Md Athar Alqasmi

Md Athar Alqasmi Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Md Athar Alqasmi, Araria.

15/10/2024

بہ شکریہ عزیز مکرم حافظ #جسیم الدین حسامی
و برادرم #عامر رضا صاحبان ۔۔۔۔

15/10/2024
I have reached 800 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉
16/03/2023

I have reached 800 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉

 !تحریر: #محمداطہرالقاسمینائب صدر جمعیت علماء بہار 17/ ستمبر 2022(چنڈ منٹ کے دورانیے پر مشتمل یہ تحریر ایک بار ضرور ملاح...
17/09/2022

!

تحریر: #محمداطہرالقاسمی
نائب صدر جمعیت علماء بہار
17/ ستمبر 2022

(چنڈ منٹ کے دورانیے پر مشتمل یہ تحریر ایک بار ضرور ملاحظہ فرمائیں؛آپ کو ضیاع وقت کا افسوس نہیں ہوگا! انشاءاللہ)
__________________________
کائنات کے تمام انسانوں میں کم و بیش کچھ نہ کچھ کمال،جوہر اور خوبی کا عنصر موجود ہوتا ہے۔یہی کچھ کر گزرنے والا انسانی جذبہ تعمیر انسانیت کی بنیاد ہے۔چنانچہ ایک ڈاکٹر چاہتا ہے کہ ان کے ذریعے سارے مریض کو شفاء مل جائے،وکیل چاہتاہے کہ ساری دنیا کو انصاف مل جائے،انجینئر کی خواہش ہوتی ہے کہ ساری خراب مشنریاں اس کے ذریعے درست ہوجائیں،پینٹنگ کرنے والے کی تمنا ہوتی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں سے اردگرد کو رنگین و دلکش بناڈالے،اصحاب قلم کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے اور دوسروں کے احساسات و جذبات کو نچوڑ کر دنیا کے سامنے پیش کردے،اصحاب زباں یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی ساحرانہ خطابت سے لوگوں کے دلوں میں اتر کر اپنا پیغام پہونچادیں،کسی ادارے یا تنظیم کا منتظم چاہتا ہے کہ دنیا بھر میں اس کے ادارے یا تنظیم کے نظم و نسق اور ڈسپلن کا ڈنکا بج جائے،درس و تدریس سے وابستہ معلمین و مدرسین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں اور اوصاف وکمالات اپنے طلبہ کے سینے میں پیوست کردیں اور علم و فن کے شوقین یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی محنت و مجاہدہ سے سورج کی بلندیوں پر پہنچ کر دنیا میں اپنا نام پیدا کریں وغیرہ وغیرہ۔۔۔
الحاصل ہر انسان میں کچھ نہ کچھ خوبیاں ہوتی ہیں اور وہ انہیں بروئے کار لاتے ہوئے اپنے لئے،سماج و معاشرہ اور بسا اوقات قوم وملت کے لئے دنیا میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا افراد کے لئے ہم کیا کرسکتے ہیں؟ہمیں کم از کم دوکام ضرور کرلینے چاہیئں۔اول ایسے باحوصلہ أفراد کی مناسب رہ نمائی،دوم مثبت طرز عمل کے ساتھ ان کی حوصلہ افزائی۔
رہ نمائی سے انسان کو ایک قابل عمل منزل کا تعیّن کرنے اور اور یکسوئی کے ساتھ اس منزل کی تلاش میں سرگرم عمل ہوجانے میں مدد ملتی ہے۔ جبکہ حوصلہ افزائی سے انسان تازہ دم ہوکر نئے شوق،امنگ،عزم و ولولہ،جوش و خروش اور دھن کے ساتھ اپنے اہداف ومقاصد کے حصول میں مزید سرگرم عمل ہوجاتا ہے۔اس لئے کہ انسان کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ اس کے اچھے کاموں کی تعریف کی جائے،عمدہ کارناموں کی تحسین کی جائے،اسے سراہا جائے اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
یہ حوصلہ افزائی انسان کے عملی میدان میں مہمیز لگانے کے لئے اسی طرح ضروری ہے جس طرح سڑک پر سرپٹ دوڑنے والی موٹر سائیکل کے لئے پٹرول۔کیونکہ حوصلہ افزائی کے دو خوبصورت بول کام کرنے والے انسان میں ایسا اسپرٹ پیدا کردیتے ہیں جس سے اس کی ذات میں ایک خفیہ طاقت پیدا ہوجاتی ہے جو اسے اندر سے اتنا اسٹرونگ اور مضبوط بنادیتی ہے کہ وہ خود کو بہت کچھ کرلینے کا اہل سمجھنے لگتا ہے۔
آپ نے بارہا تجربہ کیا ہوگا کہ کسی عمدہ کام پر کسی دوست یا بڑوں نے کہ دیا کہ"ماشاءاللہ،سبحن اللہ،الحمد للہ،شاباش،بہت خوب،زبردست،واہ بھئی واہ،کیا کہنے،آپ نے تو کمال کردیا،سلامت رہیں،آباد رہیں،شاد باد رہیں،خوش و خرم رہیں" وغیرہ وغیرہ تو یہ محض چار/پانچ/چھ حرفی الفاظ سننے یا پڑھنے کے بعد روح کے اندر جوش و خروش کا ایک ایسا کرنٹ دوڑ گیا کہ آپ مزید اپنے مشن کو بہتر سے بہتر بنانے،عمدہ سے عمدہ کرنے اور کامیاب سے کامیاب بنانے کی جستجو پر گامزن ہوگئے۔
