PTI zhob پی ٹی آئی ژوب

PTI zhob پی ٹی آئی ژوب 804

02/06/2026

اج عمران خان سے ملاقات کادن ہے ہر عہدیدار اڈیالہ ضرور پہنچیں
ہر راستہ اڈیالہ کی طرف

02/06/2026
ایک نعرہ ہوجائےتیرا یار میرا یار قیدی نمبر 804 ❤
02/06/2026

ایک نعرہ ہوجائے
تیرا یار میرا یار
قیدی نمبر 804 ❤

اپوزیشن لیڈر محترم محمود خان اچکزئی پر غیر قانونی ایف آئی آر کاٹنے کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہے
01/06/2026

اپوزیشن لیڈر محترم محمود خان اچکزئی پر غیر قانونی ایف آئی آر کاٹنے کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہے

01/06/2026

گلگت بلتستان الیکشن!
مورخہ7جون 2026،
سکردو 2 ،
پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار: محمد کاظم میثم
انتخابی نشان: خیمہ

30/05/2026

‏بیرسٹر حسان نیازی کو عید کے تیسرے دن اپنی والدہ سے ملاقات سے محروم رکھنا ریاستی بے حسی ،کم ظرفی ،اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے۔ چھوٹے لوگ جب اقتدار کے مالک بن جائیں تو ریاستی جبر شتر بے مہار ہو جاتا ہے۔آئین قانون غیر منتخب قوتوں کے ہاتھوں یرغمال بن جاتا ہے۔ میری طویل عمر کا نچوڑ یہی کہ جب اقتدار ظلم اور استبداد کے قبضے میں ہو تو وہ ایسے لوگ ظلم کی مقدار بڑھا کر لُطف اندوز ہوتے ہیں۔ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے ہر اقتدار کا انجام عبرتناک ہوا ہے،ہمیشہ جبر کرنے والوں کا سخت محاسبہ ناگزیررہتا ہے۔
ریاستی جبر کے شکنجہ میں جکڑا اایک قیدی، جو ریاستی جبر کا نشانہ بنا ہوا ہے، اپنی ماں سے ملنے کی امید لیے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ملاقاتی بیرکس تک پہنچ گیا۔ دوسری طرف اس کی والدہ شدید گرمی، چلچلاتی دھوپ اور طویل سفر کی صعوبت برداشت کر کے کوٹ لکھپت جیل پہنچیں تاکہ عید کے دن اپنے اکلوتے بیٹے کو دیکھ سکیں۔ مگر طاقت کے نشے میں مبتلا چھوٹے لوگوں نے نہ ماں کو اندر جانے دیا اور نہ بیٹے کو ملاقات کی اجازت دی۔ جیل اہلکار قیدی کی طرح بے بس اور انکے افسران مہرہ ناچیز تھے، سب طاقتور حلقوں کے احکامات کے پابند تھے،جو آئین قانون سے بالاتر ،ریاست کے سیاہ و سفید کے مالک بنےبیٹھے ہیں۔ بندر کے ہاتھ استرا آ جائے تو اذیت رسانی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
ہمیشہ سے مشاہدہ رہا ہے کہ غیر آئینی قوتیں ریاست پر قابض ضرورہو جاتی ہیں مگر اندر سے خوفزدہ، عدم تحفظ کا شکار اور اخلاقی طور پر کھوکھلی ہو جاتیں ہیں۔ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا وطیرہ بن جاتا ہے۔ آئین روندنا، قانون توڑنا،انسانی قدروں کو پامال کرنا اُنکا معمول رہتاہے۔
سیاق و سباق میں واقعہ بتانا ضروری ہے، 27مئی بروز بدھ عید الاضحیٰ کا اعلان ہو چکا تھا۔ حسب روایت مجھےبچوں کے ساتھ عید منانے میانوالی جانا تھا۔ 26 تاریخ کو روانہ ہونا تھا، اس لیے میں نےاپنے بیٹے حسان نیازی سے 25مئی کوملاقات کی درخواست کی جو کہ قبول کر لی گئی۔ جیل حکام نے پچیس تاریخ کو میری اور میرے بچوں کی ملاقات کا مجھے بتایا تو ساتھ یہ بھی بتایا کہ عید کے دن حسان نیازی کی ملاقات نہیں ہو گی۔
میں نے ان پر واضح کیا کہ حسان نیازی کی والدہ دور دراز سے صرف ملاقات کے لیے آئیں گی، ایسی صورت میں میری ملاقات منسوخ کرنی پڑے توکر دیں مگر عید کے دن ماں اور بیٹے کی ملاقات ضرور کروا دی جائے۔ اس پر مجھے یقین دہانی کروائی گئی کہ عید کے موقع پر والدہ کی ملاقات بھی ہو جائے گی۔
آج وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا کہ جھوٹ بولنا ریاستی عادت ہے۔حسان نیازی کی والدہ شدید گرمی میں جیل کے اندر تک پہنچ گئیں۔ دوسری جانب حسان نیازی بھی اپنے دیگر ساتھی قیدیوں کے ساتھ ملاقاتی بیرکس تک پہنچ چکے تھے۔ مگر عین آخری لمحے نہ ماں کو اندر جانے دیا گیا اور نہ ہی بیٹے کو ملاقات کی اجازت دی۔ عید کے دن ایک ماں کو اپنے اکلوتے بیٹے سے محروم رکھنا sadistذہنیت ہی نہیں، اخلاقی پستی کی بدترین مثال ہے۔

