے کھانے پینے کا خیال رکھا ۔۔بہت سے لوگ پھنسے ہوئے سیاحوں کا سامان کندھوں پر اٹھا کر بابو سر ٹاپ تک لے گئے ۔۔سیلابی ریلے میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے اپنی جان تک کی پرواہ نہ کی ۔۔۔سیلاب میں لاپتہ ہونیوالوں کی تلاش کے لیے دن رات ایک کیے رکھا ۔۔۔
یہ سب وہ اقدار ہیں جو ہمارے پہاڑی قبائلی علاقہ کا خاصہ ہیں ۔۔۔گذشتہ کچھ عرصہ سے بابو سر سے چلاس کے درمیانہ علاقہ کو ڈکیتوں کا علاقہ اور مفرورں کی پناہ گاہ قرار دیا جارہا تھا ۔۔۔یہاں ہونیوالی ڈکیتی کی خونریز وارداتوں کے بعد میں بھی یہی تاثر قائم کررہا تھا کہ یہ علاقہ ہی گمراہ لوگوں کی محفوظ آماجگاہ ہے ۔۔۔لیکن گزشتہ دو دنوں میں میری رائے تو بالکل بدل چکی ہے ۔۔۔یہاں صرف چند کالی بھیڑیں ہیں جنہوں نے اس علاقہ کا تاثر پورے ملک اور دنیا کے سامنے ایک گھناؤنے خونی علاقہ کی صورت پیش کیا ہے ۔۔
بحثیت مجمؤعی یہ خوبصورت نفیس اور مہمان نواز لوگوں کی سرزمین ہے ۔۔میری مقامی عمائدین اور اہل علاقہ سے گزارش ہے کہ اپنے درمیان موجود کالی بھیڑوں کی خود نشاندھی کریں اور انہیں یا تائب ہونے پر مجبور کریں یا علاقہ بدر کردیں ۔۔۔تاکہیاموجودہ صورتحال میں آپ کا جو مثبت چہرہ دنیا کے سامنے آیا ہے اسے برقرار رکھا جاسکے ۔۔۔یہ قدرت نے آپ کو اپنی اصل شناخت کی بحالی کا ایک موقع فراہم کیا ہے ۔۔مجھے امید ہے مقامی عمائدین میری اس درخواست پر ضرور غور فرمائیں گے ۔۔۔

نوید اشرف خان
واہ کینٹ

دوستو۔۔۔ ایک داستان، ڈاکٹر سعد اسلام کی زبانیہم کوسٹر میں 17 افراد سوار تھے۔ جب ہم نیچے اترے تو ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چ...
26/07/2025

دوستو۔۔۔ ایک داستان، ڈاکٹر سعد اسلام کی زبانی

ہم کوسٹر میں 17 افراد سوار تھے۔ جب ہم نیچے اترے تو ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی۔ پھر اچانک تیز ہوائیں چلنے لگیں اور زمین ہلنے لگی۔ ہم نے دیکھا کہ ایک خوفناک سیلابی ریلا ہمارے بالکل قریب آ چکا ہے۔ اس ریلے کے ساتھ پتھر، مٹی اور لکڑیاں بہتی آ رہی تھیں۔

میں نے فوراً اپنے والد محترم کا ہاتھ تھام لیا اور پہاڑ پر چڑھنے لگا۔ میری والدہ کو میرے بھائی نے سنبھالا ہوا تھا جبکہ میری اہلیہ، ڈاکٹر مشعل فاطمہ، اور پانچ سالہ بیٹے ہادی کو ہماری گھریلو ملازمہ نے پکڑا ہوا تھا۔

اچانک ہم سب ایک دوسرے کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ ہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔ ذہن ماؤف ہو گیا، جیسے سب کچھ رک سا گیا ہو۔

یہ داستان، جو ہم اُس وقت چلاس کے ریجنل ہسپتال کے آپریشن تھیٹر سے متصل راہداری میں سن رہے تھے، ہمیں ڈاکٹر سعد اسلام سنا رہے تھے—لودھراں سے تعلق رکھنے والے، شاہدہ اسلام میڈیکل کالج کے مالک۔ وہ بول رہے تھے، اور وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم تھیں۔ جب وہ اپنی کہانی سناتے ہوئے بار بار آنکھیں پونچھتے، تو پورے ماحول پر ایک گہرا سکوت چھا جاتا۔ ہر دل پر ایک بوجھ سا محسوس ہو رہا تھا۔

