19/03/2026
خلیجی ممالک پر ایران کی جانب سے 18 مارچ کو ہونے والی حالیہ جارحیت نے اب ہر قسم کے ابہام کو ختم کر دیا ہے۔
قطر کی نارتھ فیلڈ (North Field) جیسی دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈز میں سے ایک کو نشانہ بنانا، سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع توانائی تنصیبات کی طرف بیلسٹک میزائل داغنا، اور متحدہ عرب امارات خصوصاً دبئی اور ابوظہبی کی سمت درجنوں ڈرونز اور میزائل بھیجنا، یہ سب کسی “محدود دفاعی ردعمل” کا حصہ نہیں بلکہ ایک مکمل علاقائی آگ بھڑکانے کی کھلی حکمت عملی ہے۔ مختلف عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق صرف 18 مارچ کے دن خلیجی فضائی دفاعی نظاموں نے مجموعی طور پر 200 سے زائد ڈرونز اور 70 کے قریب میزائل انٹرسیپٹ کیے، جبکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ تعداد 1000 ڈرونز اور 250 سے زائد میزائلوں تک جا پہنچی. یہ اعداد و شمار خود اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ معاملہ محض “چند فوجی اہداف” تک محدود نہیں رہا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں جیسے کہ Reuters، Al Jazeera، Associated Press اور Bloomberg کی رپورٹس میں واضح طور پر یہ ذکر کیا گیا کہ قطر کی گیس فیلڈ پر ہونے والے حملے نے عارضی طور پر پیداوار کو متاثر کیا، جبکہ سعودی عرب کے آرامکو انفراسٹرکچر کو بھی ہدف بنایا گیا۔ اسی طرح UAE کے حوالے سے Gulf News اور Khaleej Times نے رپورٹ کیا کہ فضائی دفاعی نظام نے متعدد اہداف کو فضا میں ہی تباہ کیا، تاہم شہری علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خطرہ صرف “فوجی اڈوں” تک محدود نہیں تھا بلکہ شہری فضا اور آبادی بھی اس کی زد میں آئی۔
اب سوال یہ ہے کہ ایران کے مداحین جو یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ
“ایران تو صرف امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے”
وہ ان کھلی حقیقتوں کو کس کھاتے میں ڈالیں گے؟ کیا قطر کی نارتھ فیلڈ کوئی امریکی فوجی اڈہ ہے؟ کیا سعودی آرامکو کی تنصیبات پینٹاگون کے زیرِ انتظام ہیں؟ کیا دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ جو دنیا کے مصروف ترین سول ایوی ایشن حبز میں سے ایک ہے کو گزشتہ سات دنوں سے مسلسل نشانہ بنانا کسی بھی زاویے سے “فوجی ہدف” قرار دیا جا سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ زمینی حقائق نے اس جھوٹے دعوی کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔
یہ حملے نہ صرف جنگی اصولوں (Rules of Engagement) بلکہ بین الاقوامی جنگی اخلاقیات کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاں شہری انفراسٹرکچر، توانائی کے مراکز اور کمرشل ایوی ایشن کو دانستہ طور پر خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ اگر واقعی ہدف صرف امریکی اڈے ہوتے تو ان حملوں کی نوعیت، سمت اور شدت کچھ اور ہوتی، مگر یہاں تو معاملہ صاف ہے، معاشی شہ رگوں پر وار، شہری آبادیوں کو خوف میں مبتلا کرنا، اور خلیجی استحکام کو ہلا کر رکھ دینا۔
ایران کا یہ طرزِ عمل دراصل اس کے اصل عزائم کو بے نقاب کرتا ہے۔ برسوں تک پراکسی جنگوں کے پردے میں رہ کر جو کھیل کھیلا گیا، اب وہ براہِ راست عرب سرزمین تک آ پہنچا ہے۔ یہ وہی سوچ ہے جو یمن میں حوثیوں کے ذریعے سعودی عرب کو نشانہ بناتی رہی، عراق اور شام میں عدم استحکام کو ہوا دیتی رہی، اور اب کھل کر خلیج کے قلب میں حملہ آور ہو رہی ہے۔ اس میں نہ کوئی “مزاحمت” ہے، نہ کوئی “دفاع”۔ یہ سیدھی سادی عرب دشمنی ہے جو اب کسی لفاظی کے پردے میں چھپنے کے قابل نہیں رہی۔
18 مارچ کے یہ حملے محض ایک دن کی خبر نہیں بلکہ ایک واضح اعلان ہیں کہ ایران اب خطے میں کشیدگی کو انتہا تک لے جانے پر تُلا ہوا ہے۔ اور اگر اب بھی کوئی یہ کہے کہ
“یہ صرف امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے”
تو اسے یا تو زمینی حقائق کا علم نہیں، یا وہ دانستہ طور پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔
(محمد فھد حارث)
#ایران #إيران