24/08/2026
چومحلہ پیلس (Chowmahalla Palace) حیدرآباد کا ایک نہایت اہم تاریخی محل ہے۔ یہ آصف جاہی خاندان یعنی نظامِ حیدرآباد کی شاہی رہائش گاہ اور دربار کا اہم مرکز تھا۔
اس کی تعمیر کا آغاز نظام الملک آصف جاہ ثانی کے دور میں 1750ء کے آس پاس ہوا۔ بعد کے نظاموں نے اس محل کی تعمیر اور توسیع جاری رکھی۔ چومحلہ کا نام فارسی کے الفاظ "چہار" (چار) اور "محلہ" (محلات) سے نکلا ہے، یعنی چار محلوں کا مجموعہ۔
محل کا سب سے اہم حصہ خلوت مبارک (Khilwat Mubarak) ہے، جہاں نظام کا شاہی دربار منعقد ہوتا تھا۔ یہاں ایک عظیم الشان دربار ہال موجود ہے جس میں خوبصورت جھاڑ فانوس، ستون اور شاندار اسلامی و ایرانی طرزِ تعمیر نظر آتا ہے۔
چومحلہ پیلس صرف شاہی رہائش گاہ نہیں تھا بلکہ یہاں ریاستی امور، دربار اور اہم شاہی تقریبات بھی منعقد ہوتی تھیں۔ نظامِ حیدرآباد کی حکومت کے دوران اس محل کو خاص سیاسی اور انتظامی اہمیت حاصل رہی۔
1857ء کے بعد جب نظامِ حیدرآباد کی ریاست برطانوی ہندوستان میں ایک اہم شاہی ریاست کی حیثیت رکھتی تھی، چومحلہ پیلس حیدرآباد کی شاہی شان و شوکت کی علامت بن گیا۔
آج چومحلہ پیلس ایک محفوظ تاریخی ورثہ ہے اور حیدرآباد آنے والے سیاحوں کے لیے اہم ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ محل کی عمارتوں میں مغل، فارسی، راجستھانی اور یورپی طرزِ تعمیر کے خوبصورت امتزاج کو دیکھا جا سکتا ہے۔