दादा मीरां जी

दादा मीरां जी مخدوم پیر سید أحمد ملقب سید شاہ میران مشہور عام دادا میراں جی

ممتاز الحکمی حکیم سید ضیاء الدین ثانی، شاہی طبیب، آپ علم و زہد اور اکثر علوم و فنون میں ید طولیٰ رکھتے تھے، قم و نجفِ اش...
28/12/2025

ممتاز الحکمی حکیم سید ضیاء الدین ثانی، شاہی طبیب، آپ علم و زہد اور اکثر علوم و فنون میں ید طولیٰ رکھتے تھے، قم و نجفِ اشرف میں علمائے وقت کی مجالس درس میں حاضر ہو کر فقہ، اصول اور حکمت کی تعلیم حاصل کی۔ وطن پہنچ کر طب میں وہ کمال حاصل کیا کہ اس دور کے حکماء آپ کو استاد کامل مانتے تھے، راتوں کو عبادت الہی میں مصروف رہتے تھے۔ سید خضر خان، بادشاہ دہلی کے پوتے، سید محمد شاہ رابع، بادشاہ دہلی کے شاہی طبیب رہے۔ درباری اور دوسرے بیرونی سردار و اندرون قلعہ کے صد یا مایوس مریض آپ کے معالجہ سے شفایاب ہوئے، خاص طور پر شاہی بیگمات اور شاہی خاندان کے مریض افراد عموماً زیر علاج رہتے تھے۔

ایک دفعہ بہلول لودھی، جو شاہان دہلی کی طرف سے حاکم ملتان تھا، اس کا بیٹا سکندر لودھی ایک خطرناک سرطانی زخم میں مبتلا ہو گیا۔ مقامی اور بیرونی طبیبوں کے عرصہ تک زیر علاج رہا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا۔ بہلول لودھی سکندر سے بہت محبت رکھتے تھے۔ ہر چند اطبائے علاج میں کوشش کی لیکن سکندر کا مرض بڑھتا ہی گیا۔ سکندر قریب مرگ ہو گیا اور اس کی زندگی کی کوئی امید نہ رہی۔ سکندر بستر مرگ پر آخری سانس لے رہا تھا۔ اسی دوران کسی سردار نے آپ کی تعریف کی۔ بہلول لودھی نے ملتان سے اپنا خاص آدمی بھیج کر آپ کو دہلی سے ملتان بلوایا۔ غرض، سکندر کا آپ نے علاج شروع کر دیا۔ چند دنوں کے بعد آثار صحت نمایاں ہوئے اور رفتہ رفتہ دو ہفتے میں سکندر شفاء یاب ہو گیا۔ بہلول لودھی کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی، آپ کا اور آپ کی اولاد کا ہمیشہ معنون احسان رہا۔ چنانچہ جس وقت بہلول لودھی تخت نشین ہوا تو آپ کے فرزند کو مقرب خاص مقرر کیا اور دوسرے فرزند کو سپہ سالار بنایا۔

ان کی زوجہ اول، سیدہ زکیہ خاتون، دختر سید عظم علی شاہ، عامل رہتک بن سید عبد السمیع بن سید فضل بن مخدوم سید میران سعید، معروف سید میراں بھیک مزار میرا جی کا ٹھیکہ، ضلع کرنال بن سید شاہ نظام الدین سیالوی حسینی الترندی کے بطن سے تین فرزند پیدا ہوئے:

سیادت پناه مخدوم پیر سید احمد، بلقب سید شاہ میران، مشہور عام دادا میران جی، مدفون نانوتہ

سید شاہ حسین

سید عبد اللہ، ملقب سیف اللہ، سپہ سالار

زوجہ ثانیہ، طلعت بیگم، دختر مرزا نواب اسد اللہ بیگ، ولد مرزا فیروز بیگ دہلوی، مغرب شاہی کے بطن سے دو پسر و یک دختر پیدا ہوئی:

سید جمال الدین

سید غیاث الدین

دختر شہر بانو، زوجہ سید زمان بن سید حاجی شریف بن سید سلطان بن سید یوسف بن سید مرتضی بن سید زید بن سید عبدالکریم، امیر المرہ سیانوی حسینی الترندی،
بحوالہ قلمی نسب نامہ، مرتبه: مخدوم امیر سید مصطفے اعلی اللہ مقامہ، حسینی الترمذی نانوتوی۔

