تعاون فلاحی تنظیم شالپین

تعاون فلاحی تنظیم شالپین socail walfare and wellbeing of poor and needy people

محمد ابرار چراغ وائي چي دا هلک ماسپخین نمانځه نه پس ګاړې مخی ته را وختو. د خوبه زنګیدو ما ورله سر راوغستو او په اوګه مي ...
27/04/2021

محمد ابرار چراغ وائي چي دا هلک ماسپخین نمانځه نه پس ګاړې مخی ته را وختو. د خوبه زنګیدو ما ورله سر راوغستو او په اوګه مي ورله کیښودو.. داسې نیمه ګهنټه پس چي سترګي وغړیدې لږ دمه شوے وو.. سترګې یي وو مږلی چي سر یي زما په اوګه پروت وو نو سمدستی پاسیدو... او اخوا شو.. ما ورته وي بچوړیه څه کار کوي.. وی کباړ ټولوم.. ما ورته وي روژې نیسې وئیلی وو نیسم... ما ورته وي سحر څه وخت دا کوره راوتي یی وئیل یې نمونځ می په لاره کړے وو.. ما ورته وی.. نن دي سو روپي وګټلی.. وئیل یي دوه سوا دیرش.. ما ورته وی دا پوره دي..؟ وي آو پورا دي د یو وخت دوا وخته ډوډئ پي په عزت خواړے شو.. ما ورته وي پلار دي څه شو.. وي پلار مي شته خو نشې کوي.. زمونږ فکر ورسره نه وي... بیه مي ورته وي په زړه دي ارمان شته...؟وئیل یی وو شته.. زما نه وړوکي خور ده... کور ته یي راله د خپلی ملګري جهولئ( جوړا)راوړي وا او راته یی وئیل چی لالا ما له به دی اختر له داسی اخلې... نو چي هغه به زه کله اخلم دري زره روپئ ده ما ورله اتلس سوا جمع کړی وي خو مور ناجوړه شوه په هغي ولګیدي... وس مي بیا جمع کول شروع کړي دي داسۍ سلور پنځه سوا به وی... ما ورته وی بس دغه ارمان دي دے وی وو دا می ارمان دي... ما ورته وی بس دغه ارمان دی پورا شوو... سترګو کی یی غټي اوښکې راغلی او لاړو زما د خوانه..
نوټ....
ما ده چراغ لالا نه پوښتنه وکړه نو هغه ويئل چي روپئ دغه هلک ته ميلاؤ شوي دي....
زمونږ په چاپیریال کي داسې ډير خلک شته باید چي نظر پرې ولرو هغوي ده خپلې خوددارئ له وجې چا ته لاس نه شي نيولې..

22/01/2021
*" اپنا حصہ ضرور ڈالیں "*اس کا انداز بہت تجسس بھرا تھا۔ الفاظ میں شدت اور بولنے میں بھی بہت تیزی تھی۔ اِدھر اُدھر کی بات...
11/04/2020

