28/12/2025
ممتاز الحکمی حکیم سید ضیاء الدین ثانی، شاہی طبیب، آپ علم و زہد اور اکثر علوم و فنون میں ید طولیٰ رکھتے تھے، قم و نجفِ اشرف میں علمائے وقت کی مجالس درس میں حاضر ہو کر فقہ، اصول اور حکمت کی تعلیم حاصل کی۔ وطن پہنچ کر طب میں وہ کمال حاصل کیا کہ اس دور کے حکماء آپ کو استاد کامل مانتے تھے، راتوں کو عبادت الہی میں مصروف رہتے تھے۔ سید خضر خان، بادشاہ دہلی کے پوتے، سید محمد شاہ رابع، بادشاہ دہلی کے شاہی طبیب رہے۔ درباری اور دوسرے بیرونی سردار و اندرون قلعہ کے صد یا مایوس مریض آپ کے معالجہ سے شفایاب ہوئے، خاص طور پر شاہی بیگمات اور شاہی خاندان کے مریض افراد عموماً زیر علاج رہتے تھے۔
ایک دفعہ بہلول لودھی، جو شاہان دہلی کی طرف سے حاکم ملتان تھا، اس کا بیٹا سکندر لودھی ایک خطرناک سرطانی زخم میں مبتلا ہو گیا۔ مقامی اور بیرونی طبیبوں کے عرصہ تک زیر علاج رہا لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا۔ بہلول لودھی سکندر سے بہت محبت رکھتے تھے۔ ہر چند اطبائے علاج میں کوشش کی لیکن سکندر کا مرض بڑھتا ہی گیا۔ سکندر قریب مرگ ہو گیا اور اس کی زندگی کی کوئی امید نہ رہی۔ سکندر بستر مرگ پر آخری سانس لے رہا تھا۔ اسی دوران کسی سردار نے آپ کی تعریف کی۔ بہلول لودھی نے ملتان سے اپنا خاص آدمی بھیج کر آپ کو دہلی سے ملتان بلوایا۔ غرض، سکندر کا آپ نے علاج شروع کر دیا۔ چند دنوں کے بعد آثار صحت نمایاں ہوئے اور رفتہ رفتہ دو ہفتے میں سکندر شفاء یاب ہو گیا۔ بہلول لودھی کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی، آپ کا اور آپ کی اولاد کا ہمیشہ معنون احسان رہا۔ چنانچہ جس وقت بہلول لودھی تخت نشین ہوا تو آپ کے فرزند کو مقرب خاص مقرر کیا اور دوسرے فرزند کو سپہ سالار بنایا۔
ان کی زوجہ اول، سیدہ زکیہ خاتون، دختر سید عظم علی شاہ، عامل رہتک بن سید عبد السمیع بن سید فضل بن مخدوم سید میران سعید، معروف سید میراں بھیک مزار میرا جی کا ٹھیکہ، ضلع کرنال بن سید شاہ نظام الدین سیالوی حسینی الترندی کے بطن سے تین فرزند پیدا ہوئے:
سیادت پناه مخدوم پیر سید احمد، بلقب سید شاہ میران، مشہور عام دادا میران جی، مدفون نانوتہ
سید شاہ حسین
سید عبد اللہ، ملقب سیف اللہ، سپہ سالار
زوجہ ثانیہ، طلعت بیگم، دختر مرزا نواب اسد اللہ بیگ، ولد مرزا فیروز بیگ دہلوی، مغرب شاہی کے بطن سے دو پسر و یک دختر پیدا ہوئی:
سید جمال الدین
سید غیاث الدین
دختر شہر بانو، زوجہ سید زمان بن سید حاجی شریف بن سید سلطان بن سید یوسف بن سید مرتضی بن سید زید بن سید عبدالکریم، امیر المرہ سیانوی حسینی الترندی،
بحوالہ قلمی نسب نامہ، مرتبه: مخدوم امیر سید مصطفے اعلی اللہ مقامہ، حسینی الترمذی نانوتوی۔