JKLC Jammu Kashmir Liberation Council (JKLC) is Umbrella platform of various Kashmiri organisations seeking Demilitrasation and Unification of Jammu Kashmir.

04/06/2026

JK Joint Awami Action Committee Function held in Chaksawari on 31.5.2026,

01/06/2026

We wholeheartedly support the Charter of Demands of the JK Joint Awami Action Committee.

A well-attended gathering was organized in Chaksawari on 31 May 2026 under the leadership of core member Shabir Nagalvi and his dedicated team, reaffirming the people's commitment to this cause.

In Sha Allah, all citizens are urged to participate in the Long March to Muzaffarabad on 9 June 2026 and stand united in the peaceful struggle for their legitimate rights. Let us come together, raise our collective voice, and demonstrate our unwavering support for the Charter of Demands.

Your participation matters—join the movement and stand for your rights.

31/05/2026

Crossing the border at Danghali bridge on 31.5.2026 which separate Jammu Kashmir and Pakistan. Glad to be at home in Chaksawari, District Mirpur, Jammu Kashmir

جموں کشمیر لبریشن لیگ کی مرکزی مجلسِ عاملہ کا اجلاس راولپنڈی کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں مجلسِ عاملہ کے اراکین نے...
23/05/2026

جموں کشمیر لبریشن لیگ کی مرکزی مجلسِ عاملہ کا اجلاس راولپنڈی کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں مجلسِ عاملہ کے اراکین نے شرکت کی۔

اجلاس کی صدارت مرکزی صدر لبریشن لیگ خواجہ منظور قادر ایڈووکیٹ نے کی۔ اجلاس کی کاروائی مرکزی سیکرٹری جنرل خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ نے سرانجام دی۔

اجلاس میں طے پایا کہ جموں کشمیر لبریشن لیگ بھرپور انداز میں آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات میں حصہ لے گی اور تمام انتخابی حلقوں سے اپنے امیدوار کھڑا کرے گی۔

اجلاس نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کی مجوزہ اٹھائسویں ترمیم جس کے ذریعہ آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کی خصوصی حیثیت کو بدلنے کی تجاویز زیر غور ہیں جموں کشمیر لبریشن لیگ اسے مسئلہ جموں کشمیر کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے اس مجوزہ ترمیم کو مسترد کرے گی اور اس کے خلاف بھرپور آواز بلند کرے گی۔

اراکین مجلس عاملہ نے آمدہ انتخابات کے لیے انتخابی اتحاد سمیت دیگر فیصلہ جات کا اختیار مرکزی کابینہ کو سونپ دیا اور پارٹی پالیسی مرتب کرنے اور نظریاتی قیود کے اندر رہ کر معاملات کو یکسو کرنے کے اختیارات دے دیے۔

جموں کشمیر لبریشن لیگ کے مرکزی صدر خواجہ منظور قادر نے کہا کہ آزاد جموں کشمیر کے عام انتخابات میں پاکستانی سیاسی جماعتوں کی فرنچائزوں پر پابندی عائد ہونی چاہیے اور بیرونی مداخلت کو بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات بروقت ہونے چاہییں اور کسی بھی قسم کے تاخیری حربے کو آئین سے انحراف گردانا جائے گا۔

انہوں نے تمام امیدواروں کو اپنے اپنے انتخابی حلقہ جات میں سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر قراردار پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔

Disclaimer:

A meeting of the Central Executive Committee of the Jammu Kashmir Liberation League was held at a local hotel in Rawalpindi, attended by members of the committee.

The meeting was chaired by the party’s central president, Khawaja Manzoor Qadir, while the proceedings were conducted by Secretary General Khaliq ur Rehman Saifi.
It was decided during the meeting that the Jammu Kashmir Liberation League would actively participate in the general elections for the Legislative Assembly of Azad Jammu and Kashmir and field its candidates in all constituencies.

The meeting also resolved to reject Pakistan’s proposed 28th Constitutional Amendment, under which changes to the special status of Azad Jammu and Kashmir and Gilgit-Baltistan are reportedly under consideration. The party termed the proposal an action against the Jammu and Kashmir dispute and vowed to raise a strong voice against it.

Members of the Executive Committee delegated authority to the central cabinet regarding electoral alliances and other key decisions for the upcoming elections, empowering it to formulate party policy and resolve matters within the framework of the party’s ideological principles.