ڈاکٹر سعد بتا رہے تھے:
"ہماری زندگی میں پہلی بار ایسا لمحہ آیا تھا۔ جب سب ایک دوسرے سے بچھڑ گئے، میں والد صاحب کا ہاتھ تھامے پانی میں کھڑا تھا، کہ اچانک وہ ہاتھ مجھ سے چھوٹ گیا۔ میں نے انہیں آواز دی، کہا کہ نیچے مت بیٹھیں، زمین کچی ہے۔"

"پلک جھپکتے میں دیکھا کہ میرے والد محترم میرے سامنے سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ وہ دل کے مریض بھی ہیں۔ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ میں بےبسی کی تصویر بن کر بیٹھا رہ گیا۔"

"جب پانی کچھ کم ہوا تو میں پہاڑ سے نیچے اترا۔ میرے جوتے سیلاب میں بہہ چکے تھے۔ آگے بڑھا تو والدہ کی آواز آئی، 'بیٹا آگے مت جاؤ!' میں نے پوچھا، 'آپ سب خیریت سے ہیں ناں؟' انہوں نے کہا، 'جی، ہم سب خیریت سے ہیں۔'"

"میں نے دوڑ لگائی تاکہ والد محترم کو تلاش کر سکوں۔ ننگے پاؤں، زخمی پاؤں کے ساتھ میں تقریباً دو کلومیٹر تک پیدل گیا۔ آگے ریسکیو 1122 کی گاڑی والد صاحب کو ہسپتال منتقل کر رہی تھی۔ میں نے چیخ کر کہا، 'یہ میرے والد ہیں، گاڑی روکیں!' مگر شاید وہ میری آواز نہ سن سکے۔"

"ریسکیو اہلکار جس محنت اور جذبے سے انہیں بچانے کی کوشش کر رہے تھے، وہ ان کا کمال تھا۔ وہ کیچڑ اور پتھروں کے بیچ سے گاڑی نکالتے ہوئے برق رفتاری سے ہسپتال کی جانب رواں تھے۔"

"کافی آگے جا کر وہ رُکے، اور یوں میں ریجنل ہسپتال چلاس پہنچا۔ والد کو ابتدائی طبی امداد دی گئی، اور میری بھی مرہم پٹی کی گئی۔ پھر میں واپس تھک ویلی کی طرف روانہ ہوا تاکہ اپنی فیملی سے دوبارہ مل سکوں۔"

"وہاں پہنچا تو امی نے بھائی کی خبر دی—’فہد اسلام سیلابی ریلے میں بہہ گیا ہے‘۔ ابھی اس صدمے سے سنبھلا ہی نہ تھا کہ امی بولیں، 'تمہاری مسز، ڈاکٹر مشعل فاطمہ بھی سیلاب میں بہہ گئی ہیں۔'"

"اور پھر۔۔۔ جیسے میری روح ہی جسم سے جدا ہو گئی ہو۔۔۔ انہوں نے کہا، ’ہادی بھی۔۔۔‘ میرے پانچ سالہ بیٹے ہادی کو بچانے کے لیے پہلے مشعل فاطمہ نے چھلانگ لگائی، اور پھر انہیں بچانے کے لیے فہد بھی دریا کی بے رحم موجوں میں اتر گیا۔۔۔"

"بس۔۔۔ اُس وقت میرا ذہن ماؤف ہو چکا تھا۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی۔"

"پھر ضلعی انتظامیہ، پولیس، مقامی لوگ—سب نے جس انداز میں ہمیں حوصلہ دیا، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ ڈپٹی کمشنر دیامر کیپٹن (ر) عطاءالرحمان کاکڑ صاحب نے ہمیں اپنے گھر لے جاکر خود ہمارے ساتھ صبح سے رات گئے تک ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔"

---

ہر متاثرہ فرد کی کہانی مختلف تھی، مگر دکھ، اذیت، بےبسی اور غم سب کا مشترکہ احساس تھا۔ کسی نے اپنے پیاروں کو کھو دیا، کسی کا گھر، فصلیں اور زمینیں مٹ گئیں۔

یہ دنیا فانی ہے۔ نہ خوشیاں ہمیشہ رہتی ہیں، نہ غم۔ لیکن جب تک زندگی ہے، ایک دوسرے کے لیے آسانی کا ذریعہ بنیں۔ برا نہ سوچیں، برا نہ کریں۔

ذرا سوچیے۔۔۔!

Eid Mubarak everyone
07/06/2025

Eid Mubarak everyone

28/11/2024
Chilgoza 🥰 Chilas
28/11/2024

Chilgoza 🥰 Chilas

22/10/2023

17/06/2023

Address

Babusar
05812

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Thak village (Babusar,Nayat,thak posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share