10/07/2026
سوشل ورک" یا "سوشل میڈیا کا تماشہ"؟ آئیے حقیقت بدلیں!
آج میرے ایک ایسے مخلص دوست نے فیس بک پر یہ درد بھری پوسٹ لکھی ہے، جو خود خاموشی سے معاشرے کی خدمت کرتے ہیں۔ اللہ پاک ان کی اس بے لوث خدمت کو قبول فرمائے اور ان کے جذبے کو سلامت رکھے۔
ان کی یہ سچی تحریر ہم سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے
دوست کے اصل الفاظ (پشتو میں)
"سوشل ورک ٹول فیسبک تہ شو عملی کار صفر دے زہ خو حیران یم چی ہر سڑے زان سرہ سماجی کارکن لیکی مونگ خو دی 22 کالہ کی د ددوی د سماج د پارہ سہ اونہ لیدل تشی خبری کول او تصویران سوشل ورک نہ دے۔
#دروغجن سوشل ورکرانو تہ ڈالے #"
ان کی اس تحریر نے مجھے گہرائی سے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر ہم کب تک فیس بک پر "دکھاوے کے سوشل ورک" کو برداشت کرتے رہیں گے؟ ہم سب دیکھتے ہیں کہ کسی مجبور انسان کو ایک وقت کا کھانا یا چند روپے دیتے ہوئے دس لوگ تصویریں کھینچ رہے ہوتے ہیں۔ غریب کی مجبوری کو لایک اور کمنٹس سمیٹنے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ کیا ۲۲ سالوں سے جاری اس دکھاوے نے ہمارے معاشرے کی غربت ختم کی؟ بالکل نہیں!اب وقت آ گیا ہے کہ ہم "نام نہاد سوشل ورکرز" پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ خود کو بھی بدلیں اور فلاحی کاموں کا ایک نیا اور ریل معیار طے کریں۔
میرے دوست کی اس سوچ کو آگے بڑھانے کے لیے ان چار اصولوں کو اپنائیں
چہرہ چھپائیے, عزت بچائیے
(No-Photo Policy):
اگر آپ کسی کی مدد کر رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ وہ انسان ہے، کوئی نمائش کی چیز نہیں! فنڈز کی شفافیت کے لیے اگر تصویر ضروری بھی ہو، تو صرف سامان کی تصویر لگائیں، لینے والے کا چہرہ لازمی چھپائیں۔
راشن کا تھیلا نہیں، ہنر کو سہارا دیں:کسی کو روز روز راشن دے کر محتاج بنانے کے بجائے، اس انسان کی صلاحیت اور ہنر کو دیکھیں۔ اس کے ہنر کے مطابق اسے کوئی ایسا ذریعہِ معاش فراہم کریں جس سے وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔ پائیدار حل ہی غربت کا خاتمہ کر سکتا ہے۔
سوشل ورک صرف پیسے بانٹنا نہیں ہے:اگر آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں، تب بھی آپ بہترین سوشل ورکر بن سکتے ہیں۔ اپنے علاقے میں درخت لگانا (شجرکاری)، گلی محلوں کی صفائی، نوجوانوں کی ذہنی کونسلنگ، اور معاشرتی برائیوں (جیسے منشیات اور جہالت) کے خلاف آواز اٹھانا بھی عظیم سماجی خدمات ہیں۔
عوامی احتساب شروع کریں:صرح فیس بک کی لمبی چوڑی پوسٹوں پر کسی کو "سماجی رہنما" نہ مانیں۔ گراؤنڈ پر ان کے عملی کام کا ثبوت مانگیں۔ جب عوام سوال کرے گی، تو جھوٹے دعوے کرنے والے خود ہی پیچھے ہٹ جائیں گے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم سستی شہرت کے اس فیس بک کلچر کا حصہ نہیں بنیں گے اور اپنے ان خاموش ہیروز کا ساتھ دیں گے جو سچے دل سے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔
آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟
کمنٹ میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کریں اور اس پوسٹ کو شیئر کر کے اس مہم کا حصہ بنیں۔