Abna-e-Nadwa Mewat

Abna-e-Nadwa Mewat Abna-e-Nadwa Mewat

چوتھے کل میوات سیرت مقابلے کی تقریبِ تقسیمِ انعامات مؤرخہ ۳۰ نومبر ۲۰۲۵ مطابق ۹ جمادی الثانی ۱۴۴۷ھ بروز اتوار جامعہ صدیق...
02/12/2025

چوتھے کل میوات سیرت مقابلے کی تقریبِ تقسیمِ انعامات

مؤرخہ ۳۰ نومبر ۲۰۲۵ مطابق ۹ جمادی الثانی ۱۴۴۷ھ بروز اتوار جامعہ صدیقیہ کی عظیم الشان مسجد حاجی میؤ خاں میں تقسیمِ انعامات کی تقریب منعقد ہوئی۔ بابرکت مجلس مفتی زاہد حسین قاسمی (شیخ الحدیث جامعہ معین الاسلام نوح )کے زیر صدارت منعقد ہوئی ،پروگرام وقتِ مقرر صبح دس بجے شروع ہو گیا جس میں ابتدائی طور پر نعت و نظم سے سماں باندھا گیا ،پھر راقم الحروف نے سیرت کا پیغام امت کے نونہالوں کے نام پر نصف گھنٹہ خطاب کیا ۔
گیارہ بجے باضابطہ پروگرام جامعہ صدیقیہ کے طالب علم محمد اسرار ساکن اوتھا کی تلاوتِ پاک شروع ہوا ،محمد شاہد ساکن نوشیرہ نے نعت پاک کا نذرانۂ عقیدت پیش کیا ۔
بحیثیتِ ترجمانِ جماعت راقم الحروف نے استقبالیہ کلام سے مہمانانِ ذی وقار کا خیر مقدم کیا اور جماعت کے مقاصد و اہداف نیز سیرت النبیﷺ کے مقابلہ جاتی مسابقات کے اثرات و ثمرات کا ذکرِ جمیل کیا ۔
ناظمِ جلسہ حیدر میواتی ندوی نے ڈاکٹر عارف الیاس ندوی کو دعوت دی ،ڈاکٹر موصوف نے “راجا حسن خاں میواتی یادگاری خطبہ” کے نام سے شروع کیے جانے والے اہم سلسلہ سے تمام سامعین کو روشناس کرایا ۔
اسی اثناء میں مولانا خالد اسحاق اٹاوڑی معینی زینتِ مجلس ہوئے ۔
پروگرام دو نشستوں پر مشتمل رہا اولا “راجہ حسن خاں میواتی یادگاری خطبہ” عنوان کے تحت پروقار تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر مفتی محمد مشتاق تجاری(ایسوسیٹ پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے تفصیلی یادگاری خطبہ پیش کیا ،آں جناب نے میوات کی پرشکوہ تاریخ ،ہمت و پامردی ،وفا وجانثاری ،غیرت وحمیت ،سلاطینِ ہند کے میوات سے روابط و مراسم کو طشت از بام کیا ،یہ خطبہ دریا بکوزہ کے مانند تاریخِ میوات پر محیط تھا ۔
بعد ازاں دیگر مہمانانِ ذی وقار کی آمد ہوئی جناب صدیق احمد میؤ نے راجہ حسن خاں میواتی کی شہادت کو موضوع بنا اپنی بات تمام کی ۔
مشہور سماجی کارکن جناب رمضان چودھری صاحب نے مدارس کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر مدارس کا وجود خطرے میں آیا تو سب کا ایمان زد میں آئے گا اور دیکھتے ہی دیکھتے الحاد و ارتداد کی سیلاب گھروں میں داخل ہو جائے گا ،مدارس ہمارے دین و ایمان کی حفاظت کے قلعے ہیں ۔
بعدِ ازاں دوسری نشست کا آغاز ہوا اور ابتدا میں تمام ممتازین و فائزین طلبہ و طالبات میں انعامات تقسیم کئے گئے ،قابلِ ذکر ہے کہ پچاس طلبہ سے شروع ہونے والے سیرت النبیﷺ کے مقابلہ جاتی امتحان میں امسال کم و بیش پندرہ سو طلبہ نے حصہ لیا جن میں مدارس و مکاتب کے علاوہ اسکول و کالجز کے کثیر طلبہ و طالبات نے شرکت کی ۔
کل دو فرع تھیں ایک اردو داں طبقہ کے لئے جس میں سیرت خاتم الانبیاء از مفتی شفیع عثمانی ؒ کتاب مقرر تھی دوسری فرع کے لیےہندی میں “جس کا انتظار تھا” مقرر تھی جو درِ یتیم از ماہر القادریؒ کا ہندی ترجمہ ہے ۔
اول الذکر کتاب میں بازی مارنے والا (اول انعام)خوش نصیب محمد نوشاد (طالب علم جامعہ صدیقیہ نوح)دوم نسرین بنتِ اخلاق (سرکاری اسکول سنگار)سوم پوزیشن پر تین طالبات نے یکساں نمبر پائے اور انعام بھی برابر وصول کیا جن کے اسماء درج ذیل ہیں —عالیہ بنت لقمان (مکتب دارالقرآن ٹپوکڑہ) آرزو بنتِ خورشید (مکتب تکیہ والی مسجد سنگار)شفاء بنت خورشید (مکتب دارالقرآن ٹپوکڑہ)۔
جبکہ
ثانی الذکر فرع میں محمد نوید اکاتا (طالب علم راجستھان یونیورسٹی جے پور ) اول مقام پر فائز ہوئے جبکہ شفاء بنت نفیس (الجامعہ کیمپس مروڈہ) اور محمد اسامہ (ٹپوکڑہ) بالترتیب دوم وسوم پوزیشنوں پر قابض ہوئے ۔

