Zalpora Foundation

Zalpora Foundation Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Zalpora Foundation, Social service, Zalpora Sumbal Sonawari, Bandipora.

1st Jilhaza on 18 May 2026Eid Adha on 27May2026
17/05/2026

1st Jilhaza on 18 May 2026
Eid Adha on 27May2026

16/05/2026

(copied from Google search)

The "1977 Wine Permission Act" (officially referred to as the J&K Excise Act and its related licensing rules) refers to the legislative framework passed by the Sheikh Abdullah-led government in Jammu and Kashmir, which established official permits and licenses for the sale and consumption of liquor in the erstwhile state.The topic is highly relevant in contemporary Jammu and Kashmir politics. Here are the key details surrounding the legislation:The 1977 Legislative Action: Following his election victory, Sheikh Mohammad Abdullah enacted the regulatory framework for alcohol permits. At the time, then-Prime Minister Morarji Desai—a staunch advocate for prohibition—urged Sheikh Abdullah to ban alcohol completely. Abdullah declined, stating that the state required the revenue generated by the liquor trade unless the central government fully compensated the state for the financial loss.Current Controversy (2026): The legislation remains a subject of intense political debate in the region. Recently, the debate reignited as opposition parties and religious groups (such as the PDP and the Grand M***i) demanded a complete prohibition on the sale of alcohol in the Muslim-majority region.Current Government Stance: Current Chief Minister Omar Abdullah defended the continuation of the historical permit system and liquor sales. He reiterated his father’s 1977 stance, stating that the local administration would ban liquor sales in a matter of "two minutes" if the Union Government provides financial compensation to offset the massive loss in excise revenue. Abdullah also clarified that the current government has not issued new liquor shop licenses.For more context on the ongoing debates and regional reactions, you can read the reporting provided by The Times of India or coverage from the New Indian Express.

Tribute to Hussain Nalwala by shiq Hussain / Zalpora Sonawari
15/05/2026

Tribute to Hussain Nalwala
by shiq Hussain / Zalpora Sonawari

08/05/2026

مجلس ترحیم
برائے ایصال ثواب
مادر گرامی مولانا ارشد حسین آ رمو صاحب
مجلس ۔ آ غا سید عابد رضوی صاحب قبلہ
ربط مصائب ۔زاکر اہلبیت ۔بشیر احمد ڈار صاحب
ذالپورہ سوناواری

06/05/2026
Self enumeration
05/05/2026

Self enumeration

محترم المقام ڈاکٹر عبداللطیف الکندی صاحبسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہمیری نظر میں آپ کا آغا سید روح اللہ مہدی صاحب کے ...
24/04/2026

محترم المقام ڈاکٹر عبداللطیف الکندی صاحب

سلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

میری نظر میں آپ کا آغا سید روح اللہ مہدی صاحب کے بیان پر کمنٹ، ان پر ذاتی حملے کے مترادف ہے۔ جو آپ جیسے محترم کی‌شایان شان نہیں ہے۔

الحمد للہ آغا سید روح اللہ مہدی صاحب کی صحیح تربیت کا چرچا وادی کشمیر کے فردا فردا زبان زد عام ہے۔ یہ اس علمی و روحانی گھرانے کا جوانسال راہنما ہے جس کے علمی، روحانی، رفاہی، اور سیاسی کارنامے کتب تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے گئے ہیں۔

ظلم اور ظالم کے خلاف وہی بول سکتا ہے جس کی صحیح تربیت ہوئی ہو، ورنہ آج دنیا بھر کے سیاست دان، دانش مند، اور بعض صاحبِ منبر بھی اس موضوع پر خاموش رہنے کو ہی بہتر سمجھتے ہیں۔

آغا سید روح اللہ مہدی صاحب کا آل سعود کے خلاف بیان ان کی ذہنی اختراع، تصورات اور تخیلات کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ حقیقت پر مبنی تاریخی واقعات ہیں۔ آپ تو ماشاء اللہ واقف ہیں ہی آج دنیا بھر کے لوگ آل سعود کا اسلام اور مسلمانوں کے تئیں منفی رول کا چرچا ذرائع ابلاغ کی سرخی اور سوشل میڈیا کے ٹرنڈ میں کرتے رہتے ہیں

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

آغا سید روح اللہ مہدی صاحب نے آل سعود کی حکومت کے بعد سرزمین حجاز میں ہونے والی تبدیلیوں کا جو ذکر کیا اسکی فہرست طویل ہے، مگر قارئین کی خدمت میں کچھ اہم واقعات بیان کرتا ہوں

شیخ (محمد بن سعود) کی موت پر، 1765ء میں اس کا بیٹا عبدالعزیز بن محمد اس کی جگہ بیٹھا۔ اس نے ابن عبدالوہاب کی فکری قیادت میں عربستان کے وسطی علاقوں (نجد) کو فتح کیا۔ آخرکار آل سعود کی عربستان کے دیگر قبائل سے متعدد جنگوں اور مکہ کے حکام سے کئی بار شکست کھانے کے بعد، 1803ء میں وہ اس مقدس شہر (مکہ) کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 1805ء میں انہوں نے مدینہ منورہ پر بھی قبضہ کر لیا۔ یہاں پر سلطنت عثمانیہ کا حاکم جو خود کو حرمین شریفین کا محافظ سمجھتا تھا نے مصر کے حاکم کی مدد سے مکہ اور مدینہ کو سعودی وہابیوں سے چھڑا لیا۔ عبدالعزیز کے بیٹے عبداللہ نے، 1814ء میں اپنے والد کی موت کے بعد، سلطنت عثمانیہ کے نمائندے کے ساتھ ایک معاہدۂ صلح کیا۔ 1902ء میں عبدالرحمن کے بیٹے عبدالعزیز (ابن سعود) نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ریاض پر قبضہ کیا۔ اس نے 1925ء میں رشید قبیلے اور مصریوں کے ساتھ کئی سال کی جنگ کے بعد مکہ اور مدینہ کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ 1932ء میں اس نے باضابطہ طور پر سعودی بادشاہت کے قیام کا اعلان کیا۔