*" اپنا حصہ ضرور ڈالیں "*

اس کا انداز بہت تجسس بھرا تھا۔ الفاظ میں شدت اور بولنے میں بھی بہت تیزی تھی۔ اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد اس نے ایک انوکھا سوال میرے سامنے رکھ دیا، ’’سر، آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ میں نے بھی لاپرواہی سے کہا، ’’کچھ خاص نہیں۔‘‘ وہ دوبارہ بہت جلدی میں بولا،’’ نہیں سر، کچھ تو ہے کہ کبھی آپ اپنے کالموں میں کامیابی کے سربستہ راز بتانے لگتے ہیں، کبھی اَخلاقیات کو نئے انداز میں بیان کرتے ہیں اور کسی دن تقدیر ساز فیصلے کرنے پر مجبور کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ سب آپ کیوں لکھ رہے ہیں؟‘‘ میں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس سے یہ سوال پوچھا کہ ’’ آپ مجھ تک کیسے پہنچ پائے، حالانکہ آپ تو میرے شاگرد نہیں ہیں؟‘‘ وہ فوراً بولا کہ سر آپ کے کالم پڑھنے کی وجہ سے، کیونکہ میں یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں تو وہاں آپ کے کئی شاگرد آپ کے کالم کی فوٹو کاپیاں بانٹتے ہیں جو مجھ تک پہنچ گئیں۔ مجھے یہ باتیں بہت متاثر کن لگیں، اس لیے آپ سے ملنے کو دل چاہا اور میں چلا آیا۔ میں نے کہا کہ یہ باتیں اور یہ راز آپ تک پہنچانے کیلئے ہی تو میں انہیں کالموں میں شامل کر رہا ہوں وہ جنونی انداز میں بولا، مگر سر یہ باتیں ہماری قوم کو کہاں سدھاریں گی۔ ہمارے ہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ یہاں تو انقلاب آنا چاہیے، کیونکہ انقلاب ہی اس قوم کا علاج ہے۔ نوجوان کی دلیل بڑی واضح اور جذبات سے بھری ہوئی تھی۔ میں نے چند لمحوں کا وقفہ لیا۔ اور اپنے سوچ کے دھارے کو اس نوجوان کی نااُمیدی دُور کرنے پر راغب کیا۔ اب مجھے بولنے کی جلدی بھی تھی اور میرے جذبات میں شدت بھی تھی، کیونکہ مجھے اس نوجوان کی Brain Washing کرنا تھی۔ آخر میں نے سکوت توڑا اور بولا:
بیٹا، کہتے ہیں جنگل میں آگ لگ گئی اور اتنی خوفناک آگ کو دیکھتے ہوئے سارے جانور جنگل سے باہر بھاگے۔ جنگل میں ایک درخت پر چڑیا کا گھونسلا تھا۔ چڑیا نے جب آگ دیکھی تو فوراً اُڑی اور جنگل کے پاس موجود ندی کے کنارے پہنچی۔ اس نے اپنی چونچ میں پانی کی چند بوندیں بھریں اور جنگل کی آگ پر پھینکنی شروع کیں۔ یہ عمل اس نے کئی بار کیا۔ اسی دوران جنگل کے بادشاہ شیر کی نظر اس پر پڑ گئی۔ شیر بولا کہ اے چڑیا، تیری چند پانی کی بوندیں کہاں جنگل کی آگ بجھائیں گی۔ چڑیا نے کہا، بادشاہ سلامت آپ کا سوال اتنا اہم نہیں کہ یہ چند بوندیں کہاں جنگل کی آگ بجھائیں گی؟ بلکہ سوال اس بادشاہ کل کائنات کا اہم ہوگا جو مجھ سے آخرت کے روز پوچھے گا کہ اے چڑیا جب پورا جنگل آگ سے جھلس رہا تھا تو تو نے اس جنگل کی آگ بجھانے کیلئے کیا کیا؟ تب میں انتہائی ادب اور احترام سے اپنے اللہ کو یہ بتا سکوں گی کہ اے مالک کل کائنات! جب جنگل جل رہا تھا تو میں نے اسے بچانے کیلئے اپنی حیثیت کے مطابق چند بوندیں پانی کی پھینکیں تھیں اور میرا مالک خوش ہو کر فقط اتنا کہہ دے گا کہ جا چڑیا، میں آج تجھ سے راضی ہوا۔ سو بیٹا، میں اس چڑیا کی مانند اپنا حصہ ڈال رہا ہوں تاکہ آخرت کے روز جب حساب کتاب کی باری آئے اور مجھ سے پوچھا جائے کہ ہم نے تجھے قلم کی سیاہی سے روشنی پھیلانے کی طاقت دی اور تیری آواز کو دوسروں تک پہنچنے کے قابل بنایا تو بتا، تو نے اس سے کیا کیا؟ اس وقت میں اپنی حقیر سی کوشش پیش خدمت کر دوں گا اور میرا مالک اتنا غفور و رحیم ہے کہ وہ چڑیا کی چند بوندوں کی مانند میری اس حقیر کاوش کو بھی قبول کرلے گا۔
بات ہار اور جیت کی نہیں ہوتی۔ بات فقط قبول ہونے کی ہوتی ہے۔ خدا اگرچڑیا کے بچے کو ہمت دے تو وہ شہباز کی آنکھیں پھاڑ دیتا ہے۔ وہ چاہے تو فقط ایک تنکا کسی بڑے صاحب بینا کی بینائی چھین سکتا ہے۔
مالک کل کائنات تو ایک حقیر مچھر کی مدد سے نمرود جیسے شہنشاہ کو ذلت کی موت دے سکتا ہے اور وہ اپنی حکمت دکھانے پر آئے تو کمزور مکڑی کے جالے کی مدد سے اپنے محبوبؐ جو وجہ تخلیق کائنات ہیں، کو حفاظت فراہم کرسکتا ہے۔ کیا پتا، کسی عبادت گزار کی تکبر والی عبادت قبول نہ ہو اور کسی گناہ گار کی عاجزی و ندامت کے دو آنسو اسے بھلے لگیں اور وہ اسے بخش دے۔
’’سچا، امانت دار تاجر (آخر ت کے روز) انبیا، صدیقین اور شہدا کی صف میں کھڑا ہوگا۔‘‘ (حدیث نبویؐ)
بیٹا، کیا معلوم کہ میری چند چھوٹی سی کاوشیں کسی کو کل امانت دار تاجر بنا دے اور جب وہ ان عظمت والے لوگوں کی صف میں کھڑا ہو تو وہ خدا تعالیٰ سے یہ کہہ دے کہ ’’ مالک مجھے امانت دار تاجر بنانے والا ذریعہ تو فلاں شخص کی تحریر تھی۔ میرے مالک اس کو بھی اسی صف میں لاکھڑا کر۔‘‘ اور شاید اسی وقت میری اس کوشش کا صلہ مجھے مل جائے۔ یہ بات اہم نہیں کہ کسی عمل کا فوراً نتیجہ کیا ہے اور وہ کتنا مشہود و مقبول ہو جاتا ہے، بات اہم یہ ہے کہ اس عمل کی نیت کیا ہے۔ اگر نیت بہتر ہے تو مالک نے عمل سے پہلے نیت کو دیکھتے ہوئے اس کا صلہ دے دینا ہے۔
اس لیے اگر آج ملک مصائب میں گھرا ہوا ہے تو یہ دیکھئے کہ کون اپنی حیثیت اور بساط کے مطابق اس کی بہتری میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ یہ حصہ کسی ہم وطن کیلئے دعا کرنے سے بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ یہ حصہ تحریر کی مدد سے بھی ہو سکتا ہے اور تقریر کی مدد سے بھی۔ اللہ تعالیٰ کے نبیؐ نے دعا فرمائی کہ ’’ خدا اس شخص کو آباد کرے جو میری بات کو سنے اور آگے پہنچائے۔‘‘ اس لیے اچھی بات کا آگے منتقل کرنا بھی عبادت ہے۔ نا امیدی کے دور میں امید بانٹ دینا بھی اپنا حصہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ نا امیدی تو ویسے بھی کفر ہے، اس لیے جو ہو سکتا ہے، بیٹا آپ بھی کیجیے۔
اللہ تعالیٰ کیلئے، اس کے نبیؐ کیلئے، اس ملک کیلئے اور اپنی آنے والی نسلوں کی بہتری اور خوشحالی کیلئے آپ بھی اپنا حصہ ڈالیں۔ چاہے وہ فقط کسی کے درد کو محسوس کرتے ہوئے دو آنسو ہی کیوں نہ ہوں۔ کیا پتا وہی آپ کی بخشش کا سبب بن جائیں
*︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗*

