15/03/2026
آخری طاق رات
*لیلته القدرکیا ہے*
✨✨✨✨✨✨✨
☘ ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے
☘ جس میں فرشتے اپنے رب کے حکم سے اترتے ہیں
☘ وہ رات جس میں روح الامین حضرت جبرائیل علیہ اسلام اترتے ہیں
☘وہ رات جو برکتوں والی ہے
☘وہ رات جو سراسر سلامتی ہے
( القدر )
🌹لیلته القدر ہزار مہینوں سے بہتر ایک رات ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں قرآن نازل کیا گیا
✨✨✨✨✨✨✨
*لیلته القدر کے بارے میں رسول صلی اللہ علیه وسلم نے کیا ہدایات دی ہیں*
✨✨✨✨✨✨✨
☘ رمضان کا مہینہ شروع ہوا تو رسول صلی اللہ علیه وسلم نے فرمایا " تمہارے پاس یہ مہینہ آگیا ہے اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینے سے افضل ہے جو اس رات ( کا ثواب حاصل کرنے) سے محروم رہا وہ ہر بهلائی سے محروم رہا اس کے خیر سے وهی محروم رہتا ہے جو واقعی محروم ہے" (ابن ماجہ)
✨✨✨✨✨✨✨
*نبی صلی اللہ علیه وسلم کا طرز عمل*
✨✨✨✨✨✨✨
☘ نبی صلی اللہ علیه وسلم کے طرز عمل کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں "جب رمضان کا آخری عشرہ آتا آپ صلی اللہ علیه وسلم اپنا تہبند مضبوط باندهہ لیتے یعنی اپنی کمر کس لیتے تهے
ان راتوں میں خود بهی جاگتے اور اپنے گهر والوں کو بهی جگاتے تهے" (بخاری)
✨✨✨✨✨✨✨
*کیا لیلته القدر کو تلاش کرنا چاہیے*
✨✨✨✨✨✨✨
☘ *رسول صلی الله علیه وسلم نے فرمایا "شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو"*
( بخاری )
☘ ہمیں چاہیے کہ آخری عشرے میں خصوصی عبادات کا اہتمام کریں
❣صرف *27 شب* کو نہیں بلکہ تمام طاق راتوں میں
🔺 *طاق راتوں سے مراد 29،27،25،23،21 یہ پانچ راتیں ہیں*
🎯 ان میں ہم نے یکساں عبادت کرنی
ہے
✨✨✨✨✨✨✨
*اس رات میں کرنے والے کام کون سےہیں*
✨✨✨✨✨✨✨
📌 شب قدر کا قیام
📌قرآن کی تلاوت
📌 صدقہ و خیرات
📌 دعائیں
📌 ذکر
🌟🌙🌟🌙🌟🌙🌟
تیسری طاق رات
اسم الاعظم
وہ کلمات جنکے پڑھنے سے دعائیں قبول ہوتی ہیں
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَسْأَلُكَ أَنِّیْ أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَد*
اے الله! بے شک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا تو ہی الله ہے، تیرے سوا کوئی اله نہیں تو ایک ہے، بے نیاز ہے، ایسی ذات ہے جس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور نہ ہی وہ جنم دیا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے۔
*اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا اِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِیْكَ لَكَ الْمَنَّانُ بَدِیْعُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ*
اے الله! بے شک میں تجھ سے (اس وسیلے سے) مانگتا ہوں کہ ساری حمد تیرے لیے ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔ بہت زیادہ احسان کرنے والا آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا، (اے) جلال اور اکرام والے!
*لَا اِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ*
تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ظلم کرنے والوں میں سے ہوں۔
*اَللّٰهُمَّ لَا اِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِیْعُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ
ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ*
اے الله !تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو بہت ہی احسان کرنے والا، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے (اے) جلال اور اکرام والے!
*لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ*
الله کے سوا کوئی الٰہ نہیں
*لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ،وَهُوَعَلٰی كُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر، اَلْحَمْدُ للهِ وَسُبْحَانَ اللهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ أَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِیْ*
الله کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے، اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ سب تعریف الله ہی کے لیے ہے، الله پاک ہے، الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور الله سب سے بڑا ہے اور الله کی مدد کے بغیر نہ (برائی سے بچنے کی) ہمت ہے نہ (نیکی کرنے کی) طاقت۔ اے الله مجھے معاف کردے۔
اسی طرح بعض مفسرین *یاحي يا قيوم* کو اسم اعظم بتاتے ہیں
لیلۃ القدر
لیلۃ القدر سال كی سب سے جلیل القدر رات ہے، اس كے بے شمار فضائل ہیں، اللہ تعالی نے خود قرآن كریم میں ایک سے زائد مقامات پر اس رات كی فضیلت بیان فرمائی ہے، بلكہ ایک پوری سورت، سورت القدر صرف اور صرف اس رات كی فضیلت میں نازل فرمادی۔
اس رات كے چند فضائل درج ذیل ہیں:
1⃣ اس میں قرآن كریم نازل ہوا، (یعنی نزول كا آغاز ہوا، اور پورا قرآن آسمان دنیا پر نازل ہوا)۔
2⃣ یہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے، لہذا جس نے اس ایک رات كی عبادت كو پالیا اس نے ہزار مہینوں سے بھی زیادہ كی عبادت كو پالیا۔
3⃣ اس رات میں فرشتے اپنے سردار حضرت جبریل علیہ السلام كے ساتھ نازل ہوتے ہیں، جو رحمت وبركت كی عظیم نشانی ہے۔
4⃣ یہ رات سراسر سلامتی ہے۔
سورت القدر میں اللہ تعالی كا ارشاد ہے:
(ترجمہ) " شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان ہے، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا چیز ہے ؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح (یعنی جبریل) اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں۔ وہ رات سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک۔"
5⃣ یہ مبارک رات ہے. ارشاد باری تعالی ہے:
(ترجمہ) "حم، قسم ہے اس کتاب کی جو حق کو واضح کرنے والی ہے، کہ یقینا ہم نے اسے ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔ (کیونکہ) ہم لوگوں کو خبردار کرنے والے تھے۔"
(سورۃ الدخان: 1-3)
6⃣ اس میں پورے سال كی تقدیر یا تمام معاملات كے فیصلے لوح محفوظ سے نكال كر فرشتوں كو سونپ دئے جاتے ہیں، اللہ تعالی كا ارشاد ہے:
" اسی رات میں ہر حکیمانہ معاملہ ہمارے حکم سے طے کیا جاتا ہے۔ (یا تقسیم كیا جاتا ہے)"
(سورۃ الدخان: 4)
7⃣ رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس نے لیلۃ القدر کا قیام ایمان کے ساتھ اور ثواب کے لئے کیا تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔"
(بخاری: 1901، مسلم:760)
لیلۃ القدر آخری عشرے كی طاق راتوں میں سے ایک ہے: ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ كی لمبی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
(بخاری: 2016، مسلم:1167)
یہی بات دیگر صحابہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل كی ہے۔ نیز مختلف روایات میں ان طاق راتوں میں سے كچھ كی تخصیص بھی آئی ہے، ان تمام روایات كو جمع كركے بعض علماء اس نتیجے پر پہنچے ہیں كہ لیلۃ القدر آخری عشرے كی طاق راتوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
لیلۃ القدر كی فضیلت كا حصول محض جاگ كر نہیں ہوسكتا، بلكہ گپ شپ وغیرہ میں محض جاگ كر رات گزارنا تو اس رات كا ضیاع اور ناقدری ہے، اس فضیلت كا حصول عبادات اور نیكی كے كاموں میں مشغول رہ كر اور خوب محنت كركے ہی ہو سكتا ہے، لہذا ان راتوں میں نوافل، تلاوت اور مطالعۂ قرآن، ذكر، دعاء اور صدقے وغیرہ كا خوب اہتمام كرنا چاہئے، اور عبادت میں خشوع وخضوع لانے كی كوشش اور اللہ كے سامنے عاجزی وگریہ وزاری كرنی چاہئے۔
ليلۃ القدر كی خاص دعا:
ام المؤمنین عائشہ (رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں ؟ آپ نے فرمایا : " پڑھو
«اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي»
" اے اللہ ! تو عفو و درگزر کرنے والا مہربان ہے، اور عفو و درگزر کرنے کو تو پسند کرتا ہے ، اس لیے تو ہمیں معاف و درگزر کر دے "۔
(ترمذی: 3513)
اللہ تعالٰی ہم کو صحیح سمجھ کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق دے آمین.