10/09/2026
یہ راولپنڈی کے بازار گنج منڈی کی ایک تصویر اور سچائی ہے۔
یہ دن بھر بوریوں کا بوجھ اٹھانے والی زخمی پیٹھیں، رات کو اسی لکڑی کے ریڑھے پر سکون کی نیند ڈھونڈتی ہیں۔ دن بھر جو ریڑھے سامان ڈھوتے ہیں رات کو وہی ان محنت کشوں کا بستر بن جاتے ہیں۔
ذرا سوچئے! یہاں سے محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر راجہ بازار کی 'ماڈل سٹریٹ' ہے جہاں سڑکوں کی سجاوٹ اور تاریں چھپانے پر 50 کروڑ روپے پانی کی طرح بہا دیے گئے۔
اور اگر وہاں سے صرف 6 کلومیٹر آگے چلے جائیں تو کمرشل مارکیٹ کا پیڈسٹریئن زون آتا ہے جہاں 80 کروڑ روپے کی نچھاور کی گئی چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہے۔
فاصلہ محض چند کلومیٹر کا ہے مگر تضاد کتنا بڑا ہے؟
ایک طرف کروڑوں روپے کی لائٹنگ، چکا چوند اور سجاوٹیں ہیں اور دوسری طرف اسی شہر کا وہ مزدور ہے جس کے پاس رات کو سر چھپانے کے لیے ایک چھت تک نہیں۔
کیا ترقی کا مطلب صرف سڑکیں بنانا، انہیں خوب چمکانا، روشن کرنا اور انہیں سجانا ہے؟ کیا اس شہر کے غریب کا حال بدلنا بھی ترقی کا حصہ ہے یا نہیں؟🤔