Apnakotmomin

Apnakotmomin hello apna kotmoman friends

09/08/2025

Dr Israr Ahmad or Mubbashar Lukman k Darmyan

کوٹ مومن کے مایہ ناز سپوت کا اعزازکوٹ مومن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد عرفان کو 20ویں سکیل میں ترقی دے کر پروفیسر آف م...
28/05/2020

کوٹ مومن کے مایہ ناز سپوت کا اعزاز
کوٹ مومن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد عرفان کو 20ویں سکیل میں ترقی دے کر پروفیسر آف میڈیسن ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ ہسپتال گوجرانوالہ تعینات کردیا گیا ہے اس سے قبل ڈاکٹر محمد عرفان اسی ہسپتال میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر آف میڈیسن کے عہدے پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے وہ گوجرانوالہ ڈویثزن میں کورونا کے فوکل پرسن بھی ہیں ڈاکٹر محمد عرفان کی بطور پروفیسر تعیناتی پر کوٹ مومن کے شہری خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ضلعی صدر الخدمت فاونڈیشن رانا ندیم علی،تحصیل صدر رانا امان اللہ،صدر کوٹ مومن پریس کلب رانا الماس حنیف صحافیوں رانا محمد نعیم،مہر محمد عمران،ڈاکٹر قمر فاروق،رضوان رفیق منہاس نے مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے

2020 Mpdwl New Style...ALLAH rehm Kre...
28/05/2020

2020 Mpdwl New Style...
ALLAH rehm Kre...

آج طاق رات ہے پیارے محبوب کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اللہ پاک سے دعا مانگتے رہیں میرا رب بڑا کریم ہے سبحان اللہ...
17/05/2020

آج طاق رات ہے پیارے محبوب کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اللہ پاک سے دعا مانگتے رہیں میرا رب بڑا کریم ہے سبحان اللہ ماشااللہ

*استاد : اگر تمہارے پاس 86،400 روپے ہوں اور کوئی ڈاکو ان میں سے 10 روپےچھین کر بھاگ جائے تو تم کیا کرو گے ؟*کیا تم اُس ک...
28/12/2019

*استاد : اگر تمہارے پاس 86،400 روپے ہوں اور کوئی ڈاکو ان میں سے 10 روپےچھین کر بھاگ جائے تو تم کیا کرو گے ؟*

کیا تم اُس کے پیچھے بھاگ کر اپنی لوٹی ہوئی 10 روپےکی رقم واپس حاصل کرنے کی کوشش کرو گے ؟؟ یا پھر اپنے باقی کے بچے ہوئے 86،390 روپےکو حفاظت سے لیکر اپنے راستے پر چلتے رہو گے؟

طلبا نے کہا : ہم 10 روپے کی حقیر رقم کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے باقی کے پیسوں کو حفاظت سے لیکر اپنے راستے پر چلتے رہیں گے۔

استاد نے کہا : تمھارا بیان اور مشاہدہ درست نہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ذیادہ تر لوگ اُن 10 روپے کو واپس لینے کے چکر میں ڈاکو کا پیچھا کرتے ہیں اور نتیجے کے طور پر اپنے باقی کے بچے ہوئے 86،390 روپے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

طلباء نے حیرت سے استاد کو دیکھتے ہوئے کہا: سر، یہ ناممکن ہے، ایسا کون کرتا ہے ؟

استاد نے کہا : یہ 86،400 اصل میں ہمارے ایک دن کے سیکنڈز ہیں۔

کسی 10 سیکنڈز کی بات کو لیکر، یا کسی 10 سیکنڈز کی ناراضگی اور غصے کو بنیاد بنا کر ہم باقی کا سارا دن سوچنے، جلنے اور کُڑھنے میں گزار کر اپنا باقی کا سارا دن برباد کرتے ہیں۔ یہ والے 10 سیکنڈز ہمارے باقی بچے ہوئے 86،390 سیکنڈز کو بھی کھا کر برباد کر دیتے ہیں۔

