11/12/2022
مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ کو بند کرنا اقلیتی طبقوں کو تعلیم سے محروم کرنے کی سازش ۔
مرکزی حکومت نے اقلیتی طبقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ (ایم اے این ایف) کو اس تعلیمی سال سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیلو شپ یو پی اے حکومت کے دوران سچر کمیٹی کی سفارشات کو لاگو کرنے کے لیے 2009 میں شروع کی گئی تھی ،
مولانا آزاد فیلوشپ اسکیم ایک پانچ سالہ فیلوشپ ہے جو مرکز کی طرف سے اقلیتی برادریوں – مسلم، بدھ، عیسائی، جین، پارسی اور سکھ – کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کے لیے مالی امداد کی شکل میں فراہم کی جاتی تھی، جو کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے ذریعہ تسلیم شدہ تمام یونیورسٹیوں اور اداروں پر محیط تھا ۔
مرکزی حکومت کا اس کو ختم کرنے کا فیصلہ اقلیتی تعلیم کو پس پشت ڈالنا ہے جس سے اقلیت کے تعلیم میں گراوٹ ہوگی بیشتر طلباء اعلیٰ تعلیم سے محروم ہو جائنگے،مرکزی حکومت نے اقلیتوں کے لیے مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ(MANF) بند کرنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ یہ اسکیم اعلیٰ تعلیم کے لیے دیگر مختلف فیلوشپ اسکیموں کے ساتھ اوورلیپ کرتی ہے، مرکز کو بے ضابطگی کو درست کرنا چاہئے نہ کہ اسکالرشپ کو یکسر ختم کردینا چاہئے۔ یقیناً جس سے بہت سے طلباء متاثر ہونگے اور معاشی حالات حصول تعلیم کے مانع ہونگے۔ اس پر غور وفکر کی ضرورت ہے۔۔