MD SAKIB CHISTY

MD SAKIB CHISTY مہنت سے ایک دن شور ہوگا

یاد رکھنا اپنا بھی ایک دور ہوگا

آزاد مر کیوں نہیں جاتا؟یوسف سراج آخر یہ ابوالکلام آزاد مر کیوں نہیں جاتا، مر گیا ہے تو یہ اپنی قبر میں ٹک کیوں نہیں جا...
24/10/2025

آزاد مر کیوں نہیں جاتا؟
یوسف سراج
آخر یہ ابوالکلام آزاد مر کیوں نہیں جاتا، مر گیا ہے تو یہ اپنی قبر میں ٹک کیوں نہیں جاتا؟ آخر اس کی قبر پر گھاس کیوں نہیں اگ آتی ، کیوں اس کی قبر پر برابر پھول کھلتے ہیں؟ جب اس نے خود ہی اپنا ٹھکانہ پرائے دیس میں چن لیا تھا تو پھر کیوں اس کی آواز سرحد پار رک نہیں جاتی؟ آخر وہ کب تک یونہی ہماری زندگیوں میں دندناتا پھرے گا؟ کیا اسے بھولے بغیر اب ہم جی بھی نہ سکیں گے؟ کیوں اسے بار بار بہت برا اور بہت چھوٹا کہنا ہماری ضرورت بن جاتی ہے۔ اس کی چند گنجلک تحریروں میں ایسی کیا تاثیر ہے کہ ہمیں لوگوں کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ اس کی تحریر سمجھ میں آنے والی نہیں، کم از کم نہ سمجھنے میں تو کوئی دقت نہیں ہوتی ، جو چیز سمجھ میں نہ آئے کوئی کیسے سمجھ سکتا ہے کہ وہ سمجھ میں آگئی ہے؟ آخر ہم انسانوں کو اتنی سی بات خود سمجھ لینے کے اہل کیوں نہیں سمجھ لیتے۔ آخر لوگ اس کا نام لیتے ہی کیوں ہیں؟ اس کے نام پر تو اب بس گالی ہی ملتی ہے، کج روی کا طعنہ اور حب الوطنی مشکوک ہونے کا پروانہ ملتا ہے ، اس کے نام پر کسی اکیڈمی کے لئے کوئی گرانٹ بھی نہیں ملتی، پھر کیوں کچھ نادان اس کا نام لئے چلے جاتے ہیں۔
رقیبوں نے رپٹ لکھوائی جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
آخر آزاد سے محبت کسی قانون کے تحت جرم کیوں قرار نہیں دے دی جاتی؟ اپنی تاریخ اور اپنا نصاب تو ہم نے خود لکھا ہے، پھر کیا وہ واقعی اتنا ضدی ہے کہ ہماری لکھی تاریخ اور ہمارے کھینچے دائروں میں بھی دراتا چلا آتا ہے۔ ہم اسے گالی دے کر بھی مطمئن کیوں نہیں ہوتے؟ ویسے ہم اسے گالی کیوں دیتے ہیں؟ کیا اس نے ہمیں گالی دی؟ ہماری مٹی کو دی ؟ ہمارے لیڈر کر دی؟ کوئی ایک گالی؟ اچھا چھوڑئیے کوئی ایک طنزیہ فقرہ؟ ’شو بوائے‘ اور ’مولانا ہا ہا‘ اسے کہا گیا تھا ، اس نے ہمیں تو نہ کہا تھا۔ کہیں آپ یہ تو نہیں سمجھتے کہ اسے طنز لکھنا ہی نہیں آتی تھی؟ ممکن ہے وہ ایسے ہی ابوالکلام بن گیا ہو؟ مرنے کے بعد اب تک یونہی جیتا چلا آتا ہو؟ اچھا چلو وہ مر گیا تو آخر ہم اس کی قبر سے کس جواب کی توقع میں اسے پکارتے ہیں؟ وہ تو زندہ بھی تھا تو کبھی اس نے کسی کو پلٹ کے جواب نہ دیا تھا، کسی بہی خواہ کو بھی جواب دینے نہ دیا تھا، کسی نے خط لکھ کر وضاحت مانگی، تو لکھ بھیجی، وگرنہ سب سن لیا ، سب سہہ لیا۔ اب کوئی دانش بھی آگئی ہے۔ ویسے جتنی ہماری تحقیق آتی رہتی ہے ، اسے دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ خدا کرے اب ہمیں تحقیق کرنا بھی آ جائے۔ وہی اگلی ہوئی باتیں، وہ دہرائی ہوئی گھاتیں کہنے کو آخر ہم تحقیق کیوں کہتے ہیں۔ پھر کیا بہت نیچی بات کو بہت اونچا کہنے سے وہ اونچی بھی ہو جاتی ہے؟ ایک ہلکی بات کسی اونچے آدمی کے کہنے سے اعلیٰ بھی بن جاتی ہے؟ اب جو باتیں شورش کاشمیری خود جا کے اس ستم رسیدہ سے پوچھ چکا ، جو باتیں عبدالماجد دریا بادی، سید سلیمان ندوی اور بابائے اردو تک کہہ چکے، انھیں دوبارہ ایجاد کرنے کو ہم تحقیق کہنے پر کیوں مصر ہیں۔ یہی باتیں شورش نے اپنی کتاب میں یوں لکھیں کہ دل جلا کے رکھ دیا۔
