ایک نظم

ایک نظم ایک نظم

01/06/2026

آؤ تتلی کے گھر چلتے ہیں

چلیں !
تنہائی کے
اِس غار سے نکلیں
کوئی رستہ بنائیں
اِس گھنی، گاڑھی، سیاہی سے نکلنے کا
اندھیرے، اندھے، زہریلے دھوئیں میں
کاربن ہوتی ہوئی عمریں کہاں ہیرا بنائیں گی
کسی نیکلس، انگوٹھی اور جھمکے میں
چمک اٹھنا، کہاں دل کا مقدر ہے
ہمارے کوئلہ ہوتے دنوں کا غم، ہمالہ نے کہاں رونا ہے
کس تاریخ کا چہرہ بھگونا ہے
وبا موسم ہے، اک جیسا
سبھی کے واسطے یکساں کرونا ہے
مری جاں!
پھول کے چہرے پہ کھلتی مسکراہٹ
کم نہیں ہوتی
ذرا سی زندگی پا کر
کوئی تتلی نہیں روتی
اَمر ہونے کا سپنا کب کسی چڑیا نے دیکھا ہے
سبھی کی ایک ریکھا ہے
سہانی نیند میں جاگا ہوا ہے
خواب” ہونے کا”
سبب کیا ہے؟
نشیلے نین رونے کا
انیلی بارشیں نیلے سمند رکی کثافت پر
بہت آنسو بہاتی ہیں
مگر اس کو معطر کر نہیں سکتیں
کبھی خواہش کے اس کاسے کو
آنکھیں بھر نہیں سکتیں!

علی محمد فرشی

30/05/2026

ہم زندہ رہتے ہیں

ہم زندہ رہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔
مر جاتے ہیں
ہم نے کبھی سمندری سفر نہیں کیا ہوتا
باغیوں کے کسی گروہ کے ممبر نہیں بنتے
کسی مداری کو زندہ سانپ کھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہوتا
ہم اس کے باوجود مر جاتے ہیں
ہمارے پاس ایک دن ہوتا ہے
جسے ہم سو کر گزار دیتے ہیں
اور ایک زندگی
جو کسی لڑکی کے نام کر دی جاتی ہے
جب سورج مر جاتا ہے
ہم چھت پر ٹہلتے ہوئے
پڑوس میں رہنے والی عورتوں کو سونگھتے ہیں
جب فسادات میں مرنے والوں کے اعضاء اکٹھے کیے جارہے ہوتے ہیں
ہم کسی اخباری تصویر پر پنسل سے
مونچھیں بنا رہے ہوتے ہیں
ہم موٹے ہو جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے باوجود زندہ رہتے ہیں
عین اُس وقت /جب ہم خواب میں
کسی نو عمر لڑکی کے بریزئیر کا ہُک کھول رہے ہوتے ہیں
ایک بوڑھی چڑیل ہمارے مُنہ میں پیشاب کر دیتی ہے
جب کوّے اپنا قومی ترانہ پڑھ رہے ہوتے ہیں
سمندر ہمیں خودکُشی کے دعوت نامے بھیجتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔ہم
آگ کا حمل ٹیسٹ کروانے کے لیے جہنم کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہوتے ہیں
ہمارے ہاتھ بوڑھے ہوجاتے ہیں
ہمارے پائوں چُرا لیے جاتے ہیں
دروازہ دیوار میں تبدیل ہوجاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم
آگ کے حمل کی طرح گِر جاتے ہیں

ساحر شفیق

10/05/2026

کون ؟۔
صفحے
لمس کی خوشبو
یاد رکھتے ہیں
کتابیں چاہتی ہیں
انہیں دوبارہ
ویسے ہی پڑھا جائے
جیسے پہلے پڑھا گیا تھا
مگر چلتے پانیوں میں قدم
دوبارہ کس نے رکھا
کون دوبار جیا !

