Dawat-e-Towheed

Dawat-e-Towheed We aim to post some excellent stuff to make you feel better with us. We try to get involve into your life with our love, care, attention through our page.
(221)

I
♥░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░♥ ♥░▀█▀░░░▀█▀░▀█▀░▀█▀░░▀█▀▀▀▀█░♥ ♥░░█░░░░░█░░░█░▄▀░░░░░█░░░░░░♥ ♥░░█░░░░░█░░░█▀▄░░░░░░█▄▄▄░░░♥ ♥░░█░░░░░█░░░█░░▀▄░░░░█░░░░░░♥ ♥░▄█▄▄█░▄█▄░▄█▄░░▄█▄░▄█▄▄▄▄█░♥ ♥░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░░♥

ISLAM.......................

18/11/2025

دوست نے سوال کیا کہ پاکستان و ہندوستان میں اکثر مساجد میں فرض صلٰوۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا مانگنے کا رواج ہے جہاں امام صلٰوۃ ختم کرنے کے ساتھ ہی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتا ہے اور مقتدی ان کے پیچھے آمین کہتے ہیں۔ کیا یہ عمل مشروع ہے کیونکہ سعودیہ عربیہ اور خلیجی ممالک میں مساجد میں ایسا کچھ دیکھنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔

اس پر ہم نے ان کی جناب میں عرض کیا کہ دراصل اس سوال کے دو جز ہیں:

ایک دعا میں ہاتھ اٹھانا اور دوسرا فرض صلٰوۃ کے بعد دعا میں ہاتھ اٹھاکر انفرادی و اجتماعی دعا کا اہتمام کرنا۔

جہاں تک پہلے جز یعنی دعا میں ہاتھ اٹھانے کا سوال ہے تو نبی ﷺ سے مختلف مواقع پر دعا میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ طفیل بن عمرو الدوسی ؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دوس قبیلے نے انکا رکیا اور نافرمانی کی تو انہیں بددعا دیں ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رُو متوجہ ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، لوگوں نے سمجھا کہ وہ اُنہیں بددعا دیں گے، لیکن اُنہوں نے کہا: اے اللہ! دوس کو ہدایت دے اور اُنہیں واپس لے آ۔

اسی طرح سے غزوہ بدر کے موقع پر آپ ﷺ کا دعا میں ہاتھ اٹھانا ملتا ہے۔ حتیٰ کہ محدثین و علماء نے اس بابت تواتر معنوی کی تصریح کی ہے جیسا کہ ڈاکٹر محمود الطحان اپنی کتاب تیسیر مصطلح الحدیث میں متواتر معنوی کی مثال دیتے ہوئے تدریب الراوی جلد ۲ صفحہ ۱۸۰ کے حوالہ سے فرماتے ہیں کہ متواتر معنوی کی مثال دعا میں ہاتھ اٹھانے کی احادیث ہیں۔ نبی ﷺ سے اس بارے میں کوئی سو کے قریب احادیث مروی ہیں، ان میں سے ہر حدیث میں یہی ہے کہ آپﷺ نے دعا میں ہاتھ اٹھائے مگر معاملات و واقعات اور قضیے مختلف ہیں تو ا ن میں سے ہر واقعہ اور قضیہ متواتر نہیں اور ان سب میں جو قدر مشترک ہے وہ ہے دعا میں ہاتھ اٹھانا، جو کہ مجموعی اسناد کے اعتبار سے تواتر سے ثابت ہورہی ہے۔ (تیسیر مصطلح الحدیث صفحہ ۲۵ )

سو اس تفصیل سے اتنا تو معلوم ہوا کہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھانا بدعت نہیں بلکہ مشروع عمل ہے۔ اب آجائیں اصل مسئلہ کی طرف کہ کیا نبی ﷺ نے فرض صلٰوۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی و انفرادی دعا کبھی کی۔ جب اس بابت ہم کتب حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ فرض صلٰوۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا تو دور کی بات آپ ﷺ اذکار کی ادائیگی کے بعد اپنی جگہ تشریف فرما تک نہ رہتے تھے۔ بلکہ جیسے ہی آپ ﷺ سلام پھیرتے، آپ ﷺ تین مرتبہ استغفراللہ (صحیح مسلم)، ایک مرتبہ اللھم انت السلام و منک السلام ۔۔۔ (صحیح مسلم)، ایک مرتبہ اللھم لا مانع ۔۔۔ (صحیح مسلم) ۳۳ مرتبہ الحمداللہ، ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ ، ۳۳ مرتبہ اللہ اکبر اور ساتھ میں لا إله إلا اﷲ وحدہ لا شریك له،له الملك وله الحمد وهو علی کل شيء قدیر (صحیح مسلم) اور دیگر اذکار ادا کرکے اپنی جگہ سے اٹھ جاتے۔ (بخاری، باب صلٰوۃ النساء خلف الرجال)۔

اسی طرح سے سیدنا انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کسی (صلٰوۃ میں ) دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، سوائے دعائے استسقاء کے اور اس میں بھی آپﷺ اتنے ہاتھ اٹھاتے کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی ( صحیح بخاری۔ باب صلٰوۃ الاستسقاء)۔ یہی وجہ ہوئی کہ صحابہ کرام ؓ جو کہ آپ ﷺ کی ایک ایک بات کو نقل کرتے ہیں لیکن کسی ایک صحابی نے اس بات کو نقل نہیں کیا کہ آپ ﷺ تسبیحات سے قبل یا بعد میں دعا کے لئے ہاتھ اُٹھاتے اور ان کے ساتھ تمام مقتدی 'آمین' کہا کرتے۔ بلکہ مصنف ابی شیبہ میں مختلف صحابہؓ کے کئی آثار ملتے ہیں کہ نبی ﷺ کی پیروی میں وہ سب سلام کے بعد بغیر دعا میں ہاتھ اٹھائے اپنی جگہ چھوڑ دیا کرتے تھے، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