*باتوں کو نظرانداز کرنا سیکھیئے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کا کوئی وقتی اشتعال، ناراضگی آپ سے آپ کے سارے دن کی طاقت چھین کر لے جائے*۔
*معاف کریں, بھول جائیں اور آگے بڑھیں....*

21/12/2019
26/04/2019

#توحید
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حج کرنے گیا،
وہاں منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں مَیں نے ایک شخص کو دیکھا جو بلند آواز کے ساتھ بار بار پکار رہا تھا۔۔
لبیک لبیک لبیک اور غیب سے آواز آتی لا لبیک لا لبیک لالبیک سرکار فرماتے ہیں کہ یہ سارا ماجرا دیکھ کر میں نے اس شخص کو بازو سے پکڑا اور بھرے مجمع سے باہر لے آیا اور پوچھا:
بھلے مانس تجھے پتہ ہے کہ جب تو پکارتا ہے کہ اے میرے اللّہ ﷻ میں حاضر ہوں تو عالمِ غیب سے حاتِب کی آوز آتی ہے نہیں تو حاضر نہیں ہے،
تو وہ شخص بولا:
ہاں معین الدینؒ میں جانتا ہوں اور یہ سلسلہ پچھلے 24 سالوں سے جاری ہے یہ میرا چوبیسواں حج ہے وہ بڑا بے نیاز ہے میں ہر سال یہی امید لیکر حج پر آتا وں کہ شائد اس دفعہ میرا حج قبول ہو جاۓ لیکن ہر سال ناکام لوٹ جاتاہوں،
سرکارؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے کہا کہ ہر بار ناکامی اور نامرادی کے باوجود تو پھر کیوں چلا آت ہے تو اس کی آنکھوں می آنسو آگۓ اور وہ رُندی ہوئی آواز میں گڑگڑاتے ہوۓ بولا:
اے معین الدینؒ تو بتا میں یہاں نہ آٶں تو کدھر جاٶں،
اُس کے سوا میرا کون ہے
کون میری باتیں سننے والا ہے
کون میرے گناہ معاف کرنے والا ہے
کون میری مدد کرنیوالا ہے
میں کس در پہ جا کر گڑگڑاٶں
کون میری دادرسی کرے گا
کون میرا خالی دامن بھرے گا
کون مجھے بیماری میں شفا دے گا
کون میرے گناہوں کی پردہ داری کرے گا
معین الدینؒ مجھے بتا اگر کوئی دوسرا رب ہے تو بتا میں اسکے پاچلا جاتا ہوں،
مجھے بتا معین الدینؒ اسکے علاوہ اگر کوئی در ہے تو میں وہاں جاؤں روؤں اور گڑگڑاؤں،
سرکارؒ فرماتے ہیں اسکی باتیں سن کر میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گۓ ، جسم پر لرزہ طاری ہو گیااور میں نے اپنے لرزتے ہاتھ بارگاہِ خداوندی میں دعا کیلیے اٹھاۓ اور کپکپاتے ہنٹوں سے ابھی صرف اللّہﷻ کو پکارنا شروع ہی کیا تھا کہ غیب سےآوازآئی:
اے معین الدین یہ ہمارا اور اس کا معاملہ ہے تو پیچھے ہٹ جا،
تم نہی جانتے کہ مجھ اسکا اس طرح گڑگڑا کر لبیک لبیک لبیک کہنا کتنا پسند ہے ،
اگر میں اسکے لبیک کے جواب میں آج ہی لبیک کہدوں اور اسے یہ یقین ہو جاۓ کہ اسکا حج قبول ہو گیا ہےتو وہ آیندہ حج کرنے نہیں آیگا،
اور یہ سمجھتا ہے کہ اسکا حج قبول نہیں ہورہا تو اسے بتاؤ کہ پچھلے 23 سالوں سے جتنے بھی لوگوں کے حج قبول ہوۓ ہیں وہ سب اس کی لبیک لبیک لبیک کی بدولت ہی قبول ہوۓ ہیں ۔

سبحان اللّٰہ کریم

‏شادی کے دو رن بعد دولہا اس بیوٹی پالر جہاں اس کی بیوی کو دلہن بنایا گیا تھا اور پالر کی مالکن کو iphone X گفٹ کیا ۔پالر...
13/10/2018

