09/12/2022
مغربی بنگال میں اردو شعر و ادب کا مستقبل تابناک ہے۔
بیل گچھیا مسلم لائبریری کی 19 ویں ادبی نشست میں نو خیز اور نئی نسل کے نوجوان شعراء و قلم کاروں کی شرکت مغربی بنگال کے شعر و ادب کے لئے اک خوش آئند بات ہے اور ان نوجوان نسل کے قلم کاروں کو سننے کے بعد یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ مغربی بنگال میں اردو شعر و ادب کا مستقبل روشن اور تابناک ہے بشرطیکہ یہ اسی طرح مشق ِ سخن جاری رکھتے ہوئے نشستوں اور ادبی محفلوں میں شریک ہوتے رہیں۔یہ نوجوان یقینی طور پر مغربی بنگال کیلئے فخر کا باعث بنیں گے۔ ان باتوں کا اظہار آج کی نشست کے صدر اسلام اختر نے اپنے صدارتی خطبے کے دوران کیا اور انہیں اپنے تعلیمی سفر کو مکمل کرنے کا بھی مشورہ دیا۔واضح ہو کہ حسبِ روایت بیل گچھیا مسلم لائبریری کی ١٩ویں ادبی نشست لائبریری کے وسیع ہال میں بعد نماز مغرب منعقد کی گئی جس کی صدارت جناب اسلام اختر نے فرمائی جبکہ نقابت کے فرائض اظہر الدین اظہر نے بحسن و خوبی انجام دئے ۔ نشست میں مہمانان کی حیثیت سے امر اعزازی،سمیع اللہ سحر ،مسلم نواز اور ماسٹر انور علی وغیرہ شریک بزم تھے ۔ نشست کا آغاز ماسٹر اسد جاوید ترابی نے تلاوتِ قرآن مجید سے کیا جبکہ بارگاہِ رسالت میں نعت پاک کا نذرانہ اسلم لکھنوی نے اپنی مترنم آواز میں پیش کیا ۔بعد ازاں نشست میں موجود شعراء کرام میں صدر نشست ماسٹر اسلام اختر کے علاوہ امر اعزازی, مرتضیٰ حسین مرتضیٰ، سمیع اللہ سحر ،ارشاد گوہر، مسلم نواز ، اسلم لکھنوی, اسلم اقبال ، ماسٹر انور علی ، یوسف اختر،شمیمساگر،پرویز رضا وغیرہ کے علاوہ نئی نسل کے شعراءظفر احمد ظفر ،اسد جاوید ترابی، شارق ریاض، اظہر الدین اظہر، شہنواز عالم عادل ، بلال صابر، فرحان قادری،حفیظ اشرف، مدثر حسن ، عرشیان علی وارثی، ابھیشیک چوبے،عمران شمیم ، غلام حزیں ،احمد عزیزاور توصیف آرزو وغیرہ نے اپنے کلام سے سامعین کے دلوں کو جیت لیا۔ان کے ایک اک شعر پر سامعین نے ان پہ داد و تحسین کی بارش کر ڈالی ۔اس نشست کے اہم شرکاء میں ماسٹر افسر حسین ، ماسٹر رجب علی،صالح محمد ، ڈاکٹر شاہد عالم نقیب وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں عطاء الرحمن ،نعمت حسین وغیرہ نے بھر پور ساتھ دیا اور آخر میں توصیف آرزو کے اظہار تشکر پر نشست کا اختتام رات 10 بجے ہوا اور ساتھ ہی ساتھ آئند ہ نشست ٢٤ دسمبربروز سنیچر انعقاد ہونے کا اعلان بھی کیا گیا۔