Pratilipi Urdu

Pratilipi Urdu Discover, read and share your favorite Urdu Sher, Shayari, Shayar, Stories, Books of your choice totally free.

 شب کی دہلیز ____ پہ گرتے ہوئے تارے بتا __تو نے رستے میں کہیں میرا سویرا دیکھا ہے __آج پھر سے چودھویں کا چاند تنہا آسمان...
09/05/2026


شب کی دہلیز ____ پہ گرتے ہوئے تارے بتا __
تو نے رستے میں کہیں میرا سویرا دیکھا ہے __

آج پھر سے چودھویں کا چاند تنہا آسمان اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا سارا آسمان تاروں سے خالی ویران لگ رہا تھا پورے چاند کی راتیں میرے لئے بہت کربناک گزرتی ہیں تمہاری یاد میرے دل سے یوں تو نہیں جاتی لیکن ان چاند راتوں میں یہ اپنی پوری شدت سے میرے دل کو تڑپاتی ہیں تیری محبت ......!!!

ہاں محبت ....!!!

تیری توجہ کی ایک نظر ......!!!

میرے دل کی لگن ...!!!!

آنسوؤں کی تجلی ....!!!

تیرے شوخ مسکراہٹوں کی روشنی ......!!!

تیرے ساتھ بیتا سرشاری کا لمحہ کوئی .....!!!

یا ہجرکی تلخ سی کروٹ ....!!!

تیرے ساتھ گزرا مسرت کا کوئی پل ....!!!

تیری جدائی میں گزرے اذیت کی کوئی ساعت ....!!!

میری روح سے تیری روح کا تعلق ...!!!!

یا محض ذہنی قربت کا دائرہ ...!!

ایک پھول

ایک چراغ

ایک خوشبو

تنہائی میں خاموشی سے سلگنے کا نام ۔۔۔۔۔

اظہار و بیان کے تمام تر پیمانوں سے بالاتر ....!!

لمحوں رویوں سے نمایاں ہونے والے ایک حسین احساس ...!!!

میری ترستی آنکھوں میں آج بھی جھلملاتی ہے تجھے پانے کی ڈھیروں حسرتیں ....!!!

آج اس مقام پر .....!!!

جہاں تمہارے اور میرے درمیان ایسی دیوار حائل ہے جسے نہ تم۔پار کرسکتی ہو نہ میں پار کر سکتا ہوں یہاں آج حد سے زیادہ ویرانی ہے ہوائیں خنک اور یخ بستہ ہیں میں نے شال کو اپنے گرد لپیٹ کر آخری بار اس کی طرف دیکھا اور گہری سانس لے کر اپنی مخصوص جگہ پر ٹک گیا۔

میرے ذہن میں ماضی کی یادیں گردش کررہی تھی کچھ ایسی یادیں بھی تھی جس سے میرے چہرے پر مسکراہٹیں بھی دوڑتی تھی اور کچھ یادوں سے زار وقطار میرے آنسو بہتے تھے

یہ ان دنوں کی بات تھی جب میری بھری پوری فیملی ایک ساتھ ہی ناشتہ کرتی تھی بچے اسکول بڑے آفس بزرگ ڈرائیونگ روم اور گھر کی خواتین ناشتے کے بعد گھریلو کام نپٹاتی نظر آتی تھی

وہ بھی ڈری سہمی زرد سی چہرہ لئے گم صُم سی ٹیبل پر ناشتے کے لئے ایسے بیٹھی تھی جیسے ابھی ابھی اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی ہو

" تمہیں سب یاد تو ہے نہ ...!!؟؟؟" یہ وہ سوال تھا جو وہ خود اپنے آپ سے پوچھتے ہوئے بھی ڈرتی تھی اور میں عین اگزام کے دنوں میں پوچھ پوچھ کر اسے تنگ کرتا تھا

" آج اردو کا پیپر ہے نہ۔ ۔۔۔ تو فکر مت کرو سوال سارے اسی چیپٹر سے آنے والے ہیں ۔۔۔۔" مرحوم کی یاد میں ..!!" میں سارے جہاں کی ہمدردیاں سمیٹے اس سے کہنے لگا

" یہ ۔۔۔۔یہ کونسا چیپٹر ہے ....!!" وہ مجھے آنکھیں پھاڑ کر حیرت سے دیکھنے لگی
Click here to read more

سیدہ ایمن عبدالستار ❤️ ...

 دسمبر کی سرد رات تھی  اسلام آباد میں اس وقت رات کے دس  بج رہے تھے ۔۔سردی اتنی تھی کہ سڑکیں بالکل سنسان تھیں خاموشی ایسی...
09/05/2026


