باچا خاني پکار ده

باچا خاني پکار ده This page is all about Political NEWS and info

03/27/2026

✌️
🕊️🕊️
😍🌹❤️🕊️✌️

01/14/2026
دی اکانومسٹ کی دلیر اور نڈر مصنفہ بشریٰ تسکین جس نے پینکی پیرنی کا پردہ قوم اور بین الاقوامی سطح پر فاش کیا 👏🏼❣️💥
11/16/2025

دی اکانومسٹ کی دلیر اور نڈر مصنفہ بشریٰ تسکین جس نے پینکی پیرنی کا پردہ قوم اور بین الاقوامی سطح پر فاش کیا 👏🏼❣️💥

پاکستانی تاریخ میں صرف ایک بار ایک آمر جرنیل کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کیا گیا اور اسے دستور توڑنے کی سزا سنائی گئی، ت...
11/11/2025

پاکستانی تاریخ میں صرف ایک بار ایک آمر جرنیل کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کیا گیا اور اسے دستور توڑنے کی سزا سنائی گئی، تاہم آپ جانتے ہیں کہ نہ صرف اس آمر کا مقدُمہ عمران خان حکومت نے لڑا بلکہ سزا دینے والے ٹریبینول ہی کو ثاقب نثار کی عدالت کے ذریعے کالعدم قرار دے دیا گیا۔
یہ سزا ہو جاتی تو پاکستان کے دستور کو توڑنے کی خواہش کرنے والے جرنیلوں کو عبرت ہوتی، لیکن یہ پی ٹی آئی نے جمہوریت اور دستور کے بجائے تب اقتدار اور جرنیلی اشیرباد کا ساتھ دیا۔
آج دستور کم زور اور جرنیل پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں۔ تاہم کوئی مضبوط جمہوری قوت موجود نہیں، جو ملک کو دوبارہ جمہوری پٹری پر لوٹائے۔
اس وقت ن لیگ سمیت تمام حکومتی جماعتیں بہ ظاہر فوج کی ایکسٹیشن ہیں اور جمہور یا جمہوریت سے کوسوں دور ہیں۔

ایک نئی نسل آگئی ہے جن کو بانی پی ٹی آئی سے عشق ہے، ان کونہ قوم کی پرواہ ہے نہ ملک کی: مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی
11/07/2025

ایک نئی نسل آگئی ہے جن کو بانی پی ٹی آئی سے عشق ہے، ان کونہ قوم کی پرواہ ہے نہ ملک کی: مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی

11/03/2025

اے این پی نے مولانا خانزیب شہید کے مبینہ قاتل کی ہلاکت سے متعلق حکومتی دعویٰ مسترد کر دیا
پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان انجینئر احسان اللہ خان نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی حکومت کے اس دعوے کو مسترد کرتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مولانا خانزیب شہید کے قاتل کو ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ترجمان انجینئر احسان اللہ خان نے کہا کہ مولانا خانزیب شہید کے حوالے سے اے این پی کا مؤقف روزِ اول سے بالکل واضح ہے۔ مرکزی صدر ایمل ولی خان صاحب نے سینیٹ کے فلور پر ایک آزاد جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا تھا، لیکن چار ماہ گزر جانے کے باوجود اس مطالبے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔اگر ریاست ہمارے شہداء کو انصاف فراہم نہیں کر سکتی تو کم از کم قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کرے۔ جوڈیشل کمیشن نہ بنانے سے ریاست کی نیت اور فتور واضح ہو چکا ہے۔انجینئر احسان اللہ خان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کسی بھی غیر شفاف یا بغیر تحقیق کے بیانیے کو تسلیم نہیں کرتی۔ شہداء کے خون کے انصاف کے لیے ہمارا مطالبہ وہی ہے کہ ایک آزاد، بااختیار اور شفاف جوڈیشل کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ایسا کمیشن تشکیل نہیں دیا جاتا، اے این پی مولانا خانزیب شہید اور دیگر شہداء کے لیے انصاف کی جدوجہد جاری رکھے گی۔

"بدامني او د سياسي قيادت امتحان!!! د قبائلي سيمو په شمول د پښتونخوا زياتره برخو کښې د وخت د بدامنۍ لړۍ روانه ده ، ژوندژو...
10/29/2025