الاسود عامری ؓ فرماتے ہیں کہ میں فجر کی صلٰوۃ میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے سلام پھیرا اور اپنی جگہ چھوڑدی۔ اسی طرح عبداللہؓ بن مسعود جونہی نماز ختم کرتے یا تو کھڑے ہوجاتے یا ہٹ جاتے۔ ابن عمرؓ نے کہا کہ امام سلام کے بعد اُٹھ کھڑا ہو یا ہٹ جائے۔ ابو رزین نے کہا کہ میں نے حضرت علیؓ کے پیچھے نماز پڑھی، اُنہوں نے دائیں اور بائیں سلام پھیرا، پھر یک دم اُٹھ گئے۔ ( ثُمَّ وثب کما هو)

حضرت عمرؓ نے کہا کہ سلام کے بعد امام کا بیٹھے رہنا بدعت ہے۔

ابوحفصؓ نے کہا کہ ابوعبیدہؓ بن جراح جب سلام کہہ چکتے تو وہ اُٹھنے کے لئے اتنی جلدی مچاتے جیسے دہکتے کوئلوں پر بیٹھے ہوں۔ (کأنه علی الرضف حتی یقوم)

سو المختصر فرض صلات کے بعد ہاتھ اٹھا کر اجتماعی و انفرادی دعا کرنا بدعت ہے جسکا کوئی ثبوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خیرالقرون کے دور سے نہیں ملتا۔ البتہ دوسرے اوقات میں دعا مانگتے ہوئے ہاتھ اٹھانا مشروع عمل ہے کیونکہ اس متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات مروی ہیں۔ تاہم اگر کوئی غیر مستقل طور پر کبھی کبھار فرض صلات یا نوافل کے بعد ہاتھ اٹھا کر انفرادی طور پر دعا مانگ لے تو اس میں مضائقہ نہیں، البتہ اس کو معمول بنا لینا یا مستقل طور سے کرنا جیسا کہ ہمارے ہاں رواج پذیر ہے تو یہ بدعت ہوگا۔

یاد رہے کہ فرض صلٰوۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے سے متعلق مصنف ابوبکر ابن ابی شیبہ اور دوسری کتب سے چند روایات نقل کی جاتی ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت بھی ایسی نہیں جو کہ ضعف سے خالی نہ ہو۔ (دیکھئے فتاویٰ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز)

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس بابت جید علماء کی تصریحات بھی نقل کردی جائیں تو بہتر رہیگا۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب اپنی تحریر احکام الدعاء میں رقم طراز ہیں:

’’ نبی ﷺ اور صحابہ و تابعین اور آئمہ دین میں کسی سے یہ صورت منقول نہیں کہ نمازوں کے بعد وہ دعا کریں اور مقتدی آمین کہتے رہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ طریقہ مروجہ قرآن کے بتائے ہوئے طریقہ دعا کے بھی خلاف ہے۔ ‘‘

علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں:

’’کسی نے بھی یہ نقل نہیں کیا کہ نبی ﷺ جب لوگوں کو صلٰوۃ پڑھاتے تو صلٰوۃ سے فارغ ہونے کے بعد مقتدیوں کے ساتھ مل کر اجتماعی دعا کرتے، نہ فجر میں اور نہ عصر میں اور نہ کسی دوسری صلٰوۃ میں یہ بات ثابت ہے۔ بلکہ آپﷺ سے یہ ثابت ہے کہ آپﷺ صلٰوۃ کے بعد اپنے صحابہؓ کی طرف رخ کرتے اور اللہ کا ذکر کرتے تھے اور وہ انہیں صلٰوۃ سے فارغ ہونے کے بعد اذکار سکھاتے تھے۔‘‘ (المجموع الفتاویٰ جلد ۲، صفحہ ۴۶۷)

علامہ عمرو بن عبدالمنعم بن سلیم اپنی کتاب ‘‘عبادات میں بدعات اور سنت نبویﷺ سے ان کا رد‘‘ میں رقم طراز ہیں:

’’لوگوں کے درمیان مشہور بدعت دعا کے لئے اکٹھا ہونا ہے ۔۔۔ عام طور پر یہ بدعت فرض نمازوں کے بعد ہوتی ہے۔۔۔ نبی ﷺ سے اس بارے میں کوئی صحیح یا حسن حدیث مروی نہیں اور نہ کسی سلف صالحین سے یہ فعل ثابت ہے۔‘‘ (صفحہ ۲۷۵)

اسی طرح سے سعودیہ کی دائمی فتویٰ کمیٹی سے جب فرض صلٰوۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے سے متعلق فتویٰ طلب کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا:

’’ ہاتھ اٹھا کر فرض نمازوں کے بعد دعا کرنا مسنون عمل نہیں ہے، چاہے یہ عمل امام اکیلا کرے یا مقتدی اکیلا کرے، یا سب اجتماعی طور پر کریں، بلکہ یہ عمل بدعت ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام سے ایسا عمل ثابت نہیں ہے‘‘ (فتاوى اللجنة الدائمة جلد ۷ صفحہ ۱۰۳)

ایک دوست نے بتایا کہ فرض صلٰوۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے سے متعلق کچھ اسی طور کے تحفظات کا اظہار مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب نے بھی کیا تھا لیکن چونکہ راقم نے اس بابت ان کی ایسی کوئی تحریر نہیں پڑھی اس لئے یقینی طور پر اس فتویٰ کو ان سے منسوب کرنا درست نہیں سمجھتا، البتہ جناب مسعود احمد و ظفر احمد صاحب شائد اس بابت کوئی رہنمائی کرسکیں۔

یہ یاد رہے کہ عبادات توقیفی ہیں اور جو کچھ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کرکے دکھایا، وہ سنت بن گیا اور جس بات کو چھوڑ دیا حالانکہ اس کے کرنے کی طلب بھی تھی تو اس کا چھوڑنا ہی سنت ٹھہرا۔ سو اپنی اس تحریر کو ہم مفتی اعظم سعودی عربیہ شیخ ابن باز کے اس فتویٰ پر ختم کرتے ہیں:

دو سجدوں کے درمیان ، سلام سے پہلے، اور آخری تشہد میں [دعا کرتے ہوئے] بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ نہیں اٹھائے، چنانچہ ہم بھی ان مقامات پر ہاتھ نہیں اٹھائیں گے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جگہوں پر ہاتھ نہیں اٹھائے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عمل کرنا بھی حجت ہے، اور نہ کرنا بھی حجت ہے، یہی صورتِ حال پانچوں نمازوں کے بعد ہاتھ اٹھانے کے بارے میں ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شرعی اذکار کرتے وقت ہاتھ نہیں اٹھایا کرتے تھے، لہذا ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے فرض نمازوں کے بعد ہاتھ نہیں اٹھائیں گے۔

