BSO Turbat Zone

BSO Turbat Zone

بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP) اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (BSO) کے زیرِ اہتمام سردار عطاء اللہ مینگل کی پانچویں برسی اور ش...
31/08/2026

بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP) اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (BSO) کے زیرِ اہتمام سردار عطاء اللہ مینگل کی پانچویں برسی اور شاہوانی اسٹیڈیم کے شہداء کی پہلی برسی کے موقع پر ایک تعزیتی پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر سردار عطاء اللہ مینگل کی سیاسی جدوجہد، قومی خدمات اور شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔
📅 2 ستمبر 2026
⏰ شام 4 بجے
📍 پریس کلب ہال، تربت
تمام سیاسی و سماجی کارکنان، طلبہ، صحافیوں، دانشوروں، وکلاء اور عوام سے شرکت کی اپیل ہے۔
آئیں! سردار عطاء اللہ مینگل کی سیاسی جدوجہد اور بلوچ قوم کے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کریں۔
منجانب:
بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP)
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (BSO)

اسما جتک کے والد کا قتل کٹھ پتلی حکومت اور ریاستی سرپرستی میں قائم ڈیتھ اسکواڈز کی کھلی دہشت گردی ہے: بی ایس اوبلوچ اسٹو...
05/08/2026

اسما جتک کے والد کا قتل کٹھ پتلی حکومت اور ریاستی سرپرستی میں قائم ڈیتھ اسکواڈز کی کھلی دہشت گردی ہے: بی ایس او

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اسما جتک کے والد کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں کٹھ پتلی حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اسما جتک کی جانب سے اپنی اور اپنے خاندان کو مبینہ طور پر ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے ظہور جمالزئی سے لاحق خطرات پر ویڈیو بیان جاری کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد ان کے والد کا قتل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان میں خوف اور جبر کا ماحول مسلسل گہرا کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی خاموشی اس صورتحال پر سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اسما جتک کو چند سال قبل خضدار سے مبینہ طور پر مقامی ڈیتھ اسکواڈ نے اغوا کیا، اور اس واقعے کے بعد انصاف کا مطالبہ کرنے والے متعدد افراد ایک ایک کرکے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آج بھی اسما جتک اور ان کے اہلِ خانہ کو مسلسل دھمکیوں کا سامنا ہے، جبکہ تحفظ فراہم کرنے کے بجائے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ بی ایس او کا مؤقف ہے کہ بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈز کو حاصل سرپرستی نے شہریوں کے بنیادی حقوق کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور ایسے واقعات نے عوام کے اعتماد کو بری طرح مجروح کیا ہے۔

بی ایس او مطالبہ کرتی ہے کہ اسما جتک کے والد کے قتل کی آزاد، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کرائی جائیں، اسما جتک اور ان کے خاندان کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے، اور بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈز کے کردار اور ان سے متعلق تمام الزامات کی مؤثر تحقیقات کی جائیں۔ ترجمان نے کہا کہ جبر، دھونس اور خونریزی سے عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، اور بی ایس او انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

*کیچ میں تعلیم دشمن پالیسیوں نے اسکولوں کو برباد کر دیا ہے۔ ترجمان بی ایس او تربت زون*کیچ: بی ایس او کے سینٹرل کمیٹی کے ...
24/04/2026

*کیچ میں تعلیم دشمن پالیسیوں نے اسکولوں کو برباد کر دیا ہے۔ ترجمان بی ایس او تربت زون*

کیچ: بی ایس او کے سینٹرل کمیٹی کے رکن کرم خان بلوچ کی سربراہی میں ایک وفد نے تربت کے مختلف تعلیمی اداروں، بالخصوص یوسی سنگ قلات کے اسکولوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ وفد میں بی ایس او تربت زون کے جنرل سیکریٹری سہراب خالق اور یوسی سنگ قلات کے کونسلر عبدالرازق کریم بھی شامل تھے۔

دورے کا مقصد علاقے میں تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینا، زمینی حقائق کو سامنے لانا اور حکومتی کارکردگی کا مشاہدہ کرنا تھا۔ وفد نے مختلف اسکولوں کا دورہ کیا اور وہاں موجود طلبہ، اساتذہ اور مقامی افراد سے تفصیلی گفتگو بھی کی۔