05/04/2020

لاک ڈاون ہے ابو کام پر نہیں جاسکتے گھر میں جو کچھ تھا ختم ہوگیا کسی نے راشن بھی دیا تھا وہ بھی ختم ہوتا جارہا ہے.
ایک غریب بچے کی فریاد.
اپنے اس پاس غریبوں کی مدد کریں.
یااللہ اس عذاب سے ہمیں نجات دلا دے...

برائے مہربانی اگے شیئر کریں...
30/03/2020

برائے مہربانی اگے شیئر کریں...

28/03/2020

برائے مہربانی اپنے اردگرد غریب لوگوں کی مدد
کرنے میں ہمارا ساتھ دیجیئے....

27/03/2020

A public service message by GNN...
سوچیں اپنے غریب بھائیوں کے بارے میں ، ہمارا ساتھ دیجیئے ان تک خوراک پہچانے میں......

27/03/2020

ہم اپنے نوجوان ممبر "امداد خان"
کے بہت مشکور ہیں
کہ وہ اس مشکل گھڑی میں غریبوں کی مدد کیلئے
اپنی بھر پور کوششیں سرانجام دے رہا ہے.

برائے مہربانی احتیاطی تدابیر اپنائیں. جتنا آپ لوگوں سے ہو سکتا ہے احتیاط کریں ، وائرس کو اپنے اندر آنے نہ دیں. اللہ ہم س...
27/03/2020

برائے مہربانی احتیاطی تدابیر اپنائیں. جتنا آپ لوگوں سے ہو سکتا ہے احتیاط کریں ، وائرس کو اپنے اندر آنے نہ دیں. اللہ ہم سب کو بچائیں.........

یومیہ مزدوری کرنے والوں کو راشن دینے کی ایک چھوٹی سی کوشش۔ اپ سب حضرات سے تعاون کی اپیل۔ اگر اپ بھی اس نیک کام میں حصہ ل...
25/03/2020

یومیہ مزدوری کرنے والوں کو راشن دینے کی ایک چھوٹی سی کوشش۔ اپ سب حضرات سے تعاون کی اپیل۔

اگر اپ بھی اس نیک کام میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو برائے مہربانی مندرجہ ذیل نمبرات پر رابطہ کریں۔
سجاد خان: 03481974729
سعید شاہ: 03339554849
طاہر خان: 03469866374
واحد شاہ: 03479117104

Address

Shalpin
Shalpin

Telephone

+923469866374

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تعاون فلاحی تنظیم شالپین posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to تعاون فلاحی تنظیم شالپین:

Share

Category