"بدامني او د سياسي قيادت امتحان!!!
د قبائلي سيمو په شمول د پښتونخوا زياتره برخو کښې د وخت د بدامنۍ لړۍ روانه ده ، ژوندژواک متاثره او عام اولس پریشانه دې
د هر چاسر و مال غير محفوظ دې ،دقيام امن د پاره د واکمنو بيانيه او کارکردګي مايوس کن او قابل مزمت ده ـ
غوښتنه کوو چې د پښتونخوا سياسي ګوندونه او سماجي تنظيمونه دې د سيلابونو له وجې ملتوي کړې شوي د اسلام اباد په طرف د سپين بيرغ لاندي د قامي امن مارچ د پاره نيټه بلا تاخير اعلان کړي ، چه د شوې فيصلې نفاذ اوشي ـ د يادونې وړ ده چې د صوبي په سطح جوړه شوې قامي امن کميټي دې خپل مسئوليت ترسره کړي ـ باور لرو چې سياسي سماجي تنظيمونه او اولسي مشران به د امنيت په اړه د شريکو مقاصدو سره سمه تګ لاره جوړه کړي ، چې د امن د پاره په ګډه قامي مبارزه مخ په وړاندې لاړه شي نو د به آئينده د پاره د هر چا په ګټه کار وي ــــ"

شيخ جهان زاده ممبر مرکزي کونسل ANP.

10/28/2025

پښتون به څۀ دپرمختګ پۀ اهمیت پوهه شي

کتاب ډالۍ غواړي ، ټوپک ځان له پۀ بعيه اخلي

10/25/2025

پی ٹی آئی نے ایک تجربہ کار، بیٹھے ہوئے وزیرِاعلیٰ کے مقابلے میں ایک نو عمر وزیرِاعلیٰ کو محض اس بنیاد پر چنا کہ وہ “اینٹی اسٹیبلشمنٹ” ہیں اور عمران خان کی رہائی کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مگر یہ بیانیہ محض دکھاوا ثابت ہوا۔ حقیقت میں، یہی وزیر اعلیٰ ایک ہفتہ پہلے اے این پی کے دروازے پر ووٹ مانگنے گئے تھے، اور آج وہی شخص چارسدہ میں جلسہ کر کے اسی جماعت اور باچا خان کے گھرانے کے خلاف گالیوں کی سیاست کر رہا ہے۔
یہ جلسہ دراصل کسی عوامی ایجنڈے، ترقیاتی منصوبے یا عوامی مفاد کے لیے نہیں تھا — بلکہ اس کا واحد مقصد قوم پرست قیادت کو گالیاں دینا اور سیاسی کردار کشی کرنا تھا۔

یہ رویہ کوئی نیا نہیں۔ عمران خان کی پوری سیاسی حکمت عملی ہمیشہ سے اسی فلسفے پر استوار رہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کے لیے سیاست اور سیاسی جماعتوں کو بدنام کیا جائے۔ چارسدہ کا جلسہ دراصل اسی پرانے “خان وِژن” کی توسیع تھا۔ وہاں نہ گورننس کی بات ہوئی، نہ تعلیم، نہ صحت، نہ امن و امان — بس گالیاں، طعنے، اور نفرت۔
یہ سوچ قابلِ افسوس ہے کہ ایک ایسا نوجوان جسے مستقبل کی سیاست میں ایک نئے باب کے طور پر پیش کیا گیا، وہ آغاز ہی نفرت سے کرے۔

پختون سیاست ہمیشہ احترام، برداشت اور مکالمے کی روایت رہی ہے۔ باچا خان، ولی خان، اجمل خٹک، محمود خان اچکزی اور دیگر قومی رہنماؤں نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے جبر کے باوجود زبان کی شرافت اور اصولوں کی سیاست کو اپنایا۔
یہ بھی دلچسپ ہے کہ پی ٹی آئی خود کو “اینٹی اسٹیبلشمنٹ” کہہ کر پیش کرتی ہے، مگر ان کے اقدامات ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت کے اکثر اقدامات کا مقصد سیاست کو کمزور کرنا، جماعتوں کو بدنام کرنا، اور عوام میں مایوسی پھیلانا ہے، تاکہ ایک مضبوط اسٹیبلشمنٹ اپنی گرفت برقرار رکھ سکے۔

باچا خان کے گھرانے پر گالی دینا دراصل اُس تحریک کی توہین ہے جس نے پختون قوم کو شعور، تعلیم اور عدم تشدد کا سبق دیا۔
یہ بات سمجھنی ہوگی کہ گالی دینے والا بڑا نہیں بنتا، بلکہ اپنی چھوٹی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔

خان صاحب کے “وژن” کے زیرِ اثر آج بھی سیاست کو ایک سیاسی تھیٹر میں بدل دیا گیا ہے، جہاں مکالمہ ختم اور نفرت غالب ہے۔
یہی وہ سوچ ہے جس نے پاکستانی سیاست کو تقسیم کیا، پارلیمان کو کمزور کیا، اور عوام کو ایک دوسرے کا دشمن بنایا۔

یہ چارسدہ کا جلسہ ایک آئینہ تھا — جس میں نظر آیا کہ پی ٹی آئی کا نیا وزیر اعلیٰ بھی دراصل پرانے خان کے وژن کا پرانا عکس ہے — وہی اسٹیبلشمنٹ نوازی، وہی سیاسی منافقت، اور وہی گالی کی سیاست۔




10/25/2025

سب سے پہلے تو چارسدہ کی غیور عوام کا شکریہ جس نے وزیرِ اعلیٰ کی ایمل ولی خان کو گالی دینے پر نوٹس لیا ۔۔ اور بہت سارے ابھی سوشل میڈیا پر فعال ہے۔ کہتے ہیں۔۔ وزیر اعلیٰ چارسدہ کو کوئی پیکچ دینے کہ بجائے ہمیں گالیاں دے کر چلا گیا۔۔ چلو کچھ تو ہونا تھا ہوا۔۔۔
مگر تاریخ کیا ہے۔۔ شارٹ میں بتاتا ہوں

سلامی جلسے اور سازشیں ایک سوچا سمجھا کھیل

یہ کوئی اتفاق نہیں کہ جب بھی گملو میں اُگائے گئے مخصوص گروہ کا کوئی فرد وزیر اعلیٰ بنتا ہے. تو سب سے پہلا قدم پشاور کے کور کمانڈر کے دروازے پر سلامی دیتا ہے۔ یہ محض رسمی نہیں بلکہ ایک علامتی اعلان ہے وفاداری کا اطاعت کا اور شاید ہدایت لینے کا اس کے بعد اگلا سٹیج چارسدہ میں جلسے کا ہوتا ہے جہاں ایک ہی راگ الاپا جاتا ہے ہم نے عوامی نیشنل پارٹی کو ختم کر دیا۔ پھر ایمل ولی خان کو گالیاں دیتا ہے. آپ پرویز خٹک سے لیکر سہیل آفریدی تک سب پیریڈ دیکھیں۔۔ سب کچھ وہی ڈرامہ وہی سکریپٹ وہی گالم گلوچ۔

لیکن سوال یہ ہے۔ آخر صرف عوامی نیشنل پارٹی ہی کیوں نشانے پر ہے؟
اس سرزمین پر اور بھی سیاسی جماعتیں موجود ہیں مگر تکلیف صرف ایک سے ہے۔اس جماعت سے جو اس مٹی کی خوشبو رکھتی ہے۔ جو اس قوم کی آواز ہے۔جو پشتونخوا کے عوام کی اپنی پہچان ہے۔ جو پختونخوا اور پختونوں کی بات کرتی ہیں یہاں کی وسائل کی بات کرتی ہیں یہاں کی بربادی کی بات کرتی ہیں۔

تحریک انصاف کے ڈائریکٹرز شاید جانتے ہیں کہ عوامی نیشنل پارٹی محض ایک سیاسی جماعت نہیں ہے۔ بلکہ ایک نظریہ ہے خودداری کا جمہوریت کا اور قومی شناخت کا اسی لیے ہر سازش ہر جلسہ اور ہر حکم کا ہدف یہی جماعت بنتی ہے

مگر یاد رکھو، جن کی جڑیں مٹی میں ہوں انہیں کوئی وقتی طوفان نہیں اکھاڑ سکتے ہیں۔
صرف چارسدہ نہیں پورا پختونخوا سوچ لیں صرف دوسری سیاسی پارٹیوں کا ورکر نہیں ۔ خود پی ٹی آئی کا ورکر بھی سوچ لیں۔ کہ اس جماعت کی لیڈرشپ کی مال متاع میں کتنا اصافہ ہوا؟ ورکر کو کیا ملا؟ اور پختونخوا کو کیا ملا؟
افسر نگار خان

Address

Los Angeles, CA

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when باچا خاني پکار ده posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share