Jamiat social News

Call Directions Contact the organization

Jamiat social News Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jamiat social News, TAN SIEW ENG, 8617, TAMAN RAYA, TRIANG, PAHANG, Peshawar.

بات سنیں!یتیم بچے سیاست نہیں سمجھتے۔ ________________________اس انسان نے بونیر میں یتیم بچوں کی کفالت کے لیے ہر ماہ 68 ل...
01/10/2026

بات سنیں!
یتیم بچے سیاست نہیں سمجھتے۔

________________________

اس انسان نے بونیر میں یتیم بچوں کی کفالت کے لیے ہر ماہ 68 لاکھ 80 ہزار روپے دینے کا باقاعدہ آغاز کیا ہے۔ آج 343 یتیم بچوں کو فی کس 20 ہزار روپے دئیے گئے۔

کسی شخص سے سیاسی، فکری یا نظریاتی اختلاف ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ اختلاف ہونا چاہیے، سوال بھی ہونے چاہئیں اور احتساب بھی۔ لیکن انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں کوئی اچھا کام ہو، وہاں اختلاف کے باوجود اس کا اعتراف بھی کیا جائے۔

15 اگست 2025 کے بعد اس انسان نے یتیموں کی کفالت کے لیے جو سلسلہ شروع کیا ہے، وہ بلاشبہ ایک قابلِ قدر انسانی خدمت ہے۔

ہم کسی کے ہر مؤقف سے متفق نہ ہوں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ہر اچھے کام سے بھی آنکھیں چرا لیں۔

یتیم بچے سیاست نہیں سمجھتے، انہیں صرف سہارا چاہیے۔
انہیں نعروں سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی ان کے ساتھ کھڑا ہو۔

اس لیے اس نیک کام کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔
اچھے کام کی تعریف کرنا کسی نظریے کی حمایت نہیں، بلکہ انسانیت کی قدر کرنا ہے۔

اس کام کو داد نہ دینا یقیناً انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔
اللہ تعالیٰ اس سلسلے کو مزید وسعت دے، انہیں اخلاص کے ساتھ یہ خدمت جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں بھی یتیموں اور ضرورت مندوں کے لیے کچھ کرنے کی ہمت دے۔
اللہ ہمیں ایسے خیر کے کام کرنے والے لوگوں سے کبھی محروم نہ کرے۔
آمین۔

#شبیربونیری

مولانا کی کیلکولیشن اور ٹائمنگ سیاسی شطرنج میں کبھی غلط نہیں ہوتی. مولانا کا لہجہ دن بدن تلخ ہوتا جارہا ہے. مولانا کبھی ...
23/09/2026

مولانا کی کیلکولیشن اور ٹائمنگ سیاسی شطرنج میں کبھی غلط نہیں ہوتی. مولانا کا لہجہ دن بدن تلخ ہوتا جارہا ہے. مولانا کبھی بھی ایسے لوہے پر ہتھوڑا نہیں ماریں گے جس کے گرم اور نرم ہونے کا انہیں یقین نہ ہوجائے. مولانا کے تابڑ توڑ حملے بتاتے ہیں کہ سیاسی بندوبست کے نام پر مقتدرہ نے جو کھچڑی بنائی تھی وہ اب باس مارنا شروع ہوچکی ہے. پہلے ملکی تباہی اور بربادی کا مکمل ذمہ دار سیاسی لیڈروں کو بناکر مقتدرہ ٹھنڈی نیند سوجاتی تھی لیکن اب یہ والا ترپ کا پتہ بھی استنجے کا استعمال شدہ ٹشو بن چکا ہے. عوام جس جملے میں شہباز شریف کو کوستے ہیں اسی جملے میں مقتدرہ کی ڈبل مٹی پلید کی جاتی ہے. عوام کی نفرت سے بھرپور نگاہیں اب طاقت کے اصل ایوانوں کو پہچان گئی ہیں. کپتان کی مقبولیت کا لیول زور پکڑتا جا رہا ہے. دہشت گردی کا عفریت قابو سے باہر ہے. امن اور ترقی کی جھوٹی خبریں دینے والے سیاسی فنکاروں کی عزت معاشرے میں طوائفوں سے بھی کم ہوگئی ہے. محسوس ہوتا ہے کہ بہت سے مضبوط لوگوں کا پروگرام وڑنے والا ہے. کیونکہ مختاریا گل ودھ گئی ہے.