تاہم ایسی جگہیں جہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے ہیں، اس بارے میں سنت یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ہم بھی ہاتھ اٹھائے گے، کیونکہ ان جگہوں پر ہاتھ اٹھانا قبولیت کے اسباب میں سے ہے۔ (فتاویٰ شیخ ابن باز جلد ۶ صفحہ ۱۵۸)

تحریر: محمد فھد حارث

ایک بار ولیمے کی ایک تقریب میں جانا ہوا ، پاکستانیوں کی پرانی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے مرد حضرات کو کھانا پیش کیا ...
18/06/2025

ایک بار ولیمے کی ایک تقریب میں جانا ہوا ، پاکستانیوں کی پرانی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے مرد حضرات کو کھانا پیش کیا گیا ۔ جبکہ صبح سے ماوں کے ساتھ آئے بھوکے بچے دو گھنٹے صرف کھانے کی اشتہا انگیز مہک پر ہی گزارا کرتے رہے اور بلک بلک ماوں کے پلو کھینچتے رہے ۔۔ کہ ولیمے کے کھانے کا وقت کارڈ پر تو دوپہر کا ایک لکھا ہوا تھا اور سوا چار بج چکے تھے ، کھانے کا وقت ایک ہے تو مرد و زن کا اکٹھے ہی شروع کرنا چاہیے ۔۔۔ خیر تحریر کا موضوع کچھ اور ہے ۔
حضرات کے طعام سے فارغ ہو کر زنان خانے میں کھانا کھولا گیا اب چونکہ خواتین کا انتظام ہی الگ تھا تو تمام خواتین ریلیکس ہو کر کھانا کھانے لگ گئیں ، کچھ خواتین جو بڑی چادر یا عبایا میں تھیں ان کو بھی کھانے کے دوران نقاب ہٹانا ہی تھے سو اطمینان سے ہر میز پر کھانا کھا جا رہا تھا کہ اسی دوران دانتوں میں خلال کرتے ، مونچھیں صاف کرتے پندرہ بیس مرد حضرات آن دھمکے کیونکہ وہ خود کھانا نوش کرچکے تھے اس لیے حسب عادت و روایت خواتین کے سر پہ سوار ہونا بنتا تھا ۔
کوئی کسی ٹیبل پہ پہنچ گیا کوئی کسی پہ ۔۔۔ کسی میز پہ کسی کی زوجہ بیٹھی تھی تو کسی پہ ان کی خالہ ! لیکن کسی کو بھی یہ خیال نہ تھا کہ اس میز پر چند نامحرم خواتین بھی بیٹھی ہیں جن کا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔
جو پردہ دار خواتین تھیں کھانا چھوڑ کر نقاب درست کرنے لگیں ، سجی سنوری خواتین کسمسا کر دوپٹے سنبھالنے لگیں ، کیونکہ انتظام الگ تھا تو اکثر خواتین اپنے انداز سے تیار ہوکر آئیں تھیں ، جہاں ویڈیو کیمرہ تھامے سروں پر پہنچ چکا تھا ، وہاں ہر میز پر ایک یا دو ٫٫ معزز حضرات ،، بھی پہنچ چکے تھے ۔ کچھ خواتین نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا ، کہ ایک ٹیبل پر ضروری نہیں ایک ہی فیملی کی خواتین بیٹھی ہوں ۔ کچھ کو مرد حضرات کھینچ کر لے گئے کہ بیویوں کا بھی اطمینان سے کھانا کھانا اتنا ضروری نہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب انتظام ہی الگ ہے تو خواتین کی طرف جانے کا مطلب کیا ہے ؟ اگر ضروری بات کرنی ہے تو جیب میں رکھے موبائل کا پھر کیا مقصد ہے ؟ کسی خاتون رشتے دار کی بہت یاد ستا رہی ہے تو ان کو فون کرکے ہال سے باہر کیوں نہیں ملا جاسکتا ؟
بات کھانے کی بھی نہیں ، لیکن جن خواتین کی بےپردگی ہوتی ہے اس کا کوئی مداوا ہے کسی کے پاس ؟ ان کی ذہنی اذیت کا ادراک کرسکتا ہے کوئی ؟ ایک نامحرم نظر ان کے لیے کسی برچھی سے کم نہیں ۔
ایسے بھی کئی باوقار اور رکھ رکھاؤ والے مرد دیکھے ہیں جو کبھی لیڈیز ہال کا رخ نہیں کرتے ، بھلے ان کی بہت قریبی شادی کی کیوں نہ ہو ۔ اگر کسی رشتے دار خواتین سے ملنا بھی ہو تو ہال کے کسی گوشے میں ، یا ہال کے باہر انتظار کرتے ہیں ۔ لیکن یوں کھلے عام آنا جانا ، جہاں مخلوط انتظام ہو وہاں تو نارمل ہے لیکن جہاں مرد و زن کا الگ الگ انتظام ہو تو وہاں حضرات کا آنا کیا معنی رکھتا ہے ؟
آپ وہاں کسی ایک کے محرم ہوں گے ، سب کے تو نہیں ؟ تو پھر اس روش کو اپنانے سے باز رہیں ۔ خاتون ہیں تو اپنی فیملی کے مردوں کو یہ بات سمجھائیں کہ دوسری خواتین کا خیال کرتے ہوئے وہ لیڈیز کے ہال میں مت گھسیں ۔ بلکہ وہ خواتین بھی جو کال کرکے حضرات کو ہال میں آنے کی دعوت دیتی ہیں ، احتیاط کریں ۔
مجھے نہیں معلوم کتنے لوگ وہاں واقعی کسی کام سے آتے ہیں یا محض تاڑنے ، لیکن یہ کسی بھی پڑھے لکھے معاشرے میں بہت معیوب حرکت ہے ، خواتین کی ذہنی اذیت کا باعث ہے۔ بعض کے لیے یہ بہت معمولی بات ہوگی ، مگر اکثر کے لیے یہ معمولی نہیں۔
آصفہ عنبرین قاضی