قاسم مقسوم

03/05/2026

نظم

خداوندا
تجھے معلوم ہے میں نے
یہ اپنی عمر
کس بے فیض موسم کی رفاقت میں گزاری ہے
یقین و بے یقینی کی اذیت میں گزاری ہے
خداوندا
تجھے معلوم ہے میرے
ہر اک جانب تری سو نعمتیں
بکھری ہوئی تھیں
ہزاروں راستے تھے
منزلیں تھیں
روشنی تھی
رنگ تھے خوشبو تھی
پھولوں سے لدی شاخیں تھیں خواہش کی
تمنائیں لبوں پر مسکراہٹ کے
کئی نغمے سجائے رقص کرتی تھیں
کئی جگنو مری شاموں کے آنگن سے گزرتے تھے
مری ہر آرزو کی اپنی پیشانی تھی اور ان سے
کئی سورج ابھرتے تھے
کئی مہتاب چہرے
جھیل سی آنکھیں لیے میرے تعاقب میں نکلتے تھے
مجھے آواز دے کر
روکنے کی کوششیں کرتے نہ تھکتے تھے
کئی دل دار موسم تھے
کہ جن میں تتلیاں بارش کے رنگوں میں نہاتی
ہاتھ پھیلاتی
مرے قرب و جوار دیدہ و دل سے گزرتی تھیں
مگر میں نے
خداوندا
تجھے معلوم ہے میں نے
تری ساری عنایت کو
تری ان نعمتوں کو آنکھ بھر کر بھی نہیں دیکھا
خداوندا
تجھے معلوم ہے
تو جانتا ہے
کہ مرے دل اور مری آنکھوں میں بس وہ
موسم دل دار بستا تھا
اسی موسم کی چاہت
اور محبت کا کہیں
اقرار بستا تھا
اسی موسم کو دل نے اپنی صبح شام جانا تھا
اگرچہ راہ میں آیا ہوا سارا زمانہ تھا
خداوندا تجھے معلوم ہے
تو جانتا ہے
دلوں کے زخم
اور آنکھوں کی ساری کیفیت پہچانتا ہے
مگر میں نے
اسے جانانہ پہچانا
مجھے جو بھی کہا اس نے
اسی کو زندگی جانا
اسی کو روشنی جانا
خداوندا
تجھے معلوم ہے اس نے
بسر کی زندگی میری
چرا لی روشنی میری
تجھے معلوم ہے سب کچھ
خداوندا تجھے معلوم ہے سب کچھ
مری عمر گذشتہ کا
مری عمر رواں کا
ایک اک لمحہ
اسی بے فیض موسم کی رفاقت کے ہی کام آیا
مگر اب میں
خداوندا
مگر اب میں محبت کے
اسی بے فیض موسم کی رفاقت کے
عذابوں
اور خوابوں سے
تھکا ہارا ہوا انسان
رہائی چاہتا ہوں
تری سو نعمتیں ہیں
ان سے تنہائی کی نعمت چاہتا ہوں
خداوندا تجھے معلوم ہے میں نے
یہ اپنی عمر کس بے فیض موسم کی رفاقت میں گزاری ہے
یقین و بے یقینی کی اذیت میں گزاری ہے
خداوندا
مجھے تنہائی کی نعمت عطا کر دے!

منور جمیل

02/05/2026

پیشانی کا بوسہ

کیا میں سوئی ہوئی تھی
کہ
جب خواب میں
تم نے دھیرے سے ماتھے کا بوسہ لیا
یا کہیں اندروں (از پئے دلبری)
آج رنگِ حقیقت تھا بدلا ہوا؟
جب مری طاقِِ ابرو کے معبد تلے
اک لرزتا ہوا دیپ روشن ہوا

دیپ کی جوت کیا تھی؟
لبوں پر لرزتی ہوئی اک دعا؟
وہ دعا جس کا پھیلاؤ ہے بےکراں

بےکراں تھا وہ پل؟
وہ مہربان پل!
صبح ِ کاذب میں جب!
آج پیشانی کا تم نے بوسہ لیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نینا عادل

29/04/2026

کوئی لفظ چھیل گیا زباں

وہ جو نظم تیری دقیق آنکھوں سے جاں چھڑا کے نکل پڑی
ترے آنسوؤں نے لکھا اسے
کوئی حرف تھا کہ جو لفظ توڑ کے رکھ گیا
تری سانس کتنی رواں دواں تھی ترے بیان کے وقت بھی
مرا دھیان کب سے بھٹک نہیں رہا تیرے دھیان کے وقت بھی
وہ ردا بھی نظم کا جزو تھی
وہ ردا کہ جو نہیں ڈھک سکی ترا سر اذان کے وقت بھی
تری نظم تجھ سے بہت اداس لگی مجھے
وہ خیال جس کا لباس تُو نے اتار کر کہیں رکھ دیا
وہ لباس اور کسی خیال کا جسم ڈھانپ نہیں سکا
وہ جو نظم تیری عمیق آنکھوں سے بچ بچا کے نکل پڑی
جسے تو نے ڈھانپ دیا ہے آج اسی خیال کے جسم سے
تری نظم آج بھی بے لباس لگی مجھے
ترا نام نظم میں لکھتے رہنے کا شوق مہنگا پڑا مجھے
تری نظم خیر سے ٹھیک ہے
مری نظم اتنی علیل ہے
مری چپ ہی اس کی دلیل ہے
کوئی حرف لفظ کو توڑ کر،
مرے حلق میں ہی اٹک گیا !
کوئی بات تھی مری نظم میں،
تری نظم تک نہ پہنچ سکی !
تجھے کیا کہوں مرے بدگماں !
کوئی لفظ چھیل گیا زباں !