دسمبر کی سرد رات تھی اسلام آباد میں اس وقت رات کے دس بج رہے تھے ۔۔
سردی اتنی تھی کہ سڑکیں بالکل سنسان تھیں خاموشی ایسی کے پتوں کے ہلنے کی آواز بھی صاف صاف سنائی دے ایسے میں کسی کی سفید رنگ کی مہران تیزی سے لمبے روڈ پر سفر کر رہی تھی سڑک ایک دم سنسان ، ٹھنڈی ہوا کے جھونکے گھنے درختوں سے ٹکرا کر ماحول میں عجیب سی مختلف قسم کی آواز پیدا کر رہے تھے ۔۔گاڑی میں موجود یہ نیا شادی شدہ جوڑا اپنی باتوں میں مگن گاڑی میں سفر کر رہا تھا ۔کے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے لڑکے نے اچانک گاڑی کو جھٹکے سے بریک لگائی برابر میں بیٹھی لڑکی نے چونک کر اس لڑکے کو دیکھا ۔وہ لڑکا سامنے سڑک کو دیکھ رہا تھا اس کی بیوی نے بھی اس کی نظروں کا تعاقب کیا ۔۔اس کی بیوی نے جو منظر دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔
ایک ننھا سا وجود سڑک پر بے سہارا پڑا ہوا تھا کپڑے کے نام پر صرف اس کو ایک میلی سی چادر میں لپیٹا ہوا تھا آدمی نے تیزی سے اپنی گاڑی کا شیشہ نیچے کیا تو ان دونوں کے کانوں میں اس بچے کے رونے کی آواز ٹکرائی ان دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے کو پریشانی کے عالم میں دیکھا۔۔
ہمیں باہر جا کر دیکھنا چاہیے کہ یہ کس کا بچہ ہے جو اتنی رات میں اتنی سردی میں یو سڑک پر تنہا پڑا ہے ۔وہ دونوں تیزی سے گاڑی سے باہر نکلے ۔لڑکی تیزی سے بھاگتی ہوئی اس ننھے سے وجود تک آئی ۔۔
جیسے جیسے فاصلہ کم ہوتا جا رہا تھا اس بچے کے رونے کی آواز اس کی کان میں ہتھوڑوں کی طرح برس رہی تھی ۔۔۔
لڑکی نے تیزی سے جھک کر اس بچے کو اپنی گود میں اٹھایا ۔۔بچہ ایک میلی سی موٹی نیلے رنگ کی چادر میں لپٹا ہوا تھا اس بچے کے جسم کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ یہ بچہ ابھی چند ہفتوں پہلے ہی پیدا ہوا ہو وہ لڑکی تیزی سے اس بچے کو لے کر گاڑی کی طرف دوڑی اسے ڈر تھا کہ کہیں یہ بچہ اس قدر سردی سے مر نہ جائے ۔۔ شاید کوئی بچے کو رکھ کر ابھی ابھی یہاں سے بھاگ گیا تھا ورنہ یہ بچہ اتنی سردی نہ برداشت کر پاتا اور مر جاتا ۔۔
لڑکا تیزی سے آگے کی طرف بھاگا اور اردگرد کا جائزہ لینے لگا کہ شاید کہیں کوئی شخص نظر آ جائے جو اس بچے کو یہاں چھوڑ کر بھاگا ہوں مگر افسوس کے سنسان اندھیری سڑک پر کوئی نہ تھا ۔اگر گاڑی کی لائٹ نہ چل رہی ہوتی تو وہ بچہ شاید گاڑی کے نیچے آ کر اب تک مر چکا ہوتا اس آدمی نے بے حد افسوس سے سوچا تھا ۔۔۔وہ لڑکا اپنی گاڑی میں آکر واپس بیٹھا تو اس کی بیوی اس بچے کو اپنی گرم شال میں اچھی طرح سے لپیٹ چکی تھی وہ بچہ اب گرمائش میں تھا ۔لڑکی روتے ہوئے اس بچے کے دونوں گال چومتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔ حمزہ ہم اسے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ہم اسے یہاں نہیں چھوڑ سکتے ۔۔
Click here to read more

دسمبر کی سرد رات تھی اسلام آباد میں اس وقت رات کے دس بج رہے تھے ۔۔ سردی اتنی تھی کہ سڑکیں بالکل سنسان تھیں خاموشی ایسی کے پتوں کے ہلنے کی آواز بھی صاف صاف سن....

 : "رضا مجھے تم سے ایسی بے وقوفی کی امید نہیں تھی  دوپہر کو اس دو ٹکے کی چھوکری کے سامنے کچھ نہ کہہ سکی ....!!" رضا کے ک...
09/05/2026


: "رضا مجھے تم سے ایسی بے وقوفی کی امید نہیں تھی دوپہر کو اس دو ٹکے کی چھوکری کے سامنے کچھ نہ کہہ سکی ....!!" رضا کے کمرے میں بیٹھی میں حد درجہ بپھری ہوئی تھی

"اتنا تو سوچا ہوتا کہ اپنے باپ بھائیوں سے کیا کہو گے ...!!!؟؟"رضا سر جھکائے بیٹھ گیا

"شانو کے ماں باپ اگر شانو کو لے کر ہنگامہ کیا تو....!!؟؟"میں نے خدشہ ظاہر کیا

"اماں ...!!؟ بھائیوں میں سے کچھ کو پتہ ہے اور کچھ کو خود ہی پتہ لگ جائے گا ....!!