Party president Khawaja Manzoor Qadir stated that franchises of Pakistani political parties should be banned from participating in the general elections in Azad Jammu and Kashmir and that outside interference must be stopped. He further emphasized that the elections should be held on time and that any delaying tactics would be considered a deviation from the constitution.

He also directed all candidates to intensify their political activities in their respective constituencies.

At the conclusion of the meeting, a resolution was presented and unanimously approved.

عباسپور(ریاض خواجہ سے) جموں کشمیر لبریشن لیگ کے سربراہ خواجہ منظور قادر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پاکستان میں 28 ویں آئینی ت...
20/05/2026

عباسپور(ریاض خواجہ سے) جموں کشمیر لبریشن لیگ کے سربراہ خواجہ منظور قادر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پاکستان میں 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے جہاں پاکستان کے اندرونی موجودہ نظام میں تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں وہیں پراس متنازعہ آئینی ترمیم کے ذریعہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر کے موجودہ اسٹیٹس میں بھی تبدیلی لا کر این ایف سی ایوارڈ کے ذریعہ مالی مراعات میں ظاہری طور پر کچھ اضافہ کر کے ان خطوں کے آئینی سٹیٹس میں تبدیلی لائی جا رہی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے صدر لبریشن لیگ نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کی وحدت اور حق خودارادیت کی تحریک سے جڑے ان دونوں خطوں کو بظاھر آئینی اور قانونی طور پر با اختیار کر کے تحریک آزادی کو تقویت دینے کی بجائے انہیں پاکستان کے آئین میں ترمیم کر کے بھارت کے طرز پر 5 اگست 2019ء کے قبیح اقدام کی طرح ان خطوں کو بھی صوبائی اسٹیٹس کی طرف لے جایا جا رہا ہے جو کہ تحریک ء آزادی جموں کشمیر کی روح کے صریحاً منافی ہے اور مسئلہ جموں کشمیر کے بارے میں پاکستان کے اصولی بنیادی موقف نیز بانی ء پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ کی کشمیر پالیسی سے بھی سراسر انحراف ہے خواجہ منظور قادر ایڈوکیٹ نے کہا کہ اگر ناتجربہ کاری میں اس طرح کا کوئی اقدام کیا گیا تویہ پاکستان کےسیاسی ،معاشی استحکام اور جغرافیائی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک اور نقصان دہ اقدام ثابت ہوگا نیز کشمیری عوام کی خواہشات کے مغائراور شھداء کی قربانیوں کے ساتھ غداری کے مترادف ہوگا اس لیے ایسے بھونڈے اقدامات سے اجتناب کیا جانا ہی پاکستان اور ریاست جموں کشمیر کے عوام اور ان خطوں کے وجود اور سالمیت کے مفاد میں بہتر ہے خواجہ منظور قادر نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کی بجائے پاکستان میں موجود کشمیر پراپرٹی، ہائیڈل پاور جنریشن اور دیگر ریاستی مالی اداروں میں ان خطوں کے عوام کوحصہ دار بنا کرمعاشی مسائل سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے اس لئے کوئی بھی ایسی آئینی ترمیم کرکے پاکستان کے مسائل میں مزید اضافہ نہ کیا جائے

محترم ذمہ داران، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، آزاد جموں و کشمیر!تاریخ گواہ ہے کہ جب تحریکیں صرف سڑکوں کی نذر ہو جائیں تو وہ...
19/05/2026

محترم ذمہ داران، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، آزاد جموں و کشمیر!

تاریخ گواہ ہے کہ جب تحریکیں صرف سڑکوں کی نذر ہو جائیں تو وہ جذبے کے دھارے میں بہہ کر سیاست کے کنارے تک نہیں پہنچ پاتیں۔ آپ نے عوامی شعور کو بیدار کیا، عوام کے سینے میں حق کا چراغ روشن کیا۔ اب اس روشنی کو محض احتجاج کے شعلے میں جلنے دینا، اس امانت کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

طاقتور اور کمزور کے معاہدے ہمیشہ ایک فریب ہوتے ہیں۔ طاقتور معاہدے کو وقفے کے طور پر استعمال کرتا ہے تاکہ سانس لے، صف بندی کرے اور پھر اسی ہاتھ کو مروڑے جس نے اس سے عہد لیا تھا۔ ستمبر 2025 کا معاہدہ بھی اسی تسلسل کی کڑی ہے۔ جب طے شدہ شرائط کاغذ کا بوجھ بن کر رہ جائیں اور جواب میں پھر شٹر ڈاؤن، پھر بندشیں، پھر لاشوں کا حساب، تو سوال اٹھتا ہے کہ ہم کس منزل کی طرف جا رہے ہیں؟

