01/10/2026
بات سنیں!
یتیم بچے سیاست نہیں سمجھتے۔
________________________
اس انسان نے بونیر میں یتیم بچوں کی کفالت کے لیے ہر ماہ 68 لاکھ 80 ہزار روپے دینے کا باقاعدہ آغاز کیا ہے۔ آج 343 یتیم بچوں کو فی کس 20 ہزار روپے دئیے گئے۔
کسی شخص سے سیاسی، فکری یا نظریاتی اختلاف ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ اختلاف ہونا چاہیے، سوال بھی ہونے چاہئیں اور احتساب بھی۔ لیکن انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں کوئی اچھا کام ہو، وہاں اختلاف کے باوجود اس کا اعتراف بھی کیا جائے۔
15 اگست 2025 کے بعد اس انسان نے یتیموں کی کفالت کے لیے جو سلسلہ شروع کیا ہے، وہ بلاشبہ ایک قابلِ قدر انسانی خدمت ہے۔
ہم کسی کے ہر مؤقف سے متفق نہ ہوں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ہر اچھے کام سے بھی آنکھیں چرا لیں۔
یتیم بچے سیاست نہیں سمجھتے، انہیں صرف سہارا چاہیے۔
انہیں نعروں سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی ان کے ساتھ کھڑا ہو۔
اس لیے اس نیک کام کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔
اچھے کام کی تعریف کرنا کسی نظریے کی حمایت نہیں، بلکہ انسانیت کی قدر کرنا ہے۔
اس کام کو داد نہ دینا یقیناً انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔
اللہ تعالیٰ اس سلسلے کو مزید وسعت دے، انہیں اخلاص کے ساتھ یہ خدمت جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں بھی یتیموں اور ضرورت مندوں کے لیے کچھ کرنے کی ہمت دے۔
اللہ ہمیں ایسے خیر کے کام کرنے والے لوگوں سے کبھی محروم نہ کرے۔
آمین۔
#شبیربونیری