آپ اسے گالی دیتے ہیں تو کچھ غلط بھی نہیں کرتے۔ اپنے لیے گالی کا تو وہ خود بھی انتظام کر گیا تھا، آخر اس نے ہوا کے رخ کے مقابل اور مخالف چراغ جلانا پسند ہی کیوں کیا تھا، چراغ جلا بھی تھا یا نہیں؟ آپ فرماتے ہیں اس کا چراغ بجھ گیا، تاریخ لیکن بڑی ظالم شے ہے، کچھ پتا نہیں کب کسے کیا لکھ دے۔ کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ وہ ہوا کا رخ پہچانتا ہی نہ تھا؟ شاید یہ کہنا ہماری ہی غلطی ہو ، ویسے کیا کچھ غلطیاں ہم سے بھی ہو سکتی ہیں نا؟ یا ساری صرف اسی سے؟ مدینہ بجنور کے ایڈیٹر نے اس سے کہا تھا، آپ کے خیالات کی بنا پر مسلمان آپ کو چھوڑ دیں گے، اس نے مسکرا کے کہا تھا تو کیا محض اس لئے میں وہ باتیں کہنا چھوڑ دوں ، جو میرے نزدیک حق ہیں۔ ایک مجلس میں کسی نے کہا، اس صورت میں مسلمان تو آپ کو اپنا ترجمان نہیں سمجھ سکتے۔ مجلس سناٹے میں تھی ، اس نے مگر نرمی سے کہا، سچ کہتے ہو بھائی ! میں خود بھی اپنے کو مسلمانوں کا نہیں اسلام کا ترجمان سمجھتا ہوں۔ وہ جس کے اجداد کی قبروں کو نوچا گیا، جس کی ذات پر بارودی سرنگیں فٹ کر دی گئیں۔ وہ مگر درد سہتا رہا، چپ رہا۔ آپ سمجھتے ہیں وہ کسی معمولی بات کو گھڑ بھی لیتا تھا؟ اچھا گھڑ ہی لیتا ہو گا،لیکن کیا ایسی کہ جو تین دن نہ چل سکے؟ پھر تو اس پورے عہد کی بصیرت پر سوال اٹھے گا ،جو کم از کم اسے ایک شریف النفس تو مانتا رہا۔عزت پر حملوں کے بعد اس پر جسمانی حملوں کا دور آ گیا تھا۔ تب لیڈر بھاگ کے چھپ جاتے ، وہ مگر کھڑا رہتا۔ بھاگنا اس نے سیکھا ہی نہ تھا۔ اس دن بھی ،جب سرحدی نوجوان اگر آڑے نہ آتے تو وہ خون کی چند بکھری بوندیں رہ جاتا۔ وہ مگر بے نیازی سے کھڑا سگریٹ پھونکتا رہا۔
وہ بس ایک عبقری تھا، امین احسن اصلاحی نے ایڈیٹر مدینہ کی اصلاح کی تھی ، کہ سو نہیں وہ ہزار دماغوں کو نچوڑ کر بنایا گیا تھا۔ شبلی نے اسے مانا تھا، اقبال نے اس کے خلاف کچھ نہ لکھا تھا۔ وہ عبقری دماغ عالم تھا مگر سیاست اسے اپنے کانٹوں پر گھسیٹ لائی تھی، سیاست دان وہ ہر گز نہ تھا، اگر تھا تو آپ درست فرماتے ہیں ، وہ ایک ناکام سیاست دان تھا ، سیاستِ مروج کی تنگنائی میں پورا نہ اتر سکنے والا۔ سیاست اس کے بس کی تھی ہی نہیں ، وہ کسی اور آب و گل سے تراشیدہ آدمی تھا، اس کا ذہنی سانچہ راہِ عام کو مطمئن کرنے کی صلاحیت ہی نہ رکھتا تھا ، وہ ایک مدبر ضرور تھا ، اس کے ڈاکٹر نے بتایا ، اس کا مرض قوم کیلئے پالی اس کی حساسیت کا عکس ہے ۔ یعنی وہ دل رکھتا تھا، اور سیاست کے سینے میں تو دل نہیں ہوتا نا۔ نہیں ، خود پسندی ، نرگسیت اور خبطِ عظمت کا شاہکار بھی وہ نہیں تھا، وہ انسانی ہجوم میں تنہائی کا شکار شخص تھا، وہ لوگوں کو میرے بھائی اور مولوی صاحب کہہ کے بلاتا تھا، وہ کبھی اشتعال میں نہیں آتا تھا، اس کے پاس لباس بہت نہیں تھے اور جو تھے وہ پیوند زدہ تھے۔ اس کے پاس روپے کی بھی بہت کمی رہتی، کئی مہاراجوں اور دوستوں کی امدادیں پھر بھی وہ بے نیازی سے نظر انداز کر دیتا ۔ اسے قرآن کی تفسیر کتنی بار لکھنا پڑی، وہ جیل جاتا اور اس کے تفسیری اوراق سیاسی صفحات سمجھ کے ضبط کر لئے جاتے، وہ پھر لکھتا اور پھر یہی ہوتا ، اس کے پاس کاغذ کے لئے روپیہ نہیں ہوتا تھا، کتنا عرصہ وہ جیل پڑا رہا۔ اس کی زلیخا کا جنارہ اٹھا تو وہ جیل میں تھا۔ وہ کچھ ایساہی تھا۔
اب وہ مر گیا ہے اور آپ کو تصوف سے شغف ہے ، آپ اسے معاف کیوں نہیں کر دیتے ۔آپ اسے مرا ہی کیوں رہنے نہیں دیتے،اپنے کچوکوں کے لئے آپ اسے بار بار زندہ ہونے پر کیوں مجبور کرتے ہیں۔ اچھا برا وہ مسلمان تھا، ہمیں گالی نہیں دیتا تھا اور ہمارے خطے کی آزادی کے لیے انگزیز سے لڑا تھا۔ پھر ایک مر گیا انسان سمجھ کے آخر ہم اسے چین سے مرا ہی کیوں نہیں رہنے دیتے؟

