05/10/2024
نورِ قرآن 57
اُحد میں شکست کا فائدہ
_____________________________________
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم ان لوگوں کی بات مانو گے جنہوں نے کفر کیا ہے، تو وہ تم کو اُلٹے پاؤں پھیر دیں گے، پھر تم نقصان اٹھاتے ہوئے لوٹوگے۔ (149) بلکہ اللہ ہی تمہارا مولا ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے۔ (150) ہم عنقریب اُن لوگوں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے جنہوں نے کفر کیا ہے، اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اس کو شریک بنایا جس کی اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی، اور ان کا ٹھکانا آگ ہے۔ اورظالموں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے۔ (151) اور یقیناً اللہ نے تم سے کیا ہوا اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، جب تم ان کو اس کی اجازت سے نیست و نابود کر رہے تھے، یہاں تک کہ جب تم نے کمزوری دکھائی اور تم نے حکم کے بارے میں آپس میں جھگڑا کیا اور تم نے نافرمانی کی، اس کے بعد کہ اس نے تم کو وہ چیز دکھا دی تھی جسے تم پسند کرتے تھے۔ تم میں سے کچھ دنیا کے طلب گار تھے اور تم میں سے کچھ آخرت کے طلب گار تھے۔ تب اس نے تم کو ان کے مقابلہ میں پسپا کر دیا، تاکہ تم کو آزمائے۔ اور بے شک اس نے تم کو معاف کر دیا ہے۔ اور اللہ مومنوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ (152) جب تم چڑھے چلے جارہے تھے، اور کسی کو مڑ کر نہیں دیکھتے تھے، اور رسول تم کو تمہارے پیچھے سے پکار رہے تھے۔ تو اس نے تم کو غم پر غم پہنچایا، تاکہ تم رنجیدہ نہ ہو اس پر جو تمھارے ہاتھ سے نکل گیا اور نہ اس مصیبت پر جو تمہیں پہنچی۔ اور اللہ اس کی پوری خبر رکھنے والا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ (153) پھر اس نے تم پر غم کے بعد ایک امن نازل فرمایا، ایک ایسی اونگھ، جو تم میں سے کچھ لوگوں پر چھا رہی تھی۔ اور کچھ لوگ وہ تھے جن کو اپنی جانوں کی فکر پڑی ہوئی تھی۔ وہ اللہ کے بارے میں ناحق گمان کر رہے تھے، جاہلیت والے گمان۔ وہ کہتے تھے، کیا اس معاملے میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے؟ کہہ دو، بے شک سارا معاملہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ اپنے دلوں میں ایسی بات چھپائے ہوئے ہیں جو وہ تمہارے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں، اگر اس معاملے میں ہمارا کچھ بھی اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ کہہ دو، اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تب بھی جن کا قتل ہونا لکھا جا چکا تھا، وہ اپنی قتل گاہوں تک پہنچ کے رہتے۔ یہ اس لئے ہوا کہ اللہ اسے آزما لے جو تمہارے سینوں میں ہے، اور اسے صاف کر دے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ اور اللہ خوب جاننے والا ہے سینوں کی بات کو۔ (154) بے شک وہ لوگ جو تم میں سے اس دن پیٹھ پھیر گئے جب دو جماعتیں آپس میں ٹکرائی تھیں، شیطان نے ان کو پھسلا دیا تھا، ان کے بعض کاموں کی وجہ سے۔ اور بے شک اللہ نے ان کو معاف کر دیا ہے۔ یقیناً اللہ بخشنے والا، حلم والا ہے۔ (155)
سورہ : آل عمران .... رکوع: 16 .... آیت: 149- 155.... پارہ: 4
جنگ اُحد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو مشرکین و منافقین کہنے لگے کہ مسلمانوں کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے ان کے ساتھ ہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ بدر کے بعد اس بار بھی کامیاب ہوجاتے مگر یہ تو بس دنیا کی تدبیریں ہیں، کبھی وہ آگے تو کبھی ہم آگے۔ اس کا خدائی تقدیر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں غزوہ اُحد میں مسلمانوں کی شکست کی حقیقت پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ بدر کی طرح احد میں بھی تم ابتدائی مرحلوں میں جنگ جیت ہی رہے تھے مگر تمہاری جماعت کے کچھ لوگوں نے رسولؐ کا حکم ماننے میں کوتاہی کی تو اللہ نے تمہیں سبق سکھانے کیلئے اور تمہارے عقائد و اعمال کو بہتر بنانے کیلئے تمہاری فتح کو شکست سے بدل دیا۔ یہ کوئی عذاب الٰہی نہیں ہے بلکہ محض ایک ابتلا و آزمائش ہے جس سے تم کو اس لئے دوچار کیا گیا ہے تاکہ تم آئندہ اللہ و رسولؐ کی نافرمانی سے بچو۔ تو جو لوگ اُحد کی ناکامی کی وجہ سے بے تکی باتیں بنارہے ہیں ان کی طرف توجہ مت دو۔ اللہ کی طرف رجوع کرو۔ اللہ ہی تمہارا مولا و مددگار ہے۔ اللہ بہت جلد کافروں کے دلوں میں پھر سے تمہاری ہیبت اور تمہارا رعب ڈال دے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اس شکست سے ملنے والے سبق کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کسی بھی جنگ میں اللہ کے رسولؐ کی نافرمانی کا تصور تک نہیں کیا اور اللہ و رسولؐ کی مکمل اطاعت کے ساتھ مسلمانوں کی کامیابیوں کا سلسلہ دراز ہوتے ہوئے فتح مکہ اورغلبۂ اسلام تک پہنچ گیا۔ یہاں اس رکوع میں بہت وضاحت کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کو غم پر غم سے کیوں دوچار کیا اور یہ کتنا بڑا صدمہ تھا کہ جیتی ہوئی جنگ مسلمان ہارنے لگے اور اسی کے ساتھ یہ خبر بھی پھیل گئی کہ اب اللہ کے رسولؐ بھی ہمارے درمیان نہیں رہے۔ مگر اس مرحلۂ غم میں بھی اللہ نے اپنے نیک بندوں کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا۔ وہ انہیں ایسی نیند سلاتا رہا جو ان کیلئے امن و اطمینان کا سبب بنے اور وہ پھر سے تازہ دم ہوکر حالات کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوسکیں، البتہ ان لوگوں کی نیند اڑگئی جن کے دلوں میں بیماری تھی اور وہ لوگ بھی اس جنگ میں پہچان لئے گئے جن کے دلوں میں نفاق بھرا ہوا تھا اور وہ صرف زبانی اسلام کا دعویٰ کرتے پھرتے تھے۔ بلاشبہ اللہ اپنے بندوں بڑا رحم فرمانے والا، ان کے گناہوں کو بخشنے والا اور لگاتار ان کی مدد فرمانے والا ہے۔٭
از: ڈاکٹر صباح اسماعیل ندوی علیگ
(4اکتوبر 2024 )