حالانکہ یہ حق نہ صرف جیل مینوئل میں موجود ہے بلکہ ایک بنیادی انسانی تقاضا بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی ملک میں طاقتور لوگوں کے اشاروں پر راتوں رات جیلوں کے دروازوں کے قفل کھل جاتے ہیں، قوانین معطل ہو جاتے ہیں اور ضابطے روند دیے جاتے ہیں۔ مگر ماں کو عید کے دن ملاقات کی اجازت نہ دینا ریاستی طاقت کے لئیے ہو گیا۔
مجھے بخوبی علم ہے کہ جیل انتظامیہ محض مہرہ ناچیز ، جیل حکام تو نچلے درجہ کی مخلوق ، پعرا ریاستی نظام طاقتوروں کے اشارہ ابرو پر تگنی کاناچ ہے۔ اصل اختیار غیر منتخب طاقتوں کے پاس جو آئین اور قانون سےبالاتر ، ریاستی مظام کو دبوچ رکھا ہے۔ اپنی اس طویل زندگی میں میں نے کئی طاقتور حکمرانوں کو ہمیشہ منہ کے بل اوندھے گرتے دیکھا ہے، اقتدار کے زعم میں مبتلا، تاریخ کے کوڑے دان میں جاتے بھی دیکھاہے۔ پاکستان میں اج تک کوئی اقتدار ایسا نہیں آیا جس کی expiry date نہ ہو۔ آج کے حکمرانوں کو بھی اپنے انجام کا انتظار کرنا ہو گا۔
میں بذات خود اسی کوٹ لکھپت جیل میں مختلف اوقات، حتیٰ کہ چھٹیوں اور راتوں کو بھی کئی ملاقاتیں کر چکا ہوں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب جاوید ہاشمی کو 22سال قید مشقت کی سزا ہوئی تھی تواسی جیل میں ہم چند دوست تقریباً روزانہ اُن سے ملاقات کرنے پہنچ جاتےتھے ۔ اگرچہ مارشلاء کا زمانہ تھا پھر بھی گھنٹوں بیٹھتے، بلاناغہ جاوید ہاشمی کے ساتھ کھانا کھاتےتھے۔اس کے علاوہ بھی کئی مرتبہ تعطیلات اور ممنوع اوقات میں میں نے خود ملاقاتیں کی ہوئی ہیں
مگر آج ایک ماں کو اپنے بیٹے سے صرف اس لیے محروم رکھا گیا کیونکہ ریاست خوفزدہ ہے۔ یہی اس پورے واقعے کا سب سے افسوسناک پہلو ہے۔ ایک ایسی ریاست جو اپنے آپ کو طاقتور سمجھتی ہے، درحقیقت اندر سے کمزور، بزدل اور شدید عدم تحفظ کا شکار....

حفیظ اللہ خان نیازی کا ٹویٹ

30/05/2026

گلگت الیکشن اور سوشل میڈیا
ہر ایک سوشل میڈیاورکر7جون تک گلگت الیکشن کو بھرپور کوریج دیں پی ٹی ائی کنڈیڈیٹ کانام نشان سب ہر ایک تک پہنچانا ہے

Address

PTI Zhob
Zhob
85200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PTI zhob پی ٹی آئی ژوب posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share