اسی طرح گھر پر اہل خانہ سے آپ کہ دیں کہ"ارے واہ بھئی آج تو آپ نے کیا مزیدار کھانا بنایا ہے"،بیٹے سے کہ دیں کہ "شاباش بیٹے!تم تو اب کافی محنت کرنے لگے ہو"،بیٹی سے کہ دیں کہ "بیٹا!تمہارے سر پر حیاء کا دوپٹہ کتنا خوبصورت لگتا ہے"،طلبہ سے کہ دیں کہ"تمہارا کلاس تمام کلاسوں میں بہترین ہے" اور طالب علم سے کہ دیں کہ"تماری آج کی تحریر بڑی خوبصورت ہے" وغیرہ وغیرہ تو مخاطب کے رویہ میں آپ خوبصورت مثبت تبدیلی محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
تو جس وقت آپ کسی انسان کے اچھے کام یا عمدہ پیش کش پر اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو اس عمل سے آپ کا کچھ بگڑتا تو نہیں ہے لیکن مخاطب کا بہت کچھ بن جاتا ہے۔اس میں خود اعتمادی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے،کام کو مزید لگن کے ساتھ کرنے کا شوق بڑھتا ہے،آگے بڑھنے کا حوصلہ ملتا ہے اور خوف و ہراس کی موہوم کیفیت دور ہوتی ہے۔حتی کہ بعض اوقات انسان اچھے کام پر بھی حالات کا شکار ہوکر ہمت ہارنے اور کام کو چھوڑ کر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کرلیتا ہے لیکن آپ کی حوصلہ افزائی/ہمت افزائی کے یہ چند خوبصورت الفاظ انہیں پھر سے کھڑا کردیتے ہیں۔
گویا کسی بھی کامیاب انسان کی کامیابی کے پیچھے جہاں خود اس کا اپنا ہاتھ ہوتا ہے وہیں اس کے اردگرد رہنے والے دوست/نگراں/سرپرست/بزرگ کی حوصلہ افزائی کا بھی بڑا دخل ہوتاہے۔
قرآن کریم میں جگہ جگہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی کا تذکرہ ہے:
وَاصْبِـرْ عَلٰى مَا يَقُوْلُوْنَ وَاهْجُرْهُـمْ هَجْرًا جَـمِيْلًا۔ (المزمل/10)
اور کافروں کی باتوں پر صبر کیجئے اور انہیں عمدگی سے چھوڑ دیجئے۔
وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ(الضحیٰ/5)
اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔
انسان کا مزاج ہے کہ وہ اپنے کاموں کا اعتراف چاہتاہے۔اس کا یہ مزاج بھی قدرتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں بیشتر مقامات پر جہاں اعمال صالحہ کا حکم ہے وہیں اس کے نتائج اور انعامات کا بھی تذکرہ ہے۔
ارشاد خداوندی ہے:
مَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَـنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً‌ ۚ وَلَـنَجۡزِيَـنَّهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏(النحل/97)جس شخص نے نیک کام کئے خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اس کو پاکیزہ زندگی کے ساتھ ضرور زندہ رکھیں گے،اور ہم ان کو ان کے نیک کاموں کی ضرور جزا دیں گے۔
محسن انسانیت جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسلام کا مرکز مدینہ منورہ کو بنایا تو وہاں بھی صالح معاشرے کی تشکیل کے لئے حضرات صحابہ کرام کو نہ صرف یہ کہ دینی تعلیمات سے آراستہ کیا بلکہ ان کے اچھے کاموں اور خوبیوں کے سبب ان کی تعریف و توصیف فرمائی اور انہیں اچھے القاب سے نوازا۔
چنانچہ امیر المؤمنین حضرت ابوبکر ابن عثمان کو صدیق کا لقب دینا،امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب کو فاروق،امیر المومنین حضرت عثمان ابن عفان کو غنی،امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب کو فاتح خیبر،حضرت جعفر بن ابی طالب کو ابو المساکین،حضرت سلمہ بن اکوع کو بطل المشاۃ(بہادر پیادہ پا)،حضرت خالد بن ولید کو سیف اللہ اور حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کو امین کا لقب دینا؛اس طرح صحابہ کرام کی ایک طویل فہرست ہے جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عمدہ کارناموں کی وجہ سے تعریف کرتے ہوئے انہیں اعزازات و القابات سے نوازا۔
یہی طریقہ صحابہ کرام،تابعین،تبع تابعین اور اکابرین امت کا بھی رہا ہے۔ان لوگوں کا بھی یہی رویہ تھا کہ وہ لوگوں کے اچھے کاموں کی تعریف و توصیف کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔جس کا سلسلہ آج بھی کہیں نہ کہیں جاری ہے۔اس کی واضح مثال روز بروز مصنعہ شہود پر آنے والی چھوٹی بڑی کتابوں کی بیش بہا تقریضات ہیں جن میں ایک ادنیٰ درجے کے طالب علم/عزیز کے معمولی کارنامے پر بھی مشفق اساتذہ اور بزرگوں نے اپنے دل نکال کر رکھ دئیے ہیں۔