‏شادی کے دو رن بعد دولہا اس بیوٹی پالر جہاں اس کی بیوی کو دلہن بنایا گیا تھا اور پالر کی مالکن کو iphone X گفٹ کیا ۔پالر کی مالکن نے شکریہ ادا کیا اور خوشی سے ڈبہ کھولا تو اندر سے Nokia3310 نکلا اور نیچے ایک کآغذ تھا جس پر لکھا تھا۔۔
" Same Feeling "
😀😃😀😃😛🤣😀🤣😀

سن 1994 عید کی نماز پڑھ کر خوشی خوشی قدم بڑھاتا گھر کی جانب روانہ ہوا۔ نئے کپڑے تھے یہ الگ بات کہ ماں نے گلی گلی پھیری ل...
08/10/2018

سن 1994 عید کی نماز پڑھ کر خوشی خوشی قدم بڑھاتا گھر کی جانب روانہ ہوا۔ نئے کپڑے تھے یہ الگ بات کہ ماں نے گلی گلی پھیری لگانے والے کابلی والے سے مزری ملیشیاء کا یہ کالا کپڑا ادھار پر خرید کر خود سلوا کر دیئے تھے تاکہ میں عید پہ پہن لوں اور اسکول بھی پہن کر جا سکوں۔ پلاسٹک کے جوتے تھے جو بہت پیارے تھے۔ پالش کی بچت الگ ہوتی تھی۔ جب حد سے زیادہ گندے یا میلے کچیلے ہوجاتے تو گاوں سے دو کلومیٹر دور ندی پہ شام کو جاکر دھولیتا اور اگلے دن چمکتے جوتے پہن کر اسکول جاتا۔ پیروں میں وہی پلاسٹک والے جوتے تھے۔ مگر چہرہ خوشی سے لال ہورہا تھا کہ آج اماں نے گھر میں مرغی پکائی ہوگی۔ میرے جیب میں اماں کیلئے ایک سرپرائز تھا۔ پتاسے اور ٹانگری۔ اماں کی پسندیدہ مٹھائی۔

