Sahibzada Ahsan Hafiz Raza PMLN

Sahibzada Ahsan Hafiz Raza PMLN S/O Hafiz Muhammad Raza Sahib Ex MLA & Parliamentary Secretary (AJK LEGISLATIVE ASSEMBLY)

11/06/2026

05/06/2026
04/06/2026

کشمیری مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کی آئینی، تاریخی اور سیاسی جوازیت

ریاست جموں و کشمیر ایک متنازع اور تقسیم شدہ ریاست ہے، جس کی حتمی آئینی حیثیت آج تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق طے نہیں ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کا پورا آئینی ڈھانچہ ایک عبوری اور transitional character رکھتا ہے۔ اس تناظر میں مہاجرینِ جموں و کشمیر کی مخصوص نشستیں محض انتخابی بندوبست نہیں بلکہ unresolved State identity کی آئینی علامت ہیں۔

سب سے پہلے یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ 1947 کے بعد لاکھوں کشمیری باشندے، خصوصاً جموں اور وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد، جنگ، فسادات اور سیاسی حالات کے باعث ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ یہ افراد اب محض پاکستانی شہری نہیں بلکہ ریاست جموں و کشمیر کے “State Subjects” بھی ہیں ۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور UNCIP framework میں یہ اصول واضح طور پر تسلیم کیا گیا کہ وہ تمام باشندے جو ریاست سے migrate ہوئے، plebiscite کے وقت اپنی رائے دینے کا حق رکھتے ہیں۔

اسی بنیاد پر آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین 1974 میں مہاجرین کی نمائندگی کو شامل کیا گیا تاکہ:

1. ریاست جموں و کشمیر کی وحدت کا تصور برقرار رہے،
2. ریاستی باشندگان کی نمائندگی صرف موجودہ territorial limits تک محدود نہ ہو،
3. اور یہ تسلیم کیا جائے کہ تقسیمِ ریاست ایک عارضی اور unresolved صورتحال ہے۔

اگر مہاجرین کی نشستیں ختم کر دی جائیں تو اس کے کئی سنگین آئینی اور سیاسی نتائج برآمد ہوں گے۔

اول : یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ آزاد کشمیر صرف موجودہ geographical territory تک محدود ایک local administrative unit ہے، نہ کہ پورے State of Jammu & Kashmir کے constitutional continuity کا حصہ۔

دوم :یہ بالواسطہ طور پر Line of Control کو مستقل سیاسی سرحد تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا، کیونکہ اس کے بعد ریاست کے اُن علاقوں کے باشندگان کی نمائندگی ختم ہو جائے گی جو بھارتی زیر قبضہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔

سوم :یہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں اور حقِ خودارادیت کے تصور کو کمزور کرے گا، کیونکہ plebiscite کا بنیادی اصول یہی تھا کہ ریاست کے تمام باشندگان، خواہ وہ displaced یا migrated ہی کیوں نہ ہوں، اپنی رائے دینے کے حق دار ہوں گے۔

چہارم : مہاجرین کی نشستیں صرف افراد کی نمائندگی نہیں بلکہ ایک تاریخی اور قانونی claim کی نمائندگی کرتی ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر ایک وحدت (Unit) ہے، جس کی حتمی حیثیت ابھی طے ہونا باقی ہے۔

یہ اعتراض کہ مہاجرین آزاد کشمیر میں ٹیکس نہیں دیتے، یا پاکستان میں رہتے ہیں، اپنی جگہ administrative discussion ہو سکتی ہے، مگر اس سے ان کی ریاستی شناخت ختم نہیں ہو جاتی۔ دنیا کے کئی ممالک میں expatriate communities اور displaced populations کو constitutional representation حاصل ہوتی ہے کیونکہ نمائندگی صرف taxation کے اصول پر نہیں بلکہ historical-political identity پر بھی مبنی ہوتی ہے۔

اسی طرح dual nationality یا پاکستان میں سکونت بھی اس حقیقت کو ختم نہیں کرتی کہ یہ افراد ریاست جموں و کشمیر کے باشندگان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر کل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق plebiscite ہوتا ہے تو یہی لوگ اس حقِ رائے دہی کے حامل ہوں گے۔

لہٰذا مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ محض انتخابی reform نہیں ہوگا بلکہ:

* ریاست جموں و کشمیر کی وحدت کے تصور،
* disputed status،
* حقِ خودارادیت،
* اور آزاد کشمیر کی constitutional identity
کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے مترادف ہوگا۔

آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر ایک عبوری constitutional structure ہے، اور مہاجرین کی نمائندگی اسی عبوری مگر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ dispute framework کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان نشستوں کی موجودگی صرف سیاسی نہیں بلکہ تاریخی، آئینی اور سفارتی ضرورت ہے ۔

03/06/2026

Address

Sialkot
51310

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sahibzada Ahsan Hafiz Raza PMLN posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share