الحاصل سماج و معاشرے میں اگر کوئی شخص یا جماعت یا کوئی ادارہ منشاء شریعت کے مطابق خیر کا کام انجام دے رہا ہے تو اس شخص یا جماعت یا ادارے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ان کی تعریف و توصیف ضرور کی جانی چاہئے بلکہ وقتاً فوقتاً ان کی حوصلہ افزائی کے لئے انہیں انعامات و اعزازات سے بھی نوازا جانا چاہیے۔تاکہ دیکھنے والوں میں بھی کارخیر کا جذبہ پیدا ہو۔
البتہ ایسے مخلصین و اصحاب خیر کا مقصد اصلی رضاء الٰہی اور خدمت آدمیت ہونی چاہئے۔انہیں اپنا کام کسی کی تعریف و توصیف یا تنقید و تنقیص کی پرواہ کئے بغیر انجام دیتے رہنا چاہئے۔
خلاصہ یہ کہ اچھے کام انجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی اور اس کی تحسین و توصیف بڑی اہمیت کی حامل شی ہے۔اس مثبت طرز عمل سے معاشرے کے دوسرے لوگوں کو ترغیب ملتی ہے۔اس کے برعکس تنگ نظری،خشک مزاجی اور حوصلہ شکنی کا منفی عمل معاشرے میں اختلاف و انتشار کا سبب بنتا ہے،ساتھ ہی اچھے کاموں کو انجام دینے والوں کی رفتار دن بہ دن گھٹتی جاتی ہے۔
صاحبو!
بڑے دکھ کی بات ہے کہ آج ماحول یکسر بدل چکا ہے۔اب کسی اچھا کام کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرنے والے کم اور تنقید کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔بالخصوص جذباتی نوجوان فضلاء اور سوشلستانی مفکرین کے تو کہنے ہی کیا ہیں۔میری نظر میں ان کی مثال مچھلی مارنے والے اس مچھوارے جیسی ہے جو ندی میں چارہ کے ساتھ رسی ڈال کر ندی کے کنارے گھات لگائے بیٹھا رہتا ہے اور تریلا میں مچھلی تو کجا اس کی پونچھ بھی ٹکرا گئی تو اس مچھوارے کے بدن میں گویا کرنٹ لگ جاتا ہے،اس وقت مچھوارے کی کیفیت قابل رحم ہوجاتی ہے۔
البتہ وہ تنقیدیں جو آداب و أصول اختلاف کے ساتھ کی جائیں یعنی تنقید برائے تعمیر ہو تو وہ درست ہی نہیں،محمود و پسندیدہ ہے جو زندہ شعور کی علامت ہے۔اس سے کام میں نکھار پیدا ہوتا ہے،کمیوں اور کوتاہیوں پر نظر ثانی کرکے مزید بہتر کرنے کے مواقع فراہم ہوتے ہیں،احساس جواب دہی میں اضافہ ہوتا ہے اور ایک ذمےدار انسان دائیں بائیں نہیں کرتا۔لیکن تنقید برائے تضحیک و تذلیل کم ظرفی،آوارہ گردی،ذہنی عیاشی اور سخت ترین گناہ ہے۔
الحاصل ہمیں چاہئے کہ زندگی کے شب وروز میں کام کرنے والوں کے لئے مثبت رویہ اختیار کریں،اچھے کام کرنے والے کی حوصلہ افزائی کریں،حوصلہ افزائی نہیں کرسکتے ہیں تو کم از کم خاموشی کو راہ دیں،ہر انسان کے ساتھ انسانیت سے پیش آئیں،منفی طرز عمل سے گریز کریں،دوسروں کے اعمال و کردار کی ٹوہ میں پڑنے،اس میں کمیاں تلاش کرنے اور عیوب و نقائص ڈھونڈنے میں اپنا قیمتی وقت اور اپنی خوبصورت صلاحیت ہرگز ہرگز برباد نہ کریں!
خوب اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ اس دنیا میں ہر انسان اکیلا پیدا ہوتا ہے،رب العالمین اپنے خزانے سے سب کو کچھ نہ کچھ دے کر اس دھرتی پر بھیجتا ہے،اگر مجھ میں ایک خوبی ہے تو ممکن ہے کہ آپ میں دس خوبیاں ہوں اور آپ میں دس عیوب ہیں تو ممکن ہے کہ مجھ میں سو عیوب ہوں۔
یہ بھی ذہن نشین کرلیں کہ ہمارا محاسب ہمارے کاندھے کا فرشتہ ہے،باز پرس کرنے والا خالق ومالک ہے اور اچھائی یا برائی پر جزا و سزا دینے کا اختیار بھی اسی احکم الحاکمین کو حاصل ہے۔تو خواہ مخواہ کی مغز ماری کی ضرورت کیا ہے۔
ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے،پگڑیاں اچھالنے،نیچا دکھانے،مطعون کرنے،سر عام رسوا کرنے،گڑھا کھودنے،حسد و عداوت کی آگ میں جلنے،بغیر طلب کے مشورہ پیش کرنے اور ان تمام تر فضولیات میں اپنا قیمتی وقت اور صلاحیت ضائع کرنے سے کیا ملنے والا ہے!
بس ہمیں اپنے حصے کا چراغ جلاتے ہوئے دنیا کی اس بھیڑ سے باوقار انداز میں اس طرح رخصت ہوجانا ہے کہ زمانہ ہمیں یاد رکھے،نسلیں ہمیں تلاش کریں،انسانیت ہمیں چراغ رخ زییا لےکر ڈھونڈے اور وقت جاں کنی فرشتے ہمارا والہانہ استقبال کریں!!!
زکی کیفی کے ان اشعار کے ساتھ اجازت چاہتاہوں۔۔۔
؀