"یہ میری زندگی ہے اسے میں اپنی مرضی سے گزارنا چاہتا ہوں رہے ابا تو میں ایک ماہ بعد جرمنی جارہا ہوں تو انھیں بھی کسی نہ کسی طرح منالوں گا'رضا کا لہجہ باغیانہ ہوگیا تھا

"اور رہے شانو کے ماں باپ تو میں انھیں سب سمجھا چکا ہوں وہ اب کبھی لوٹ کر حویلی نہیں آنے والے ....!"رضا نے کہا تو میں حیرت زدہ سے اسے دیکھنے لگی

وہ سب کا انتظام کر چکا تھا وہ ہر طرح سے شا نو کو پانے کے لیے تیار تھا

"وہ کلموہی ....!ماں بننے والی ہے ..!" میں نے کڑھتے ہوئے سر پیٹ لیا تھا

"اماں ...!مجھے سب پتہ ہے ...!میں بچہ پیدا ہونے کے بعد ہی اس سے نکاح کروں گا ...!!!"

"میں شانو کے بغیر نہیں رہ سکتا اماں...!!وہ
میری
اولین خواہش ہے ...! شانو کے ساتھ ذندگی گزارنے کی خوشی کے سامنے یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ وہ پہلے کیا رہ چکی ہے ...!" رضا میری گود میں سر رکھ کر قدموں میں بیٹھ گیا

یہ اس کا وہ حربہ تھا جو ہمیشہ اپنی ضد منوانے کے لیے مجھ پر استعمال کرتا تھا

لیکن چیزوں اور انسان میں فرق نمایاں ہوتاہے شانو سے صرف وہی نہیں سارا خاندان جڑ رہا تھا

شاید میری تربیت میں یہ بات شامل نہیں ہوئی تھی چیزوں اور انسانوں میں فرق ہوتا ہے اور شانو کوئی گڑیا ‌نہیں ہے وہ جذبات والی لڑکی بھی ہے

"تم نے بھائیوں کے سہارے اتنا بڑا قدم اٹھالیا رضا...!!بدنصیب ....!!شانو تو اپنے سابقہ شوہر کے لئے آنسو بہا رہی ہے "میں نے تاسف سے سر ہلایا

"اماں ...!!وہ ٹھیک ہوجائے گی اس بیچاری نے ابھی دیکھا ہی کیا ہے ....!!

"میں اسے اتنا پیار اتنی خوشیاں دوں گا کہ وہ سب بھول جائے گی ایک ایسی عمدہ زندگی دوں گا کہ اسے بھول کر بھی اپنا ماضی یاد نہیں آئے گا...!"رضا نے مضبوط لہجے میں کہا

"ہائے میرا معصوم بچہ ....!!!میرے دل سے ہک اٹھی

"رضا عورت کو حقیقی خوشی اس کے دل میں بسنے والا پہلے مرد سے ہی وابستہ ہوتی ہے وہ مجبوراً تمہارے ساتھ تو آگئی ہے پر اپنے شوہر کے لئے ابھی بھی تڑپ رہی ہے تم نے اس کا اشارہ بسایا گھر برباد کردیا ہے ...!"میرے لبوں سے میرے دل کے خدشہ ظاہر ہوئے

"اماں میں بلکل بےبس ہوں ....!! میں شانو سے بے حد پیار کرتا ہوں ...!!"رضا مجھے پھر سے سمجھا نے لگا

اس وقت میں اپنے بیٹے کے سامنے ہار گئی تھی اور مجبوراً شانو کو حویلی میں رکھنے کے لئے راضی ہوگئی تھی
Click here to read more

دیوانِ ادب کے نام سیدہ ایمن ...

 ہیر کیا سوچ رہی ہو وہاں کھڑی کھڑی ۔۔۔ فروا کافی دیر سے اسے دیکھ رہی تھی جو اکیلی کھڑی بچوں کو دیکھ رہی تھی اور ان کی شر...
09/05/2026


ہیر کیا سوچ رہی ہو وہاں کھڑی کھڑی ۔۔۔ فروا کافی دیر سے اسے دیکھ رہی تھی جو اکیلی کھڑی بچوں کو دیکھ رہی تھی اور ان کی شرارتوں پر ہنس بھی رہی تھی
کچھ بھی تو نہیں بس بچوں کو دیکھ رہی ہوں ---- کتنی خوش نصیب ہو ناں تم --- تمھارے بچے تمھیں مماں کہتے ہیں --- ہیر نے کہہ کر آنکھیں صاف کی
کیا ہوا ہیر تم رو رہی ہو کیا --- فروا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کا رخ اپنی طرف موڑا
نہیں فروا بس آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا---
ایک بات پوچھوں برا مت ماننا ہیر مجھے غلط بھی مت سمجھنا--- فروا نے اسے کرسیوں کی طرف اشارہ کیا اور ساتھ ہی بیٹھ گئی اس کے بیٹھنے کے بعد
کیوں نہیں پوچھو ناں --- میں برا منانے والوں میں سے نہیں ہوں --- ہیر مسکرائی
سب کچھ کتنا بدل گیا ہے ناں ہیر --- فروا نے اس کی نظروں کی سمت میں بچوں کو دیکھتے ہوئے کہا
ہمممم---- صحیح کہا --- ہیر نے بچوں سے نظریں ہٹائی اور نظریں جھکا لی
ہیر ---- تم ویسی کی ویسی ہو اور شاہ زین ---- وہ بھی --- کیا تمھارا دل نہیں کرتا کہ ----
ہیر نے اس کے ہاتھ کے نیچے سے ہاتھ نکال لیا اور کھڑی ہو گئی
ہیر میری بات توسن لو ایٹ لیسٹ --- فروا پکارتی رہ گئی اور وہ اس سے پہلے کہ اس کا جگر پھٹ جائے درد سے اٹھ کر چلی گئی

