13/05/2026
**پریس ریلیز**
پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) خیبر پختونخوا کے کوآرڈینیٹر خیرالامین خان نے ضلع خیبر میں “خیبر امن پاڅون” پر ریاستی اداروں کی جانب سے کیے گئے کریک ڈاؤن، لاٹھی چارج اور آنسو گیس شیلنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی ریاستی جارحیت قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پُرامن عوامی احتجاج کو طاقت اور تشدد کے ذریعے دبانا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ خیبر کے عوام اپنے حقِ امن، حقِ زندگی اور حقِ تحفظ کے لیے پُرامن انداز میں سڑکوں پر نکلے تھے، مگر ریاستی اداروں نے ان پر تشدد، شیلنگ اور جبر کا راستہ اختیار کرکے یہ واضح کردیا کہ عوامی آواز کو آج بھی طاقت کے زور پر دبانے کی پالیسی جاری ہے۔
خیرالامین خان نے کہا کہ پشتون وطن گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگ، بدامنی، بارودی دھماکوں، جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کا شکار ہے، لیکن اس کے باوجود پشتون عوام اپنے حقوق کی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
انہوں نے گزشتہ روز لکی مروت میں ہونے والے خونریز دھماکے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل دھماکے، قتل و غارت اور بدامنی اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ بے گناہ عوام کا خون بہانا اور پھر امن کا مطالبہ کرنے والوں پر تشدد کرنا دوہرا ظلم ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔
پی ٹی ایم رہنما نے مطالبہ کیا کہ خیبر امن پاڅون کے شرکاء پر تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے اور پشتون علاقوں میں جاری ریاستی جبر، عسکریت اور خونریزی کا خاتمہ کیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پشتون تحفظ موومنٹ ہر قسم کے ظلم، جبر، دہشت گردی اور ریاستی تشدد کے خلاف اپنی جدوجہد مزید شدت کے ساتھ جاری رکھے گی۔