وفد نے گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول سنگ قلات پیرکین کا معائنہ کیا جہاں چار کمروں پر مشتمل اسکول کی عمارت کئی عرصے سے نامکمل حالت میں چھوڑ دی گئی ہے۔ اسکول کی ادھوری تعمیر نہ صرف متعلقہ محکموں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ طلبہ کے لیے شدید مشکلات کا باعث بھی بن رہی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سکول کے ٹھیکیدار خواب خرگوش میں مبتلا ہے۔

اسی طرح گورنمنٹ پرائمری اسکول مزاری کہن کی صورتحال انتہائی افسوسناک اور تشویشناک پائی گئی۔ اسکول کی عمارت مکمل طور پر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے، جہاں تین کلاس رومز میں تقریباً 80 طالبات کو تعلیم دی جا رہی ہے۔ مزید برآں، پورے اسکول میں صرف دو اساتذہ تعینات ہیں جو اس بڑی تعداد کو سنبھالنے سے قاصر ہیں۔ اسکول میں پینے کے صاف پانی، واش رومز، فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات کا مکمل فقدان ہے، جس سے طالبات کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

اس موقع پر کرم خان بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں تعلیم کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ حکومتی عدم توجہی، ناقص منصوبہ بندی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے طلبہ کو بنیادی حقِ تعلیم سے محروم کر دیا ہے۔ یوسی سنگ قلات اور اس کے گردونواح میں تعلیمی اداروں کی موجودہ حالت کسی المیے سے کم نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف حکومت تعلیم کے فروغ کے دعوے کرتی ہے جبکہ دوسری جانب زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ نامکمل اسکول عمارتیں، اساتذہ کی شدید کمی اور بنیادی سہولیات کا فقدان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تعلیم حکومتی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔

کرم خان بلوچ نے سخت الفاظ میں مطالبہ کرتے ہوئے کہا ک

21/04/2026
*اساتذہ کی کمی نے طلبہ کو تعلیم سے محروم کر دیا ہے۔ ترجمان بی ایس او تربت زون*کیچ: بی ایس او کے مرکزی سی سی ممبر کرم خان...
21/04/2026

*اساتذہ کی کمی نے طلبہ کو تعلیم سے محروم کر دیا ہے۔ ترجمان بی ایس او تربت زون*

کیچ: بی ایس او کے مرکزی سی سی ممبر کرم خان بلوچ تربت زون کے جنرل سیکریٹری سہراب خالق نے سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل جنت عزیز سے ان کے آفس میں تفصیلی ملاقات کی، جس میں علاقے کے تعلیمی مسائل خصوصاً نودز گرلز اسکول گورنمنٹ مڈل اسکول پیری کہن و پرائمری اسکول پیری کہن کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

کرم خان بلوچ نے ملاقات کے دوران نشاندہی کی کہ نودز گرلز اسکول میں گزشتہ طویل عرصے سے ایس ایس ٹی (SST) اساتذہ کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے طلبہ کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت تعلیمی بہتری کے دعوے کرتی ہے جبکہ دوسری جانب بنیادی سطح پر اساتذہ کی عدم دستیابی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے کو جلد از جلد ضلعی انتظامیہ کے سامنے، بالخصوص ڈپٹی کمشنر کے سامنے رکھا جائے گا تاکہ اس کا فوری اور مؤثر حل نکالا جا سکے۔

کرم خان بلوچ کا کہنا تھا کہ طلبہ کا مستقبل کسی بھی قسم کی غفلت کا متحمل نہیں ہو سکتا، اور اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو بی ایس او بھرپور احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔

آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ نودز اسکول میں فوری طور پر ایس ایس ٹی اساتذہ کی تعیناتی یقینی بنائی جائے اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

*تعلیمی اداروں میں بدانتظامی ناقابل برداشت ہے۔ کرم خان بلوچ*کیچ: بی ایس او کے سنٹرل کمیٹی ممبر کرم خان بلوچ کا گورنمنٹ گ...
18/04/2026

*تعلیمی اداروں میں بدانتظامی ناقابل برداشت ہے۔ کرم خان بلوچ*

کیچ: بی ایس او کے سنٹرل کمیٹی ممبر کرم خان بلوچ کا گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول نودز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تعلیمی صورتحال، بنیادی سہولیات کی کمی اور اساتذہ کی عدم دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا۔

