15/09/2025
شُعلہ رُخ ، مست نظر یاد آیا
رشکِ خُورشید و قمر یاد آیا
اشک آنکھوں سے چھلکتے ہی رہے
جب کبھی ، وُہ گُلِ تَر یاد آیا
آج کھولی جو بیاضِ غالبؔ
معدنِ لعل و گُہر یاد آیا
برق چمکی تو نشیمن دیکھا
شاخ ٹوٹی تو ثمر یاد آیا
چاند کی سمت جو دیکھا ساغرؔ
اپنے ارماں کا سفر یاد آیا
(درویش شاعر)
ساغرؔ صدیقی ¹⁹⁷⁴-¹⁹²⁸
مجموعۂ کلام : (مقتلِ گُل)