14/03/2025
14/03/2025
24/12/2024
23/12/2024

Opposition oF THE PARLIAMENT

گھر میں بڑا بھائی ہونا کسی اعزاز سے کم نہیں “ہندوستانی ادیب بھیشم ساہنی کہتے ہیں: بچپن کے دنوں میں، میں اپنے والد کے سگر...
18/10/2024

گھر میں بڑا بھائی ہونا کسی اعزاز سے کم نہیں “ہندوستانی ادیب بھیشم ساہنی کہتے ہیں:

بچپن کے دنوں میں، میں اپنے والد کے سگریٹ چرایا کرتا تھا، میرے والد کو سگریٹ کی ڈبیہ میں جب بھی کمی محسوس ہوتی، وہ میرے بڑے بھائی پر شک کرتے، اسے مارتے مگر مجھے کبھی بھی نہیں پوچھتے تھے ۔

اگرچہ میرا بڑا بھائی میرے والد کے سامنے ہر مقدس قسم کھاتا تھا، لیکن میرے والد نے اس کی قسموں پر کبھی بھی اعتبار نہیں کیا تھا.

ایک دفعہ میرے والد نے سگریٹ چور کو پکڑنے کے لیے جھوٹ موٹ سونے کا ڈرامہ کیا، سگریٹ کی ڈبیہ سرہانے رکھ کر آنکھیں موند کر گھات لگا لی تاکہ میرا بڑا بھائی سگریٹ چرانے کے لیے آئے تو رنگے ہاتھوں پکڑا جائے۔

لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اس پھندے میں میں پھنس گیا، جیسے ہی میں نے سگریٹ کی ڈبیہ کی طرف ہاتھ بڑھایا انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور آنکھیں کھولتے ہوئے کہا، چور آج خود نہیں آیا؟

مجھے یقین ہے کہ یہ تمہارا بڑا بھائی تھا جس نے تمہیں اس کے لیے سگریٹ چرانے کے لیے بھیجا تھا، انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور پھر سے جاکر میرے بڑے بھائی کو پیٹ ڈالا.

"وطن ایک ایسی رہنے کی جگہ کا نام ہے جہاں کوئی شہری اتنا مالدار نہ ہو کہ وہ کسی دوسرے شہری کو خرید سکے اور جہاں کوئی شہری...
26/09/2024

"وطن ایک ایسی رہنے کی جگہ کا نام ہے جہاں کوئی شہری اتنا مالدار نہ ہو کہ وہ کسی دوسرے شہری کو خرید سکے اور جہاں کوئی شہری اتنا غریب نہ ہو کہ وہ اپنی عزت اور وقار بیچنے کے لیے تیار ہو جائے."

