پاک وطن Pak WaTan

پاک وطن Pak WaTan #لیڈر
دنیا کا وہ واحد لیڈر، جنھوں نے 63 سل کی عمر پائی۔
ا?

یہ راولپنڈی کے بازار گنج منڈی کی ایک تصویر اور سچائی ہے۔یہ دن بھر بوریوں کا بوجھ اٹھانے والی زخمی پیٹھیں، رات کو اسی لکڑ...
10/09/2026

یہ راولپنڈی کے بازار گنج منڈی کی ایک تصویر اور سچائی ہے۔

یہ دن بھر بوریوں کا بوجھ اٹھانے والی زخمی پیٹھیں، رات کو اسی لکڑی کے ریڑھے پر سکون کی نیند ڈھونڈتی ہیں۔ دن بھر جو ریڑھے سامان ڈھوتے ہیں رات کو وہی ان محنت کشوں کا بستر بن جاتے ہیں۔

ذرا سوچئے! یہاں سے محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر راجہ بازار کی 'ماڈل سٹریٹ' ہے جہاں سڑکوں کی سجاوٹ اور تاریں چھپانے پر 50 کروڑ روپے پانی کی طرح بہا دیے گئے۔
اور اگر وہاں سے صرف 6 کلومیٹر آگے چلے جائیں تو کمرشل مارکیٹ کا پیڈسٹریئن زون آتا ہے جہاں 80 کروڑ روپے کی نچھاور کی گئی چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہے۔

فاصلہ محض چند کلومیٹر کا ہے مگر تضاد کتنا بڑا ہے؟

ایک طرف کروڑوں روپے کی لائٹنگ، چکا چوند اور سجاوٹیں ہیں اور دوسری طرف اسی شہر کا وہ مزدور ہے جس کے پاس رات کو سر چھپانے کے لیے ایک چھت تک نہیں۔
کیا ترقی کا مطلب صرف سڑکیں بنانا، انہیں خوب چمکانا، روشن کرنا اور انہیں سجانا ہے؟ کیا اس شہر کے غریب کا حال بدلنا بھی ترقی کا حصہ ہے یا نہیں؟🤔

کرپشن کا دو قومی نظریہ 22 کروڑ کی کرپشن پر ڈی آئی جی محبوب للہ کو صرف او سی ڈی بنایا گیا کوئی گرفتاری کوئی مقدمہ نہیں او...
07/09/2026

کرپشن کا دو قومی نظریہ
22 کروڑ کی کرپشن پر ڈی آئی جی محبوب للہ کو صرف او سی ڈی بنایا گیا کوئی گرفتاری کوئی مقدمہ نہیں اور چند ہزار کی کرپشن پر اسی فورس کے اہلکار سے یہ سلوک

05/09/2026

بہتا پانی، گھومتا پہیہ اور انسان کی تخلیقی سوچ - قدرت اور ہنر کا خوبصورت امتزاج ✅💝
پاک وطن Pak Wa Tan🇵🇰

چودھری پرویز الہیٰ نے ریسکیو 1122 قائم کی، 10 سال بعد دوبارہ حکومت میں آئے تو ایمرجنسی سروسز بل منظور کرایا، 1122 کو خود...
05/09/2026

چودھری پرویز الہیٰ نے ریسکیو 1122 قائم کی، 10 سال بعد دوبارہ حکومت میں آئے تو ایمرجنسی سروسز بل منظور کرایا، 1122 کو خودمختار ادارہ بنوایا، 1122 موٹرسائیکل سروس شروع کرائی، لیکن یقین کریں ایمبولینسز پر تصویریں لگوانے کا خیال چودھری صاحب کو بھی نہیں آیا۔۔۔
پاک وطن Pak Wa Tan🇵🇰

05/09/2026

بےشرم خاندان علاج کے لیےلندن، تعلیم کے لیے لندن جبکہ پاکستان صرف لوٹنے کے لیے رکھا ہوا ہے.. مریم گیراجن اپنی بیٹی کی ڈگری کی تقریب میں لندن ا رہی ہے.. جبکہ باپ علاج کے لیے... پاکستانیو اپنی نسلوں پہ رحم کرو اور 29 ستمبر کو گھروں سے نکل کر اس جعلی نظام کے گرا دو

فارم 47 حکومت کے کارنامے: بچت کے انوکھے طریقوں پر نوبل انعام ملنا چاہیے ۔۔. #پاک وطن Pak Wa Tan🇵🇰
04/09/2026