جنھیں عزمِ جواں ملتا ہے راہِ زندگانی میں​
مصائب،راہِ منزل ان کو دکھلایا ہی کرتے ہیں​

سکھا دیتی ہے قدرت جن کو اندازِ جہانبانی​
وہ ہر الجھی ہوئی گتھی کو سلجھایا ہی کرتے ہیں​

لگن ہو جن کے دل میں وہ پہنچ جاتے ہیں منزل تک​
حوادث راستے میں دام پھیلایا ہی کرتے ہیں​

جو چلتے ہیں انہیں کو راہ میں ٹھوکر بھی لگتی ہے​
یہ ٹھوکر کھاکے خوش قسمت سنبھل جایا ہی کرتے ہیں​

جواں ہمت سبق لیتے ہیں دنیا میں حوادث سے​
زبوں ہمت جو ہوتے ہیں وہ پچھتایا ہی کرتے ہیں​

یہ دنیا عیش و غم کی دھوپ چھاؤں سے عبارت ہے​
خوشی ہو یا الم دونوں گزر جایا ہی کرتے ہیں​Md Athar Alqasmi

سانسوں کی قدر کیجئے؛یہ انمول تحفہ ہے! #محمداطہرالقاسمی نائب صدر جمعیت علماء بہار12/ ستمبر 2022__________________________...
12/09/2022

سانسوں کی قدر کیجئے؛یہ انمول تحفہ ہے!

