22/06/2026
اظہارِ تعزیت:
ہمارے بڑے ماموں، حسن شیخ مرحوم، ہم سے رخصت ہو گئے۔ انہوں نے طویل عمر پائی، بھرپور زندگی گزاری اور اپنے پیچھے محبت، خلوص، مہمان نوازی اور انسان دوستی کی ایسی روشن یادیں چھوڑ گئے جو ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
ماموں مرحوم، نانا مرحوم شیخ محمد سدپارہ کے نجفِ اشرف حصولِ علم کے لیے روانہ ہونے سے قبل پیدا ہوئے تھے۔ بچپن میں ان کی پرورش والدہ اور دادا نے کی۔ وہ نہایت ملنسار، مہمان نواز اور خدمت گزار شخصیت کے مالک تھے۔
ایک زمانہ تھا کہ سکردو میں نانا مرحوم کا گھر مہمانوں سے آباد رہتا تھا۔ اس دور میں بہت سے لوگوں کے اپنے مکانات نہیں ہوتے تھے، اس لیے باہر سے آنے والے علماء کرام، عزیز و اقارب اور دیگر مہمانوں کا اہم ٹھکانہ یہی گھر ہوا کرتا تھا۔ ماموں حسن شیخ مرحوم مہمانوں کی خدمت اور خاطر تواضع میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔
سال میں دو مرتبہ پورے سکردو کے علماء کرام کی دعوت کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ ان دعوتوں میں شکار کا گوشت خصوصی طور پر دسترخوان کی زینت بنتا تھا، جس کے انتظام میں ماموں مرحوم خود کرتے تھے ۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے کئی مرتبہ مرحوم علامہ شیخ غلام محمد صاحب کو دسترخوان پر مختلف اقسام کے کھانے رکھنے کو اسراف سے تعبیر کرتے سنا، لیکن ماموں مرحوم کی محبت اور مہمان نوازی کا تقاضا یہی تھا کہ مہمان ہر ممکن آسائش اور عزت محسوس کرے۔اپنے ہم عصروں میں وہ بے حد مقبول اور ہر دلعزیز تھے۔ سکردو میں بہت سے لوگ انہیں محبت سے ’’شیخ حسن‘‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ماموں مرحوم جنگِ آزادیٔ بلتستان اور ڈوگرہ دور کے بے شمار دلچسپ واقعات سنایا کرتے تھے۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ اس زمانے میں غیر مسلم دکاندار دیانت داری اور حسنِ سلوک کی مثال ہوتے تھے اور مذہبی تہواروں کے موقع پر بھی مقامی لوگوں کے ساتھ خصوصی تعاون اور رعایت کا رویہ اختیار کرتے تھے۔
وہ ایک واقعہ بیان کرتے تھے کہ سکردو کے معروف سکھ تاجر گروبچن نے ڈوگرہ سرکار کے خلاف بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے نانا مرحوم شیخ محمد سدپارہ سے کہا کہ اگر حالات خراب ہو جائیں تو وہ اپنی دکان کا تمام سامان ان کے سپرد کرنا چاہتا ہے، اور اگر واپس نہ آ سکا تو وہ سامان انہی کا سمجھا جائے۔ تاہم نانا مرحوم نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ واقعہ اس دور کے باہمی اعتماد، دیانت داری اور انسان دوستی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
یہ غیر مسلم تاجر سرینگر سے براستہ دیوسائی سامان لاتے تھے اور چونکہ سدپارہ ان کے سفر کا ایک اہم پڑاؤ تھا، اس لیے مقامی لوگوں سے ان کے قریبی تعلقات قائم تھے۔ سدپارہ کے بہت سے لوگ گھوڑوں کے ذریعے سامان کی ترسیل کا کام کرتے تھے، جس کے باعث یہ روابط مزید مضبوط ہوئے۔ماموں مرحوم پیشے کے اعتبار سے ٹھیکیدار تھے۔ کام کے سلسلے میں انہیں بلتستان کے تقریباً تمام علاقوں اور دیہات میں جانا پڑتا تھا، اس لیے ان کے پاس یادگار واقعات، قصے اور تاریخی روایات کا ایک وسیع خزانہ موجود تھا۔میرے ساتھ ان کی شفقت اور محبت مثالی تھی۔ میرا بچپن زیادہ تر نانا مرحوم کے گھر گزرا، اس لیے ماموں مرحوم کی خصوصی توجہ اور محبت ہمیشہ شاملِ حال رہی۔ انہیں یہاں تک یاد رہتا تھا کہ مجھے کون سا کھانا پسند ہے۔ ایک مرتبہ گھر آئے تو مسکراتے ہوئے کہنے لگے: ’’چلو، تمہارے لیے چاول لے کر آیا ہوں۔‘‘ بظاہر یہ ایک معمولی بات تھی، لیکن میرے لیے ان کی بے پناہ شفقت اور محبت کا ایک خوبصورت اظہار تھی، جو آج بھی یادوں میں تازہ ہے۔اللہ تعالیٰ ماموں حسن شیخ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی خدمات، مہمان نوازی، اخلاص اور نیک یادوں کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، اور تمام پسماندگان، خصوصاً برادران شیخ فدا شیخ زادہ، ماسٹر یونس، فدا حسین اور تمام خاندان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے آمین۔۔
شریک غم،
تمام خاندان