آل سعود کے حجاز (مکہ، مدینہ، جدہ اور گردونواح) پر قبضے اور 1925ء میں ہاشمی حکومت کے خاتمے کے بعد اس خطے میں بڑی سیاسی، مذہبی اور سماجی تبدیلیاں آئیں، جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:

۱) سعودی عرب کا قیام: عبدالعزیز بن سعود نے حجاز کو نجد کے ساتھ ملا کر پہلے "مملکتِ حجاز و نجد" اور پھر 23 ستمبر 1932ء کو اسے موجودہ "مملکتِ سعودی عرب" کا نام دیا۔

۲) ہاشمی دور کا خاتمہ: مکہ اور مدینہ پر صدیوں سے جاری ساداتِ بنی ہاشم (شرفائے مکہ) کی حکومت ختم ہوگئی۔

۳) مرکزی نظام: حجاز کی سابقہ خود مختاری ختم کر کے اسے ریاض کے زیرِ اثر ایک بادشاہی حکومت کا حصہ بنا دیا گیا۔

۴) وہابی مسلک کا غلبہ: نجد کے سرکاری مسلک (وہابیت) کو حجاز میں نافذ کیا گیا، جس سے وہاں کی مذہبی زندگی میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔

۵) تاریخی آثار کی مسماری: وہابی تشریحات کے تحت بہت سے تاریخی مزارات، مساجد اور اہل بیت (علیہم السلام) و صحابۂ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے منسوب مقامات کو گرا دیا گیا (جیسے جنت البقیع کی مسماری)۔

۶) مذہبی مراسم پر پابندی: بہت سے روایتی مذہبی اعمال، جنہیں وہابی فکر میں "بدعت" سمجھا جاتا تھا (جیسے میلاد النبی)، ممنوع کر دیے گئے، جبکہ میوزک کنسرٹ اور حکمرانوں کے سامنے کھلے بالوں والی عورتوں کا ناچنا حکومتی منصوبے ہیں۔

۷) تیل کی دریافت: حجاز کی معیشت، جو پہلے صرف تجارت اور حجاج کے ٹیکسوں پر منحصر تھی، تیل کی دریافت کے بعد مکمل طور پر بدل گئی اور یہاں بے پناہ دولت آئی۔

۸) امریکہ کے ساتھ تعلقات: امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کی بنیاد 1945ء (دوسری جنگ عظیم کے دوران) میں رکھی گئی۔ یہ اتحاد تیل کی فراہمی، سیکیورٹی اور علاقائی استحکام پر مبنی ہے۔ حالیہ برسوں میں ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی رہی اور دونوں ممالک نے ایران کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی تعاون کو مزید مضبوط کیا ہے۔

۹) اسرائیل کے ساتھ تعلقات: سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان اگرچہ ابھی تک باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، لیکن دونوں ممالک ایران کو ایک مشترکہ خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کے درمیان پردے کے پیچھے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کی ثالثی میں سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے (ابراہم ایکارڈز کی طرز پر) بات چیت چلتی رہی ہے۔ سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود اسرائیلی طیاروں کے لیے کھول کر اس سمت میں ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔

۱۰) فلسطین کا مسئلہ: سعودی حکام کا موقف ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مکمل تعلقات اسی صورت میں قائم ہوں گے جب فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ اور "دو ریاستی حل" (Two-state solution) پر پیش رفت ہو۔ 7 اکتوبر 2023ء کے بعد اور غزہ کی جنگ کے باعث سعودی عرب نے فی الحال اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کا عمل روک دیا ہے، لیکن طویل مدتی اسٹریٹجک مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔ اگرچہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں او آئی سی کا اجلاس سعودی عرب میں ہی بلایا گیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ دکھاوے کے لیے ہے، جبکہ پردے کے پیچھے سعودی عرب کی حمایت سے ہی اسرائیل اور امریکہ اسلامی ممالک پر حملہ کرتا ہے اور مسلمانوں کا قتل عام کرتا ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے، اور اس سے بھی زیادہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس (معاملے) کو جاننے والا "کتا" لفظ استعمال کرکے اپنے تربیتی اصولوں اور قرآنی تعلیمات و احادیث کی رعایت کرتا ہے۔

خدا قرآن میں صراحتاً یہ مثال دیتا ہے اور کتے کی تشبیہ اس انسان کو دیتا ہے جس میں دنیا کی لالچ، حرص اور انانیت اور دیگر بے بنیادی کی خصلتیں موجود ہیں:

فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ

"تو اس کی مثال کتے جیسی ہے"
(سورہ الأعراف، آیت 176 )

آپ کا خیرخواه
آغا سید عابد حسین الحسینی
مدیر اعلی تبیان قرآنی ریسرچ انسٹیٹوٹ

17/04/2026

Ghulam Hassan Kalan from Zalpora sonawari
Salaar Ummat(Leader/commander of the community/Nation)

Jamia Masjid Abu-Turab Zalpora SonawariBlood Donation Camp
10/04/2026

Jamia Masjid Abu-Turab Zalpora Sonawari
Blood Donation Camp

10/04/2026

Blood donation camp at
Jamia Masjid Abu-Turab Zalpora sonawari
In collaboration with Salute 72 blood donors group srinagar

Address

Zalpora Sumbal Sonawari
Bandipora
193501

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zalpora Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category