چند ماہ پہلے شور تھا کہ پاکستان دنیا کے سینٹر اسٹیج پر ہے، دنیا ہماری سفارت کاری کی معترف ہے۔ہم نے صرف اتنا پوچھا تھا: ا...
15/09/2026

چند ماہ پہلے شور تھا کہ پاکستان دنیا کے سینٹر اسٹیج پر ہے، دنیا ہماری سفارت کاری کی معترف ہے۔

ہم نے صرف اتنا پوچھا تھا: اس سنٹر اسٹیج سے پاکستان کو ملا کیا؟

کتنی سرمایہ کاری آئی؟ معیشت کو کیا فائدہ ہوا؟ پاسپورٹ کی عزت کتنی بڑھی؟

جواب میں اعداد و شمار نہیں آئے، البتہ ’’یوتھیا‘‘ اور ’’غدار‘‘ کے سرٹیفکیٹ ضرور مل گئے۔

آج بھارت BRICS کی میزبانی کر رہا ہے—وہی فورم جو عالمی معاشی طاقت کے توازن اور ڈالر کی بالادستی کو چیلنج کر رہا ہے—اور بھارت میں اربوں ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری آ رہی ہے۔

بس فرق اتنا ہے: وہ عالمی اسٹیج کو سرمایہ کاری میں بدل رہے ہیں، ہم اسے فیس بک پوسٹ میں۔
اور جب کوئی یہ سوال کرے تو اسے ملک دشمن کہہ دو۔

ہمیں وطن سے محبت ہے، اسی لیے قصیدوں کے بجائے حساب مانگتے ہیں۔ اللہ پاکستان کو نعروں سے نہیں، حقیقی استحکام اور خوشحالی سے نوازے۔ آمین۔

*ہماری خارجہ پالیسی۔*ہمیں سعودیہ 3 ارب ڈالر قرضہ دیتا ہے وہ بھی سود پر۔ اور ہم اس کو کامیابی سمجھ کے بھنگڑے ڈالتے ہیں۔او...
09/09/2026

*ہماری خارجہ پالیسی۔*
ہمیں سعودیہ 3 ارب ڈالر قرضہ دیتا ہے وہ بھی سود پر۔ اور ہم اس کو کامیابی سمجھ کے بھنگڑے ڈالتے ہیں۔
اور وہی سعودیہ جس کے دفاع کا ہم نے ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ وہ افغانستان میں 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
دنیا تاجر کو تاجر کی نظر سے دیکھتی ہے اور بھکاری کو بھکاری کی نظر سے۔۔۔۔
ڈوب مرنا چاہئے ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر۔

یہ منظر الفاظ کا محتاج نہیں…! 💔💞اکابرین تبلیغی مرکز رائے ونڈ، میرے پیارے شیوخ اساتذۂ کرام قائدِ جمعیت کے استقبال کے لیے ...
09/09/2026