---------------

ہیر بھرائی ہوئی آنکھوں سے وہاں سے چلی گئی اور شاہ زین کے پاس آئی وہ فارس اور احان کے ساتھ باتیں کر رہا تھا
ہیر نے روتے ہوئی سسکی لی اور شاہ زین کا ہاتھ پکڑا تو وہ پیچھے مڑا
ہیر ---- کیا ہوا ، شاہ زین تو اسے روتا دیکھ کر ٹوٹ ہی پڑا تھا
ہیر کی آنکھوں سے مسلسل آنسوں جاری تھے
یہاں آؤ بتائو کیا ہوا کسی نے کچھ کہا کیا ، شاہ زین اُسے ایک چیئر پر بٹھا کر گھٹنوں پر بیٹھتے ہوئے اس کا چہرہ تھامتے ہوئے بولا
نہیں --- مجھے گھر لے جائیں ، نہیں رکنا مجھے یہاں --- اس نے سسکتے ہوئے معصومیت سے جواب دیا اور کھڑی ہو گئی
فنگشن چھوڑ کر کہاں جانا ہے ، چلتے ہیں ابھی... اچانک ابھی جائیں گے تو سب کو برا لگ جائے گا ناں ،
مجھے گھر جانا ہے ، اور مجھے بات کرنی ہے آپ سے ابھی بس ابھی کے ابھی ....
Click here to read more

۔ ہیر کیا سوچ رہی ہو وہاں کھڑی کھڑی ۔۔۔ فروا کافی دیر سے اسے دیکھ رہی تھی جو اکیلی کھڑی بچوں کو دیکھ رہی تھی اور ان کی شرارتوں پر ہنس ب....

 "ممی...!آپ نے ایسا کیا کہا کہ دانش تو کل واپسی سے بہت خوش ہیں"..!وہ آفس کے لئے نکل رہی تھی جب اس کا فون آیا"کل شام فون ...
09/05/2026


"ممی...!آپ نے ایسا کیا کہا کہ دانش تو کل واپسی سے بہت خوش ہیں"..!وہ آفس کے لئے نکل رہی تھی جب اس کا فون آیا
"کل شام فون پر آخری دفعہ بات کی تھی تو بہت ناراض تھے"سمیرا بیگم مسکرا کر اس کی بات سننے لگی تو وہ مزید بولی سمیرا بیگم نے تو بس اتنا کہا تھا کہ "دانش کے بغیر زوبیہ کا دل نہیں لگتا ہے "وہ بھی سر سری سے انداز میں کہا تھا جس کا خاطر خواہ اثر ہوا تھا
"ایک بات کہوں آپ سے ..!"انہوں نے پوچھا
"ہاں ممی...پوچھیے نہ"اسکی حیران سی آواز ابھری
"آپ دانش کو اسطرح تمام عمر خوش دیکھنا چاہتی ہو"..!سمیرا بیگم صوفے پر بیٹھ گئ
"جی ممی ...بلکل میں چاہتی ہوں وہ ایسے ہی خوش رہیں میرے ساتھ "زوبیہ تجسّس سے بولی
"آپ کو جو میں کہوں بس اتنا کرنا ہے کیا آپ کرو گی"...؟؟؟انہوں نے پوچھا
"جی ممی بس آپ حکم کریں..!"سمیرا حیرت اور خوشی کے ملے جلے لہجے میں بولی
"دیکھو بیٹاے..!!آپ سب سے پہلے دانش کی امی کو آرام سے رکھیں انھیں کوئی کام کرنے مت دینا انکی خدمت دل سے کرنا میں بتا رہی ہوں وہ گھر میں گرا ہوا چمچ بھی نہ اٹھانے پائے انکی اتنی خدمت کرو کل چھ افراد ہی ہیں گھر میں اور دانش کی امی نے کام والی بھی لگا رکھی ہے آج سے گھر کی ساری ذمہ داری آپ کی ....ایک ہی نند ہے آپکی اسکی دوست بن جائیے اس کے آرام کا خیال بھی رکھیں اسے بھی بلکل کام نہ کرنے دیں مائیں اپنی بیٹیوں کے بارے میں بہت حساس ہوتی ہیں یہ بات سمجھ لیں آپ نمرا کے آرام اور ضرورت کی چیزوں کا دھیان رکھیں گی تو سمجھ لینا آپ نے دانش کا دل مٹھی میں لے لیا..."
سمیرا بیگم کچھ دیر رکی زوبیہ بڑے دھیان سے سن رہی تھی
"جی ممی..!"وہ خاموش ہوئی تو وہ سلسلہ جوڑتے ہوئے بولی
Click here to read more

دیوانِ ادب کے نام سیدہ ایمن ختم شد ...