جبکہ چالیس طلبہ و طالبات کو تشجیعی انعامات تقسیم کئے گئے ۔
یاد رہے اول انعام ۱۲ ہزار روپے دوم آٹھ ہزار روپے سوم انعام پانچ ہزار روپے رکھا گیا تھا ۔

اکابرینِ میوات نے پروگرام کے تئیں اپنے امید افزا و حوصلہ بخش تاثرات و خیالات کا اظہار فرمایا ۔
مولانا محمد ادریس( شیخ ثانی جامعہ اسلامیہ دار العلوم محمدیہ میل کھیڑلا )نے کہا کہ سلسلہ بہت اچھا ہے اور اس سلسلہ کو مزید نظم و نسق کے ساتھ فزوں تر کرنے کی ضرورت ہے ۔
مولانا شیر محمد امینی (بانی و مہتمم مدرسہ ابی بن کعب گھاسیڑہ )نے کہا کہ ابنائے ندوہ میوات کی کاوشیں قابلِ قدر ہیں اور ان نوجوانوں نے میوات کے علمی و قلمی میدان میں نئی روح پھونک دی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ اب ہمیں قلمی کاوشوں کی اطلاعات بہم پہنچتی ہیں ،یقینا یہ تمام جواں عمر نوجوان آئندہ آنے والی نسل کے لئے بہترین راہ ہموار کر رہے ہیں ۔
آخر میں صدارتی خطاب کے لئے حضرت مفتی زاہد حسین قاسمی مد ظلہ العالی کو دعوتِ اسٹیج دی گئی ،صدر صاحب نے سیرت کی اہمیت کو واضح فرمایا وہیں ابنائے ندوہ میوات کو خراجِ تحسین پیش کی اور ان کی کاوشوں کو سراہا ۔
مفتی صاحب کی دعا پر ۱:۳۰ بجے پروگرام بخیر و خوبی اختتام کو پہنچا ۔
تمام مہمانانِ ذی وقار نے فریضۂ شکم سیری انجام دیا اور ظہر کی نماز ادا کی ۔
بعدِ نماز ظہر تمام احباب جامعہ صدیقیہ کے دفتر میں مجتمع ہوئے اور ابنائے ندوہ میوات کے لئے اپنی خدمات پیش کرنے والے فعال احباب کا شال پوشی کر اعزاز و اکرام کیا ۔
صحافی مولانا مبارک آلی میؤ اور مولانا ذاکر ساحل کو بھی نقد انعام اور شال پوشی سے سرفراز کیا گیا ۔
اس موقع عوام و خواص کثیر تعداد میں نے شرکت کی۔
جماعت کے سابق صدر مفتی سعید ندوی اور موجودہ صدر مفتی ضیاء الحق قاسمی ندوی سفر کی بریں بنا پروگرام میں تشریف نہ لا سکے ۔
پروگرام میں بڑی تعداد میں ندوی رفقاء نے شرکت کی جن کے اسماء قلم بند کئے جا رہے ہیں
مولانا محمد ارشد ندوی (نائب صدر) ڈاکٹر عارف الیاس ندوی (مدیررسالہ)عمر عبداللہ ندوی (خازنِ جماعت)مولانا محمد عارف ندوی ،مولانا محمد آزاد ندوی ،مولانا محمد حارث ندوی ،مولانا محمد عارف ندوی گھاسیڑوی ،مولانا ابراہیم لہرواڑی ،نعیم ندوی سلمبہ ،مولانا صالح ندوی ،مفتی نیاز احمد ندوی ،مولنا تعریف آلی ،مستقیم ندوی پہاڑ پور،شمس الحسن ندوی،ارشاد ندوی سنگار،مولانا صابر ندوی ،مفتی محمد نسیم ندوی ٹپوکڑہ ،شاہد ندوی جے سینگھ پور،خالد ندوی جے سینگھ پور ،مولانا لقمان دھیمری ،ماسٹر مستقیم ندوی ،سعد ہارون کنسالی ،مفتی صابر قاسمی ،مفتی یوسف حیدر ندوی ،مفتی نسیم ندوی لہرواڑی ،ساجد ندوی خواجہ علی کا ،افضل ندوی ،راشد امین ندوی ،شاکر ندوی بڈیڈ،مولانا مشتاق گاجوکا ،مولانا حیدر علی اٹاوڑ عرفان ندوی ٹپوکڑہ،شکیل ندوی دھولیٹ ،مقیم ندوی ساکرس،ریاض ندوی ڈھکلپور،نزاکت ندوی ،اخلاق ندوی ،مستقیم حبیب ندوی وغیرہم ۔