Mokib313
19/07/2025

Mokib313

Hazrat Syed Ahmed (Tokhta) Tirmizi LahoriKitaab : Buzurgan lahore
02/02/2025

Hazrat Syed Ahmed (Tokhta) Tirmizi Lahori
Kitaab : Buzurgan lahore

"ये दुआ अमीरुल मोमिनीन (अस) जंग के मैदान में उतरने से पहले पढ़ते थे:अल्लाहुम्मा, तूने अपनी राहों में से एक राह दिखाई है,...
03/10/2024

"ये दुआ अमीरुल मोमिनीन (अस) जंग के मैदान में उतरने से पहले पढ़ते थे:

अल्लाहुम्मा, तूने अपनी राहों में से एक राह दिखाई है, जिसमें तेरी रज़ा है, और अपने दोस्तों को उस तरफ़ बुलाया है। फिर तूने मोमिनीन से उनकी जान और माल को जन्नत के बदले में ख़रीद लिया, ताकि वो तेरे रास्ते में लड़ें, क़त्ल करें और क़त्ल हों, तेरे वादे के मुताबिक़ जो हक़ है। तो मुझे उन लोगों में से बना जो अपने आप को तेरे हाथ बेच चुके हैं, और फिर उस 'अहद को पूरा किया जो तुझसे किया था। इस अमल को मेरे आख़िरी अमल और ज़िन्दगी का आख़िरी मंज़िल बना, और मुझे वो मक़ाम नसीब फ़रमा जो तेरी ख़ुशी का सबब बने। अल्लाहुम्मा, उस वक़्त मुझे बुज़दिली से महफ़ूज़ रख जब ख़ौफ़ के मक़ामात हों, और जब बहादुरों से सामना हो तो कमज़ोरी से महफ़ूज़ रख।

Muhammad Al-Rayshahri - Vol. 4 - Page 308)

إنا لله وإنا إليه راجعون 🏴
20/05/2024

إنا لله وإنا إليه راجعون 🏴

أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ 🤲
19/05/2024

أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ 🤲

दादा मीरां जी
03/04/2024

दादा मीरां जी

11 - مخدوم پیر سید احمد توختہ اعلیٰ اللہ مقامہ Part -1آپ کے سوانح حیات مخدوم پیر سید مصطفیٰ اعلیٰ اللہ مقامہ بن مخدوم پی...
27/02/2024

11 - مخدوم پیر سید احمد توختہ اعلیٰ اللہ مقامہ Part -1

آپ کے سوانح حیات مخدوم پیر سید مصطفیٰ اعلیٰ اللہ مقامہ بن مخدوم پیر سید احمد ملقب دادا میران جی مدفون قصبہ نانوتہ ضلع سہارنپور نے صدیوں پرانے شجرہ النساب جو جو سینہ بسینہ نسلوں میں منتقل ہوتے چلے آے، اور مخفی تحریرات آباو اجداد کی روشنی میں ایک مضبوط قلمی شجرہ نسب بشکل کتاب شرح اصلاب سن ہجری 923 میں لکھا ہے،

جس میں بزرگوں کے حالات اور اولاد زکور واناث کی تشریحات کی، میں وہ ارقام فرماتے ہیں کہ ہمارے جد امجد سیادت پناہ مخدوم پیر سید احمد توختہ اعلیٰ اللہ مقامہ مدفون لاہور نے ہدایت کی، شمع ہندوستان میں اس وقت روشن ہوئی جبکہ ہند میں کفر واستکبار کی آندھیاں چل رہی تھیں،

اس گوہر نایاب نے علم وفضل کے آغوش میں آنکھ کھلی تھی، ہوش سبھالتے ہی اپنے پدر بزرگوار آفتاب علم کی شعاعوں سے انکھیں روشناس کرنے لگا، بچپن ہی سے جذبہ روحانیه موحزبن تھا تصرفات روحانیه حاصل تھی، سینہ انوار علم سے روشناس تھا، ریاضتیں مشغلہ تھا سخاوت و شجاعت خاندانی وراعت تھی،

زبان میں ایسی تاثیر اور آواز میں ایسی شیرینی تھی کہ وقت تکلم یا وعظ ونصیحت سنگدلوں کے دل موم کی طرح نرم ہو جاتے تھے، اکثر بوقت وعظ ونصیحت عوام وخاص کو مخاطب کر کے فرمایا کرتے تھے، کہ دنیا چار چیزوں کے سبب قائم ہے (١) علم عقلا (٢) نماز صاحا (٣) انصاف شاہان (٤) جسارت دلیراں اور ان سب سے زیادہ بات یہ ہے کے مال و متال دنیا ناچیز اور بے حقیقت ہے مگر علم و عمل بے زوال ہے،