 بہت ہی درد ناک اور سبق آموز کہانی ہے کیسے ایک معصوم بچی جس نے کبھی گھر سے باہر قدم نہیں رکھا تھا کیسے وہ فیس بک کی اندھ...
09/05/2026


بہت ہی درد ناک اور سبق آموز کہانی ہے کیسے ایک معصوم بچی جس نے کبھی گھر سے باہر قدم نہیں رکھا تھا کیسے وہ فیس بک کی اندھی محبت میں پھنس گئی اور پھر کیسے اس معصوم کا ایک درد ناک انجام ہوا بہت دکھ بھری اور دلچسپ اور سبق آموز کہانی ہے لازمی پڑھیں

رات کو دو بجے اچانک سر میں شدید درد کے احساس سے میری آنکھ کھل گئی درد اتنا شدید تھا کہ سانس لینا دشوار ہو رہا تھا۔

مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اٹھ بیٹھا کچھ دیر سانس بحال کرتا رہا پھر جیکٹ پہنی اور بیڈ روم سے باہر نکل آیا۔ جیسے ہی صحن میں قدم رکھا ہوا کے ایک ٹھنڈے جھونکے نے احساس دلایا کہ سردی ابھی باقی ہے۔

اکیلے ہونا جہاں ایک نعمت ہے وہی بہت زیادہ تکلیف دہ بات بھی ہے انسان جب بیمار ہوتا ہے تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔پوری رات بندہ بخار سے تپتا رہتا ہے کوئی پرسان حال نہیں ہوتا یہی سوچتے ہوئے میں صحن میں کھڑی اپنی کھٹارا مہران تک پہچ گیا۔

جس کے لئے میں تو گرل فرینڈ والی فیلنگ رکھتا تھا لیکن وہ ہمیشہ مجھ سے لڑاکا بیوی جیسا برتاؤ کرتی تھی۔ موڈ ہوا تو سٹارت ہو گئی نا موڈ ہوا تو جواب دے دیا۔

اب بھی میں نے ڈور کھولنے سے پہلے آیت الکرسی پڑھ کے پھونک مارا اور دروازہ کھول کے آہستہ سے سیٹ پہ آبیٹھا انداز ایسا تھا کہ گویا گاڑی کو نہیں بیوی کو جگانے لگا ہوں

کلمہ پڑھ کر سٹارٹ کرنے کے لئے چابی گھمائی پہلے تو زرہ سا غصہ کرتے ہوئے غرائی پھر سٹارٹ ہو گئی۔ بس پھر کیا تھا میں نے بھی فل ایکسی لیٹر دے دیا کہ اچھے سے گرم ہو جائے۔ دو منٹ ایسے ہی گاڑی کو تپانے کے بعد میں اترا اور گیٹ کھولا۔

جب میں گھر سے نکلا تو سر درد عروج پہ تھا کوئی اور وقت ہوتا تو میں رات کا یہ پہر بہت انجوئے کرتا غلام علی کی کوئی غزل سنتا۔ لیکن اِس وقت سر درد کر رہا تھا اس لئے نصیبو لال سننا مجھے زیادہ بہتر لگا۔
نصیبو کے گانے بھلے جیسے بھی ہیں لیکن ان کا ایک فائدہ ہے انسان نصیبو کے گانے سنتے ہوئے کچھ اورسوچ ہی نہیں سکتا۔ کیوں کے نصیبو کے گانوں میں شاعروں نے ایسی ایسی سائنس لڑائی ہوتی ہے کہ بندہ سن کے خود کو بھی نکا نکا شاعر سمجھنے لگتا ہے۔
Click here to read more

بہت ہی درد ناک اور سبق آموز کہانی ہے کیسے ایک معصوم بچی جس نے کبھی گھر سے باہر قدم نہیں رکھا تھا کیسے وہ فیس بک کی اندھی محبت میں پھنس گئی اور پھر کیسے اس معصوم کا ایک در...

 شام کو مسعود کا فون آیا اس کے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ دوڑی"تم گھر چھوڑ کر گئی ہو"اس کی آواز مضبوط تھی"ہاں"سمیرا نے ہنکا...
09/05/2026


شام کو مسعود کا فون آیا اس کے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ دوڑی
"تم گھر چھوڑ کر گئی ہو"اس کی آواز مضبوط تھی
"ہاں"سمیرا نے ہنکارا بھرا
"یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے"مسعود نے سختی سے پوچھا
"ہاں "اس کے لہجے کی سختی سے اس کا دل ایک بار ڈولا پھر بھی اپنے انا کی خاطر اس نے برجستہ جواب دیا
"تم ہمیشہ سے میری محبت کا ناجائز فائدہ اٹھاتی رہی ہو اور آج کی حرکت سے تم نے خود مجھے فیصلہ کرنے میں آسانی پیدا کر دی ہے تم نے خود ہی ثابت کر دیا کہ تمہارے پاس میری کتنی اہمیت ہے اور تمہارے دل میں میری کوئی عزت کوئی احترام نہیں ہے ایک بار پھر سوچ لو تمہیں تمہاری یہ حرکت مہنگی پڑ سکتی ہے اس زعم میں نہ رہنا کہ میں تمہیں لینے آؤنگا "مسعود نےترشی سے اسے کہا
"میاں بیوی کا رشتہ کانچ سے بھی نازک ہوتا ہے اسے دونوں طرف سے سنبھالا جائے تو ہی قائم رہ سکتا ہے کسی ایک کی پکڑ بھی ڈھیلی ہوئ تو گر کر ٹوٹ جاتا ہے تمہاری آج کی حرکت نے مجھے بہت مایوس کیا ہے تم با اعتبار عورت نہیں ہو اپنی بات منوانے کے لیے اپنی جھوٹی انا اور غرور کے لیے تم کچھ بھی کر سکتی ہو تم میری چار سال کی رفاقت توجہ اور محبت سے ایک انچ نہ بدلی تو آگے کیا کومپرمائیز کروگی"مسعود اپنے دل میں دبی باتیں بھی کہہ گیا اس پر سکتہ سہ طاری ہوا تھا وہ کچھ بھی بول نہ سکی
"اب بھی وقت ہے میں تین دن کا وقت دیتا ہوں آنا چاہو تو آجاؤ بلکہ میں لینے آتا ہوں تمہاری اس بے وقوفی کو معاف کرتا ہوں "مسعود اسکی خاموشی سے نرم ہوا
"میرا فیصلہ وہی ہے جو کہا وہی کرو ورنہ مجھے نہیں ضرورت تمہارے گھر کی "اس کی نرمی سے سمیرا کی ضد لوٹ آئی ترشی سے کہا اور کھڑاک سے فون رکھ دیا
"ہونہہ......,چار دن یہاں رہو گی تو دماغ ٹھکانہ آجائے گا سیدھا ہو جائے گا"وہ خود سے بڑبڑاتی ہوئ باہر لان کی طرف آگئ جہاں سب شام کی چائے پی رہے تھے زوبیہ طارق کے ساتھ کھیل رہی تھی وہ اسے دیکھنے لگی

