02/12/2025
چوتھے کل میوات سیرت مقابلے کی تقریبِ تقسیمِ انعامات
مؤرخہ ۳۰ نومبر ۲۰۲۵ مطابق ۹ جمادی الثانی ۱۴۴۷ھ بروز اتوار جامعہ صدیقیہ کی عظیم الشان مسجد حاجی میؤ خاں میں تقسیمِ انعامات کی تقریب منعقد ہوئی۔ بابرکت مجلس مفتی زاہد حسین قاسمی (شیخ الحدیث جامعہ معین الاسلام نوح )کے زیر صدارت منعقد ہوئی ،پروگرام وقتِ مقرر صبح دس بجے شروع ہو گیا جس میں ابتدائی طور پر نعت و نظم سے سماں باندھا گیا ،پھر راقم الحروف نے سیرت کا پیغام امت کے نونہالوں کے نام پر نصف گھنٹہ خطاب کیا ۔
گیارہ بجے باضابطہ پروگرام جامعہ صدیقیہ کے طالب علم محمد اسرار ساکن اوتھا کی تلاوتِ پاک شروع ہوا ،محمد شاہد ساکن نوشیرہ نے نعت پاک کا نذرانۂ عقیدت پیش کیا ۔
بحیثیتِ ترجمانِ جماعت راقم الحروف نے استقبالیہ کلام سے مہمانانِ ذی وقار کا خیر مقدم کیا اور جماعت کے مقاصد و اہداف نیز سیرت النبیﷺ کے مقابلہ جاتی مسابقات کے اثرات و ثمرات کا ذکرِ جمیل کیا ۔
ناظمِ جلسہ حیدر میواتی ندوی نے ڈاکٹر عارف الیاس ندوی کو دعوت دی ،ڈاکٹر موصوف نے “راجا حسن خاں میواتی یادگاری خطبہ” کے نام سے شروع کیے جانے والے اہم سلسلہ سے تمام سامعین کو روشناس کرایا ۔
اسی اثناء میں مولانا خالد اسحاق اٹاوڑی معینی زینتِ مجلس ہوئے ۔
پروگرام دو نشستوں پر مشتمل رہا اولا “راجہ حسن خاں میواتی یادگاری خطبہ” عنوان کے تحت پروقار تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر مفتی محمد مشتاق تجاری(ایسوسیٹ پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے تفصیلی یادگاری خطبہ پیش کیا ،آں جناب نے میوات کی پرشکوہ تاریخ ،ہمت و پامردی ،وفا وجانثاری ،غیرت وحمیت ،سلاطینِ ہند کے میوات سے روابط و مراسم کو طشت از بام کیا ،یہ خطبہ دریا بکوزہ کے مانند تاریخِ میوات پر محیط تھا ۔
بعد ازاں دیگر مہمانانِ ذی وقار کی آمد ہوئی جناب صدیق احمد میؤ نے راجہ حسن خاں میواتی کی شہادت کو موضوع بنا اپنی بات تمام کی ۔
مشہور سماجی کارکن جناب رمضان چودھری صاحب نے مدارس کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر مدارس کا وجود خطرے میں آیا تو سب کا ایمان زد میں آئے گا اور دیکھتے ہی دیکھتے الحاد و ارتداد کی سیلاب گھروں میں داخل ہو جائے گا ،مدارس ہمارے دین و ایمان کی حفاظت کے قلعے ہیں ۔
بعدِ ازاں دوسری نشست کا آغاز ہوا اور ابتدا میں تمام ممتازین و فائزین طلبہ و طالبات میں انعامات تقسیم کئے گئے ،قابلِ ذکر ہے کہ پچاس طلبہ سے شروع ہونے والے سیرت النبیﷺ کے مقابلہ جاتی امتحان میں امسال کم و بیش پندرہ سو طلبہ نے حصہ لیا جن میں مدارس و مکاتب کے علاوہ اسکول و کالجز کے کثیر طلبہ و طالبات نے شرکت کی ۔
کل دو فرع تھیں ایک اردو داں طبقہ کے لئے جس میں سیرت خاتم الانبیاء از مفتی شفیع عثمانی ؒ کتاب مقرر تھی دوسری فرع کے لیےہندی میں “جس کا انتظار تھا” مقرر تھی جو درِ یتیم از ماہر القادریؒ کا ہندی ترجمہ ہے ۔
اول الذکر کتاب میں بازی مارنے والا (اول انعام)خوش نصیب محمد نوشاد (طالب علم جامعہ صدیقیہ نوح)دوم نسرین بنتِ اخلاق (سرکاری اسکول سنگار)سوم پوزیشن پر تین طالبات نے یکساں نمبر پائے اور انعام بھی برابر وصول کیا جن کے اسماء درج ذیل ہیں —عالیہ بنت لقمان (مکتب دارالقرآن ٹپوکڑہ) آرزو بنتِ خورشید (مکتب تکیہ والی مسجد سنگار)شفاء بنت خورشید (مکتب دارالقرآن ٹپوکڑہ)۔