یہ منظر الفاظ کا محتاج نہیں…! 💔💞
اکابرین تبلیغی مرکز رائے ونڈ، میرے پیارے شیوخ اساتذۂ کرام قائدِ جمعیت کے استقبال کے لیے جوتوں سے بے نیاز، عقیدت و محبت سے کھڑے ہیں۔
یہ صرف استقبال نہیں، عاجزی، محبت اور وفاداری کی ایک خاموش داستان ہے۔ 💞💞
ننگے پاؤں کھڑے یہ بزرگ ہمیں بتا رہے ہیں کہ
منصب نہیں، محبت انسان کو جھکا دیتی ہے؛
اور قیادت نہیں، عقیدت دلوں کو قریب لاتی ہے۔
واقعی! آج یہاں عاجزی کا سمندر موجزن ہے اور محبت کا ایک رقت آمیز منظر آنکھوں کے سامنے ہے۔
ایسے مناظر کی تصویر تو بن سکتی ہے، مگر ان جذبات کو الفاظ میں قید کرنا آسان نہیں۔ا
اللہ ہمیں بھی اپنے اساتذہ کرام کی طرح عاجزی،انکساری اور للہیت نصیب فرمائے آمین ثم آمین .....

مجھے 5 لاکھ 20 ہزار تنخواہ ملتی ہے، اس میں گزارہ نہیں ہوتا، تنخواہ 10 لاکھ ہونی چاہیے، میں ڈائیٹنگ پہ رہتی ہوں اس لیے مج...
07/09/2026

مجھے 5 لاکھ 20 ہزار تنخواہ ملتی ہے، اس میں گزارہ نہیں ہوتا، تنخواہ 10 لاکھ ہونی چاہیے، میں ڈائیٹنگ پہ رہتی ہوں اس لیے مجھے پیسے بچ جاتے ہیں اگر ڈائیٹ نہ ہو تو پھر مشکل ہے، ن لیگی رکن قومی اسمبلی شمائلہ رانا

 ؟قارئین! ہمارے دوست مفتی نیاز شاد صاحب نے اک پوسٹ لکھی ہےجس کا لب لباب گویا یہی ہیکہ حافظ حمداللہ صاحب اتنے باصلاحیت او...
07/09/2026

؟
قارئین! ہمارے دوست مفتی نیاز شاد صاحب نے اک پوسٹ لکھی ہے
جس کا لب لباب گویا یہی ہیکہ حافظ حمداللہ صاحب اتنے باصلاحیت اور لائق فائق ہوکر بھی جماعت میں حد درجہ نظر انداز کیوں ہوں۔؟؟؟
اور یہ صرف ان کا نہیں بلکہ اکثر کارکنوں کا سوال ہے۔
!
حافظ صاحب کے پاس بے تحاشا پیسہ بھی نہیں جسے تحفے تحائف کے نام پر بہا دیا جائے۔
اصولی اختلاف کی جسارت بھی احیانا کرتے ہیں۔
جبکہ ان کی بڑی کمزوری یہ ہیکہ
ملمع سازی اور ریاکاری کی اس دنیا میں حافظ صاحب سفید ریش ہوگئے
#مگر انہوں نے ابھی تک چاپلوسی اور جی حضوری نہیں سیکھی
حالانکہ انسانی بارگاہوں میں ان صفات قبیحہ کے بغیر جگہ بنائی ہی نہ جاسکتی۔
#اگر وہ مال رکھتے اختلاف کی جسارت بھی بہنکرتے
اور یہ گُر کی چیزیں بھی سیکھتے تو فیر عہدے منصب تک پہنچنے کے لیے انہیں کسی اور ہنر کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔
#کیا آپ دیکھتے نہیں حیدری صاحب کو جو کسی سکلز کے بغیر بھی مرکزی عہدے کے ساتھ اک زمانے سے چمٹے ہیں۔
مولوی عبدالواسع کی صلاحیت پر بھی نظر ذرا ڈالیں۔
بلکہ خود یہ سومرو جی بھی تو اپنی صلاحیت پر کم
بلکہ خاص کر اسی وجہ سے تنہا دو عدد دستوری عہدوں پر عرصہ سات سے براجمان ہیں۔
#تو مقام عبرت ہے ہر شخص کے لیے
جو انسانی بارگاہوں میں توجہ کے طلبگار ہے
وہ پیسہ بہائے گا یا فیر جی حضوری سیکھے گا، ہر گام و آن سمعنا و قطعنا کا پیکر مجسم بنے گا
#ورنہ خاکم بدہن
وہ صلاحیت لیاقت اور اہلیت سے لبریز ہوگا جماعت کو اس کی خدمات کی ضرورت بھی ہوگی
مگر اس کے باجود بھی راندہ درگاہ ہوگا حافظ جی و دیگر متعدد کی طرح۔
وما علینا الا البلاغ۔

#اسدخان!