#محمداطہرالقاسمی
نائب صدر جمعیت علماء بہار
12/ ستمبر 2022
__________________________
کائنات میں بسنے والا ہر انسان ان گنت رشتوں کے بندھن میں بندھا ہوا ہے۔انسان ان ہی چھوٹے بڑے اور قدیم و جدید رشتوں کی بدولت سماج میں ایک خوشگوار زندگی بسر کرتاہے۔رشتوں کے یہ خوبصورت دھاگے اگر ٹوٹ جائیں تو انسان کے لئے یہ دنیا کسی جنگلی قیدخانہ سے بھی بدتر کر رہ جائے گی۔
لیکن ان تمام رشتوں میں انسانی جسم کے ساتھ سانسوں کا جو رشتہ ہے وہ تمام رشتوں سے مضبوط رشتہ ہے۔یہ رشتہ باقی ہے تو خاندان،پاس پڑوس،دوست و احباب،ذات و برادری اور متعلقین کے سارے رشتے آباد ہیں اور جس لمحہ یہ رشتہ ٹوٹ گیا تو رشتے داروں کی رشتے داریاں تو درکنار انسانی زندگی ہی کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔گویا انسانی جسم میں پیدائش سے لے کر موت تک ہر لمحہ رواں دواں یہ غیر مرئی عنصر(سانس)انسانی زندگی کا قطب نما ہے جہاں سے زندگی کے سارے کیل کانٹے کا قبلہ درست ہوتا ہے۔
اس قیمتی عنصر کی قیمت کیا ہے؟کوئی قیمت نہیں۔یہ عطیہ الہی ہے جو صرف ایک بار ملتی ہے،یہ انمول ہے،اس کا کوئی مول نہیں۔چنانچہ ہاسپیٹل میں پیسے کی بدولت انسانی جسم کا ایک ایک قیمتی عضو خریدا تو جاسکتا ہے لیکن ان قیمتی اعضاء کو ہر لمحہ زندگی کی رفتار عطا کرنے والی سانسیں خریدی نہیں جاسکتیں۔
ایک ڈاکٹر اپنے مریض کی جان بچانے کے لئے اپنی ساری معلومات اور تجربات و مشاہدات کو نچوڑ کر رکھ دیتا ہے لیکن یہ سارا دماغ اور عقل و ذہانت مریض سے رخصت پذیر سانسوں کو روک نہیں سکتے۔یہی وہ نازک ترین اور حسرت آمیز لمحہ ہوتاہے جب ڈاکٹر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کف افسوس ملتے ہوئے متعلقین سے کہ اٹھتا ہے کہ صاحب!
اب میری ساری تدبیریں ناکام ہوگئیں ہیں اور تمام تر کوششوں کے باوجود میں آپ کے باپ،ماں،بھائی،بہن۔۔۔۔کی جان بچا نہیں سکا،مجھے معاف کیجئے گا۔
# زندگی سے سانسوں کے اس باریک ترین رشتے کا گذشتہ دنوں بڑی گہرائی سے مطالعہ ہوا۔یہ مطالعہ بھی کسی اجنبی یا عام رشتے دار پر نہیں بلکہ صلبی رشتوں میں سب سے قیمتی کہلانے والے رشتہ اکلوتے اپنے بیٹے پر تھا۔۔۔۔
واقعہ کچھ یوں ہوا کہ پندرہ سالہ بیٹے عزیزم حافظ ابوذر غفاری سلمہ کو ان کے مدرسہ میں نہ جانے کیا ہوا کہ اچانک ہاسپیٹل پہنچائے گئے اور استاذ کے ذریعے ہمیں خبر دی گئی کہ آپ فوراً ہاسپیٹل پہونچیں،آپ کے بیٹے کی حالت انتہائی نازک ہے جبکہ بھتیجے توصیف نعمانی کو یہ خبر دی گئی کہ بچنے کی امید نہیں ہے۔خیر کسی بھی ماں باپ اور قریبی رشتے دار پر اس خبر کا کیا اثر ہوسکتا ہے،اسے یہاں لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