از محمد تعریف سلیم ندوی
ترجمان ابنائے ندوہ میوات

چوتھے کل میوات سیرت مسابقہ ۲۰۲۵ کی تقریب تقسیم انعامات وپہلے راجا حسن خاں میواتی میموریل لیکچر کی روداد۔
01/12/2025

چوتھے کل میوات سیرت مسابقہ ۲۰۲۵ کی تقریب تقسیم انعامات وپہلے راجا حسن خاں میواتی میموریل لیکچر کی روداد۔

اللہ پاک مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ آمین
04/11/2025

اللہ پاک مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ آمین

رب کریم مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے۔آمین
09/10/2025

رب کریم مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے۔آمین

07/09/2025

ابنائے ندوہ میوات کے ذریعے ہونے والے چوتھے آل میوات مسابقہ سیرت کی تیاری کے طریقے کے بارے میں ہم سے کئی لوگ سوال کر رہے ہیں کہ کیسے کی جائے۔ میری رائے میں اس کا سب سے آسان اور موثر طریقہ درج ذیل ہے،امید ہے ذمے داران مکاتب و اسکول اس طریقے کو اختیار کرتے ہوئے اپنے بچوں کی تیاری کرائینگے۔
آپ اپنے مساہمین کی ایک جماعت بنائیں،اور ہر دن دو تین صفحے جماعت کے سامنے پہلے خود پڑھیں،اس سے بچوں کو لفظ کا صحیح تلفظ معلوم ہوگا،پھر جو بچہ زبان پہ سب سے زیادہ قدرت رکھتا ہے،اس سے ان صفحات کو پرھوائیں،اسی ترتیب کے مطابق ایک ایک بار جماعت کے ہر فرد سے ان صفحات کو بآواز بلند پڑھوائیں،یوں ہر بات بچے کے ذہن میں تقریباً پندرہ بیس مرتبہ یعنی بچوں کی تعداد کے مطابق پہنچیگی،آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اتنی مرتبہ پڑھ اور سن کر جو بات ذہن میں جائیگی وہ دیر تک ذہن نشین رہیگی۔ خیر! جب سب بچے پڑھ کر فارغ ہو جائیں تو آپ پڑھے گئے صفحات میں سے بورڈ پر لکھ کر تقریباً پندرہ معروضی سوال کریں، مثلا:
حضور صلعم نے فتح مکہ کے موقع پر کس شخص کے بارے میں کہا تھا کہ جو ان کے گھر میں داخل ہو جائیگا وہ امان میں ہے؟؟
جواب:
(1)ابو جہل کے بارے میں
(2) ابو سفیان رض کے بارے میں
(3) عمرو بن العاص رض کے بارے میں
(4)عکرمہ بن ابی جہل کے بارے میں