میری عمر چودہ سال تھی۔ چھ بہنیں اور چار بھائی ، میں سب سے بڑا تھا۔ لہذا وقت سے پہلے بالغ ہوگیا تھا۔ ذمہ داری کچھ یوں بھی بڑھ گئی تھی کہ والد کی قلیل تنخواہ میں والدہ ہماری ضروریات خوراک پوری کرتے کرتےذہنی طور پر مفلوج ہوجایا کرتی تھیں تو میں ھی ان کا ساتھ دیتا ۔گاوں کے واحد دکاندار چچا سے پانچ سال کی عمر میں ادھار آٹے دال کی بارگیننگ کرتے کرتے اور بڑا ہوچکا تھا۔
ابا کی تنخواہ کا ساڑھے چار ہزار روپے کا منی آڈر جب گاؤں کے ڈاک خانے میں موصول ہوجانے کی اطلاع ملتی۔ تو دو دن تک پیدل تین کلومیٹر دور پہاڑوں میں واقع ڈاکیئے کے گھر جاتا تو وہ ٹرخا دیتا کہ کل آجانا پیسے مل جائیں گے۔ ہمارے پیسے وہ اپنی کسی ضرورت کیلئے استعمال کرلیتا تھا۔ پیسے ملتے ہی دکاندار کا سارا حساب چکتا دیا جاتا۔ اور پھر ادھار کا کھاتہ نئے سرے شروع ہوجاتا۔
ماں کا پھٹا آنچل ھمیشہ پھٹا ھی رھا وہ جون جولائی کی گرمی میں بھی تپتی زمین پر ننگے پر ندی پر کپڑے دھونے جاتی تھی۔ سر پر دو مٹکے اور پہلو میں ایک مٹکا لٹکا کر ننگے پیر میلوں دور سے پانی بھر لاتی۔ اور پھر کام میں جت جاتی۔ ماں کے پیر کے تلوے اتنے سخت ہوچکے تھے کہ کانٹا چھبنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پورے گاؤں میں مشہور تھا کہ نصیباں کے پیر گوشت پوست کے نہیں پتھر کے بنے ہوئے ہیں۔
علی الصبح ہم بہن بھائیوں کو سوتا چھوڑ کر گاوں کی عورتوں کے ساتھ ننگے پاؤں ، رومال میں سوکھی روٹی پیاز کے ساتھ باندھ کر پہاڑوں پر لکڑیاں کاٹنے چلی جاتی اور واپسی میں سر پہ من بھر گیلی لکڑیاں لاد کر دوپہر کو واپس اتی۔ پھر کھانا بناکر ہمیں کھلاتی۔
ماں کو میٹھا بہت پسند تھا۔ گاؤں دیہات میں اگر کسی کے ہاں ولادت ہوتی۔تو ماں ضرور جاتی ۔ کیونکہ بچے کی پیدائش پر پشتون روایات کے تحت میٹھی میٹھی گولیاں جسے پتاسہ کہا جاتا ہے۔اور آٹے سے بنے ہوئے ہوئی مٹھائی (ٹانگری) جو انگلی برابر ہوتی ہے۔ بانٹے جاتے۔ اماں جھولی بھر کر گھر لیکر آتی۔ اور ہمیں کھلانے کیساتھ ساتھ خود بھی آنکھیں بند کرکے مزے سے کھاتیں۔
مجھے یاد ہے 1995 میں میری چھوٹی بہن کی ولادت قریب تھی۔ ولادت سے ایک دن قبل مجھے گھر بٹھا کر تاکید کی کہ اپنی توجہ پڑھائی پر دوں ساتھ ساتھ بہن بھائیوں کی رکھوالی کروں۔خود اسی حالت میں پڑوسنوں کے ساتھ گندم کٹائی پر چلی گئی۔ تاکہ پتاسے اور ٹانگری مل سکے۔ اگلی صبح جب میں نیند سے اٹھا تو اماں کی گود میں میری ننھی منھی سی چھوٹی بہن تھی۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کا کھانا پھر بھی اماں نے بنایا۔ کھانے میں لسی سے بنی ہوئی کڑھی تھی جو ہماری ھفتہ وار مینیو میں چوبیس گھنٹے کے بعد لازمی بنتی تھی۔ اماں نے مجھے دکاندار کے پاس بھیجا کہ جاکر ادھار پر ٹانگری اور پتاسے لے آؤ تاکہ وہ بھی گاؤں والوں کو دکھا سکے کہ نصیباں بھی کسی سے کم نہیں۔ مگر شام کو میں خالی ہاتھ ایا۔ دکاندار نے پچھلا ادھار چکانے کا کہا ہے۔ اس دن ماں کی آنکھوں میں پہلی بار نمی دیکھی۔
ہر مہینے ابا کا خط مہینے کے آخر میں آجاتا تھا۔ میں لکھنا ٘پڑھنا جانتا تھا سو اماں کا جوابی خط مجھے ھی لکھنا پڑتا تھا۔ اماں ہر خط کے آخر میں لکھتی تھی۔ الحمداللہ بہت اچھا گزارہ چل رہا ہے۔ میں جب "گزارہ" لکھنے لگتا تو میرے ہاتھ کانپ جاتے کہ گزارہ کسے کہتے ہیں۔ مگر لکھ دیتا،
اماں کی شادی 1978 میں مبلغ 500 روپے کے عوض ہوئی تھی۔ ماں باپ نے اپنی غربت کا بوجھ کسی اور کے سر منڈھ دیا تھا۔ بھائی نے جائیداد پہ یہ کہہ کر ماں سے دستخط کروا لئے کہ پشتون روایات میں بہنیں بھائیوں سے حصہ نہیں لے سکتیں۔ ایسی بہنوں کیلئے پشتون معاشرے میں ایک بہت برا لفظ ہے۔ میں نے کبھی ماموں کو یا نانا کو اپنے گھر آتے نہیں دیکھا۔ میں ماں سے پوچھتا تو وہ اپنے میکے کا دفاع یہ کہہ کر کرتیں کہ "ان کا گھر چار کلومیٹر دور ہے ابا کمزور ہے اور بھائی مصروف ہوتا ہے، آجائیں گے کسی دن فارغ ہوکر"