فریڈم فلوٹیلا والے کون تھے ؟؟ اپنے بچوں کو اس مددگار کشتی کے بارے میں ضرور بتائیے ۔ اور ان لوگوں کو بھی جو ,, فریڈم فلوٹ...
10/06/2025

فریڈم فلوٹیلا والے کون تھے ؟؟
اپنے بچوں کو اس مددگار کشتی کے بارے میں ضرور بتائیے ۔ اور ان لوگوں کو بھی جو ,, فریڈم فلوٹیلا ،، کا نام تو سن رہے ہیں ۔۔ کام نہیں جانتے ۔
فریڈم فلوٹیلا تین کشتیوں پر مشتمل ایک قافلہ جو یکم جون کو اٹلی کی بندرگاہ سے غزہ کے بچوں کی مدد کے لیے نکلا ۔ یہ ایک پرامن مشن تھا جس کی منزل غزہ تھی ، اسے آٹھ جون کو غزہ پہنچنا تھا ۔ ان کے ساتھ ایک چھوٹا کارگو جہاز بھی تھا جس میں صرف ادویات، خوراک، صاف پانی، سولر سسٹمز اور کچھ بنیادی ضرورت کا سامان غزہ لے جایا جا رہا تھا۔ یہ ایک علامتی امداد اور تسلی تھی ۔۔ چند ملکوں کے بہادر لوگ اس میں سوار تھے ، جن میں ڈاکٹرز بھی تھے ، سوشل ورکرز بھی اور چند طلبا بھی ۔۔۔ اان پر وہ لوگ سوار تھے جو نہ فلسطینی تھے، نہ عرب۔۔۔ وہ مختلف ملکوں، رنگوں اور مذاہب سے تعلق رکھتے تھے، مگر ان سب کے دل غزہ کے لیے دھڑک رہے تھے ۔
ان کی نظر غزہ پر تھی ، جہاں زندگی سسک رہی ہے ۔۔ یہ فریڈم فلوٹیلا ان سب کے لیے تھا ۔کوئی نعرہ نہیں تھا، کوئی ہتھیار نہیں… صرف امن کا کارواں تھا۔۔۔ اور فلسطین کا جھنڈا !
لیکن جیسے ہی 9 جون کو یہ قافلہ سمندری غزہ کے قریب پہنچا ، اسرائیلی نیوی نے اسے گھیر لیا ، اسلحے کے زور پر روک لیا ، نہتے لوگوں پر حملہ کیا۔ ڈرون پھینکے ، آنسو گیس ، شیل ، تشدد ۔۔۔ کارکنوں کو گرفتار کر لیا ، ان سارا سامان ضبط کر لیا گیا اور قافلے کو اسرائیلی بندرگاہ پر منتقل کر دیا ۔ وہ انسان جو انسانیت بانٹنے آئے تھے، قید کر لیے گئے۔ کچھ زخمی ہوئے، کچھ لاپتا، کچھ اب تک واپس نہیں آئے۔
یہ کشتیاں آج غزہ تو نہ پہنچ سکیں، مگر دنیا کے ضمیر تک ضرور پہنچ گئی ہیں۔یہ سفر بظاہر روک لیا گیا ، مگر رکا نہیں… یہ بارہ بہادر افراد دنیا کے دو ارب مسلمانوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گئے۔۔
اس واقعے نے دنیا بھر میں ہیومین رائٹس کے علمبرداروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اور ادھر ۔۔۔ ۔ غزہ کے بچے ۔۔۔ جو اس سمندری جہاز کی آمد کے منتظر تھے ۔۔۔ اب پتا نہیں کب تک منتظر رہیں گے ۔۔
مگر فریڈم فلوٹیلا کا یہ سفر ختم نہیں ہوا… جہاز تو روک لیا گیا ۔۔ مگر آواز نہ روکی گئی ۔۔۔ یہ آواز اب دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ بہادروں کے قصے ۔۔۔ ختم نہیں ہوتے رقم ہو جاتے ہیں ۔۔۔ فریڈم فلوٹیلا قصہ نہیں ، تاریخ بن گیا۔ اور دولت و طاقت کے نشے سے لدے بےحس اسلامی ملکوں کا سر بھی شرم سے جھکا گیا ۔۔۔۔
آصفہ عنبرین قاضی

25/04/2025

جوائنٹ فیملی –
ایک نادیدہ قید یا خوشگوار زندگی؟

ہمارے معاشرے میں جوائنٹ فیملی ایک ایسا مسئلہ بن چکی ہــــے
جس پر لوگ بات کرنے سے کتراتے ہیں، مگر یہ حقیقت ہے کہ یہ نظام ایک ازدواجی زندگی کو شدید متاثر کرتا ہے۔

💡 شادی صرف ایک رشتہ نہیں،
بلکہ ایک نیا سفر ہـــــے،
مگر جب یہ سفر جوائنٹ فیملی میں
ایک کمرے تک محدود ہو جائے،
تو نہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں،
نہ ہی اپنی زندگی کو صحیح معنوں میں جی سکتے ہیں۔

بیوی –
ایک شریکِ حیات یا محض سسرال کی خدمت گار؟

🔹 ایک عورت کسی گھر کی خدمت گزار نہیں،
وہ ایک انسان ہے، ایک شریکِ حیات ہے۔
🔹 شادی کے بعد، جب بیوی کو محض گھر کے کاموں اور سسرال کی خدمت تک محدود کر دیا جاتا ہے،
تو اس کی اپنی ذات، اس کا وقت، اس کی محبت، سب کہیں کھو جاتے ہیں۔

کیا واقعی
ایک شادی شدہ زندگی یوں گزاری جا سکتی ہـــے؟

کیا ایک کمرہ کافی ہــــے؟

👈 محض ایک کمرہ دینے سے،
کیا ازدواجی رشتہ پروان چڑھ سکتا ہـــــے؟
👈 کیا شوہر اپنی بیوی کے جذبات کو سمجھ سکتا ہے، جب ہر وقت رازداری اور سکون کا فقدان ہو؟
👈 کیا بیوی صرف "ایک گھر میں جگہ
کی حقدار ہے، یا ایک مکمل زندگی کی؟

اگر شادی کے لیے تیار ہو،
تو گھر کے لیئــــے بھی تیار ہو!