فارم 47 حکومت کے کارنامے:
بچت کے انوکھے طریقوں پر نوبل انعام ملنا چاہیے ۔۔.
#پاک وطن Pak Wa Tan🇵🇰

ڈیرہ بگٹی میں دیہات  سے آئے ہوئے  ایک غریب کے کپڑوں سے اندازہ کریں یہاں کے حکمرانوں نے ان کے لیے کیا کچھ نہیں کی دنیا کہ...
04/09/2026

ڈیرہ بگٹی میں دیہات سے آئے ہوئے ایک غریب کے کپڑوں سے اندازہ کریں یہاں کے حکمرانوں نے ان کے لیے کیا کچھ نہیں کی دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گیا یہاں کے باسیوں کو دو وقت کی روٹی اور کپڑا تک میسر نہیں
🇵🇰💔

پہلے فوج، پھر ملک۔ اور آخر میں؟پہلا مرحلہ: فوج کو ایک ہاتھ میں لانانومبر 2025 کی 27ویں ترمیم نے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہ...
03/09/2026

پہلے فوج، پھر ملک۔ اور آخر میں؟

پہلا مرحلہ: فوج کو ایک ہاتھ میں لانا

نومبر 2025 کی 27ویں ترمیم نے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ بنایا، فائیو اسٹار رینک دیا، پانچ سالہ مدت مقرر کی، عمر کی حد ختم کی، اور تاحیات قانونی استثنیٰ دیا۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس کا توازن رکھنے والا عہدہ ختم کر دیا گیا۔

اور 20 اگست 2026 کے ڈیفنس فورسز ایکٹ نے یہ کام مکمل کر دیا: تینوں افواج کے کسی بھی افسر کی ترقی، برطرفی، ریٹائرمنٹ، سب ایک ہی دفتر کے اختیار میں۔ ساتھ ہی وزیرِاعظم کا بنیادی مشیر ہونا، اور ایٹمی کمانڈ کی تقرری کی سفارش کا اختیار بھی۔

یہ پہلا مرحلہ تھا، اور یہ مکمل ہو چکا ہے۔ ادارے کے اندر اب کوئی متبادل مرکز باقی نہیں۔

دوسرا مرحلہ: ملک کا نقشہ

30 جولائی کو محسن نقوی نے کہا کہ "نظام گر چکا ہے" اور نئے انتظامی یونٹس ہی حل ہیں۔ اگلے ہی دن ڈی جی آئی ایس پی آر نے انتظامی "ری سیٹ" پر غور کی بات کی۔

اور اب احسن اقبال 15 نئے صوبوں یا 160 ضلعی حکومتوں کی تجویز دے رہے ہیں۔ زیرِ غور تجاویز میں کراچی اور گوادر کو وفاقی کنٹرول میں لانا، پنجاب کو تین اور کے پی کو دو حصوں میں تقسیم کرنا شامل ہے۔

اور اس کا اصل مطلب کیا ہے؟

بظاہر یہ اختیارات نیچے دینے کی بات ہے۔ عملاً نتیجہ الٹ ہے۔

آج چار بڑے صوبے ہیں، اور ایک بڑا صوبہ مرکز کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے، مول تول کر سکتا ہے، انکار کر سکتا ہے۔

انہیں پندرہ یا بیس چھوٹے یونٹس میں توڑ دیں، تو ہر یونٹ کے وسائل کم، مرکز پر انحصار زیادہ، اور مزاحمت کی صلاحیت تقریباً ختم۔

اور ایک اور اثر بھی ہے: بڑے صوبوں کی نسلی اور لسانی شناخت، جو آج ایک سیاسی طاقت ہے، چھوٹے یونٹس میں بٹ کر کمزور پڑ جاتی ہے۔ پختون، سندھی، بلوچ، سرائیکی، سب اپنی اپنی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم۔ اور جو قوم تقسیم ہو، وہ منظم مزاحمت نہیں کر سکتی۔

نام تقسیمِ اختیار کا، اور نتیجہ مکمل مرکزیت کا۔

اور تیسرا مرحلہ؟

جو بات سیاسی حلقوں میں کھلے عام ہو رہی ہے، وہ یہ ہے کہ اصل منزل صدارتی نظام ہے۔ اور اسی سے جڑا وہ سوال ہے جو محسن نقوی کے اُس جملے سے نکلتا ہے: "جمہوریت کی بھی کئی شکلیں ہوتی ہیں۔"

