ہزارہ کی عوام کا ایک ہی مطالبہ صوبہ ہزارہ۔۔۔
اسلام آباد کے ساتھ شمولیت قابل قبول نہیں، ہمیں اختیارات دو۔۔۔ ہمارے وسائل ہمارا اختیار، صوبہ ہزارہ اور صوبہ ہزارہ کا دارالحکومت ضلع ہری پور۔
30/05/2026
ویلج کونسل پنیاں کے سیکرٹری جناب فیضان خان نے عید الاضحیٰ کے موقع پر اپنی ذمہ دارانہ اور مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری ویلج کونسل میں صفائی ستھرائی کے انتظامات کی خود نگرانی کی۔ ان کی قیادت میں قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو بروقت اٹھا کر مناسب طریقے سے ٹھکانے لگایا گیا، جس سے علاقے میں صفائی اور صحت بخش ماحول کو یقینی بنایا گیا۔
اہلیانِ علاقہ نے سیکرٹری فیضان خان اور ان کی پوری ٹیم کی انتھک محنت، لگن اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے ان کی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ انجام دی جانے والی یہ کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔
ہم سیکرٹری فیضان خان اور ان کی ٹیم کو اس بہترین کارکردگی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ان کے لیے مزید کامیابیوں کی دعا کرتے ہیں۔
28/01/2026
وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی نے پاک آسٹریا فاخوشولے ہری پور یونیورسٹی میں میڈیکل ،ڈینٹل و نرسنگ کالج کا افتتاح کر دیا
19/11/2025
عمران خان کی نامزد امیدوار محترمہ شہرناز عمرایوب خان کا حلقے کی عوام کے لیے خصوصی پیغام
جیت کا نشان۔کیتلی کا نشان۔
#کیتلی
12/11/2025
اسے ضد تھی جھکائو سر تب ہی دستار بخشوں گا
میں اپنا سر کٹا لایا وفا کا تاج جس پر تھا۔
12/11/2025
قیام امن کے لیے حکومت خیبر پختونخوا اور تمام سیاسی جماعتوں کا احسن اقدام، خیبر پختونخوا اسمبلی ہال امن جرگہ کے انعقاد کے لیے تیار۔ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے یہ تاریخی اجلاس آج منعقد ہوگا جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین شرکت کریں گے۔
05/11/2025
معاشرے پر بدعنوانی کے اثرات اور ان کا سدباب
تحریر: حافظ سرفراز خان ترین
بدعنوانی کسی بھی معاشرے کے لیے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ صرف رشوت، چوری یا مالی غبن تک محدود نہیں بلکہ اپنے عہد، اعتماد اور ذمہ داری سے انحراف بھی بدعنوانی کی ایک شکل ہے۔ ذاتی مفاد، دوستی، رشتہ داری یا دشمنی کے لیے اپنے اختیار یا حیثیت کا ناجائز استعمال بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح اپنی ملازمت کے اوقات کار میں لاپرواہی، تفویض کردہ کام میں تاخیر، یا فرائض کو غیر سنجیدگی سے انجام دینا بھی بدعنوانی کی ایک صورت ہے۔
کرپشن ایک ایسا مہلک مرض ہے جو چھوت کی طرح پھیلتا ہے اور معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ صرف مالی یا انتظامی بدعنوانی نہیں بلکہ اخلاقی، سماجی اور روحانی تباہی کا باعث بھی ہے۔ کرپشن آکاس بیل کی مانند ہے جو درخت سے لپٹ کر اس کی زندگی چوس لیتی ہے۔ اسی طرح جب معاشرے میں کرپشن جڑ پکڑ لے تو وہاں خوشحالی، انصاف اور ترقی کی جگہ ویرانی، محرومی اور مایوسی لے لیتی ہے۔
معاشرے پر بدعنوانی کے اثرات
جب کسی نظام میں بدعنوانی عام ہو جائے تو عوام کا اعتماد اداروں سے اٹھ جاتا ہے۔ انصاف بکتا ہے، میرٹ پامال ہوتا ہے، اور عوامی فلاح کے منصوبے ذاتی مفاد کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
عام شہریوں کے لیے جائز کام بھی رشوت اور سفارش کے بغیر ممکن نہیں رہتے۔ غریب اور متوسط طبقہ محرومی، ناانصافی اور ذہنی اذیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس طرح پورا نظام عدم توازن، بداعتمادی اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔
تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی شعبے کرپشن سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ اسپتالوں میں علاج کی سہولتیں ختم ہو جاتی ہیں، تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہوتے ہیں، ترقیاتی منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں، اور عوام کے ٹیکس سے جمع ہونے والا قومی خزانہ مخصوص افراد کی تجوریوں میں بند ہو جاتا ہے۔
ادارہ جاتی ذمہ داری
جہاں کہیں بھی بدعنوانی ہو رہی ہو، وہاں اس کی **بالواسطہ یا بلاواسطہ ذمہ داری اس ادارے کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔
اگر وہ خود اس میں شریک ہے تو مجرم ہے، اور اگر اس کی مجرمانہ غفلت کے باعث یہ سب کچھ ہو رہا ہے تب بھی وہ جواب دہ ہے۔ ایک دیانت دار، فرض شناس اور فعال سربراہ اپنے ادارے میں بدعنوانی کو جڑ پکڑنے نہیں دیتا، جبکہ غافل یا مفاد پرست سربراہ اپنے ماتحتوں کے ذریعے پورے نظام کو بدنام کر دیتا ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ تمام سرکاری محکموں کے سربراہان اور اہلکاروں کے لیے باقاعدہ تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا جائے جن میں شفاف طرزِ حکمرانی، دیانتداری، جواب دہی، اور عوامی خدمت کے اصولوں پر تربیت دی جائے۔ اس سے نہ صرف سرکاری نظم و ضبط بہتر ہوگا بلکہ ملازمین میں امانت داری، اخلاقی ذمہ داری اور قومی خدمت کا جذبہ بھی پیدا ہوگا۔
بدعنوانی کے محرکات
بدعنوانی کا آغاز اکثر ’’ضرورت‘‘ سے ہوتا ہے مگر جلد ہی یہ ’’لالچ‘‘ میں بدل جاتی ہے۔ بعض اوقات ملازمین کی آمدن ان کے اخراجات کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، خاص طور پر شادی، علاج یا فوتگی جیسے ہنگامی مواقع پر، تو وہ وقتی سہولت کے لیے ناجائز ذرائع اپناتے ہیں۔ رفتہ رفتہ یہی عمل ان کی عادت بن جاتا ہے۔ جب حرام ذرائع سے حاصل شدہ آمدنی معمول بن جائے تو انسان ضروریات سے بڑھ کر دولت کے انبار لگانے لگتا ہے۔
اسی طرح کچھ لوگ اپنی مالی حیثیت سے بڑھ کر دکھاوے اور نمود و نمائش کے خواہاں ہوتے ہیں۔ وہ اپنی سماجی برتری ثابت کرنے کے لیے ناجائز ذرائع سے مال کماتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں کئی ایسے افراد نظر آتے ہیں جن کی رہائش، طرزِ زندگی اور وسائل ان کی تنخواہ یا قانونی آمدن سے میل نہیں کھاتے۔ یہ بدعنوانی کی عملی مثالیں ہیں۔
بدعنوان عناصر اور ان کی اولاد پر اثرات
حرام ذرائع سے حاصل ہونے والی دولت وقتی آسائش تو دیتی ہے مگر سکون اور عزت نہیں۔ بدعنوان شخص کی اولاد اسی ماحول میں پرورش پاتی ہے جہاں دیانت اور محنت کی قدر نہیں رہتی۔ جب بچے دیکھتے ہیں کہ ان کے والد ناجائز طریقے سے دولت کماتے ہیں تو ان کے ذہن میں دیانت داری کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دولت ہی کامیابی کا معیار ہے۔ نتیجتاً یہ رویہ نسل در نسل منتقل ہوتا ہے، اور پورا معاشرہ اخلاقی انحطاط کا شکار ہو جاتا ہے۔
بدعنوانی سے متاثرہ افراد پر اثرات
بدعنوانی کے اصل متاثرین وہ عام شہری ہیں جو قانون پر اعتماد رکھتے ہیں مگر سسٹم ان کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے۔
جائز کام کے لیے بھی رشوت دینا پڑے تو یہ ایک شریف انسان کے وقار کے لیے سب سے بڑی توہین ہے۔ اسپتالوں میں علاج کے لیے سفارش، دفاتر میں کاغذ نکلوانے کے لیے رشوت، اور تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے تعلقات درکار ہوں تو معاشرہ انصاف سے خالی ہو جاتا ہے۔ اس طرح عوام کے دلوں میں ریاست کے خلاف نفرت جنم لیتی ہے، جو آگے چل کر قانون شکنی، بداعتمادی اور اجتماعی انتشار میں بدل جاتی ہے
بدعنوانی کا سدباب
کرپشن کے خاتمے کے لیے سب سے پہلا قدم خود احتسابی ہے۔ ہر فرد کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ نہ خود بدعنوانی کرے گا اور نہ کسی کو ایسا کرنے دے گا۔ کسی کام کے لیے چاہے کتنی ہی محنت یا وقت کیوں نہ لگے، ہمیں رشوت اور ناجائز ذرائع سے گریز کرنا چاہیے۔
بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں میں سچائی، دیانت داری، حلال رزق اور انصاف پسندی کا جذبہ پیدا کریں۔ انہیں یہ یقین دلائیں کہ پاکستان ان کا اپنا ملک ہے اور اس کی حفاظت اور خدمت ان کا فرض ہے۔
والدین اگر خود ناجائز ذرائع سے دولت کمائیں گے تو ان کے بچے بھی یہی روش اپنائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر گھر سے رزقِ حلال کی تحریک شروع کی جائے۔
اساتذہ طلبہ کے دلوں میں ایمانداری، انصاف اور وطن سے محبت کے جذبات پیدا کریں۔ میڈیا دیانتدار شخصیات کو نمایاں کرے تاکہ ایمانداری کو عزت اور کرپشن کو شرم کی علامت سمجھا جائے۔
بدعنوانی کے خلاف جنگ قانون سے نہیں بلکہ ضمیر کی بیداری سے جیتی جا سکتی ہے۔ اگر معاشرے کے ہر فرد، ہر والدین، ہر استاد اور ہر افسر نے اپنے دائرہ کار میں دیانت داری کو اپنا اصول بنا لیا تو کوئی طاقت کرپشن کو پنپنے نہیں دے سکتی۔
لیکن اگر ہم نے خاموشی اور مفاد پرستی کو ترجیح دی تو آنے والی نسلیں صرف مایوسی، ناانصافی اور اخلاقی زوال وراثت میں پائیں گی۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر دیانت داری، احتساب، انصاف اور خدمتِ خلق پر مبنی ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں بدعنوانی کے لیے کوئی جگہ باقی نہ رہے۔
نوٹ:
یہ مضمون نیب کے زیرِ اہتمام جاری ہفتۂ انسدادِ بدعنوانی کے سلسلے میں
معاشرے پر بدعنوانی کے اثرات اور ان کا سدباب
کے موضوع پر
حافظ سرفراز خان ترین، اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (اسٹیبلشمنٹ)
نے تحریر کیا ہے۔
Be the first to know and let us send you an email when Its All About Haripur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.