دورے کے دوران کرم خان بلوچ نے گرلز ہائی اسکول نودز کی مجموعی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے اور طلباء کو بنیادی سہولیات میسر نہیں، جس کے باعث ان کی تعلیم شدید متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گرلز ہائی اسکول کی صورتحال انتہائی افسوسناک ہے جہاں گزشتہ دو سال سے اوپر ہے ایس ایس ٹی (سبجیکٹ اسپیشلسٹ ٹیچر) تعینات نہیں، جس کے باعث طالبات کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور ان کے تعلیمی مستقبل کو خطرات لاحق ہیں۔

کرم خان نے اپنے دورے کے دوران اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ کسی کو پتہ نہیں کہ گرلز ہائی اسکول کے پرنسپل کون ہے اور چارج کس کے پاس ہے تعینات پرنسپل سیاسی بنیادوں پر مقرر کیا ہے، جو تعلیمی امور میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا، جس سے ادارے کا نظم و نسق اور تعلیمی معیار شدید متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن حکام و ضلعی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ان مسائل کو سنجیدگی سے لیں، فوری طور پر گرلز ہائی اسکول نودز میں ایس ایس ٹی ٹیچرز کی تعیناتی کو یقینی بنائیں، اسکول میں سہولیات بہتر بنائیں اور تعلیمی اداروں کو سیاسی مداخلت سے پاک کیا جائے۔

آخر میں کرم خان بلوچ نے خبردار کیا کہ اگر ان مسائل کے حل میں تاخیر کی گئی تو بی ایس او طلباء کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرے گی اور تعلیمی مسائل پر کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کرے گی۔

ضلع کیچ میں تعلیم کو کاروبار نہ بنایا جائے: ترجمان بی ایس او تربت زون تربت: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) تربت نے...
09/03/2026

ضلع کیچ میں تعلیم کو کاروبار نہ بنایا جائے: ترجمان بی ایس او تربت زون

تربت: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) تربت نے ضلع کیچ کے بعض پرائیویٹ اسکولوں کی جانب سے گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس ایڈوانس وصول کرنے کے عمل پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے اسے کھلی ناانصافی اور استحصالی اقدام قرار دیا ہے۔

بی ایس او تربت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مختلف نجی تعلیمی ادارے والدین کو مارچ کی فیس کے ساتھ اپریل اور مئی کی فیس یکمشت جمع کروانے پر مجبور کر رہے ہیں جبکہ جون اور جولائی کی فیس بھی پیشگی ادا کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ بعض اسکول انتظامیہ کی جانب سے یہ دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں کہ فیس ادا نہ کرنے کی صورت میں بچوں کو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جو تعلیم جیسے بنیادی حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

تنظیم نے کہا کہ ضلع کیچ کے عوام پہلے ہی سرحدی بندش (بارڈر بند) اور ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔ کاروبار متاثر ہے، روزگار کے ذرائع محدود ہو چکے ہیں اور عام آدمی کی آمدن بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں تین سے چار ماہ کی فیس ایڈوانس وصول کرنا ظلم کے مترادف ہے۔ جب والدین بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہوں تو اسکولوں کی جانب سے یہ رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔

بی ایس او تربت نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ آیا کئی ماہ کی فیس ایڈوانس وصول کرنے کا کوئی قانونی جواز موجود ہے یا نہیں۔ اگر اس عمل کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تو اسے فی الفور روکا جائے اور ذمہ دار اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

تنظیم نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس یا تو مکمل معاف کی جائے، یا اسے نصف کر دیا جائے، یا کم از کم ہر مہینے کی فیس الگ الگ وصول کی جائے اور کئی ماہ کی ایڈوانس وصولی کا سلسلہ بند کیا جائے تاکہ والدین کو فوری ریلیف مل سکے۔

بیان کے آخر میں بی ایس او تربت نے خبردار کیا کہ اگر والدین اور طلبہ کو معاشی و ذہنی دباؤ میں رکھنے کا سلسلہ جاری رہا تو تنظیم خاموش نہیں رہے گی اور ہر جمہوری و آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے بھرپور احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

تربت میں اساتذہ کی عارضی شارٹ لسٹنگ، تعلیم کے ساتھ کھلا مذاق ہےـ کرم خان بلوچ مرکزی کمیٹی ممبر، بی ایس اوبی ایس او کے مر...
04/02/2026

تربت میں اساتذہ کی عارضی شارٹ لسٹنگ، تعلیم کے ساتھ کھلا مذاق ہےـ کرم خان بلوچ مرکزی کمیٹی ممبر، بی ایس او

