03/07/2026
"آواز"
ايک چھوٹے سے قصبے میں ایک مقامی اخبار نکلتا تھا، بس چار صفحوں کا، جسے قصبے کے لوگ "سچ کی آواز" کہتے تھے۔ اسے ایک ادھیڑ عمر صحافی، ندیم، اپنے ہاتھوں سے چلاتا تھا خود لکھتا، خود پرنٹ کرواتا، خود بانٹتا۔
ایک دن ندیم نے ایک خبر شائع کی: قصبے کی سرکاری سکیم کے تحت بننے والی سڑک کا ٹھیکہ ملنے والے ٹھیکیدار نے آدھا میٹریل استعمال کر کے باقی پیسے ہڑپ کر لیے تھے۔ سڑک تین مہینے میں ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی تھی۔ خبر میں نام تھا، تاریخیں تھیں، اور رقم کا حساب بھی۔
اگلے دن ٹھیکیدار کے دو آدمی ندیم کی دکان پر آئے۔ دھمکی سیدھی تھی: "خبر واپس لو، معافی چھپواؤ، ورنہ اخبار بند کروا دیں گے — یا تمہیں خود بند کر دیں گے۔" ندیم ڈر گیا، رات بھر سو نہ سکا۔ اکیلے اس ٹھیکیدار کا مقابلہ کرنا، جس کے تعلقات مقامی تھانے تک تھے، ناممکن لگ رہا تھا۔
اگلی صبح ندیم نے فیصلہ کیا کہ وہ خاموش ہو جائے گا۔ اس نے معافی نامہ لکھنا شروع کیا۔ اسی وقت دکان پر ایک بوڑھا کسان، شریف، آیا — وہی سڑک استعمال کرنے والا جس کا ٹریکٹر پچھلے ہفتے ٹوٹی سڑک پر پھنس گیا تھا۔ اس نے پوچھا: "بیٹا، آج خبر نہیں آئی؟" ندیم نے سارا معاملہ بتا دیا۔
شریف نے کچھ نہیں کہا، بس اپنے موبائل سے پانچ لوگوں کو کال کی۔ شام تک ندیم کی دکان پر پندرہ لوگ جمع تھے — وہ سب جن کی روزی روٹی، بچوں کی سکول جانے کی سڑک، یا ایمبولینس کا راستہ اسی ٹوٹی سڑک سے گزرتا تھا۔ ایک نوجوان وکیل، عابدہ، نے کہا: "ندیم بھائی، آپ اکیلے نہیں ہیں۔ خبر سچ ہے تو یہ صرف آپ کی نہیں، ہم سب کی آواز ہے۔"
عابدہ نے قانون سمجھایا: صحافت اور رائے کی آزادی آئینی حق ہے، اور دھمکی دینا خود ایک جرم ہے۔ اس نے تھانے میں باقاعدہ درخواست درج کروانے میں مدد کی۔ اسی دوران قصبے کے دیگر لوگوں نے، جنہوں نے کبھی اخبار پڑھا بھی نہ تھا، اپنے موبائل سے سڑک کی تصویریں بھیجنی شروع کر دیں — ندیم کے پاس اب صرف ایک خبر نہیں، درجنوں شہادتیں تھیں۔
خبر ضلعی سطح کے ایک بڑے اخبار تک پہنچی، جس نے اسے دوبارہ چھاپا اس بار ندیم کے نام کے ساتھ، اور اس کے ساتھ کھڑے قصبے کی تصویر کے ساتھ۔ ضلعی انتظامیہ کو مداخلت کرنی پڑی۔ آڈٹ ہوا، ٹھیکیدار کی بلیک لسٹنگ ہوئی، اور سڑک دوبارہ درست معیار پر بنائی گئی۔
مہینوں بعد، جب ندیم سے پوچھا گیا کہ اس نے ڈر کر خاموش ہونے کا ارادہ کیوں بدلا، تو اس نے کہا: "میں سمجھتا تھا سچ بولنا میری اکیلی جنگ ہے۔ اس دن سمجھ آیا کہ سچ کبھی اکیلا نہیں ہوتا — بس اسے سننے والے کان اور ساتھ دینے والے ہاتھ چاہیے ہوتے ہیں۔"
سبق:
آزادیٔ اظہار صرف لکھنے کا حق نہیں، سچ کو تحفظ دینے کا معاشرتی فرض بھی ہے۔
خاموشی خوف سے پیدا ہوتی ہے، اور خوف تنہائی سے بڑھتا ہے ساتھ کھڑا ہونا ڈر کا سب سے بڑا علاج ہے۔
ایک آدمی کی آواز کمزور لگ سکتی ہے، مگر جب کمیونٹی اس کے پیچھے کھڑی ہو جائے، وہی آواز طاقتور ثبوت بن جاتی ہے۔
جو لوگ کبھی خبروں میں دلچسپی نہیں لیتے، وہی سب سے مضبوط گواہ بن سکتے ہیں جب معاملہ ان کی اپنی زندگی سے جڑ جائے۔