فرانسیسی فلسفی
جین جیک رؤسو

ایک شخص نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک شادی نہیں کرے گا جب تک کہ وہ سو شادی شدہ مردوں سے مشورہ نہ لے لے۔اس نے کہا: "میں قس...
24/09/2024

ایک شخص نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک شادی نہیں کرے گا جب تک کہ وہ سو شادی شدہ مردوں سے مشورہ نہ لے لے۔

اس نے کہا: "میں قسم کھاتا ہوں کہ جب تک سو شادی شدہ مردوں سے مشورہ نہ لے لوں، شادی نہیں کروں گا۔" اس نے ننانوے مردوں سے مشورہ کیا، اور اب صرف ایک باقی رہ گیا تھا۔ اس نے ارادہ کیا کہ اگلے دن جس سے بھی سب سے پہلے ملاقات ہوگی، اسی سے مشورہ کرے گا اور اس کے مشورے پر عمل کرے گا۔

صبح جب وہ اپنے گھر سے نکلا تو اسے ایک پاگل آدمی ملا جو ایک لکڑی کی گھوڑی پر سوار تھا۔ یہ دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا (کیونکہ اس نے قسم کھا رکھی تھی) لیکن وہ اپنے وعدے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا۔ چنانچہ وہ پاگل کے قریب گیا اور اس سے کہا:

"اپنی گھوڑی کو روکو تاکہ میں تم سے کچھ پوچھ سکوں۔"

پاگل نے گھوڑی کو روکا، اور آدمی نے پوچھا: "میں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ میں سو شادی شدہ مردوں سے مشورہ لوں گا، اور تم سوویں ہو۔ میں نے عہد کیا تھا کہ جس سے بھی آج سب سے پہلے ملاقات ہوگی، اس سے مشورہ کروں گا۔ میں شادی کرنا چاہتا ہوں، تو تمہارا کیا مشورہ ہے؟"

پاگل نے کہا: "عورتیں تین قسم کی ہوتی ہیں:

ایک تمہارے لیے ہوتی ہے،

ایک تمہارے خلاف ہوتی ہے،

اور ایک نہ تمہارے لیے ہوتی ہے نہ تمہارے خلاف۔

پھر اس نے کہا: "خیال رکھو، میری گھوڑی کہیں تمہیں مار نہ دے" اور چل پڑا۔

آدمی نے کہا: "میں نے اس سے اس کی بات کا مطلب نہیں پوچھا"، چنانچہ وہ پاگل کے پیچھے گیا اور کہا: "اے شخص، اپنی گھوڑی کو روکو۔"

پاگل نے گھوڑی کو روکا، اور آدمی نے قریب آ کر کہا: "مجھے اس کی وضاحت دو، میں تمہاری بات نہیں سمجھا۔"

پاگل نے کہا: "پہلی قسم کی عورت وہ ہے جو تمہارے لیے ہو، یعنی کنواری عورت۔ اس کا دل اور محبت صرف تمہارے لیے ہوگی، کیونکہ وہ تمہارے سوا کسی اور کو نہیں جانتی۔ اگر تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو گے تو وہ کہے گی: 'یہ ہیں مرد'، اور اگر برا سلوک کرو گے تو بھی وہ یہی کہے گی: 'یہ ہیں مرد'۔

دوسری قسم کی عورت وہ ہے جو تمہارے خلاف ہو، یعنی وہ بیوہ جس کے بچے ہوں۔ وہ تم سے لے گی اور اپنے بچوں کو دے گی، تمہارا مال خرچ کرے گی اور پہلے شوہر پر روئے گی۔

تیسری قسم کی عورت وہ ہے جو نہ تمہارے لیے ہے نہ تمہارے خلاف، یعنی وہ بیوہ جس کے بچے نہ ہوں۔ اگر تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو گے تو وہ کہے گی: 'یہ اس سے بہتر ہے'، اور اگر برا سلوک کرو گے تو وہ کہے گی: 'وہ اس سے بہتر تھا'۔ اگر تم پہلے والے سے بہتر ہوئے تو وہ تمہاری ہوگی، ورنہ تم پر بوجھ بنے گی۔"

پھر وہ چل دیا، اور آدمی نے اس کا پیچھا کیا اور کہا: "افسوس! تم نے داناؤں کی طرح بات کی اور پاگلوں کی طرح کام کیا۔"

پاگل نے جواب دیا: "اے شخص، میری قوم نے مجھے قاضی بنانے کی کوشش کی، لیکن میں نے انکار کر دیا۔ جب انہوں نے زور دیا تو میں نے پاگل بننے کا بہانہ کیا تاکہ ان سے جان چھڑا سکوں۔"

Admission 🔔
26/08/2024

Admission 🔔

23/08/2024

اگر تُم باشعور ہو کر بھی شعور نہیں پھیلاتے، تو تم آنے والے نسلوں کےلیے مجرم ہو__!

Address

NH34, Manuskol
Dalkhola

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MD SAKIB CHISTY posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to MD SAKIB CHISTY:

Share