بی ایس او کے مرکزی کمیٹی ممبر کرم خان نے تربت میں اساتذہ کی بھرتی کے عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عارضی بنیادوں پر منظورِ نظر افراد کو شارٹ لسٹ کرنا اور اعتراضات کیلئے محض دو دن کی غیر معقول مدت مقرر کرنا ایک منظم ناانصافی اور تعلیم دشمن اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ عمل شفافیت کے بنیادی اصولوں کے سراسر منافی ہے، جہاں نہ میرٹ واضح ہے اور نہ ہی معیار۔ مزید یہ کہ امیدواروں کو اعتراضات کیلئے مناسب وقت فراہم نہیں کیا گیا، خاص طور پر دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کیلئے دو دن کی مہلت محض ایک رسمی کارروائی بن چکی ہے۔

کرم خان نے اس سنگین بے ضابطگی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ایک ہی امیدوار کا بیک وقت تین مختلف پوسٹوں پر اپلائی کرنا اور پھر تینوں میں سلیکٹ ہو جانا بھرتی کے نظام کی واضح ناکامی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں کئی پوسٹیں ضائع ہو جاتی ہیں، جبکہ دیگر اہل اور مستحق امیدوار روزگار کے حق سے محروم رہ جاتے ہیں، جو سراسر ناانصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تربت جیسے تعلیمی طور پر پسماندہ علاقے میں اگر اساتذہ کی بھرتی سفارش، اقربا پروری اور پسند ناپسند کی بنیاد پر کی جائے گی تو اس کے منفی اثرات براہِ راست طلبہ اور تعلیمی معیار پر پڑیں گے۔ تعلیم کو ذاتی اور سیاسی مفادات کی نذر کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

کرم خان بلوچ نے مطالبہ کیا ہے کہ اعتراضات جمع کرانے کیلئے معقول وقت دیا جائے۔ اور بھرتی کے پورے عمل کو شفاف بنایا جائےـ

آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس تعلیم دشمن طرزِ عمل کو فوری طور پر درست نہ کیا گیا تو بی ایس او طلبہ، اساتذہ اور عوام کے ساتھ مل کر بھرپور احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے

مکران میڈیکل کالج کے متنازع نتائج طلبہ پر مسلط کی گئی ناانصافی ہیں۔ ترجمان بی ایس او تربت زونتربت (پ ر) بلوچ اسٹوڈنٹس آر...
11/12/2025

مکران میڈیکل کالج کے متنازع نتائج طلبہ پر مسلط کی گئی ناانصافی ہیں۔ ترجمان بی ایس او تربت زون

تربت (پ ر) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن تربت زون نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ مکران میڈیکل کالج کے حالیہ سپلیمنٹری نتائج نے ادارے کے پورے امتحانی ڈھانچے کو مشکوک بنا دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ نتائج کا موجودہ طریقہ کار ثبوت ہے کہ ایم ایم سی میں امتحانی فیصلے شفافیت کے بجائے انتظامی کمزوری، غیر ذمہ دارانہ رویے اور طلبہ پر مسلط کی گئی غیر اعلانیہ پابندیوں کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ ایسے فیصلے نہ صرف طلبہ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں بلکہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں نتائج مرتب کرنے کے دوران بنیادی اصولوں اور انصاف کی کیا حیثیت رہ گئی ہے۔

بی ایس او تربت زون نے کہا کہ تھیوری میں بارہا کامیاب ہونے والے طلبہ کو پروف اور سپلیمنٹری دونوں وائیواز میں ناکام قرار دینا کسی اصول، ضابطے یا منطق کے تحت ممکن نہیں۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی کھلی نشاندہی کرتا ہے کہ امتحانی بورڈ کی کارکردگی اور مارکنگ کا پورا عمل غیر شفاف ہے اور طلبہ کے مستقبل کا فیصلہ غیر واضح، غیر دستاویزی اور غیر منصفانہ بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ “یہ محض نتائج کی خامی نہیں بلکہ طلبہ کی محنت اور وقت کو غیر ضروری جبر کے ذریعے ضائع کرنے کے مترادف ہے۔”

