18/12/2025
یہ داستان ان مسافروں کی ہے جو نیٹکو بس نمبر GLT-7303 میں سوار تھے اور جنہوں نے ایک اذیت ناک سفر برداشت کیا۔
نیٹکو کی خستہ حال بس (GLT-7303) ہفتہ کے روز شام 6 بجے خپلو سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوئی۔ بس کے اندر غیر ضروری شور شرابا اور بدنظمی کا عالم تھا۔ یہ بس رات تقریباً 2 بجے جگلوٹ پہنچی، جہاں بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈرائیور نے مسافروں کو حکم دیا کہ سب سو جائیں، صبح 6 بجے روانگی ہوگی۔
تاہم بس صبح 7 بجے روانہ ہوئی اور بشام پہنچ کر اچانک رک گئی۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ بس کے دو ٹائر مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد ڈرائیور نے اطلاع دی کہ دیگر بسوں کے قافلے (کنوائے) میں شامل ہونے کے لیے تیز رفتاری ضروری ہوگی۔ شور مچاتی اور لڑکھڑاتی ہوئی بس اللہ اللہ کر کے کسی طرح کوہستان تک پہنچی، جہاں معلوم ہوا کہ آج کنوائے نہیں ہوگی۔
مسافروں نے یہ سوچ کر اطمینان کیا کہ شاید اب منزل تک جلد پہنچ جائیں گے، مگر یہ امید بھی دم توڑ گئی۔ رات تقریباً 10 بجے مانسہرہ پہنچتے ہی بس اچانک بند ہو گئی۔ سنسان ہائی وے پر دو گھنٹے انتظار کے بعد بار بار پوچھنے پر ڈرائیور کا یہی جواب تھا:
“ابھی ٹھیک کر کے دیتا ہوں۔”
رات کے 3 بج گئے مگر بس کے درست ہونے کے کوئی آثار نظر نہ آئے۔ بالآخر فیملی کے ساتھ سفر کرنے والے مسافروں نے فیصلہ کیا کہ وہ گلگت اور سکردو سے آنے والی دیگر بسوں کے ذریعے کسی طرح راولپنڈی پہنچیں گے۔ رات 4 بجے تک ہم 10 نوجوان مسافروں نے نیٹکو منیجر کے نمبر پر متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر فون نہیں اٹھایا گیا۔ آخرکار ٹریفک پولیس کو بلایا گیا، جنہوں نے ڈرائیور کو ای چالان جاری کیا، لیکن اس کا بھی کوئی اثر نہ ہوا۔ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ یہ رقم کمپنی کے کھاتے سے کاٹ لی جائے گی۔
صبح 7 بجے ہم نے ایک نامعلوم وین والے نے 16500 روپے کے عوض راولپنڈی تک جانے کا بندوبست کیا۔ اس طرح کل ملا کر راولپنڈی پہنچنے میں 38 گھنٹے لگے۔
راولپنڈی پہنچ کر ہم دس مسافروں نے نٹکو کے دفتر میں منیجر کے سامنے احتجاج کیا۔ طویل مذاکرات کے بعد نیٹکو انتظامیہ فی نفر صرف 1,000 روپے واپس کرنے پر رضامند ہوئی۔
جو مسافر پہلے پہنچ چکے تھے، ان میں سے آدھے اپنے سامان کے انتظار میں تھے جبکہ باقی آدھے نیٹکو سے جان چھوٹنے کی خوشی میں اپنی اپنی منزلوں کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔ حیران کن طور پر چار دن گزرنے کے باوجود وہی خراب بس آج بھی اسی مقام پر کھڑی ہے، جو نیٹکو کی غفلت اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
Writer: Ali Alam