★★★★★&&&&&*★

چوتھے روز اس نے آفس میں طلاق کے کاغذات وصول کئے اسے مسعود کی اس حرکت پر یقین نہیں آیا کہ وہ ایسا فیصلہ بھی لے گا
طلاق نامہ کے ساتھ اس کے حق مہر کا چیک بھی تھا کتنی دفعہ وہ طلاق نامہ پڑھتی رہی تھی آنکھوں سے جیسے سیلاب امڈ پڑا تھا اس نے ایک جھٹکے میں سارے رشتہ سارے تعلق سارے بندھن توڑ دیے تھے
ایک لمحہ بھی نہ سوچا اس فیصلے کا اثر زوبیہ اور اس کے ہونے والے بچے پر کیا ہوگا ایسا اس نے کونسا گناہ کر دیا تھا جس کی وجہ سے اتنی بڑی سزا کی حق در ٹھری تھی اس کے ماتھے کو اس نے ایسے داغ دار کر دیا تھا
"میں اب بھی ہمت نہیں ہاروگی مسعود ظفر .....!!ایک دن تمہیں اپنے فیصلے پر بہت پچھتانا ہوگا "اس نے بے دردی سے آنسو صاف کئے جیسے تیسے خود کو سمیٹتی گھر پہنچی تو اس کے جہیز کا سارا سامان آنگن میں پڑا تھا ابو فق چہرے لۓ لان میں ہی بیٹھے تھے اسے پتھرائی آنکھوں سے دیکھا وہ دوڑتی ہوئی اندر داخل ہوئی
Click here to read more

دیوانِ ادب کے نام سیدہ ایمن ...

 طلوعِ آفتاب کا وقت تھا۔ آسمانوں پر بکھری لالی تیزی سے پھیلتے سورج کے نکلنے کی گواہی دے رہی تھی۔ تاریکی سورج کے نکلنے کے...
09/05/2026


طلوعِ آفتاب کا وقت تھا۔ آسمانوں پر بکھری لالی تیزی سے پھیلتے سورج کے نکلنے کی گواہی دے رہی تھی۔ تاریکی سورج کے نکلنے کے آثار کو دیکھتے الٹے پاؤں بھاگ رہی تھی۔ ٹھنڈی ہوا ماحول کو معطر کرتی، اس تبدیلی پر جھوم رہی تھی۔پرندے صبح ہوتے ہی اپنے رزق کی تلاش میں پر پھیلائے آشیانوں سے نکل چکے تھے۔ زرق کی تلاش میں نظریں دوڑاتے ، زبان پر رب کی حمد بیان کرتے ، وہ اس منظر کو بہت دلفریب اور پرکشش بنا رہے تھے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں زندگی کی دوڑ دن چڑھنے کے ساتھ رواں دواں ہو گئی تھی۔

ایسے میں لاہور کے ہوائی اڈے کے باہر لوگوں کے ہجوم سے ہٹ کر کھڑی 5فٹ کے قد کی دبلی پتلی لڑکی جو مغربی لباس میں کالی جینز پر سرخ ٹاپ پہنے ، اپنے آبشار جیسے سنہری بالوں کو پونی میں باندھ کر کمر پر لٹکائے ، کھڑی مغرور ناک کے ساتھ ہیزل براون آنکھوں پر چشمہ لگائے جو اس کی مغروریت میں اصافہ کر رہا تھا، بیزاری سے اپنے اردگرد دیکھ رہی تھی۔ اس پری پیکر لڑکی کے چہرے سے پر ہلکے ہلکے اکتاہٹ ، چڑچڑا پن اور غصہ کے آثار نظر آرہے تھے۔ وہ لڑکی اکیلی نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ایک ماڈرن سی ادھیڑ عمر عورت اور مرد کے ساتھ ایک خوبرو لڑکا بھی تھا۔ لیکن وہ لوگ اس لڑکی کی طرح منہ بسور کر نہیں کھڑے تھے۔ بلکہ ان کے چہرے سے اشتیاق ، خوشی اور انتظار جیسے جذبات صاف جھلک رہے تھے۔