1999 میں ابا ریٹائر ہوگئے۔ ان کو پانچ لاکھ پینشن کا مل گیا۔ اماں نے کبھی اتنے پیسے اکٹھے دیکھے نہیں تھے۔ پورا دن ابا سے کہتی رہیں کہ پینشن کی رقم مجھے دیکھانا ضرور۔ زندگی میں پہلی بار میں نے اماں کو نیا دوپٹہ اوڑھے دیکھا۔ جو ابا نے لاکر دیا تھا۔ نیا دوپٹہ پہن کر وہ اترائی اترائی بھاگتی رہی اور اپنی دیورانیوں کو جلاتی رہی۔ اس دن ہمارے گھر میں گوشت بھی پکا تھا۔
اگلے دن ابا نے اپنا فیصلہ سنایا کہ گیارہ بچوں کو پالتے پالتے اماں بوڑھی ہوگئی ہے۔ لہذا وہ دوسری شادی کررہے ہیں۔ دادا اور چچا نے فائرنگ کرکے گویا ابا کو اجازت دے دی۔ ماں کو اس دن میں نے پہلی اور آخری بار ہچکیاں لیتے دیکھا۔ چھوٹے بہن بھائی بھی خوش کہ اب ان کی گھر میں خوشیوں کے ڈھول بجیں گے۔ وہ نئے کپڑے پہنیں گے۔
ابا دوسری دلہن لیکر آگئے اماں بھاگ کر دوسرے کمرے میں چھپ گئیں ۔ رشتہ داروں نے جاکر اماں کو پشتون ولی کا سبق پڑھایا کہ پشتون بیویاں جی دار ہوتی ہیں۔ نئی مہمان کا استقبال مسکراہٹ سے کرتی ھیں ۔ اماں مرے مرے قدموں سے دلہن کے پاس گئی۔ اور اس کے گلے سے لپٹ گئیں ۔ دونوں رونے لگ گئیں۔ میں یہ معمہ آج تک نہیں سمجھ سکا۔ اسی دوران کسی نے ٹانگری اماں کو پکڑا دیئے اور ماں سب کچھ بھول کر خوشی خوشی ٹانگری کھانے لگیں۔

سال 2015
میں نے اپنی نئی ماڈل کی فورچونر پشاور کینٹ میں موجود مٹھائی کی مشہور و معروف دکان کے سامنے روک دی۔ اماں کو سہارا دے کر میں اور میری شہری بیگم نے گاڑی سے اترنے میں مدد کی۔ دکان کے اندر گئے۔ اماں سے کہا اماں کون سی مٹھائی پیک کروا دوں؟۔ ڈبڈباتی آنکھوں سے مسکرائی۔ چہرے کی جھریاں مزید گہری ہوگئیں۔ کہنے لگیں "بیٹا ان سے کہو پتاسے یا ٹانگری مل جائیں گے؟"۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے دل میں کہیں دور چھناکے کی سی آواز ائی۔ اماں کو چومتے ھوئے پوچھا کہو تو پوری دکان لیکر دوں؟۔
دکاندار نے روایتی مٹھائی پتاسے اور ٹانگری کا ٹوکرا اماں کے سامنے رکھا۔ ماں نے کپکپاتے ہاتھوں سے ایک ٹانگری اٹھائی۔ اور منہ میں رکھ لی۔ میری بیگم نے بھی اماں کی تقلید کرتے ہوئی ٹانگری اٹھائی اور جیسے ہی وہ منہ تک لیکر جانے لگی۔ میں نے بیگم کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔اور ٹانگری اس کے ہاتھ سے لیکر واپس ٹوکرے میں رکھ دی۔

بچپن میں جب کبھی اعلان ہوتا فلاں کی والدہ فوت ہو گئی ہے ۔تو میں دوڑ کر گھر آتا،ماں کے دامن سے لپٹ جاتا ۔ماں کبھی غصہ بھی...
21/09/2018