جبکہ
ثانی الذکر فرع میں محمد نوید اکاتا (طالب علم راجستھان یونیورسٹی جے پور ) اول مقام پر فائز ہوئے جبکہ شفاء بنت نفیس (الجامعہ کیمپس مروڈہ) اور محمد اسامہ (ٹپوکڑہ) بالترتیب دوم وسوم پوزیشنوں پر قابض ہوئے ۔
جبکہ چالیس طلبہ و طالبات کو تشجیعی انعامات تقسیم کئے گئے ۔
یاد رہے اول انعام ۱۲ ہزار روپے دوم آٹھ ہزار روپے سوم انعام پانچ ہزار روپے رکھا گیا تھا ۔
اکابرینِ میوات نے پروگرام کے تئیں اپنے امید افزا و حوصلہ بخش تاثرات و خیالات کا اظہار فرمایا ۔
مولانا محمد ادریس( شیخ ثانی جامعہ اسلامیہ دار العلوم محمدیہ میل کھیڑلا )نے کہا کہ سلسلہ بہت اچھا ہے اور اس سلسلہ کو مزید نظم و نسق کے ساتھ فزوں تر کرنے کی ضرورت ہے ۔
مولانا شیر محمد امینی (بانی و مہتمم مدرسہ ابی بن کعب گھاسیڑہ )نے کہا کہ ابنائے ندوہ میوات کی کاوشیں قابلِ قدر ہیں اور ان نوجوانوں نے میوات کے علمی و قلمی میدان میں نئی روح پھونک دی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ اب ہمیں قلمی کاوشوں کی اطلاعات بہم پہنچتی ہیں ،یقینا یہ تمام جواں عمر نوجوان آئندہ آنے والی نسل کے لئے بہترین راہ ہموار کر رہے ہیں ۔
آخر میں صدارتی خطاب کے لئے حضرت مفتی زاہد حسین قاسمی مد ظلہ العالی کو دعوتِ اسٹیج دی گئی ،صدر صاحب نے سیرت کی اہمیت کو واضح فرمایا وہیں ابنائے ندوہ میوات کو خراجِ تحسین پیش کی اور ان کی کاوشوں کو سراہا ۔
مفتی صاحب کی دعا پر ۱:۳۰ بجے پروگرام بخیر و خوبی اختتام کو پہنچا ۔
تمام مہمانانِ ذی وقار نے فریضۂ شکم سیری انجام دیا اور ظہر کی نماز ادا کی ۔
بعدِ نماز ظہر تمام احباب جامعہ صدیقیہ کے دفتر میں مجتمع ہوئے اور ابنائے ندوہ میوات کے لئے اپنی خدمات پیش کرنے والے فعال احباب کا شال پوشی کر اعزاز و اکرام کیا ۔
صحافی مولانا مبارک آلی میؤ اور مولانا ذاکر ساحل کو بھی نقد انعام اور شال پوشی سے سرفراز کیا گیا ۔
اس موقع عوام و خواص کثیر تعداد میں نے شرکت کی۔
جماعت کے سابق صدر مفتی سعید ندوی اور موجودہ صدر مفتی ضیاء الحق قاسمی ندوی سفر کی بریں بنا پروگرام میں تشریف نہ لا سکے ۔
پروگرام میں بڑی تعداد میں ندوی رفقاء نے شرکت کی جن کے اسماء قلم بند کئے جا رہے ہیں
مولانا محمد ارشد ندوی (نائب صدر) ڈاکٹر عارف الیاس ندوی (مدیررسالہ)عمر عبداللہ ندوی (خازنِ جماعت)مولانا محمد عارف ندوی ،مولانا محمد آزاد ندوی ،مولانا محمد حارث ندوی ،مولانا محمد عارف ندوی گھاسیڑوی ،مولانا ابراہیم لہرواڑی ،نعیم ندوی سلمبہ ،مولانا صالح ندوی ،مفتی نیاز احمد ندوی ،مولنا تعریف آلی ،مستقیم ندوی پہاڑ پور،شمس الحسن ندوی،ارشاد ندوی سنگار،مولانا صابر ندوی ،مفتی محمد نسیم ندوی ٹپوکڑہ ،شاہد ندوی جے سینگھ پور،خالد ندوی جے سینگھ پور ،مولانا لقمان دھیمری ،ماسٹر مستقیم ندوی ،سعد ہارون کنسالی ،مفتی صابر قاسمی ،مفتی یوسف حیدر ندوی ،مفتی نسیم ندوی لہرواڑی ،ساجد ندوی خواجہ علی کا ،افضل ندوی ،راشد امین ندوی ،شاکر ندوی بڈیڈ،مولانا مشتاق گاجوکا ،مولانا حیدر علی اٹاوڑ عرفان ندوی ٹپوکڑہ،شکیل ندوی دھولیٹ ،مقیم ندوی ساکرس،ریاض ندوی ڈھکلپور،نزاکت ندوی ،اخلاق ندوی ،مستقیم حبیب ندوی وغیرہم ۔
از محمد تعریف سلیم ندوی
ترجمان ابنائے ندوہ میوات