28 - ممتاز الحکماء حکیم سید ضیاء الدین ثانی شاہی طبیبآپ علم و زہد اور اکثر علوم و فنون میں ید طولیٰ رکھتے تھے، قم و نجف ...
25/02/2024

28 - ممتاز الحکماء حکیم سید ضیاء الدین ثانی شاہی طبیب

آپ علم و زہد اور اکثر علوم و فنون میں ید طولیٰ رکھتے تھے، قم و نجف اشرف میں علماء ۓ وقت کی مجالس درس میں حاضر ہو کر فقہ، اصول حکمت کی تعلیم حاصل کی، وطن پہوچ کر طب میں وہ کمال کیا کہ اس دور کے حکمہ آپ کو استاد کامل مانتے تھے راتوں کو عبادت الاہی میں مصروف رہتے تھے سید خضر خان بادشاہ دہلی کے پوتے سید محمّد شاہ رابع بادشاہ دہلی کے شاہی طبیب رہے، درباری اور دوسرے بیرونی سردار و اندرون قلعہ کے سدرھما مایوس مریض آپ کے معالحہ سے شفایاب ہوتے خاص طور پر شاہی بیگمات اور شاہی خاندان کے مریض افراد عموماْ زیر علاج رہتے تھے ایک دفعہ بہلول لودھی جو شاہان دہلی کی طرف سے حاکم ملتان تھا اس کا بیٹا سکندر لودھی تپوق وسرطانی پھوڈاہ میں مبتلا ہو گیا، مقامی اور بیرونی طبیبوں کے عرصہ تک زیر علاج رہا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا بہلول لودھی سکندر سے بہت محبت رکھتا تھا ہر چند اطباۓ علاج میں کوشش کی لیکن سکندر کا مرض بڑھتا ہی گیا، سکندر قریب مرگ ہو گیا اور اس کی زندگی کی کوئی امید نہ رہی سکندر بستر مرگ پر آخری سانس ے رہا تھا کے کسی سردار نے آپکی تعریف کی بہلول لودھی نے ملتان سے اپنا خاص آدمی بھیج کر ان کو دہلی سے ملتان بلایا، غرض سکندر کا آپ نے علاج شروع کر دیا چند دنوں کے بعد آثار صحت نمایاں ہوئے اور رفتہ رفتہ دو ہفتہ میں سکندر شفایاب ہو گیا، بہلول لودھی کی خوشی کی کوئی انتہاں نہ رہی، آپ کا اور آپ کی اولاد کا ہمیشہ ممنوں احسان رہا چناچے جس وقت بہلول لودھی تخت نشین دہلی ہوا تو آپ کے فرزند اکبر کو اپنا مقرب خاص مقرر کیا اور دوسرے فرزند کو سپاہ سالار کیا ان کی زوجہ اولی سیدہ رضیہ خاتون دختر سید عضم علی شاہ عامل رہتک بن سید عبد السمع بن سید افضل بن مخدوم سید میران سعید عرف سید میران بھیک مرزا میران جی کا ٹھیکہ ظلع کرنال بن سید شاہ نظام الدین سیانوی حسینی الترمزی کے بطن سے تین فرزند پیدا ہوئے، (1) سیادت پناہ مخدوم پیر سید احمد ملقب سید شاہ میران مشہورعام دادا میران جی مدفون نانوتہ سادات (2) سید شاہ حسین (3) سید عبد الله ملقب سید سیف الله سپاہ سالار، اور زوجہ ثانیہ طلعت بیگم دختر مرزا نواب اسد الله بیگ ولد مرزا فیروز بیگ دہلوی مقرب شاہی کے بطن سے دو پسر ایک دختر پیدا ہوئی، (4) سید جمال الدین (5) سید غیاث الدین اور دختر شہر بانو زوجہ سید زمان بن سید حاجی شریف بن سید سلطان بن سید یوسف بن سید مرتضیٰ بن سید زید بن سید عبد الکریم امیر ہرہ سیانوی حسینی الترمزی

بحوالہ قلمی نسب نامہ مرتبہ مخدوم امیر سید مصطفیٰ اعلیٰ اللہ مقامہ (حسینی الترمزی نانوتوی)

12/02/2024

آپ تمام مومنین کو ماہ شعبان کی مبارکباد پیش کرتے ہیں💕

क्या शिया मुख़ालिफ़ औरंगज़ेब अपनी मौत से पहले शिया हो गया था?
01/02/2024

क्या शिया मुख़ालिफ़ औरंगज़ेब अपनी मौत से पहले शिया हो गया था?

Address

Nanauta
247452

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when दादा मीरां जी posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share