بچپن میں جب کبھی اعلان ہوتا فلاں کی والدہ فوت ہو گئی ہے ۔
تو میں دوڑ کر گھر آتا،
ماں کے دامن سے لپٹ جاتا ۔
ماں کبھی غصہ بھی ہو جاتی۔
کملا ایں توں؟
کی ہویا ای ،،
میں اظہار سے ڈرتا تھا
موت کے نام سے ڈر جاتا
کبھی کبھی میں سوچتا کہ میں اپنی ماں سے پہلے مر جاؤں گا۔
لیکن پھر سوچتا کہ ماں بھی تو روئے گی لیکن پھر اگلے ہی لمحے سوچتا کہ ماں کے تو اور بھی بیٹے ہیں؟
میرے پاس تو ایک ہی ماں ہے ۔
رات کو ضد کرکے ماں کے پاس سوتا
ماں دوسری طرف منہ کرکے سوتی تو میں ماں کے اپنی طرف منہ کرنے تک جاگتا رہتا اور جیسے ہی ماں میری طرف منہ کرتی تو ماں کی سانسیں مجھے تپتے صحرا میں بادصبا کے جھونکوں کی طرح محسوس ہوتیں۔
ماں کے جسم کی خوشبو مجھے مشک و عنبر سے زیادہ بھلی لگتی ۔
اُس دن نہ جانے کیوں میرے پاؤں منوں وزنی لگ رہے تھے ۔
ماں مجھے الوداع کہنے دروازے تک آئی
میں رخصت ہو کر گلی کی نکڑ مڑ چکا تھا
لیکن میں دوڑ کر واپس آیا تو ماں گلی کی نکڑ کے قریب تک آ پہنچی تھی۔
میں نے دوڑ کر ماں کو گلے لگا لیا ۔
آج جیسی بے چینی مجھے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔
ماں نے کہا جا پُتر ۔
دفتر والے صاحب غصے ہوں گے۔
آخری بات ماں کی آج بھی مجھے رُلا دیتی ہے۔
پُتر تیری آواز نئیں آندی
اور آج میں سوچتا ہوں
ماں کہاں ہو تمہاری آواز کیوں نہیں آتی
اور لائن کٹ گئی
شام کو ماں چلی گئی۔
لائن ہمیشہ کیلئے کٹ گئی۔
لیکن دعاؤں کی لائن تو کبھی نہیں ٹوٹی ناں۔
مائے او میری بھولی مائے
اگر تقدیر اجازت دیتی
تیرے ساتھ اتر جاتا میں
گور کے گُھپ اندھیروں میں۔
جن کی مائیں حیات ہیں اللّہ انھیں زندگی دے اور جن کی مائیں وفات پا گئی اللّہ انھیں صبر دے

*ننھی دکان* میں نے دیکھا کہ ماں اپنے بیٹے کو آہستہ سے مارتی اور بچے کے ساتھ خود بھی رونے لگتی۔ میں نے آگے ہو کر پوچھا بہ...
20/09/2018