جتنا سخت اور دردناک موت اس نوجوان کو دی گئی سن کر دل دہل جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو بدترین تش دد کا نشانہ بنایا گیا، پھر رگو...
02/09/2026

جتنا سخت اور دردناک موت اس نوجوان کو دی گئی سن کر دل دہل جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو بدترین تش دد کا نشانہ بنایا گیا، پھر رگوں کے اندر ایسی دوائی لگائی گئی جس سے میر رضا کا جسم تو بالکل ساکت ہوگیا لیکن وہ محسوس سب کچھ کر سکتا تھا۔ اس کے بعد اس بے بس زندہ جسم پر تیزاب ڈالا گیا یعنی کے وہ درد تو محسوس کر سکتا تھا لیکن نا تو بول سکتا تھا اور نا ہی ہاتھ تک ہلا سکتا تھا۔ پھر پسلی ٹوٹی ہوئی تھی اور دل کے اندر تک سوراخ موجود تھے۔

آخر ظالم لوگوں کو اس خدا کا بھی خوف تک نا آیا جو اس بے دردی سے ق ت ل کیا۔ پھر اگلا ظلم تو ان لوگوں نے کیا جنھوں نے میر رضا کے گھر والوں کا ساتھ دینے اور قاتل ڈھونڈتے کی بجائے گھنٹوں بٹھا کر ان کو زبردستی یہ چیز منوانے کی کوشش کی کہ تمھارے بیٹے نے خود۔کشی کی۔ لیکن وہ بے چارہ باپ اور سسکتی ماں چیختے رہے ان کا بیٹا خود۔ کشی کر ہی نہیں سکتا اس کا ق۔تل کیا گیا ہے۔ پھر ایک جھوٹی رپورٹ بنا کر کیس کو بند کردیا گیا۔ لیکن باپ کی ان گنت محنت کے بعد جب قبر کشائی کی گئی اور نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی تو سارا سچ سامنے آگیا۔

یااللہ! یہ کیسا ملک ہے اور کیسا نظام ہے جہاں انصاف ملنے کی امید ہی ختم ہو جاتی ہے۔ بس اللہ پاک میر رضا کو جنت الفردوس میں ایک باغ دے اور گھر والوں کو اس مشکل گھڑی میں صبر جمیل عطا فرما۔ آمین

گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ایک ہمسایہ ملک کے سفارتخانے میں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب پر جس شدت کے ساتھ واوی...
02/09/2026

گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ایک ہمسایہ ملک کے سفارتخانے میں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب پر جس شدت کے ساتھ واویلا کیا گیا، آج اسی ملک کے سفیر صاحب کے سامنے سب نے آنکھیں موند رکھی ہیں جبکہ پروپیگنڈا آپریٹرز نا جانے کن کی ایماء پر گامزن ہیں وہ ابھی تک منظر عام سے اوجھل ہیں ، بخدا ان مناظر کو دیکھ کر دلی خوشی ہوئی ، کہ آخر خدا خدا کرکے کفر ٹوٹ رہا ہے ۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب ہمیشہ خطے میں بہتر اور برادرانہ تعلقات کے داعی رہے ہیں۔ ان کا مؤقف کسی وقتی مصلحت یا بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا، بلکہ سیاسی بصیرت، قومی مفاد اور حالات کے گہرے ادراک پر قائم ہے۔