گھر جاکر ان صفحات کے بار بار مطالعہ کی بھی بچوں کو ہدایت دیں۔

اس طریقے سے پڑھی جانے والی چیزیں دیر تک یاد رہتی ہیں اور امتحان کی تیاری میں بھی بہت زیادہ معاون ہوتی ہیں۔
اللہ پاک اس مسابقے کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سیرت نبوی سے واقف ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

نوٹ:اس طریقے کے علاؤہ بھی تیاری کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔ احباب سے اس سلسلے میں اپنی رائے رکھنے کی گزارش ہے۔

مشتاق ندوی

سیرت مسابقہ میں رجسٹریشن کی آخری تاریخ اب ۳۱ اگست بروز اتوار تک بڑھا دی گئی ہے۔Last date to register for Seerah Book Rea...
27/08/2025

سیرت مسابقہ میں رجسٹریشن کی آخری تاریخ اب
۳۱ اگست بروز اتوار تک بڑھا دی گئی ہے۔

Last date to register for Seerah Book Reading Competition has been extended until 31 August 2025.

ابنائے ندوہ میوات کے زیر اہتمام سیرت کا چوتھا پروگرام یہ کوئی عام پروگرام نہیں بلکہ محبتوں سے لبریز ایک پیام ہے۔یہ کوئی ...
25/08/2025

ابنائے ندوہ میوات کے زیر اہتمام سیرت کا چوتھا پروگرام

یہ کوئی عام پروگرام نہیں بلکہ محبتوں سے لبریز ایک پیام ہے۔
یہ کوئی مقابلہ نہیں بلکہ عشقِ نبی ﷺ کی خوشبو سے سرشار ہونے کی نوید ہے۔
یہ کوئی رسمی اعلان نہیں بلکہ اپنی نسلوں کو آقا ﷺ کی سیرتِ مبارکہ سے روشناس کرانے کی پکار ہے۔
یہ محض ایک اشتہار نہیں بلکہ فکری یلغار کے مقابل ایک چھوٹی سی مگر بابرکت سعی ہے۔
یہ صرف ایک دعوت نہیں بلکہ پیارے نبی ﷺ کی پیاری سیرت کے انوار کو اجاگر کرنے کا سامان ہے تاکہ ہماری زندگیاں ان کی سنتوں کی روشنی سے منور ہوں۔
یہ صرف ایک نشست نہیں بلکہ دلوں کو ایمان کی حرارت سے جلانے اور نگاہوں کو سیرت کی روشنی سے روشن کرنے کا موقع ہے۔
یہ کوئی محفل نہیں بلکہ وہ چراغ ہے جو تاریک دلوں میں روشنی بکھیرے گا۔
یہ کوئی تقریر نہیں بلکہ دلوں کو جھنجھوڑ دینے والی صدا ہے کہ آؤ! اپنے نبی ﷺ کی زندگی کو اپنا کر دنیا و آخرت کو سنوار لو۔
بشکریہ مولانا Mubarak Aali Meo
محمد تعریف سلیم ندوی
ترجمان ابنائے ندوہ میوات

चोथी आल मेवात सीरत प्रतियोगिता के आयोजन का एक बड़ा मक़सद ये है कि हमारी युवा पीढ़ी और साथ ही वह लोग भी इस मैं भाग लें जो...
24/08/2025

चोथी आल मेवात सीरत प्रतियोगिता के आयोजन का एक बड़ा मक़सद ये है कि हमारी युवा पीढ़ी और साथ ही वह लोग भी इस मैं भाग लें जो स्कूल के बाद कॉलेज यूनिवर्सिटी मैं पढ़ रहे हैं या फिर पढ़ कर अपने जीवन के दूसरे कामों मैं लगे हुए हैं।