" نعمان بھائی ! " اچانک اِس ادھیڑ عمر کی عورت نے سامنے سے آتے شخص کو دیکھ کر خوشی لبریز لہجے میں کہا تھا۔ اور اپنے سے چند سال بڑے اس آدمی کے گلے لگی تھی۔

" خوش آمدید حمیرہ آپا ! کیسی ہیں آپ ؟؟ اور مراد بھائی آپ کیسے ہیں ؟؟ شکر ہے آخر کار اتنے سالوں بعد آپ کو ہماری یاد آہی گئی۔ بلکہ مجھے تو لگتا ہے کہ اگر ابھی بھی دانش کی شادی نا ہوتی تو آپ سب نے تو آنا ہی نہیں تھا۔ " نعمان صاحب اپنی بہن حمیرہ بیگم کے گلے لگنے کے بعد اپنے سالے صاحب کے گلے لگتے شکوہ کناں ہوئے تھے۔
Click here to read more

Asslamoalikum everyone here is the first episode of my first novel . Hope you guy's enjoy it. And please gives your reviews ☺️☺️ طلوعِ آفتاب کا وقت تھا۔ آسمانوں پر ...

 " عالی جناب ...!! یہ کیس پہلی دفعہ اس نوعیت کا ہے کہ جس میں قاتل نے قتل تو کئے ہیں لیکن وہ قاتل نہیں ہے لاکھ ہم ذہنی حا...
09/05/2026


" عالی جناب ...!! یہ کیس پہلی دفعہ اس نوعیت کا ہے کہ جس میں قاتل نے قتل تو کئے ہیں لیکن وہ قاتل نہیں ہے

لاکھ ہم ذہنی حالت و نفسیاتی بیماری کا حوالہ دے لیں لیکن یہ بات روز روشن کی طرح سچ ہے کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ یہ قتل مس روبینہ درانی نے ہی کئے ہیں

ہم اس حقیقت سے بھاگ نہیں سکتے روبینہ کے اندر کتنے ہی کردار ہوں اور انھوں نے اپنی نفسیاتی مسائل سے متاثر ہوکر بھی یہ قتل کیا ہو تب بھی قاتل تو روبینہ درانی ہی ٹھری ہیں

لہذا میں عدالت سے درخواست کروں گا کہ مس روبینہ درانی کو کڑی سے کڑی سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آگے بھی کوئی اس بیماری میں مبتلا شخص ایسا جرم نہ کر سکے ...!؛"

سرکاری وکیل نے اپنی بات پوری طرح مکمل کی اور اپنی نشست پر بیٹھ گئے عدالت آج بھی بھری ہوئی تھی
جج
صاحب پرسوچ تھے یہ پہلا انوکھا کیس ثابت ہوا تھا

" مائے لارڈ ...!! مس روبینہ درانی ذہنی مریض ہیں یہ نفسیاتی بیماری ہے جس نے انھیں اس عمل کےلئے تیار کیا ہے اس میں روبینہ کا کوئی ارادہ نہیں تھا

لحاظہ میری عدالت سے درخواست ہے کہ روبینہ درانی کا علاج کروایا جائے تاکہ ایک نئی شروعات ہوسکے ...!؛" وکیل نے نرمی سے کہا

" ایک نئی شروعات قتل عام کی ...!!؟" سرکاری وکیل نے ٹکڑا لگایا ساری عدالت میں قہقہے گونج اٹھے جج نے ہتھوڑا پیٹ کر سب کو خاموش کرادیا کچھ ہی لمحوں میں عدالت میں بیٹھے لوگ فیصلہ سننے کے لئے ساکت ہوگئے

" سارے ثبوتوں اور گواہوں کے بیانات کے مدنظر رکھتے ہوئے یہ عدالت مس روبینہ درانی کو قاتل قرار دیتی ہے لیکن ....!!!!

ہمیں افسوس ہے کہ ہم اب تک اس کیفیت اور اس نفسانی بیماری کو نہیں سمجھے زندگی کے اس پہلو سے ہم ابھی تک ناواقف تھے نہ اس بیماری کو جانتے تھے نہ ہی سمجھ سکتے تھے اس لیے.....!!

روبینہ درانی کی انوکھی نفسیاتی بیماری و مسائل کی پوری تحقیق کے بعد اور ڈاکٹر رائیس کے بیان کواور مس روبینہ درانی کی حالت اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد عدالت ....؛!!!" جج نے کچھ لمحوں کا توفق کیا جو عدالت میں بیٹھے لوگوں کو یہ چند لمحے بہت گراں گزرے

" عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مس روبینہ کو زیر علاج رکھا جائے اور ان الزامات سے بری کرکے ان کی بیماری پر تحقیق کی جائے۔...!!؟"

جج کے فیصلے سے عدالت میں سانپ سونگھ گیا تھا اس کی توقع کسی کو نہیں تھی کہ جس ایسا فیصلہ بھی کرسکتے ہی وکیل انعام الحق نے تالیاں بجائیں جو عدالت میں تنہا ہی خوش تھا
Click here to read more

خوف قسط نمبر 21 " عالی جناب ...!! یہ کیس پہلی دفعہ اس نوعیت کا ہے کہ جس میں قاتل نے قتل تو کئے ہیں لیکن وہ قاتل نہیں ہے لاکھ ہم ذہنی حالت و نفسیاتی بیماری کا حوالہ دے لیں لیک....

