04/09/2026
تاریخی جامع مسجد سرینگر میں مجلسِ رحمت للعالمین ﷺ کا انعقاد؛
میرواعظ خانہ نظر بند، علمائے کرام نے سیرتِ نبوی ﷺ کے پیغام کو اجاگر کیا
قرآنِ کریم کے لفظ بہ لفظ کشمیری ترجمے کی رونمائی؛
مکمل صحیح بخاری حفظ کرنے والے نوجوان عالمِ دین کی پذیرائی
تاریخی مرکزی جامع مسجد سرینگر میں انجمن اوقاف جامع مسجد کے زیر اہتمام ماہِ ربیع الاول کی مناسبت سے ایک خصوصی مجلسِ رحمت للعالمین ﷺ منعقد ہوئی، جس میں ممتاز علمائے کرام، دینی اسکالروں، نعت خواں حضرات اور بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔
مجلس سے ممتاز عالمِ دین مفتی نذیر احمد قاسمی اور مولانا شوکت حسین کینگ نے خطاب کیا اور سیرتِ رسول اکرمﷺ کے مختلف پہلوو ¿ں پر روشنی ڈالتے ہوئے ایمان، رحم و شفقت، عدل، اعلیٰ اخلاق اور خدمتِ انسانیت پر مبنی حضور اکرم ﷺ کے آفاقی پیغام کو اجاگر کیا۔ نعت خواں حضرات جن میں محمد آفاق چشتی اور رفیق احمد زرگر نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نذرانہ ¿ عقیدت پیش کرکے مجلس کے روحانی ماحول کو مزید پُر نور بنایا۔
میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق، جنہیں مجلس کی صدارت اور اختتامی خطاب کرنا تھا، کو ایک بار پھر خانہ نظر بند کردیا گیا اور جمعہ کی نماز اور مذکورہ مذہبی پروگرام میں شرکت کے لیے جامع مسجد جانے سے روک دیا گیا۔
انجمن اوقاف جامع مسجد نے میرواعظ کی بار بار، بالخصوص جمعہ کے روز، خانہ نظر بندی کی سخت مذمت کی اور کہا کہ انہیں اپنی مذہبی ذمہ داریاں ادا کرنے اور تاریخی جامع مسجد میں نمازیوں سے خطاب کرنے سے روکنا انتہائی افسوسناک ہے اور عوام کے مذہبی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔
مجلس کے دوران دو خصوصی علمی مواقع بھی نمایاں رہے۔ پہلے موقع پر شوپیاں کے گلزار احمد پرے کی اس قابلِ قدر کاوش کی باقاعدہ رونمائی اور پذیرائی کی گئی، جس کے تحت انہوں نے قرآنِ کریم کا لفظ بہ لفظ کشمیری زبان میں ترجمہ تین ضخیم جلدوں میں مکمل کیا ہے۔ اس خدمت کو کشمیری زبان جاننے والے لوگوں تک قرآن کے پیغام کو زیادہ آسانی سے پہنچانے اور وادی کی دیرینہ قرآنی علمی روایت کو آگے بڑھانے کی ایک اہم کاوش قرار دیا گیا۔
اس موقع پر نوجوان عالمِ دین مفتی شوکت احمد قاسمی، فاضل دارالعلوم دیوبند اور سابق طالب علم دارالعلوم بلالیہ لال بازار، کو مکمل صحیح بخاری، جس میں 7,563 احادیث شامل ہیں، حفظ کرنے کے غیر معمو
لی علمی اعزاز پر سراہا گیا۔ ان کی اس کامیابی کو کشمیر کی ممتاز حدیثی اور دینی علمی روایت میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا۔
گلزار احمد پرے اور مفتی شوکت احمد قاسمی دونوں کو ان کی علمی خدمات اور نمایاں کارناموں کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔
مجلس کا اختتام عوام کی فلاح و بہبود، امن و خوشحالی اور انفرادی و اجتماعی زندگی میں نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات اور اسوئہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