A L M A S t h i n k s

A L M A S   t h i n k s دل سے نِکل کے روشنی جانے کِہاں گئی، لیکن جہاں ہے ابر یہ آیا وہیں سے ہے

28/12/2024

بڑا خوشبخت دنیا میں رہا میں
ترے اپنوں میں اک اپنا جو تھا میں
یہ پوچھا وقت نے، کیا جُستجو ہے
ہوا حیران میں، اور کہہ دیا 'میں'
چُھپانا آنکھ میں تھا ایک آنسو
بچا اُس کو لیا، خود گِر گیا میں

دل کو میں نے جدا کیا خود سےاور میں آخر میں آ ملا خود سےکیا کہاں کس لئے میں آیا ہوںاک تجسس میں پڑ گیا خود سےکیسے ممکن تھا...
10/11/2024

دل کو میں نے جدا کیا خود سے
اور میں آخر میں آ ملا خود سے

کیا کہاں کس لئے میں آیا ہوں
اک تجسس میں پڑ گیا خود سے

کیسے ممکن تھا ارتقاء از خود
کیسے ٹھہرے گی اِنتہا خود سے

اُس کا دل تو کہیں نہیں لگتا
جسکا اِک بار لگ گیا خود سے

میں جنہیں پیشوا سمجھتا تھا
بن گئے وہ میرے خُدا خود سے

بوجھ شانوں پہ رکھ کے پھرتا ہے
جو تُو مومن ہے سر کٹا خود سے

دل سے سب کچھ نکال کر پھینکا
کام اِک کار کا ہوا خود سے

سہنا زیادہ ہے، کہنا کم کم ہے
تب بنے گا تُو با وفا خود سے

باغباں اِس کو کاٹ پر پھینکو
گل چمن میں ہے اِک کِھلا خود سے

ہاں میں مجرم سہی مگر پھر بھی
شاھدوں نے بھی ہے گھڑا خود سے

کاش ایسے نہ کرتے، یوں ہوتا
رنج یہ بانٹا ہے بارہا خود سے

لفظ از خود کہاں سے آئے ہیں
چل پڑا ہے یہ سلسلہ خود سے

باتیں الماس کی نہ دل پر لو
یوں لگا ہے یہ سر پِھرا خود سے

شکستہ دل لئے پھرتے ہیں اب بے نام ہوئےکبھی جو خاص تھے وہ لوگ آج عام ہوئےجو دیکھے اشک ہمارے تو مسکرا کے کہابتاؤ گِن کے ذرا...
30/10/2024

شکستہ دل لئے پھرتے ہیں اب بے نام ہوئے
کبھی جو خاص تھے وہ لوگ آج عام ہوئے

جو دیکھے اشک ہمارے تو مسکرا کے کہا
بتاؤ گِن کے ذرا اِن کے کتنے دام ہوئے

کوئی بھی بات اب اِس دل پہ تو نہیں لگتی
ہوئے ہیں سال بہت تم سے بھی کلام ہوئے

اُٹھا ہے درد نیا دل میں، اللہ خیر کرے
ابھی تو ایک پل گزرا نہ تھا آرام ہوئے

رہے جو عیش میں وہ ساتھ اپنے دفن ہوئے
جو بن کے خاک جئے، لوگ وہ دوام ہوئے

ابھی سنبھل نہ سکے تھے، جل کے طُور ہوئے
پلک جھپکنا تھا اُن کا کہ ہم تمام ہوئے

یہ شیخ علم سے محروم رام رام کہے
غرور دیکھو ذرا اِس کا تم حرام ہوئے

ویراں مکان تھے بستی میں جو مزار بنے
جو گھر آباد تھے چند اِک، وہی نیلام ہوئے

یہ درد و حق بھی حقیقت میں ایک دونوں ہیں
اِسی کے شمس اور منصور تھے غُلام ہوئے

نہ جانےکون ہے الماس، کس کو روتا ہے
یہ اِس کے درد و الم کس پری کے نام ہوئے

آپ کے ساتھ جو رونق تھی، کہاں ہوتی ہےاب میرے گھر میں فقط آہ و فغاں ہوتی ہےدل کی اور مہر کی آتش میں تضاد اتنا ہےآگ اُٹھتی ...
23/10/2024

آپ کے ساتھ جو رونق تھی، کہاں ہوتی ہے
اب میرے گھر میں فقط آہ و فغاں ہوتی ہے

دل کی اور مہر کی آتش میں تضاد اتنا ہے
آگ اُٹھتی ہے یہاں، اور وہاں ہوتی ہے

ایک پل وہ کئے دیتے ہیں سُرمہ دل کا
تیر بنتی ہے نظر، آنکھ کماں ہوتی ہے

ہجر میں آپ سے کٹ جائے، کہاں ممکن ہے
کٹ بھی جائے جو کوئی عمر، زِیاں ہوتی ہے

آتے ہیں، گھوم کے جاتے ہیں پتنگے سارے
رونقِ شمّع تو بس مرگِ نہاں ہوتی ہے

جو کریں خود سے محبت، وہ سِتم ہوتا ہے
یہ علالت نہیں کی جاتی میاں، ہوتی ہے

یہ بھی توفیق ہے الماس، کہاں ممکن ہے
بات اُن کی ہے مگر، ہم سے بیاں ہوتی ہے

آسمانوں میں جو اشارے ہیںسب تیری یاد کے سہارے ہیںآپ کا تو نہیں ہے حل کوئیآپ تو زندگی کے مارے ہیں
19/10/2024

آسمانوں میں جو اشارے ہیں
سب تیری یاد کے سہارے ہیں

آپ کا تو نہیں ہے حل کوئی
آپ تو زندگی کے مارے ہیں

If it were just alikeIt were unbeautiful
16/06/2024

If it were just alike
It were unbeautiful

14/06/2024
SometimesJust "being" is more than enough
12/06/2024

Sometimes
Just "being"
is more than enough

Stay... Look at youدل یہ اِک پل میں جلا، بےطُور جلتا رہ گیابعد پھر اِس سنگ سے بس ابر اُٹھتا رہ گیا
18/05/2024

Stay... Look at you

دل یہ اِک پل میں جلا، بےطُور جلتا رہ گیا
بعد پھر اِس سنگ سے بس ابر اُٹھتا رہ گیا

Address

Abbottabad
22044

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when A L M A S t h i n k s posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to A L M A S t h i n k s:

Share