اکلوتے بیٹے کو کھلی آنکھوں دیکھ لیں اور اس کے منہ سے دو بول سن لیں،اسی حسرت میں ہم دونوں (والدین)اگلے ہی لمحے ہاسپیٹل میں موجود تھے۔پیچھے پورا گھرانہ تھا،ہاسپیٹل پہونچا تو بچے کی حالت دیکھ کر میں تو دم بخود رہ گیا اور ماں تو ماں ہی ہوتی ہے،اس کے کلیجے پر کیا گذرا ہوگا،اس کی درست ترجمانی کے لئے میرے مطالعہ میں آج تک ڈکشنری میں کوئی لفظ ہی نہیں ملا۔جس بچے سے صبح ہم نے فون پر خیرت پوچھی تھی اور اس نے کہا تھا کہ الحمد للّٰہ سب خیریت ہے ابو،اب محض چند گھنٹے میں یہ کیا سے کیا ہوگیا کہ ایک طرف آکسیجن لگا ہوا ہے تو دوسری طرف سانسوں کی تیز رفتاری ہے جو ٹھہرنے کا نام نہیں لے رہی ہے بلکہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔چار پانچ گھنٹے کے لگاتار آکسیجن سے بھی سانسوں کی رفتار نارمل نہیں ہوئی،رات کے آٹھ بج رہے تھے کہ اسی درمیان ایک لمحہ ایسا بھی آگیا کہ کمرہ میں اچانک اہل خانہ نے ہنگامہ کردیا کہ ہمارا لعل اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا سلامت رکھے رفیق گرامی مولانا مصور عالم ندوی اور مولانا سفیان احمد قاسمی کے ساتھ اہل خانہ کو کہ ان کے سخت احتجاج پر ریفر کیا گیا اور امید و بیم کی کیفیت میں رات کے دس بجے بذریعہ ایمبولینس پورنیہ Heart Specialist کے یہاں ایمرجنسی وارڈ میں بابو کو ایڈمٹ کروایا گیا جہاں سے بارہ بجے شب ICU میں منتقل کر دیا گیا۔
اگلے دن دوپہر کے بارہ بجے تک اسی اتار چڑھاؤ اور جملہ اہل خانہ کے رونے بلکنے کے درمیان عزیزم طالب نعمانی قاسمی نے خوش خبری سنائی کہ ابوذر تو خود سے بیٹھنے لگا ہے اب تو وہ باتیں بھی کررہا ہے۔سبھوں نے سجدہ شکر ادا کیا،جب تک ساری رپورٹس بھی آگئیں جو نارمل نکلیں،عافیت کا یہ سلسلہ بھی جاری رہا اور جمعہ کی بابرکت شب کے آغاز پر ICU سے وارڈ میں بھی منتقل کردیا گیا اور عین جمعہ کی اذان پر ڈاکٹر نے Visit کرتے ہوئے اپنے کارندوں سے کہاکہ ابوذر کو Discharge کردو!
فلہ الحمد ولہ الشکر ۔۔۔۔
# الحمد للّٰہ جمعیت علماء ارریہ کے ایک ایک مخلص ساتھی کے ساتھ ریاستی و مرکزی جمعیت کے اکابرین اور بے شمار مخلصین و محبین کی پرسوز مسلسل دعاؤں نے ناممکن کو ممکن بنادیا۔ان تمام محبین کے شکریہ کے لئے میرے پاس الفاظ تو نہیں ہیں لیکن اتنا عزم کرلیا ہے کہ جب تک زندہ رہوں گا خود کو مقروض سمجھتے ہوئے تمام محبین کے لئے دعاء خیر کرتا رہوں گا انشاء اللہ۔۔۔
اس درمیان میں نے بھی اپنے شکست خوردہ دل سے اپنے رب سے درخواست کی کہ مولی!
