14/06/2026
پشتون تحفظ مومنٹ صوابی نور محمد عرف نورے سکنہ اسماعیلہ صوابی کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اسے قانون، انصاف اور انسانی وقار کے خلاف ایک سنگین جرم قرار دیتی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق نور محمد عرف نورے، جو ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے، کو پہلے بے بنیاد اور مشکوک مقدمات میں ملوث کیا گیا۔ بعد ازاں پولیس کی جانب سے متعدد بار ان کے گھر پر چھاپے مارے گئے، جہاں ان کی اہلیہ اور معصوم بچوں کو تشدد، ہراسانی اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے ان کی اہلیہ اور بچوں کو بلاجواز کئی روز تک حوالات میں بند رکھا، جبکہ بچوں کے جسموں پر تشدد کے نشانات آج بھی موجود ہیں۔ یہ عمل نہ صرف انسانی حقوق بلکہ ملکی آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اب نور محمد عرف نورے کی ہلاکت نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر کسی شخص پر کوئی الزام تھا تو آئین، قانون اور عدالتیں موجود تھیں۔ کسی بھی ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ خود ہی مدعی، منصف اور جلاد بن جائے۔ ماورائے عدالت قتل ریاستی جبر کی بدترین شکل ہے جو نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے معاشرے کے خلاف جرم ہے۔
پی ٹی ایم صوابی واضح کرتی ہے کہ وہ اس واقعے کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات اپنے ذرائع سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ بہت جلد اس ظلم، بربریت، پولیس گردی اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور عوامی احتجاجی تحریک کا اعلان کیا جائے گا۔ ساتھ ہی متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں قانونی چارہ جوئی اور مقدمہ دائر کرنے کے تمام ممکنہ اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
ہم خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس واقعے میں ملوث اہلکاروں اور ذمہ دار افسران کے خلاف فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ کارروائی نہ کی گئی تو عوامی ردعمل کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں اور حکام پر عائد ہوگی۔
نور محمد عرف نورے کے خون کا حساب مانگنا صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ انصاف، انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والے ہر انسان کا فرض ہے۔