عوامی تحریک کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ سڑک سے اٹھ کر اسمبلی کے فرش پر کھڑی ہو۔ حقوق مانگنا ایک مرحلہ ہے، حقوق دینے والی کرسی پر بیٹھنا دوسرا اور فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ اگر آپ کو اپنی جدوجہد کی عوامی مقبولیت پر یقین ہے تو اعتماد کا ووٹ لینے میں تامل کیوں؟ اگر عوام کرپٹ مافیہ سے بیزار ہو چکے ہیں تو متبادل قیادت پیش کرنے میں تاخیر کیوں؟

میری رائے یہ ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی -جموں کشمیر لبریشن لیگ -کے پلیٹ فارم سے انتخابی میدان میں اترے۔ اس لیے کہ آپ کے 98 فیصد مطالبات عین وہی ہیں جو لبریشن لیگ کے 2021 اور 2026 کے منشور میں درج ہیں۔ لبریشن لیگ وہ واحد ریاستی سیاسی جماعت ہے جو قائد اعظم کی کشمیر پالیسی کی علمبردار ہے۔ یہی وہ جماعت ہے جس نے آزاد کشمیر کے لوگوں کو حقِ ووٹ دیا اور جمہوریت کی راہ ہموار کی۔ اس نے اقتدار کے بجائے اصولوں اور عوامی حقوق کی بات کی، اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے وہ روڈ میپ دیا جو اس مسئلے کے تینوں فریقین کے لیے قابلِ قبول ہے۔ نفرتوں کے بجائے محبتوں کو، اور اقتدار کے بجائے عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دی۔ اس جماعت کے بانی، جناب کے ایچ خورشید، کی امانت، دیانت، وژن اور اصول پسندی پر ان کے بدترین مخالف بھی کبھی حرف زنی نہ کر سکے۔

سڑک کی طاقت کو پارلیمان کی طاقت سے جوڑ کر ہی احتجاج کو قانون سازی میں بدلا جا سکتا ہے، اور یہی وہ راہ ہے جو آپ کے مطالبات کو عملی شکل دے گی۔ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے ہمیشہ بلند اور باعزت ہوتا ہے۔ عوام کو بنیادی حقوق کی بھیک مانگنے والا نہ بنائیے، انہیں حقوق دینے والا حکمران بنائیے۔

تاریخ آپ سے پوچھے گی کہ جب موقع تھا، جب عوام آپ کے ساتھ صف بہ صف کھڑے تھے، تو آپ نے اقتدار کا بوجھ اٹھانے کے بجائے اسے انہی سہولت کاروں کے حوالے کیوں کر دیا؟ ابھی وقت ہے کہ اس سوال کا جواب عمل سے دیا جائے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور جموں کشمیر لبریشن لیگ کا اتحاد محض ایک انتخابی مفاہمت نہیں، بلکہ عوامی تحریک کو دیرپا کامیابی کی ضمانت دینے والا فیصلہ ہو گا۔

لہٰذا میں آپ کو خلوص بھرے لہجے میں دعوت دیتا ہوں کہ آئندہ الیکشن کے لیے لبریشن لیگ کے پلیٹ فارم سے اتحاد کر کے میدان میں اتریے۔ یہ اتحاد اقتدار کی ہوس نہیں، اصولوں کی پاسداری قرار پائے گا۔ یہی وہ بہترین فیصلہ ہوگا جو آپ کی تحریک کو تحفظ دے گا، عوام کو متبادل قیادت دے گا، اور آزاد کشمیر کی سیاست کو ذاتی مفاد کے بجائے عوامی فلاح کے محور پر کھڑا کر دے گا۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ اب میدان خالی نہ چھوڑا جائے، بلکہ بصیرت، حکمت اور اصول کی سیاست سے ایک نیا نظم و اتحاد قائم کیا جائے۔

از: لالہ کشمیری
مورخہ: 19 مئی 2026

Address

46A Edgbaston Road
Birmingham
B129PB

Telephone

+441214403050

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JKLC posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organisation

Send a message to JKLC:

Share