2017 کے تباہ کن سیلاب میں میرا یہی لخت جگر تھا،جب گھر پر پھسل جانے کی وجہ سے اس کے پاؤں میں فریکچر ہوگیا تھا،میں اسے صبح سویرے ارریہ ہاسپٹل کے سامنے ایک بینچ پر اکیلے بٹھاکرجمشید پور کی ایک ریلیف ٹیم کے ساتھ سیلاب متاثرین کی راحت رسانی کے لئے فیلڈ پر روانہ ہوگیا تھا اور جب شام ہوگئی لیکن سفر سے واپسی نہیں ہوسکی تھی تو ایک صاحب نے مرہم پٹی کے ساتھ میرے بیٹے کو میرے گھر لاکر پہنچایا تھا؛مولی! آپ آج اسی ادنیٰ سی خدمت پر نظر کرتے ہوئے میرے اسی اکلوتے بیٹے کو بخش دیجئے۔۔۔
# خیر بابو تو بعافیت گھر واپس ہوگئے ہیں،سخت نقاہت ہے،مزید علاج ہوگا اور وہ ٹھیک ہوجائیں گے انشاءاللہ۔لیکن دل و دماغ انتہائی متاثر ہے،بار بار وہ ڈراؤنے مناظر نظروں کے سامنے آرہے ہیں اور ستانے لگتے ہیں اور نامعلوم آوازیں کانوں میں یہ کہ رہی ہیں کہ بابا ! ہوشیار رہنا کہ یہی زندگی کی حقیقت ہے۔موت اور زندگی کے درمیان فاصلہ بھی بس اتنا ہی ہے نیز موت کو زندگی سے جوڑے رکھنے والے پل کا جو کھمبا ہے وہ دھاگے سے بھی زیادہ باریک اور ناپائدار ہے۔ایسا لگتاہے کہ چپکے سے کوئی آتا ہے اور یکایک کان میں کہ جاتا ہے کہ جن سانسوں کو تم غفلتوں کی نذر کئے جارہے ہو،وہ رب العالمین کی جانب سے انتہائی قیمتی تحفہ ہے جو کسی بھی بندے کو صرف ایک بار ہی ملتی ہے؛اس کی ناقدری مت کرنا۔آج یہ بات بھی خوب خوب سمجھ میں آگئی کہ کس طرح ہم اپنی زندگی کے شب و روز میں اپنے عزائم پر گامزن رہتے ہیں اور ہفتہ مہینہ بلکہ سالہاسال تک کے نئے نئے منصوبے بناتے رہتے ہیں لیکن وہیں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اگلے لمحہ کی سانس کی رسی کا رشتہ میری زندگی سے باقی رہے گا یا اچانک ٹوٹ جائے گا اور دنیا کے سارے رشتے ناطے کے سلسلے کو درہم برہم کردے گا۔
صاحبو!
ہم اپنے گھر،مکان،زمین،جائیداد،دولت،پیسے،ڈگری،عہدے،بیوی،بچے،خویش و اقارب،رشتے دار،حلقے اور متعلقین یعنی اپنے شب وروز کی روٹین اور معمولات زندگی میں مگن رہتے ہیں بلکہ اللہ رب العزت نے اپنے فضل سے اگر کچھ دے دیا تو بزعم خود یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم تو ہم ہی ہیں،ہم جیسا دنیا میں کوئی نہیں۔چنانچہ ہماری گفتگو کا لب ولہجہ،جینے کا رنگ ڈھنگ،ملنے جلنے کا طور طریقہ،معاملات کی سختی،ضرورت مندوں سے بےرخی،کمزوروں پر دھونس اور فریادیوں کے ساتھ ترشی یعنی اہل جہاں کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر ہم اترآتے ہیں اور یکسر بھول جاتے ہیں کہ خدانخواستہ کہیں رب کی رسی،ذرا سی سخت ہوجائے اور وہ سانسوں کو معمولی رفتار سے تیز کردے اور پھر اس نازک گھڑی میں دوبارہ اپنی رحمت و شفقت کا سایہ نہ ڈالے تو دنیا کی یہ ساری رونقیں،نعمتیں،راحتیں،آسائشیں،زیبائشیں اور رشتے داری و قرابتیں اور جینے کا لائف اسٹائل یوں ہی دھرا کا دھرا رہ جائے گا اور ہم اپنے آخری سفر پر روانہ ہوچکے ہوں گے!!!

