01/06/2026
آؤ تتلی کے گھر چلتے ہیں
چلیں !
تنہائی کے
اِس غار سے نکلیں
کوئی رستہ بنائیں
اِس گھنی، گاڑھی، سیاہی سے نکلنے کا
اندھیرے، اندھے، زہریلے دھوئیں میں
کاربن ہوتی ہوئی عمریں کہاں ہیرا بنائیں گی
کسی نیکلس، انگوٹھی اور جھمکے میں
چمک اٹھنا، کہاں دل کا مقدر ہے
ہمارے کوئلہ ہوتے دنوں کا غم، ہمالہ نے کہاں رونا ہے
کس تاریخ کا چہرہ بھگونا ہے
وبا موسم ہے، اک جیسا
سبھی کے واسطے یکساں کرونا ہے
مری جاں!
پھول کے چہرے پہ کھلتی مسکراہٹ
کم نہیں ہوتی
ذرا سی زندگی پا کر
کوئی تتلی نہیں روتی
اَمر ہونے کا سپنا کب کسی چڑیا نے دیکھا ہے
سبھی کی ایک ریکھا ہے
سہانی نیند میں جاگا ہوا ہے
خواب” ہونے کا”
سبب کیا ہے؟
نشیلے نین رونے کا
انیلی بارشیں نیلے سمند رکی کثافت پر
بہت آنسو بہاتی ہیں
مگر اس کو معطر کر نہیں سکتیں
کبھی خواہش کے اس کاسے کو
آنکھیں بھر نہیں سکتیں!
علی محمد فرشی