اور یہ سوچنے کی بات ہے: جس شخص کے پاس فوج کا مکمل اختیار، ایٹمی کمانڈ کی سفارش، تاحیات استثنیٰ، اور عالمی سطح پر پذیرائی، سب موجود ہو، اُس کے پاس اب کیا باقی ہے؟

صرف ایک چیز: آئینی عہدہ۔

فیصلے وہ کرتا ہے، مگر دستخط کوئی اور کرتا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں کرسی کسی اور کی ہے۔ اور جب کوئی کامیابی ہو، اعلان کسی اور کے نام سے ہوتا ہے۔

یہ فرق زیادہ دیر برداشت نہیں ہوتا۔

اور یہی وہ ترتیب ہے جو نظر آ رہی ہے

پہلے ادارے کے اندر کوئی روکنے والا نہ چھوڑنا۔ پھر صوبوں کو اتنا چھوٹا کر دینا کہ باہر سے بھی کوئی روکنے والا نہ بچے۔ اور آخر میں، نظام کی شکل ایسی بنا لینا کہ اختیار اور عہدہ ایک ہی جگہ جمع ہو جائیں۔

جب ہر قدم پچھلے قدم سے منطقی طور پر جڑا ہو، اور سب ایک ہی سمت میں جا رہے ہوں، تو انہیں الگ الگ اتفاق کہنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اور یہی وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کو پوچھنا چاہیے: یہ سفر کہاں جا کر رکے گا؟

تحریر: محمد فرخ

Muhammad Farrukh

چارسدہ میں میٹر ریڈر  کی بے حسی 80 سالہ بابا نور حسن کی موت پر ختم ہوا۔آج ایک 80 سالہ ضعیف اور غریب ریٹائرڈ چوکیدار نور ...
02/09/2026

چارسدہ میں میٹر ریڈر کی بے حسی 80 سالہ بابا نور حسن کی موت پر ختم ہوا۔
آج ایک 80 سالہ ضعیف اور غریب ریٹائرڈ چوکیدار نور حسن چارسدہ میں واقع پیسکو کے سنسان دفتر میں کرسی پر ٹڑپتا رہا اور عملہ انسانیت کو بھلا کر دفتر چھوڑ کر بھاگ گئے۔
محکمہ تعلیم کے اس سابق ملازم کے گھر جب پچاس ہزار روپے کا بل اور جرمانہ بھیجا گیا تو ان کے پاس دو وقت کی روٹی کے پیسے بھی نہیں تھے۔ ان کے بھائیوں نے ترس کھا کر ان کے گھر پر ایک چھوٹا سولر پینل لگایا تھا تاکہ بجلی کا بل ان کے کمزور کندھوں پر بوجھ نہ بنے مگر پیسکو اہلکاروں نے بغیر کسی جواز کے پچاس ہزار کا بل تھوپ دیا۔ ورثاء کا الزام ہے کہ میٹر ریڈر فیاض ان سے جرمانہ ختم کرنے کے بدلے رشوت کا مطالبہ کر رہا تھا جس کی ادائیگی بابا کی استطاعت سے باہر تھی۔
بدھ کی صبح بابا نور حسنجب اپنا بل کم کرانے پیسکو دفتر پہنچے تو وہاں مذکورہ میٹر ریڈر سے تکرار ہوئی اور اس دوران ایس ڈی او کے دفتر میں ہی انہیں دل کا دورہ پڑا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پیسکو عملہ بابا کی مدد کرنے کے بجائے دفتر چھوڑ کر نکل گیا اور وہ 15 منٹ تک وہیں فرش پر تڑپتے رہے۔ جب لوگ اندر پہنچے تو بابا نور حسن کی روح پرواز کر چکی تھی۔
واقعے کے بعد ورثاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے پولیس کو میٹر ریڈر کے خلاف کارروائی کی درخواست دے دی ہے جس پر کاروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔
حکومت اور اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ پیسکو کے آڈٹ اور بلنگ کے فرسودہ نظام کی مکمل اصلاح کریں تاکہ آئندہ کسی اور غریب کا بوڑھا باپ اس بے حسی کی بھیٹ نہ چڑھے۔

Address

Riyadh
12745

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when پاک وطن Pak WaTan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to پاک وطن Pak WaTan:

Shortcuts

Share