✔ اگر مرد شادی کے لیے خود کو تیار سمجھتا ہـــے،
تو یہ اس کی ذمہ داری ہــــــے
کہ وہ اپنی بیوی کو ایک الگ جگہ فراہم کرے، جہاں وہ مکمل آزادی اور سکون کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

✔ اگر والدین کے ساتھ ہی رہنا ضروری ہو،
تو بیوی کے لیے الگ پورشن یا علیحدہ گھر کا انتظام کیا جائے۔

✔ یہ عورت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ سسرال کی خدمت کرے،
وہ عزت کے ساتھ ملنے آ سکتی ہـــــــے
مگر اس پر فرض نہیں کہ وہ دوسروں کی خدمت کے لیے اپنی زندگی قربان کر دے۔

میری ذاتی بات –
ہمارا خاندان اور الگ گھر کی برکت!

میں اپنی ذاتی زندگی کی بات کروں تو الحمدللہ،
ہم چھ بھائی ہیں،
اور ہمارے والد جوائنٹ فیملی کے سخت خلاف تھے۔

🟢 ہمارے والد نے ہمیں ہمیشہ یہی سکھایا کہ شادی کے بعد اپنی بیوی کو اس کا الگ گھر دو۔
🟢 ہمارے خاندان میں جو بھی بھائی شادی کرتا، وہ اپنے الگ گھر میں چلا جاتا۔
🟢 الحمدللہ، آج ہم سب بھائی اپنی اپنی زندگی گزار رہے ہیں، بغیر کسی کی مداخلت کے!
🟢 اور سب سے اچھی بات، ہر بھائی کسی نہ کسی شہر میں سیٹل ہے، جس شہر میں شادی کی، وہیں اپنی فیملی کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہا ہے۔

یہ اللہ کا بہت بڑا شکر ہــــــے
کہ ہم نے جوائنٹ فیملی میں
زندگی گزارنے کی تکلیف نہیں سہی،
اور اب ہمیں اچھی طرح اندازہ ہو چکا ہــــے
کہ اصل زندگی کیا ہوتی ہے!

👀 ہم نے اپنے ارد گرد لوگوں کو جوائنٹ فیملی میں رہتے دیکھا ہے، اور ان کی زندگی میں جو مسائل آتے ہیں،
وہ ہم پر واضح ہیں۔
❌ بیوی کی قدر نہ کرنا، اس کی آزادی کو محدود کرنا، ہر بات میں دوسروں کی مداخلت، اور شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے کو صحیح طریقے سے سمجھ نہ پانا… یہ سب ہم نے دیکھا، اور شکر ادا کیا کہ ہم اس سے بچے رہے۔

جوائنٹ فیملی میں زندگی، ایک مسلسل جدوجہد!

💔 شوہر اور بیوی کبھی ایک دوسرے کو مکمل طور پر نہیں جان پاتے۔
💔 زندگی ہر وقت دوسروں کی مداخلت اور رائے سے متاثر ہوتی رہتی ہے۔
💔 پہلے ہی ایک کمرہ، اور پھر جلد ہی بچوں کی آمد،
کیا یہ واقعی ایک مکمل زندگی ہے؟

یہ کلچر بدلنا ہوگا!

📢 یہ کہاں سے آیا کہ شادی کے بعد بیوی کو ایک علیحدہ زندگی نہیں ملے گی؟
📢 یہ سوچ بدلنی ہوگی، کہ بیوی کو محض ایک "گھر کا فرد" سمجھا جائے، نہ کہ ایک آزاد اور خوشحال زندگی جینے والی عورت۔

💡 اگر واقعی اپنی شادی شدہ زندگی کو خوشگوار بنانا ہے، تو پہلا قدم یہ ہے کہ بیوی کے لیے ایک علیحدہ اور آرام دہ جگہ فراہم کی جائے۔

📍 ورنہ یاد رکھو، جوائنٹ فیملی میں زندگی گزارنے والے لوگ اکثر اپنی بیوی کو نہ سمجھ پاتے ہیں، نہ اس کے جذبات کو محسوس کر سکتے ہیں، اور نہ ہی ایک خوشحال ازدواجی زندگی گزار سکتے ہیں۔

🚫 اس لیے، شادی تب کرو جب تمہارے پاس اپنی بیوی کے لیے ایک علیحدہ جگہ ہو
ورنہ مت کرو! 🚫

22/05/2024

ہم نے جانے کب ہر چیز سے روک ٹوک کو تربیت سمجھ لیا۔ ڈیڑھ دو سال کے بچوں کو ہر ہر چیز سے روکنا اور کہنا "پیار سے مانتا ہے نہ غصے سے" یہ کئی ماؤں کا کہنا ہے۔

اتنے چھوٹے بچوں کا دھیان بٹانا ہوتا ہے۔
متبادل دینا ہوتا ہے۔
کیا "نہیں" کرنا کے بجائے کیا کیا جا سکتا ہے، اس کی طرف توجہ دلانی ہوتی ہے۔
روتے ہوں، الجھتے ہوں تو ان کے جذبات کو نام دینا ہوتا ہے۔
اچھل کود، تجسس پر منع کرنے کے بجائے انکریج کرنا ہوتا ہے۔
اصلاح اور تربیت کے نام پر بچوں کی بے عزتی نہیں کرنی ہوتی۔
انہیں لیبل نہیں کرنا ہوتا۔ یہ بات سمجھنی ہوتی ہے کہ وہ اچھا بچہ یا گندا بچہ نہیں ہے۔ وہ بس ایک بچہ ہے!

