27/11/2025
پاکستان کی پستی سے بلندی کی راہ: ایمانداری، شعور، اور حقیقی قیادت کی ضرورت
پاکستان ایک خوبصورت سرزمین ہے، جہاں قدرتی وسائل، ذہین نوجوان، اور بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستان ایک مخصوص طبقے کی کرپشن، نااہلی اور خودغرضی کا شکار چلا آ رہا ہے۔ عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا، تعلیم و صحت کو نظر انداز کیا گیا، اور اداروں کو کمزور کر کے چند خاندانوں اور طاقتور اداروں کے مفاد کا محافظ بنا دیا گیا۔
ہم جب برطانیہ، ترکی، سعودی عرب یا دیگر ترقی یافتہ ممالک میں قدم رکھتے ہیں تو دل دکھ سے بھر جاتا ہے۔ صاف ستھرا ماحول، منظم نظام، عوامی خدمت پر مامور ادارے، ایمانداری سے کام کرنے والے لوگ، اور قانون کی حکمرانی نظر آتی ہے۔ وہاں کا ہر وزیر، کونسلر، پولیس آفیسر، یا سرکاری ملازم خود کو عوام کا خادم سمجھتا ہے۔ اور یہی ایک فلاحی ریاست کی پہچان ہے۔
جب ہم پاکستان واپس آتے ہیں تو وہی گندگی، کرپشن، بد نظمی، رشوت، ملاوٹ، جھوٹ، اور اقربا پروری ہمارا منہ چڑاتی ہے۔ عوام ایک طرف تعلیم اور روزگار سے محروم ہیں، تو دوسری طرف اپنے ہی ووٹ سے چُنے ہوئے لوگ ان کے وسائل لوٹ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اس قوم کو شعور دینے والا کوئی نہیں، نہ نظام تعلیم ایسا ہے، نہ میڈیا اور نہ ہی سیاسی قیادت۔ قوم اب بھی دُھول کی تھاپ پر ناچنے والوں کے پیچھے لگتی ہے، بغیر سوچے سمجھے جذباتی نعروں پر جان دیتی ہے، اور پھر خود ہی اپنی حالت پر ماتم کرتی ہے۔
*حل کیا ہے؟*
1. *تعلیم و شعور:* عوام کو سب سے پہلے تعلیم اور شعور کی ضرورت ہے تاکہ وہ اچھے اور بُرے کی پہچان کر سکیں۔ اسکول، مساجد، میڈیا اور سوشل میڈیا کو اس میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
2. *ایمانداری کا کلچر:* ہر ادارے، ہر ملازم، اور ہر شہری کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ ایمانداری سے کام کرے گا، چاہے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے۔ معاشرے کی بنیاد ایمانداری پر ہوگی تو باقی نظام خود بہتر ہوتا جائے گا۔
3. *قانون کی بالا دستی:* قانون صرف کمزوروں کے لیے نہیں، بلکہ طاقتوروں کے لیے بھی یکساں ہونا چاہیے۔ اگر کسی جنرل، جج، یا وزیر نے غلطی کی ہے تو وہ بھی احتساب سے نہ بچ سکے۔
4. *عمران خان کی رہائی:* موجودہ سیاسی صورتِ حال میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک عوامی رہنما، جو پاکستان کو خود داری، شفافیت، اور خوشحالی کی راہ پر لانا چاہتا تھا، اسے سیاسی بنیادوں پر قید کر دیا گیا ہے۔ عمران خان کی آواز دبانا صرف ایک فرد کی آواز کو دبانا نہیں، بلکہ ایک نظریے کو ختم کرنا ہے — جو کہ ناممکن ہے۔ اگر پاکستان کو واقعی ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے تو عمران خان جیسے ایماندار اور عوامی لیڈر کو انصاف دینا ہوگا اور آزاد کرنا ہوگا۔
5. *سول سوسائٹی کا کردار:* ہر باشعور پاکستانی کو اپنے ارد گرد کرپشن، ناانصافی اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔ صرف سوشل میڈیا پر نہیں بلکہ میدانِ عمل میں بھی۔
---
*نتیجہ:*
پاکستان کو ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے — جس میں عوام کو بااختیار، نظام کو شفاف، اداروں کو غیرجانبدار، اور قیادت کو جواب دہ بنایا جائے۔ یہ صرف اسی وقت ممکن ہوگا جب عوام اپنی حیثیت کو سمجھے، ایمانداری کو اپنائے، اور سچ کے ساتھ کھڑا ہونے کی جرات کرے۔ اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں پستی سے بلندی کی طرف لے جائے گا، ان شاء اللہ۔
*پاکستان زندہ باد*