15/11/2024
سنو ہماری بھی داستانِ خراب ساٸیں۔۔
حضورِ والا، ارے معزّز، جناب ساٸیں۔۔
ہماری بے انتہا شرافت نے چھین لی ہے حضور ہم سے
ہمارا بچپن ہماری لاغر شباب ساٸیں۔۔
سمجھ سکو تو جو ہم پہ گزری ہے آپ سمجھو
ہمارے سینے میں دل بنے ہیں کباب ساٸیں۔۔
ہمیں مٹانا کسی کے خوابوں میں ہی رہے گا
ہمارے سینوں میں ہیں خدا کی کتاب ساٸیں۔۔
ہمارا شجرہ تو یوسفِ مصر سے جا ملا ہے
ہمارے کاندھوں پہ تہمتوں کے عذاب ساٸیں۔۔
یہ کیا غضب ہے حساب سارا ہمیں سے لوگے
ستمگروں کا بھی ہو ذرا احتساب ساٸیں۔۔
یہ خون پیتے ہیں یہ زمانہ بگڑ چکا ہے
انہیں پڑھاٶ محبتوں کی کتاب ساٸیں۔۔
ہمارے دل پر عجیب خنجر کا وار ہوگا
کسی کے چہرے سے مت ہٹاٶ نقاب ساٸیں۔۔
یہ جامِ الفت ہمیں دو ہم پارسا نہیں ہیں
ہمیں پلاٶ ہمیں پلاٶ شراب ساٸیں۔۔
ہمارے جینے کا بس یہی ایک ہی آسرا ہے
ارے دوا ہے اسے نہ کہیو شراب ساٸیں۔۔
ہماری جھولی میں ڈال دیجیو تمام کانٹے
ہماری جانب سے آپ رکھیو گلاب ساٸیں۔۔
یہ دل کے اندھے ہیں یہ اجالوں سے نا بلد ہیں
کہ ان کو آۓ گی راس کب آفتاب ساٸیں۔۔
ہمی محبت کے میر ہیں ہم وفا کے راہی۔۔
ہمارے سینے میں ہے وفا کی نصاب ساٸیں۔۔