زین شکیل

29/04/2026

نامراد دنیا

ہم میلے کپڑوں کے میل کو چھپانے کے لئے
اپنے کپڑوں کو الٹا کر کے پہن لیتے ہیں
اور تھوڑی دیر کی شان دکھانے کے لئے
یہ بھول جاتے ہیں کہ
جن کے لئیے ہم نے یہ کایا پلٹ کی ہے
ان کی آنکھیں مسخروں سے مستعار لی گئیں ہیں
اگرچہ کہ ان مسخروں کی اب ہڈیاں بھی گل چکی ہوں گی
لیکن
اب یہ کہنا بے کار ہے
کہ وہ ہمیں پہچان گئے کہ ہمارے پاس اتنا بھی پانی نہیں ہے
کہ ہم آب دست کر سکیں
وہ غلط فہمی میں ہیں
ان کو معلوم نہیں کہ ہم اپنے اپنے پسینوں کو جمع کرتے رہتے ہیں
اور اپنے معمولات میں استعمال کرتے ہیں
سوائے پینے کا پانی
وہ ہمیں نہیں ملتا
زندگی کو آسان بنانے کے لئے ہم جھوٹ بولتے ہیں
اپنے آپ سے
اور گولا گنڈا بیچنے والے کی آخری برف کو بھی ہم اپنے اپنے پیالوں میں بھیک کی شکل میں گھر لے آتے ہیں
ہماری اس کارکردگی پر مائیں بہت خوش ہوتی ہیں
کہ اس نامراد دنیا میں ہم کو جینا آ گیا
ہم روز یہی کرتے ہیں
بس اس دن نہیں جب ہمارے درمیان سے کوئی گولے والے کی اس برف کو پینے سے مر جا تا ہے
ہمیں حیرانی نہیں ہوتی اور دکھ بھی
کیونکہ ہم جانتے ہیں
ہم لوگوں کی موت اسی طرح لکھی ہے
جب تک ہم زندہ ہیں
ہم اس عافیت پر ماؤں کے بتائے ہوئے
خدا کے شکرگزار رہتے ہیں
اور اکثر اس کے نام پر ہم اپنی برف
اس کو بانٹ دیتے ہیں جو اس دن وہ برف حاصل نہیں کرتا ہے

عذرا عباس

21/04/2026

خوشبوئے پیراہن

تمہارے وجود کی خوشبو
جب میری زندگی کے دریچوں سے ٹکراتی ہے
تو وقت کی دیواروں پر جمی گرد
دھیرے دھیرے جھڑنے لگتی ہے

​میں نے برسوں سے
زمانے کی تلخیوں کو اپنے چہرے پر پالا ہے
مگر جب تم مسکراتی ہو
تو یوں لگتا ہے جیسے کسی قدیم مٹیالے آئینے پر
صندل کا چھڑکاؤ کر دیا گیا ہو
اور سارے دھندلے عکس یکایک روشن ہو گئے ہوں

​سنو...!!
جب تک میں تمہاری چاپ کے حصار میں ہوں
زندگی کی تلخی کا زہر
میرے وجود کے پیالے میں نہیں اتر سکتا
تمہاری قربت کا نشہ
کسی بھی پرانے مے کدے کی شراب سے زیادہ گہرا ہے

​بس ایک التجا ہے
تمہارے پیرہن کا کوئی رنگ
میری بے رنگ صبحوں میں بکھر جائے
تاکہ میں اس زنگ آلود دنیا میں
جینے کا کوئی نیا جواز ڈھونڈ سکوں...!!

عمران عباس

19/04/2026

"نِکا جئیا سوال"

میں: کیہ حال نی چن؟
او: میں ٹھیک آں سوہنے

او: توں ٹھیک ایں؟
میں: تینوں تک کے وی ٹھیک نہ ہوواں ہو سکدا اے؟

میں: اک گل پوچھاں ؟
او: ہاں جی پوچھو

میں: لوکی کہندے یاد تے اوہناں نوں کری دا اے جناں نوں آپاں بھل گئے ہوئیے
پر تسی مینوں انج یاد اوندے او کہ میں ہر دینھ ہر ویلے تھواڈے ناں دی مالا جپدی رہندی آں ، تسی ہوندے او تے دنیا بھل جاندی اے کسے دی لوڑ باقی نہیں رہندی ۔۔۔

کیہ تھوانوں میری یاد نہیں آندی
میرا چیتا کر کے جگ نہیں بھلدا؟؟

ایس گل تے او ہس پیندا اے
تے
میرا سوال فیر ادھوارا رہ جاندا اے۔۔۔

ایمن چاغی

19/04/2026

دو انتہاؤں میں:

میں آسمان اور چیونٹی کے درمیان بٹا ہوں

آسمان میرا بڑا حصہ لے جاتا ہے
چیونٹی میرا چھوتا

خود میں اپنے لئے اتنا بچا ہوں
جتنا میں سانس لیتا ہوں
جتنا میں جیتا ہوں
جتنا میں آسمان کو دیکھ پاتا ہوں
جتنا میں چیونٹی کو سمجھتا ہوں

آسمان سے میں معمولی نظر آتا ہوں
چیونٹی کی نظر میں میں دیوتا ہوں
آسمان کی نظر میں پجاری
اپنی نظر میں میں مٹ رہا ہوں
اور آسمان کی طرح رفتہ رفتہ دھندھلا رہا ہوں

طاہر راجپوت

Address

Shahkot

Telephone

+923130505308

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ایک نظم posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share