اس لئے مولانا صاحب کے ایک سفارتی تقریب میں خطاب پر جن بچونگڑوں کو اُس وقت اچانک حب الوطنی کا مروڑ اٹھا تھا، آج ان کے لئے یہ سب سے شافی علاج ہے کہ وہ اپنے کل کے شور اور آج کی خاموشی کا موازنہ کرلیں کہ تمہارا بیانیہ تو ایک ہفتہ بھی نہ چل سکا، جبکہ مولانا فضل الرحمٰن اپنی بصیرت اور حالات کے درست ادراک کی بنیاد پر برسوں قبل ان حقائق کو بھانپ چکے تھے۔

جن تعلقات کی بہتری اور استحکام کو آج ضروری سمجھا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمٰن ہمیشہ اس حقیقت کے داعی رہے ہیں کہ خطے کے ممالک کے درمیان کشیدگی کے بجائے باوقار، متوازن اور مضبوط تعلقات ہی امن اور قومی مفادات کے لیے بہترین راستہ ہیں۔

اور وہ دیہاڑی دار سن لیں ! ہم ایسے وقتی پروپیگنڈوں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔ کل جنہیں حب الوطنی کا دورہ پڑا ہوا تھا اور آج وہی منظر بدلتے ہی خاموش ہیں، ان کی یہ خاموشی خود ان کے پروپیگنڈے کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

ان میں اور ہم میں فرق صرف اتنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب حالات کو اپنی سیاسی بصیرت سے پہلے ہی بھانپ لیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ حکم آنے کے بعد آنکھیں کھولتے ہیں اور حکم بدلنے پر اپنا بیانیہ ، اور نظریہ بھی بدل دیتے ہیں۔

حب الوطنی کے نام پر مولانا صاحب کیخلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کے منہ پر آج کے یہ مناظر ہی کڑاکے دار طمانچہ ہیں ۔
ان شاءاللہ جلد دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین مضبوط اور شاندار تعلقات استوار ہوں گے۔

یہ مولوی سوال اٹھاتا ہے، تنقید کرتا ہے، ہماری ہاں میں ہاں نہیں ملاتا، ہمارے غلط کو صحیح کہنے سے انکار کرتا ہے اور خاموش ...
29/08/2026

یہ مولوی سوال اٹھاتا ہے، تنقید کرتا ہے، ہماری ہاں میں ہاں نہیں ملاتا، ہمارے غلط کو صحیح کہنے سے انکار کرتا ہے اور خاموش بھی نہیں رہتا—بس یہی اس کا جرم ہے!

اس لیے اسے غدار مشہور کرو، کسی کا وفادار اور کسی کا ایجنٹ قرار دو۔
جب کردار پر انگلی اٹھانے کے لیے کچھ نہ ملے تو جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لو، عوام کو گمراہ کرو اور اس شخص سے بدظن کرنے کی کوشش کرو جس کا دامن کرپشن سے پاک ہے، جو دنگا فساد اور جرائم کے مقدمات میں الجھا ہوا نہیں کہ اسے کیسوں کی دھمکی دے کر خاموش کرایا جا سکے۔

جب دلیل ختم ہو جائے تو کردار کشی شروع ہوتی ہے، جب سچ کا جواب نہ ہو تو جھوٹا بیانیہ گھڑا جاتا ہے۔

افسوس! ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں عوام کا خیرخواہ انہیں دشمن نظر آئے اور سوال کرنے والا غدار۔

اس منفی مہم پر وسائل اور پیسہ بہایا جا رہا ہے، مگر یاد رکھیں:
پروپیگنڈا کچھ وقت کے لیے آنکھوں کو دھوکا دے سکتا ہے، حقیقت کو ہمیشہ کے لیے نہیں چھپا سکتا۔

عوام کو فیصلہ جھوٹے نعروں سے نہیں، کردار، دیانت، دلیل اور عمل کی بنیاد پر کرنا چاہیے۔

Address

TAN SIEW ENG, 8617, TAMAN RAYA, TRIANG, PAHANG
Peshawar
28300

Telephone

+923329698859

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamiat social News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Jamiat social News:

Shortcuts

Share