05/07/2026
اس نوجوان کا نام ممتاز ہے اور والد کا نام عبد الستار ہے۔ گھر میں پیار سے ببلو بولتے تھے۔
سال 2011 کی بات ممتاز سات آٹھ سال کی عمر میں گھر سے دوستوں کے ساتھ کھیلنے نکلا تھا۔ دوست آگے نکل گئے ممتاز پیچھے رہ گیا۔ جاتے جاتے ممتاز بھٹک گیا۔ رات ہوئی کسی نے لاوارث پاکر اپنے گھر میں رکھا اور ایک ہفتے تک اپنے پاس رکھا۔ پھر اس نے ممتاز کو پولیس کے حوالے کیا پولیس نے شیلٹر میں جمع کردیا۔
ممتاز کا کہنا ہے کہ ہمارا گھر سکھر میں تھا۔ گھر کے آس پاس سورج مکھی کی فصل بہت زیادہ ہوتی تھی۔ سکھر کے شیلٹر سے ممتاز کو کراچی بھیج دیا گیا۔ وہ دن اور آج کا دن ممتاز کی آنکھیں گھر والوں کے ایک جھلک دیکھنے کے لئے ترس رہی ہیں۔ ایک فیکٹری میں کام کرتا ہےباور وہیں سوتا ہے۔نا عید منانا ہے نا کسی شادی بیاہ پر کوئی بلاتا ہے۔ کسی قسم کی سماجی زندگی نہیں ہے۔
ممتاز کو اپنی والدہ کا نام آمنہ یاد ہے،بھائیوں کے نام الطاف اور زین یاد ہیں۔ اور بہن جو سب سے بڑی تھی کا نام مریم تھا۔ گھر میں سندھی زبان بولتے تھے۔
والد صاحب آٹے کی مل پر بھی کبھی کبھی لیجاتا تھا۔ یہ یاد نہیں ہے کہ مل میں کام کرتا تھا یا صرف گھمانے لیجاتا تھا۔
ممتاز کا کہنا ہے کہ اتنا یاد ہے کہ کسی موقع پر سب محلے والے گھروں سے کھانا لیکر مسجد آتے تھے نماز پڑھ کر سب ملکر کھانا کھاتے تھے۔ مسجد کا نام قائد ذہن میں آرہا ہے شاید کوئی اور نام ہو۔ (قائد سے ملتا جلتا کوئی نام ہو تو وہاں ضرور کوئی لنک مل سکتی ہے)۔ گھر کے پاس ایک جگہ گندا پانی جمع تھا جسمیں لوگ کچرا پھینکتے تھے۔
ممتاز اپنوں کو یاد کرکے بہت دکھی ہوتا ہے اور تنہائی میں روکر اپنا غم ہلکان کرتا ہے۔
ممتاز کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر شئیر کریں۔آپکا ایک شئیر ایک انسان کی ویران دنیا سنوار سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
4 july 2026
copy paste from