*ننھی دکان*

میں نے دیکھا کہ ماں اپنے بیٹے کو آہستہ سے مارتی اور بچے کے ساتھ خود بھی رونے لگتی۔ میں نے آگے ہو کر پوچھا بہن کیوں بچے کو مار رہی ہو جبکہ خود بھی روتی ہو۔۔۔۔۔
اس نے جواب دیا کہ بھائی آپ کو تو معلوم ہے کہ اس کے والد اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں اور ہم بہت غریب بھی ہیں۔ میں لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرتی ہوں اور اس کی پڑھائی کا مشکل سے خرچ اٹھاتی ہوں۔ یہ کم بخت سکول روزانہ دیر سے جاتا ہے اور روزانہ گھر دیر سے آتا ہے۔ جاتے ہوئے راستے میں کہیں کھیل کود میں لگ جاتا ہے اور پڑھائی کی طرف ذرا بھی توجہ نہی دیتا۔ جس کی وجہ سے روزانہ اپنی سکول کی وردی گندی کر لیتا ہے۔ میں نے بچے اور اس کی ماں کو تھوڑا سمجھایا اور چل دیا۔۔۔۔
ایک دن صبح صبح سبزی منڈی کچھ سبزی وغیرہ لینے گیا تو اچانک میری نظر اسی دس سالہ بچے پر پڑی جو روزانہ گھر سے مار کھاتا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بچہ منڈی میں پھر رہا ہے اور جو دوکاندار اپنی دوکانوں کے لیے سبزی خرید کر اپنی بوریوں میں ڈالتے تو ان سے کوئی سبزی زمین پر گر جاتی اور وہ بچہ اسے فوراً اٹھا کر اپنی جھولی میں ڈال لیتا۔ میں یہ ماجرہ دیکھ کر پریشانی میں مبتلا ہو رہا تھا کہ چکر کیا ہے۔ میں اس بچے کو چوری چوری فالو کرنے لگا۔جب اس کی جھولی سبزی سے بھر گئی تو وہ سڑک کے کنارے بیٹھ کر اونچی اونچی آوازیں لگا کر اسے بیچنے لگا۔ منہ پر مٹی گندی وردی اور آنکھوں میں نمی کے ساتھ ایسا دونکاندار زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔۔۔
دیکھتے دیکھتے اچانک ایک آدمی اپنی دوکان سے اٹھا جس کی دوکان کے سامنے اس بچے نے ننھی سی دکان لگائی تھی۔ اس شخص نے آتے ہی ایک زور دار پاؤں مار کر اس ننھی سی دکان کو ایک ہی جھٹکے میں ساری سڑک پر پھیلا دیا اور بازو سے پکڑ کر اس بچے کو بھی اٹھا کر دھکا دے دیا۔ ننھا دکاندار آنکھوں میں آنسو لیے دوبارہ اپنی سبزی کو اکٹھا کرنے لگا اور تھوڑی دیر بعد اپنی سبزی کسی دوسری دکان کے سامنے ڈرتے ڈرتے لگا لی۔بھلا ہو اس شخص کا جس کی دکان کے سامنے اب اس نے اپنی ننھی دکان لگائی اس شخص نے اس بچے کو کچھ نہی کہا۔ تھوڑی سی سبزی تھی جلد ہی فروخت ہو گئی۔اور وہ بچہ اٹھا اور بازار میں ایک کپڑے والی دکان میں داخل ہوا اور دکان دار کو وہ پیسے دیکر دکان میں پڑا اپنا سکول بیگ اٹھایا اور بنا کچھ کہے سکول کی جانب چل دیا۔ میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ جب وہ بچہ سکول گیا تو ایک گھنٹا دیر ہو چکی تھی۔ جس پر اس کے استاد نے ڈنڈے سے اسے خوب مارا۔ میں نے جلدی سے جا کر استاد کو منع کیا کہ یتیم بچہ ہے اسے مت مارو۔ استاد فرمانے لگے کہ سر یہ روزانہ ایک گھنٹا دیر سے آتا ہے میں روزانہ اسے سزا دیتا ہوں کہ ڈر سے سکول ٹائم پر آئے اور کئی بار میں اس کے گھر بھی پیغام دے چکا ہوں۔ بچہ مار کھانے کے بعد کلاس میں بیٹھ کر پڑھنے لگا۔ میں نے اس کے استاد کا موبائل نمبر لیا اور گھر کی طرف چل دیا۔ گھر جاکر معلوم ہوا کہ میں جو سبزی لینے گیا تھا وہ تو بھول ہی گیا ہوں۔
