05/06/2026
کستوری ہرن
کشمیر کے بلند و بالا، خاموش اور برف پوش پہاڑوں میں ایک نہایت نایاب اور پراسرار جانور ،کستوری ہرن — اپنی بقا کی آخری جنگ لڑ رہا ہے۔ یہ تنہا رہنے والا، نہایت محتاط اور انسانوں کی نظروں سے اوجھل رہنے والا ہرن عام ہرنوں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس کے سینگ نہیں ہوتے اور نر کے منہ سے لمبے نوکیلے دانت نکلے ہوتے ہیں، جبکہ اس کے جسم میں موجود کستوری غدود (musk pod) اسے دنیا بھر میں قیمتی بناتا ہے، جو بدقسمتی سے اس کی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے کیونکہ اس قیمتی مادے کے حصول کے لیے
اسے غیر قانونی طور پر شکار کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معصوم اور خاموش جانور تیزی سے معدومی کی طرف بڑھ رہا ہے، اور صورتحال اس قدر تشویشناک ہے کہ اس کی درست تعداد معلوم کرنا بھی مشکل ہے، تاہم مختلف اندازوں کے مطابق آزاد کشمیر کی نیلم ویلی میں صرف 35 سے 60، مچیالہ نیشنل پارک میں بھی تقریباً 30 سے 60 جبکہ مجموعی طور پر پورے کشمیر میں چند سو سے بھی کم کستوری ہرن باقی بچے ہیں، جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ اگر فوری اور مؤثر تحفظی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خوبصورت اور قیمتی جنگلی حیات ہمیشہ کے لیے خاموش ہو سکتی ہے۔