اور اپنے ری ایکشنز پر بہت بہت بہت قابو رکھنا ہوتا ہے۔ کچھ دن، ہفتے مہینے نہیں، مسلسل سال ہا سال۔ اپنے ہر ری ایکشن کو نوٹ کرنا ہے۔ بار بار فوری ری ایکٹ کرنے کی عادت پر خود کو روکنا ہے۔ خاموشی پریکٹس کرنی ہے۔ زیادہ سننا، کم بولنا ہے۔

بچے کی زندگی کے شروع کے سات سال بہت اہم ہیں۔ یہی وقت ہے جب تعلق کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ ان سے غیر حقیقی توقعات نہ رکھیے۔ ابھی بس محبت اور عزت دیجیے کہ جو تعلق سات سال میں بنے گا، وہی سترہ سال میں جھلکے گا۔

اور وہ والدین جن کے بچے اس عمر سے گزر چکے ہیں، غلطیاں ہو چکی ہیں تو کیا اس نقصان کا کوئی ازالہ ہے؟ بچوں کے ساتھ بگڑا ہوا تعلق کیا بعد کے سالوں میں سنوارا جا سکتا ہے؟ اگر نہیں تو کیا کریں، اگر ہاں تو کیسے کریں۔

بات جاری ہے۔

نیر تاباں

21/05/2024

“Every good relationship, especially marriage, is based on respect. If it's not based on respect, nothing that appears to be good will last very long.”

21/05/2024

“When you find yourself in a position to help someone, be happy because Allah SWT is answering that person’s dua through you.” Say Alhamdulillah 😇

25/04/2024

حسنؓ اور حسینؓ جنت کے نوجوانوں کے سردار ھیں ؟

حضرت حذیفہ ابن یمانؓ سے روایت کیا گیا ھے کہ ،مجھ سے میری والدہ نے سوال کیا تم کب سے نبی ﷺ سے نہیں ملے ؟،، میں نے عرض کیا کہ اتنے دن ھو گئے ھیں ! انہوں نے مجھے برا بھلا کہا ،، میں نے کہا اچھا میں حضورﷺ کے ساتھ مغرب پڑھوں گا اور اپنی اور آپکی مغفرت کے لئے دعا کراؤں گا،،!!

میں مسجد میں حاضر ھوا اور مغرب کی نماز پڑھی لیکن آپ مغرب سے لے کر عشاء تک نفل پڑھتے رھے، جب آپ لوٹے تو میں آپﷺ کے ساتھ چلا ،، آپﷺ نے سوال کیا حذیفہ ھو ؟میں نے عرض کیا جی ھاں،، آپﷺ نے فرمایا اللہ تیری اور تیری ماں کی مغفرت فرمائے ،، کیا حاجت ھے ؟

میرے پاس ابھی ابھی ایک فرشتہ نازل ھوا ھے جو آج سے پہلے کبھی نہ آیا تھا ،پروردگار کی طرف سے سلام پڑھا اور مجھے خوشخبری سنائی کہ فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ھے اور حسن حسین اھلِ جنت کے نوجوانوں کے سردار ھوں گے،ترمذی کہتے ھیں کہ یہ روایت اس سند سے غریب ھے اور ھم اسے اسرائیل کے علاوہ اور کسی طریق سے نہیں جانتے( ترمذی ج 2 )

اس حدیث میں چند امور غور طلب ھیں !

1-حضرت حذیفہؓ صاحب السر النبی مدینہ میں رھائش پذیر ھیں مگر عرصہ دراز سے نبیﷺ کی خدمت میں حاضر نہ ھوئے یہانتک کہ اماں نے ڈانٹ ڈپٹ کر بھیجا !
2-حضرت حذیفہؓ کام کی وجہ سے مشغول تو ھو سکتے ھیں مگر پنج وقتہ نماز کہاں پڑھا کرتے تھے ؟
3- رسول اللہﷺ نوافل مسجد میں ادا نہیں فرماتے تھے،اس دن کیا خاص وجہ تھی، کیا فرشتے کا انتظار مقصود تھا ؟
4- اس بشارت کے لئے خاص زیرو میٹر فرشتہ ھی کیوں ضروری تھا ؟

اس حدیث میں بہت ساری باتیں لاجواب ھیں مگر پہلے اس کی سند پر گفتگو کر لیتے ھیں کیونکہ ھم اسے متفق علیہ ھی سمجھ کر خطبوں مین استعمال کرتے رھے ھیں،،
حضرت عمرؓ جب ایمان لائے تو آپ نے قسم کھائی کہ جہاں جہاں جس جس مجلس اور جس جس بندے کے سامنے میں نے نبی پاکﷺ اور اسلام کی بدگوئی کی ھے،، ھر اس مجلس میں نبیﷺ کی شان بیان کروں گا اور ھر اس بندے کے سامنے اسلام کی حقانیت بیان کروں گا چاھے رد عمل کچھ بھی ھو،، بس بالکل یہی قسم ھم نے بھی کھائی ھے کہ جو جو حدیث ھم نے خوش فہمی میں لوگوں کو اپنے خطبوں کے ذریعے کھلائی ھے،، ان کے ذھن بھی صاف کریں گے،، اگرچہ ھمیں پتہ ھے کہ کیڑے مار گولیاں کھانے والی عورت کا معدہ صاف کرنا آسان ھے مگر سبائیت بھری احادیث کھانے والے اذھان کا صاف کرنا مشکل ھے،،
اس کے ایک راوی منہال بن عمرو الکوفی ھے اس سے مسلم کے علاوہ تمام محدثین نے روایات لی ھیں یحی ابن معین اسے ثقہ کہتے ھیں، احمد العجلی نے بھی ثقہ کہا ھے، لیکن امام احمد کو اطمینان نہیں،، شعبہ ابتدا مین اس کی روایات لیتے تھے،مگر ایک دن اس کے گھر سے گانے کی آواز سنی تو حدیث لینا ترک کر دیا،کیونکہ اس زمانے میں گانا ٹیپ پر نہیں بجتا تھا، گانے والی چاھئے ھوتی تھی !
حاکم کہتے ھیں یحی بن سعید نے اس پر اعتراض کیا ھے ،جوزجانی اپنی کتاب الضعفاء میں لکھتے ھیں یہ بدترین مذھب،کٹر شیعہ تھا،جس کا ثبوت یہ روایت خود ھے،، ابن حزم نے اس کی ایک روایت پر کلام کر کے اسے ناقابلِ اعتبار قرار دیا ھے( المیزان )
ھمارے محدثیں نے ایک بھولا بھالا سیدھا سادا سا اصول بنایا تھا،، جس کا نتیجہ آج تک یہ امت بھگت رھی ھے اور قیامت تک بھگتتی رھے گی !
اصول یہ تھا کہ شیعہ اگر سچا ھو تو اس کی روایت لی جائے مگر وہ راویت جو وہ اھلِ بیت کی شان میں بیان کرے چھوڑ دی جائے گی،یعنی اس پر شک کیا جائے گا،، قربان جائیں اپنے اسلاف کی سادگی کے،کہ اعتبار بھی نہیں اور اھل بیت کے فضائل کی لینے میں تو ھچکچاھٹ ھے،مگر حلال اور حرام،،قران کی تفسیر دنیا و آخرت،، قبر اور حشر کی خبریں ان سے رس ملائی سمجھ کر لیتے جا رھے ھیں،، پھر فضائل سے کونسی قیامت آ جانی تھی؟ کبھی کسی نے اس بات پر غور نہیں فرمایا کہ ایک عام سی حدیث پکڑا کر جب کوئی راوی،مسلم اور بخاری کا راوی ھونے کا اعزاز حاصل کر لیتا ھے تو پھر اس کی مارکیٹ کا عالم کیا ھو گا،،دوسرے لوگ تو علی شرطِ بخاری کہہ کر ٹوٹ پڑیں گے،، آگے چل کے آپ دیکھیں گے کہ اسی روایت کے راوی اسرائیل سے امام بخاری فضائلِ اھل بیت کی حدیث لینے میں تو بہت پرھیز کرتے ھیں،مگر اصولِ شریعت جیسے نازک اور اھم مسائل میں اسی اسرائیل سے روایت لے لیتے ھیں،، !!!

