23/12/2025
کیا آپ جانتے ہیں کہ ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور صحرائے چولستان میں کبھی ایک ایسا جانور پایا جاتا تھا جو گدھا کہلاتا تھا مگر رفتار میں گھوڑے سے کم نہ تھا؟
اسے انڈین وائلڈ آس یا مقامی زبان میں گھڑکھر کہا جاتا تھا۔ لمبی ٹانگیں، ہلکا مٹیالا رنگ، کمر کے بیچ سیاہ لکیر اور آنکھوں میں صحرائی ہوشیاری — یہ جانور خطرہ دیکھ کر لڑتا نہیں تھا، ریت میں گم ہو جاتا تھا۔
قدیم ریکارڈز اور بزرگوں کی باتوں کے مطابق گھڑکھر چولستان کے کھلے میدانوں، راجن پور کی سرحدی پٹیوں اور قدیم دریائی راستوں کے آس پاس عام نظر آتا تھا۔ یہ سخت موسم، کم پانی اور لمبے سفر کا عادی تھا، اسی لیے اسے صحرا کا اصل وارث کہا جاتا تھا۔
پھر آہستہ آہستہ سب کچھ بدل گیا۔
بے دریغ شکار، چراگاہوں کا خاتمہ، گھریلو جانوروں سے پھیلنے والی بیماریاں اور پانی کے قدرتی ذخائر کا ختم ہونا — اور یوں ایک دن یہ جانور بغیر کسی اعلان کے ہماری زمین سے مٹ گیا۔
آج پاکستان میں انڈین وائلڈ آس کو مکمل طور پر ناپید مانا جاتا ہے، جبکہ اس کی آخری چھوٹی آبادی بھارت کے رن آف کچھ تک محدود ہے۔
یہ صرف ایک جانور کی کہانی نہیں،
یہ ہماری غفلت، خاموشی اور یادداشت کے زوال کی کہانی ہے۔
ایک ایسا جانور جو یہاں رہتا تھا، دوڑتا تھا، سانس لیتا تھا — آج اس کا نام بھی اجنبی لگتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ گھڑکھر کہاں گیا،
سوال یہ ہے: اگلا کونسا جانور ہماری آنکھوں کے سامنے سے غائب ہونے والا ہے؟