حسب معمول بچے نے سکول سے گھر آکر ماں سے ایک بار پھر مار کھائی ھو گی۔ ساری رات میرا سر چکراتا رہا۔ اگلے دن صبح کی نماز ادا کی اور فوراً بچے کے استاد کو کال کی کہ منڈی ٹائم ہر حالت میں منڈی پہنچے۔ جس پر مجھے مثبت جواب ملا۔ سورج نکلا اور بچے کا سکول جانے کا وقت ہوا اور بچہ گھر سے سیدھا منڈی اپنی ننھی دکان کا بندوبست کرنے نکلا۔ میں نے اس کے گھر جا کر اس کی والدہ کو کہا کہ بہن میرے ساتھ چلو میں تمہیں بتاتا ہوں آپ کا بیٹا سکول کیوں دیر سے جاتا ہے۔ وہ فوراً میرے ساتھ منہ میں یہ کہتے ہوئے چل پڑی کہ آج اس لڑکے کی میرے ہاتھوں خیر نہی۔چھوڑوں گی نہیں اسے آج۔منڈی میں لڑکے کا استاد بھی آچکا تھا۔ ہم تینوں نے منڈی کی تین مختلف جگہوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں اور ننھی دکان والے کو چھپ کر دیکھنے لگے۔ حسب معمول آج بھی اسے کافی لوگوں سے جھڑکیں لینی پڑیں اور آخر کار وہ لڑکا اپنی سبزی فروخت کر کے کپڑے والی دکان کی طرف چل دیا۔۔۔۔۔
اچانک میری نظر اس کی ماں پر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ بہت ہی درد بھری سیسکیاں لے کر زاروقطار رو رہی تھی اور میں نے فوراً اس کے استاد کی طرف دیکھا تو بہت شدت سے اس کے آنسو بہہ رہے تھے۔دونوں کے رونے میں مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے انہوں نے کسی مظلوم پر بہت ظلم کیا ہو اور آج ان کو اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہو۔
اس کی ماں روتے روتے گھر چلی گئی اور استاد بھی سسکیاں لیتے ہوئے سکول چلا گیا۔ حسب معمول بچے نے دکان دار کو پیسے دیے اور آج اس کو دکان دار نے ایک لیڈی سوٹ دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا آج سوٹ کے سارے پیسے پورے ہوگئے ہیں۔ اپنا سوٹ لے لو۔ بچے نے اس سوٹ کو پکڑ کر سکول بیگ میں رکھا اور سکول چلا گیا۔ آج بھی ایک گھنٹا لیٹ تھا وہ سیدھا استاد کے پاس گیا اور بیگ ڈیسک پر رکھ کر مار کھانے کے لیے پوزیشن سنبھال لی اور ہاتھ آگئے بڑھا دیے کہ استاد ڈنڈے سے اس کو مار لے۔استاد کرسی سے اٹھا اور فوراً بچے کو گلے لگا کر اس قدر زور سے رویا کہ میں بھی دیکھ کر اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا۔ میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور آگے بڑھ کر استاد کو چپ کرایا اور بچے سے پوچھا کہ یہ جو بیگ میں سوٹ ہے وہ کس کے لیے ہے۔ بچے نے جواب دیا کہ میری ماں امیر لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرنے جاتی ہے اور اس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے پاس جسم کو مکمل ڈھانپنے والا کوئ سوٹ نہی ہے اس لیے میں نے اپنی ماں کے لیے یہ سوٹ خریدا ہے۔ یہ سوٹ اب گھر لے جا کر ماں کو دو گے؟؟؟ میں نے بچے سے سوال پوچھا ۔۔۔۔جواب نے میرے اور اس کے استاد کے پیروں کے نیچے سی زمین ہی نکال دی۔۔۔۔ بچے نے جواب دیا نہیں انکل جی چھٹی کے بعد میں اسے درزی کو سلائی کے لیے دے دوں گا اور روزانہ تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کر کے سلائی دوں گا جب سلائی کے پیسے پورے ہوجائیں گئے تب میں اسے اپنی ماں کو دوں گا۔۔۔۔۔
استاد اور میں یہ سوچ کر روتے جا رہے تھے کہ ابھی اس معصوم کو اور منڈی جانا پڑے گا، اور لوگوں سے دھکے کھانے پڑیں گے اور ننھی دکان لگانی پڑے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر کب تک غریبوں کے بچے ننھی دکانیں لگاتے رہیں گے۔آخر کب تک۔۔۔۔..........
اس واقعہ سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جن کے پاس رب کا دیا سب کچھ ہے مگر نا شکری ان کی زبانوں سے جاتی نہیں اور حرس و حوَس کم نہیں ہوتی..

Address


Telephone

+923458636199

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Apnakotmomin posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your organization to be the top-listed Government Service?

Share