یہ حدیث 5 زمانوں تک ایک ایک راوی تک ھی محدود رھی ھے،کسی دوسرے کان نے نہیں سنی، حضورﷺ سے سوائے حذیفہؓ کے کوئی روایت نہیں کرتا، حذیفہؓ سے زر بن حبیش کے علاوہ کوئی روایت نہیں کرتا،زر بن حبیش سے منہال کے سوا کوئی روایت نہیں کرتا،منہال سے میسرہ بن حبیب کے علاوہ کوئی روایت نہیں کرتا اور میسرہ سے اسرائیل کے علاوہ کوئی روایت نہیں کرتا،، ترمذی نے آخری جملے میں اسی طرف اشارہ کیا ھے !!
اس اسرائیل کے معاملے میں بھی بہت اختلاف ھے،اسرائیل بن ابو اسحاق السبیعی تمام صحاحِ ستہ کا راوی ھے،امام احمد اس پر اعتماد کرتے ھیں،مگر ساتھ بتاتے ھیں کہ امام یحی بن سعید اس پر اعتراض کرتے تھے اور اسے پسند نہ فرماتے تھے،، ابو حاتم کہتے ھیں " سچا ھے" اپنے والد کے شاگردوں میں والد کی احادیث کا سب سے زیادہ حافظ ھے،( مگر یہ حدیث اس نے والد سے روایت نہیں کی) یعقوب بن شیبہ کہتے ھیں یہ حدیث مین کمزور ھے، علی المدینی کہتے ھیں کہ ضعیف ھے،ابن سعد لکھتے ھیں اسے بعض حضرات نے ضعیف کہا ھے،ابن حزم نے اسے ضعیف قرار دیا ھے،نسائی کہتے ھیں اس میں کوئی خاص برائی نہیں !
امام بخاری نے اور مسلم نے اس سے اصولِ شریعت کی احادیث تو لے لی ھیں مگر فضائل سے اجتناب برتا ھے، چونکہ اس نے یہ روایت باپ سے نہیں لی اور دوسروں سے اس کی روایات میں وہ کمزور ھے،،

اب درائیت کی بات یہ ھے کہ کیا جنت میں بوڑھے بھی ھوں گے؟

یا تو حدیث میں جنت کے تمام لوگوں کے سردار ھونے چاھئیں تھے،، یا بوڑھوں کا سردار کوئی اور ھو گا ،مثلاً ابوبکرؓ بوڑھوں کے سردار اور نوجوانوں کے سردار یہ یہ ھوں گے؟؟ اور کیا جنت میں دو دو سردار ھوں گے،،کیا دنیا میں کوئی ایسا قبیلہ جہاں دو سردار ھوتے ھوں ،یا دو دو خلیفہ ھوتے ھوں ؟؟
جب جنت میں نبیوں سمیت سارے ھی نوجوان ھوں گے تو کیا یہ دونوں نبیوں کے سردار بھی ھوں گے ؟
کیا یہ دونوں نوجوانی میں وفات پا گئے تھے جو نوجوانوں کے سردار ھوں گے،، دونوں اپنی عمر کے 60 سال کے لگ بھگ فوت ھوئے ھیں ،،پھر نوجوانوں کے سردار ؟؟؟؟

حدیث میں کوئی ربطِ کلام نہیں،،نبیﷺ سوال کرتے ھیں کیا حاجت ھے؟ مگر حذیفہؓ کے جواب کا انتظار بھی نہیں کرتے اور ایک غیر متعلق بات شروع کر دیتے ھیں،یہ اندازِ کلام ھی نبیﷺ کے اسلوبِ کلام سے لگۜا نہیں کھاتا ۔

09/04/2024

رمضان کے مہینے میں سب سے اہم اور کلیدی کردار ہماری خواتین خانہ کا رہا، جن کی وجہ سے سب نے رمضان کے روزے رکھے۔ سحر، افطار سب اچھے سے ہوئے۔
ہماری ان خواتیں نے پورا مہینہ اپنی نیند کی قربانی دے کر سب گھر والوں کو سحر، افطار کرایا، پھر چھوٹے بچوں کو ناشتہ کرا کر سکول بھیجا، بزرگوں کے کھانے پینے کے انتظامات کئے، اپنے نمازیں، تلاوت، تسبحیات، نوافل وغیرہ پڑھے