بیان میں مزید کہا گیا کہ صوبے کے دیگر کالجز کے مقابلے میں ایم ایم سی میں غیر معمولی تعداد میں سپلیمنٹری دینا انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی اور تعلیمی نظام کی عدم فعالیت کو ظاہر کرتا ہے۔ طلبہ برسوں سے امتحانی مسائل، وائیوا بورڈ کی مبہم پالیسیوں، اور مارکنگ کے متضاد طریقوں پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں مگر انتظامیہ کی مسلسل خاموشی نے معاملے کو شدت بخش دی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ “انتظامیہ کی خاموشی خود اس بات کا اعتراف ہے کہ مسئلہ محض غلطیاں نہیں بلکہ ایک منظم بے ضابطگی ہے جس کا اثر براہِ راست طلبہ کے مستقبل پر پڑ رہا ہے۔”

بی ایس او تربت زون نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ چند متاثرہ طلبہ تک محدود نہیں بلکہ پوری طلبہ برادری کے حقوق، ذہنی سکون اور تعلیمی مستقبل کا مسئلہ ہے۔ اداروں میں خوف، غیر یقینی اور دباؤ کی فضا قائم کر کے کسی بھی صورت ترقی یافتہ تعلیمی ماحول تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ بیان میں زور دیا گیا کہ انتظامیہ کو نتائج، وائیوا مارکنگ اور امتحانی عمل سے متعلق اپنے فیصلوں کو کھلے عام واضح کرنا ہوگا ورنہ طلبہ کے شکوک مزید بڑھیں گے۔

بیان کے آخر میں تنظیم نے کہا کہ اگر ایم ایم سی انتظامیہ نے اپنی پالیسیوں، امتحانی ڈھانچے اور فیصلوں پر سنجیدگی سے نظر ثانی نہ کی تو طلبہ برادری اپنے اجتماعی جمہوری حق کا استعمال کرنے پر مجبور ہوگی۔ ادارے کی مسلسل بے حسی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے جس پر اعلیٰ حکام کو فوری اور سنجیدہ نوٹس لینا ضروری ہے، کیونکہ اس بار طلبہ کے مستقبل پر ہونے والی ناانصافی کو خاموشی سے برداشت نہیں کیا جائے گا۔

لیکچرار بالاچ بالی کی گمشدگی پورے مکران کیلئے لمحۂ فکریہ ہے — ترجمان بی ایس او تربت زونتربت:(پ ر) بی ایس او تربت زون کے ...
04/12/2025

لیکچرار بالاچ بالی کی گمشدگی پورے مکران کیلئے لمحۂ فکریہ ہے — ترجمان بی ایس او تربت زون

تربت:(پ ر) بی ایس او تربت زون کے ترجمان کی جانب سے تربت یونیورسٹی کے لیکچرار بالاچ بالی کی جبری گمشدگی کے خلاف مزاحمتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ استاد کا لاپتہ کیا جانا نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ تعلیمی ماحول پر حملہ بھی ہے۔ ایک استاد کی گمشدگی سے نہ صرف طلبہ میں خوف و بے یقینی پیدا ہوتی ہے بلکہ یہ پورے معاشرے کیلئے انتہائی تشویشناک پیغام ہے کہ یہاں تعلیم سے وابستہ افراد بھی محفوظ نہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بالاچ بالی اپنی علمی، سماجی و تعلیمی خدمات کے حوالے سے ایک باوقار شخصیت تھے۔ ایسے افراد کی جبری گمشدگی پورے مکران، خصوصاً تربت یونیورسٹی کے طلبہ و اساتذہ میں شدید اضطراب کا باعث بن رہی ہے۔ بی ایس او تربت زون مطالبہ کرتی ہے کہ بالاچ بالی کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور ان کی جبری گمشدگی میں ملوث عناصر کو بے نقاب کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ پورے بلوچستان میں ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو تعلیمی اداروں تک جا پہنچا ہے۔ بی ایس او واضح کرتی ہے کہ اگر اساتذہ اور طلبہ ہی محفوظ نہیں تو تعلیم کے فروغ کی تمام حکومتی دعوے محض کاغذی کاروائی کے سوا کچھ نہیں۔

بی ایس او تربت زون نے انسانی حقوق کے اداروں، سول سوسائٹی، وکلاء تنظیموں اور طلبہ برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بالاچ بالی کی بحفاظت بازیابی کیلئے آواز اٹھائیں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف منظم انداز میں اقدام کریں۔ بی ایس او اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے اس مسئلے کے حل تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی

Address

Office At Advocate Road
Turbat

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BSO Turbat Zone posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share