यह अवसर मेवात के हर छोटे बड़े (Male-Female) के लिए है ।

इस मैं उमर (Age) की कोई सीमा नहीं है हर उमर का व्यक्ति इस मैं भाग ले सकता है।

अभी तक हमारे पास मेवात भर से पचास (50) नाम नहीं आ सके हैं जिस से हमे महसूस हो के हमारे यहाँ के बुद्धिजीवी इस तरह का लिटरेचर पढ़ने का भी शौक़ रखते हैं।

पैग़म्बर (अलैहिस सलाम) की जीवनी पर एक पुस्तक पढने का इस से सुनेहरा अवसर शायद ही मिलेगा।

मेवात के सभी पढ़े लिखे युवा और प्रोफ़ेशनल साथियों से गुज़ारिश है की इस मैं ज़रूर भाग लें।

ابنائے ندوہ میوات کے زیر اہتمام ہونے والے اس “کل میوات سیرت مسابقہ “کا ضرور حصہ بنیں۔Be the part of this important “Seer...
21/08/2025

ابنائے ندوہ میوات کے زیر اہتمام ہونے والے اس “کل میوات سیرت مسابقہ “کا ضرور حصہ بنیں۔

Be the part of this important “Seerah Book Reading Competition.

02/07/2025

“میوات کی سرزمین بڑی جاذب اور پرکشش رہی ہے، اسے گو شاہی شکوہ و طمطراق میسر نہیں ہوا، نہ نوابی طنطنہ، نہ کبھی یہ حاکمان وقت کا عشرت کدہ بن سکی، نہ امیران عالی شان کا نعمت کدہ سو، ہمیشہ سادہ اور بظاہر بے روپ سی رہی مگر بڑے بڑوں کے سر یہاں سرنگوں ہوئے اور غرور و تکبر سے پر دماغوں کے ایاغ واژگوں، جلیل القدر اولیائے کرام کی قیام گاہ،اکابر علماء کی درس گاہ، بادیہ نشیں قلندروں کی گزرگاہ اور عظیم ترین شہنشاہوں کی عقیدت گاہ بننے کا ہمیشہ سے اس سرزمین کو فخر حاصل رہا ہے۔
اس سرزمین نے اولیائے کرام کو اپنی گود میں پالا بھی ہے اور انھیں سنوارا اور سنبھالا بھی ہے، اس نے مشائخ عظام کی ان کے بچپن میں ناز برداری بھی کی ہے اور جب بڑے ہوئے تو ان کی تابع داری بھی”۔

مولانا محمد حبیب الرحمن خاں میواتی
رام پور اور میوات کے درمیان روابط

رضا لائبریری جرنل
ص۳۰۷، اشاعت ۱۹۹۵

مولانا عمیر الصدیق ندوی کے قلم سے ماہنامہ "معارف" اعظم گڑھ (فروری ۲۰۲۵)میں ”ارمغان میوات "پر  شائع ہوا تبصرہ قابل مطالعہ...
07/02/2025

مولانا عمیر الصدیق ندوی کے قلم سے ماہنامہ "معارف" اعظم گڑھ (فروری ۲۰۲۵)میں ”ارمغان میوات "پر شائع ہوا تبصرہ قابل مطالعہ ہے۔
لکھتے ہیں:

صدیوں سے دارالحکومت دہلی کے جوار اور گویا سایہ میں علاقہ میوات کا وجود گویا تاریخ و جغرافیہ کی بولعجبی کی مثال ہے۔ دہلی ہندوستان کی تمام تہذیبی، تمدنی، علمی،عسکری ترقیوں اور عروج و زوال کی کہانیوں کا سرعنوان بنتی رہی، تہذیبوں اور ثقافتوں کے قافلے یہیں سے اٹھتے اور اودھ مرشد آبا حیدرآباد اور میسور، اور آرکارٹ تک دہلی کی اس رنگا رنگ ثقافت کی دولت عام کرتے رہے جو خدا جانے کتنے ملکوں اور تہذیبوں کی آمیزش سے خود ایک نئے خزانے کا پتہ دیتی تھی۔
لیکن اسی دہلی کی ناک کے نیچے میوات کا علاقہ اپنی خاص قوم کے ساتھ گویا بزم تیموریہ اور اس سے پہلے بزم سلطنت کی جلوہ سامانیوں سے محروم ہی رہا۔ جو قوم محبت و رواداری، مہمان نوازی اور خودداری اور وفاداری کے فطری اوصاف کی حامل تھی وہ خدا جانے کیوں 22 خواجوں کی چوکھٹ سے چند میل کے فاصلے پر رہتے ہوئے بھی دینی، علمی اور سیاسی رہبری کی صلاحیتوں کا اظہار نہ کر سکی۔ اوصاف اور انسانی بنیادی خوبیوں میں بقول مولانا سید ابو الحسن علی ندوی یہ قوم ان عربوں کی یاد دلاتی ہے جن کی پہچان دور جاہلیت سے کی گئی۔ ایسی جفاکش، ایماندار اور سب سے بڑھ کر خوددار قوم سے ملک و ملت کو سرخرو ہونے کی ضرورت تھی۔ البتہ خود کو پہچاننے میں میواتی قوم نے کبھی کوتاہی نہیں کی۔ اس کا ثبوت اس خطے کی وہ خاموش تاریخ ہے جس نے صدیوں اپنے امتیازات کی پاسداری کی، مگر یہ بھی ضرور ہے کہ اس قوم کو پہچاننے میں بقیہ ہندوستان سے ضرور کوتاہی ہوئی۔ جب تعارف ہوا اور یہ بڑی مبارک نسبتوں سے ہوا، یعنی مولانا محمد الیاس کاندھلوی اور ان کی تبلیغی محنتوں کے سائے، میواتی قوم پر دراز ہوئے۔ اس نے یہاں کی قوم کو گویا پھر سے مسلمان کر دیا۔
اس عہد تجدید کی نمایاں ترین شخصیت مولانا عبدالسبحان خان کی تھی۔ مولانا۱۸۷۷ء میں پیدا ہوئے۔ یہ وہی دور ہے جس میں بقول مولانا سید سلیمان ندوی پورے ہندوستان پر خون کی بارش ہو رہی تھی، اس خونی تراوش میں کچھ بوندیں یاقوت میں ڈھل گئیں۔ مولانا عبدالسبحان بھی ایسے ہی ایک یاقوت بن کر چمکے اور یہ محض شاعری یا مبالغہ آرائی نہیں، ایک محقق کی زبان میں وہ گراں مایہ استاد، فاضل معلم، مشفق مربی اور علوم و فنون میں کامل، تربیت و تہذیب سے مالا مال اور زندگی کے ہر گوشہ علم و اخلاق میں اپنی مثال بن گئے۔
افسوس ایسی جامع الصفات ہستی کے کمالات کو شایان شایان بیان نہیں کیا گیا۔
زیر نظر کتاب کے مرتب اور ان کے تمام نوجوان رفقاء واقعی تبریک کے ساتھ شکریہ کے حقدار ہیں کہ انہوں نے میوات کے عہد جدید کے سب سے بڑے معمار کی یادوں کو زندہ کرنے اور رکھنے کے لیے ایک بڑے وقیع مذاکرہ علمی کا اہتمام کیا اور اس موقع پر مولانا میواتی کے سوانح پر مشتمل بہترین تحریروں کا ایک مجموعہ بھی پیش کر دیا۔
اس کتاب نے بتایا کہ اہل نظر نے کیوں مولانا میواتی کو میوات کا شاہ ولی اللہ قرار دیا۔ یہ حقیقت ہے کہ برصغیر کی تاریخ میں کوئی شاہ ولی اللہ ثانی نہیں کہلایا۔یہ اعزاز اگر مولانا میواتی کو ملا تو کوئی بات تو تھی۔ یہی بات اس کتاب میں کھل کر اور تفصیل سے بتا دی گئی۔
ان کی حیات وخدمات، ان کے خانوادے، ان کے تلامذہ، ان سب کے ذکر نے صرف مولانا میواتی ہی نہیں، پورے میوات کی عظمتوں کو تلاش کر لیا۔

رسالہ کاعکس ملاحظہ فرمائیں

اللہ تعالی مولانا مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے ۔
19/01/2025

اللہ تعالی مولانا مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے ۔

Address

Mewat
Nuh

Telephone

+919868565081

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abna-e-Nadwa Mewat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Abna-e-Nadwa Mewat:

Share

Category