 "میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں کس زبان سے آپ کا شکریہ ادا کروں"پرویز اس کے دونوں ہاتھوں کو عقیدت سے چوم کر بولاوہ بیڈ ...
09/05/2026


"میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں کس زبان سے آپ کا شکریہ ادا کروں"پرویز اس کے دونوں ہاتھوں کو عقیدت سے چوم کر بولا

وہ بیڈ پر تکیہ کے سہارے بیٹھا تھا چہرے پر ابھی کچھ خراشیں باقی تھی

"آپ نے میری جان بچائی میری امی سے رابطہ کروایا اور آج میری ساری جائیداد واپس میرے نام منتقل کر دی ...!!پرویز کے آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے انور اسے ملنے ہاسپٹل گیا تھا دو دن میں ڈاکٹرز فارغ کرنے والے تھے

"میں جتنی مدد کرسکتا میں نے کی میرے بھائی"انور مسکرایا

"آپ نہیں جانتے انور صاحب آپ نے مجھے نئی ذندگی دی ہے آپ میرے لۓ فرشتہ بن کر آئے ہیں میں نے اپنی نادانی اور ناسمجھی میں سب کچھ کھو دیا تھا آپ کی بدولت مجھے پھر سے سب حاصل ہوگیا"پرویز کی آواز بھرا گئی

" ذندگی نے دوبارہ موقع دیا ہے تو اس سے خوب فائدہ اٹھائے گا پرویز ..!اب کسی کو بھی پیچھے نہیں چھوڑنا سب کو اپنے ساتھ لگا لینا"۔۔۔انور نے خاموشی سے بیٹھی صائمہ کی طرف اشارہ کیا پرویز چونک پڑا

صائمہ کو اپنا ہوش ہی کہاں تھا وہ تو خالہ اور پرویز میں بٹ کر رہ گٔی تھی بیگم کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس قدر خاموشی خدمت گزار بھانجی نے اپنے دل کے مہ خانوں میں اتنی شدت سے پرویز کو بٹھا رکھا ہے

بیگم اپنے آپ سے بھی ناراض تھی کہ اتنے دنوں سے ساتھ رہتے ہوئے کبھی صائمہ کی دل کی بات جاننے کی کوشش نہیں کی اپنے ہی حالات کا شکوہ کرتی رہی اور یہ معصوم اپنا دکھ چھپائے ان کی خدمت میں لگی رہی تھی ماں باپ اپنا گھر تک چھوڑ دیا تھا پڑی رہی تھی ان کے قدموں کی دھول بن کر ورنہ اسے کس چیز کی کمی تھی سب کچھ تو تھا اس کے پاس .....!!!

"پتہ نہیں میں اب اس کے قابل بھی ہوں کہ نہیں...؟" پرویز نے مایوس سے سر جھکا لیا

"اس کا فیصلہ خود مت کرو پرویز اس دفعہ اس پر بھروسہ کرو اور اسے ہی فیصلہ کرنے دو اتنا تو حق بنتا ہے"انور بھرپور انداز میں مسکراتا ہوا بولا پرویز نے حیرت سے اسے دیکھا

"اگر ایسا کچھ نہ ہوتا تو اس سب کے باوجود وہ یہاں ہوتی"انور نے شوخی سے سرگوشی کی پرویز ہنسا
"واقع ہی...!پرویز حیرت اور خوشی کے ملے جلے انداز میں کبھی صائمہ تو کبھی انور کو دیکھنے لگا تھا

"ٹرائے...کرو "انور شوخی سے مسکرایا پرویز بھی مسکرانے لگا

ذندگی پوری بہار کے ساتھ اس کے لئے بانہیں پھیلائے مسکراتی کھڑی تھی اور وہ اپنی تقدیر پر یقین نہیں کر پا رہا تھا

بیگم کے کہنے پر اس نے نزہت کو طلاق دے دی تھی اور نزہت خود بھی تو یہی چاہتی تھی پرویز سے ہر حال میں چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی تھی

ایکسیڈینٹ میں اسکے ایک پیر کا حصہ ضائع ہو گیا تھا دوسرے پیر میں راڈ ڈالی گئی تھی ابھی اسے جانے کتنے مہینے زیر علاج رہنا تھا علاج کے لیے وہ کینڈا جارہا تھا کینیڈا جانے سے پہلے پرویز نے سادگی سے صائمہ سے نکاح کر لیا تھا ماں اور صائمہ کو لے کر
کینیڈا چلا گیا

★★★*★★★*★★★
Click here to read more

چارہ گر قسط نمبر 12 "میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ میں کس زبان سے آپ کا شکریہ ادا کروں"پرویز اس کے دونوں ہاتھوں کو عقیدت سے چوم کر بولا وہ بیڈ پر تکیہ کے سہارے بیٹھا تھا چہرے...

Address

Nasadiya Technologies Private Limited, Sona Towers, 4th Floor, No. 2, 26, 27 And 3, Krishna Nagar Industrial Area, Hosur Main Road
Bangalore
560029

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 5pm
Thursday 9am - 5pm
Friday 9am - 5pm

Telephone

+918296402121

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pratilipi Urdu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Pratilipi Urdu:

Shortcuts

Share

Category