اب یہ حق بنتا ہے کہ اپنی استطاعت اور ہمت کے مطابق عید کے روز گھر کی خواتین کو کوئی سپیشل انعام/تحفہ دیں۔ اپنے وسائل کے مطابق ہی سہی، پیسے نہیں تو پھول ہی پیش کریں، اپنی بیوی کو ایک گلاب کی کلی ہی پیش کر دیں، کچھ بھی نہیں کر سکتے تو ایک اچھا سا خط لکھ دیں۔ واٹس ایپ پر پیار بھرا میسج آف تھینکس ہی لکھ دیں۔

سب کے سامنے انہیں سراہیں، ان کی تعریف کریں۔ ان کی خدمت، محبت، کارگزاری کا دل کھول کر اعتراف ہی کر لیں۔
یقین مانیں ، رمضان میں ہماری خواتین کی زندگیاں مردوں سے کئی گنا زیادہ مشکل ، کٹھن اور صبرآزما ہوتی ہیں۔
اللہ انہیں اس کا اجر عظیم دے،۔
بندوں کا بھی فرض ہے کہ وہ شکرگزار بنیں ، اپنے حصے کا فرض تو نبھائیں۔

24/03/2024

رمضان آتے ہی ہم سب میں زیادہ سے زیادہ قرآن ختم کرنے کی دوڑ شروع ہوجاتی ہے۔ قرآن کی تلاوت ایک معمول بن جاتا ہے اور عموما لوگ ایک ماہ میں کم از کم تین چار قرآن ختم کر ہی لیتے ہیں۔ یقینا قرآن کی تلاوت کا اپنا ثواب ہے اور میرا ذاتی تجربہ ہے کہ تلاوت قرآن پاک انسان کو ایک فرحت و تازگی اور اندرونی نظافت و طمانیت بخشتی ہے۔

لیکن کیا ایسا سارا سال نہیں ہونا چاہیئے؟

بلکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ سارا سال پڑھے جانے والا قرآن اس سال دورے یعنی ریویژن کے طور پر پڑھا جائے جس میں اسباق قرآن کی یاددہانی کرتے ہوئے ان پر عمل کرنے کی جہد و سعی کی جائے۔ یعنی قرآن صرف رٹنے کے انداز میں فقط زیادہ سے زیادہ ختم کرنے کے واسطے تلاوت نہ کیا جائے بلکہ قرآن کو تدبر کے ساتھ سمجھ کر پڑھا جائے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی سعی و پلاننگ کی جائے۔

یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے کسی کو بھی اختلاف کا حق ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ رمضان میں اصل زیادہ سے زیادہ قرآن ختم کرنے کی نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ قرآن سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی ہے، پھر چاہے اس غور و فکر و تدبر اور عمل کرنے کی سعی کے دوران میں فقط ایک قرآن ہی کیوں نہ ختم ہو۔

دوسری چیز جس کی مجھے خود سمیت بہت سے لوگوں کی زندگی میں دوران رمضان کمی محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ رمضان میں ہم ظاہری عبادت کو تو بہت اہمیت دیتے ہیں لیکن ان ظاہری عبادت کے باطنی خواص کو اتنا درخور اعتناء نہیں جانتے۔ یعنی ازروئے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بدنصیب ہے وہ شخص جس نے ماہ رمضان پایا اور اپنی مغفرت نہ کرواسکا۔ پس ایسے میں ایک مومن کی زندگی میں رمضان کا ایک بنیادی مقصد اپنی کامل مغفرت بھی کروانا ہے اور وہ مغفرت اسی وقت ممکن ہے جب ہم پورے ہوش و حواس میں دل کی گہرائیوں سے بار بار اور لگاتار اس ماہ مبارک میں اللہ کے آگے اپنی مغفرت کی مناجاتیں کرتے رہیں۔

ہر لمحہ ہماری زبان پر

یا

تو استغفار پر مبنی اذکار جاری ہوں بشرطیکہ ہمیں ان اذکار کے معنی و مطالب پر مکمل شرح صدر ہو اور ہم انکو رٹنے کے انداز سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے التجا کے انداز میں ادا کررہے ہوں

یا

پھر ہم اپنی زبان میں مسلسل اللہ سے مغفرت کی دعائیں، گناہوں کی توبہ اور دنیا و آخرت کی بھلائی مانگتے رہیں۔

کیونگہ دعا از خود سب سے بڑی عبادت ہے۔ پس اگر ہم اس پورے ماہ زیادہ سے زیادہ وقت اللہ سے مناجاتیں اور دعائیں کرتے گزاریں گے تو گویا ہم اس ماہ کا بیشتر حصہ اللہ کی عبادت میں ہی گزاریں گے۔

پھر ہم سب کا ذاتی تجربہ ہے کہ دعا درحقیقت انسان کو مالک کے ساتھ قربت کا احساس دلاتی ہے۔ دعا کرتے ہوئے انسان کو اپنے اندر یہ احساس اجاگر ہوتا ہے کہ وہ اپنے خالق کے بہت قریب ہے اور اللہ سے قربت کا یہ احساس اس سے محبت میں اضافے کا باعث اور اسکی ناراضی سے بچنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔

یاد رکھئے خشیت اور محبت یہ دو جذبے بڑے قوی ہوتے ہیں جو انسان کو بڑے سے بڑے گناہ سے روکنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں، تاہم مجھے ایسا لگتا ہے کہ کسی کی محبت میں غلط کام سے رک جانا انسان پر ایک سرشاری کی سی کیفیت طاری کردیتا ہے۔

پس مجھے تو یہی مناسب لگتا ہے کہ

١. رمضان میں زیادہ سے زیادہ قرآن ختم کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ تدبر قرآن کرکے احکام قرآنی کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اور تلاوت قرآن پاک کا مقصد تدبر و تنقیذ احکام کو سمجھ کر قرآن کی تلاوت کرنی چاہیئے۔

٢. اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اللہ سے مناجاتیں اور دعائیں کرتے میں گزارنا چاہیئے کہ اس سے کامل مغفرت کی امید بھی ہوتی ہے اور انسان کو اللہ سے قرب بھی عطا ہوتا ہے جو تزکیے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

تحریر: محمد فھد حارث

21/03/2024

FAITH IS LIKE WIFI. IT'S INVISIBLE. BUT IT HAS THE POWER TO CONNECT YOU TO WHAT YOU NEED.🌸

Address

Sopor
193201

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dawat-e-Towheed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category