؀ ہر سانس نئی سانس ہے،ہر دن ہے مرا دن
تقدیر لئے آتی ہے،ہر روز نیا دن

؀ پہلی سانس پہ میں رویا تھا آخری سانس پہ دنیا
ان سانسوں کے بیچ میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا

؀سانس در سانس ہجر کی دستک
کتنا مشکل ہے الوداع کہنا۔۔۔
Md Athar Alqasmi

07/02/2022

۔۔۔

#محمداطہرالقاسمی
نائب صدر جمعیت علماء بہار
7/فروری 2022
____________________________
یوپی کا الیکشن بالکل قریب ہے۔دس فروری کو انتخاب کا پہلا مرحلہ ہے۔ جس میں صرف دو روز باقی رہ گئے ہیں۔آپ سبھوں کے سامنے ملک کے موجودہ حالات اظہر من الشمس ہیں۔حالیہ الیکشن نہ صرف یہ کہ یوپی کا اسمبلی الیکشن ہے بلکہ یہی الیکشن 2024 کے پارلیمانی الیکشن کا رخ بھی طے کرنے والا ہے۔ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں مسلمانوں کے لئے یوپی اس لئے اہمیت کا حامل ہے کہ آبادی کے لحاظ سے یہ ملک کی سب بڑی ریاست کے ساتھ یہاں ملک کے دینی و ملی اداروں اور جماعتوں کا مرکز بھی ہے۔اس لئے اس صوبے کا تحفظ دیگر صوبوں کے اسلامی مراکز کے تحفظ کی گویا ضمانت ہے۔
ابھی حالیہ برسوں میں بطورِ خاص اس صوبے کے مسلمانوں کے ساتھ کیا کچھ حالات پیش آئے وہ کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ہم نے ان ایام کو کس طرح گھٹ گھٹ کر کاٹے ہیں؛انہیں بیان کرنے کے لئے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں۔جب جب تکالیف سے ذہن و دماغ بوجھل ہوتے تو یہ سوچ کر دل کو تسلی دے لیتے تھے کہ ان تاریک اور ڈراؤنی راتوں کے بعد جلد ہی الیکشن کی شکل میں ایک خوبصورت سورج طلوع ہونے والا ہے۔جس میں ان تاریکیوں کو منہ چڑانے کا دلچسپ موقع ملے گا، اللہ اللہ کرکے وہ وہ خوبصورت موقع آگیا ہے کہ ہم اپنے لئے ایک اچھا سا پر امن راستہ نکال سکتے ہیں۔
یہ بھی رب العالمین کا احسان اور ملک کی جمہوریت کی خوبصورتی ہے کہ اس نے ہمیں تبدیلی اقتدار کے مواقع فراہم کررکھے ہیں۔فرقہ پرست جماعتیں اور اسلام دشمن طاقتیں اس اختیار کو بھی سلب کرلینے کے درپے ہیں۔کیونکہ وہ اس ملک میں یہاں کے پچیس کروڑ مسلمانوں کو ان کے دینی و مذہبی تشخص سے تہی دامن کرکے ایک ایسی سوسائٹی میں تبدیل کردینا چاہتی ہیں جس میں ہم اور ہماری نسلیں صرف نام اور شکل کے مسلمان رہ جائیں۔بلکہ اب تو ہمارے بھائی بہنوں کی اسلامی شکلیں بھی ان کی آنکھوں میں کانٹوں کی طرح چبھنے لگی ہیں۔ان طاقتوں نے اپنے خطرناک عزائم کی تکمیل کے لئےکیا کچھ منصوبے بنارکھے ہیں،ان سےہر ذی شعور و حساس مسلمان پوری طرح واقف ہے۔
بلا شبہ یہ الیکشن ہمارے لئے بہت ہی اہم ہے،ہم تیقظ اور بیدار مغزی سے کام لیکر طاغوتی طاقتوں اور ظالم حکمرانوں کے رخ کو پھیر سکتے ہیں اور اپنے لئے پر امن مستقبل کے دریچے کھول سکتے ہیں جبکہ ہماری لا پرواہی اور غیر دانشمندانی ملت اسلامیہ ہندیہ کے لئے بہت بڑی ہلاکت و تباہی کی باعث ہو سکتی ہے۔
ایسے نازک حالات میں تمام باشعور ایمانی بھائیوں اور ریاست کے انصاف پسند ووٹروں سے عاجزانہ درخواست ہے کہ خدا را پوری بیدار مغزی،احساس ذمےداری،منفی نتائج سے آگہی اور سیاسی سوجھ بوجھ کے ساتھ ماضی کے تلخ تجربے،اقتصادی و معاشی بربادی اور بےشمار مصائب و مشکلات سے سبق لیتے ہوئے ایسی پارٹی کے ایسے امیدوار کو ووٹ کریں جن سے آپ مثبت توقعات وابستہ کرسکتے ہیں۔حلقے کے حالات کا جائزہ لے کر اپنے قیمتی ووٹوں کا استعمال کریں۔محض کسی کی محبت یا نفرت کے لئے ووٹنگ نہ کریں،بلکہ ایسا امیدوار جو مسلم موافق ہو یا کم از کم مخالف نہ ہو انہیں منتخب کرنے کی کوشش کریں،ووٹوں کی تقسیم سے بچنے کی جو بھی ممکنہ تدبیریں ہوں انہیں ضرور اپنائیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ سوفیصد ووٹنگ کرنے کی کوشش کریں۔غیر مسلم برادریاں الیکشن کو ملک کا سب سے بڑا تہوار سمجھتے ہوئے سوفیصد ووٹنگ کرتی ہیں جبکہ اس معاملے میں ہم مسلمان حد سے زیادہ غفلت کے شکار ہیں۔شناختی کارڈ یا دیگر متبادل دستاویز کو ایک دن پہلے ہی چیک کرکے ریڈی کرلیں۔کوشش کریں کہ ووٹ اول مرحلے میں گرالیں۔جو احباب کسی دوسری جگہ مقیم ہیں ممکن ہو تو گھر آجائیں۔ووٹنگ کے دوران صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور کسی کے اشتعال سے مشتعل نہ ہوں۔یاد رکھیں کہ آپ پر پورے ملک کے مسلمانوں اور غیر مسلم انصاف پسندوں کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں۔اقتدار کی تبدیلی کے اس سنہرے موقع کو اگر آپ نے اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا تو نوشتہ دیوار بتارہی ہے کہ شاید پھر سنبھلنے کا موقع نہ مل سکے اور پھر اپنے اسلامی تہذیب و تمدن اور دینی و مذہبی تشخص کے تحفظ و بقاء کے لئے مزید کیسی کیسی قربانیاں دینی پڑیں گی وہ خدا ہی کو معلوم ہے۔۔۔
الہم احفظنا من کل بلاء الدنیا والآخرۃ۔۔۔
Md Athar Alqasmi

Address

Araria

Telephone

+919934513550

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Md Athar Alqasmi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Md Athar Alqasmi:

Share