Tareekhe Shabqadar Doaba ملک گیگیانی

Tareekhe Shabqadar Doaba ملک گیگیانی Doaba Shabqadar (ملک گیگیانی)Comprised of Upper and Lower Doaba.

Historically Known as the Land of the Gigyanis,a title that reflects the deep-rooted presence and influence of the Gigyani tribe in this area.

برصغیر کی تاریخ میں برطانوی راج کا سب سے پیچیدہ اور گہرا پہلو صرف فوجی قبضہ یا سیاسی تسلط نہیں تھا بلکہ وہ سماجی انجینئر...
31/05/2026

برصغیر کی تاریخ میں برطانوی راج کا سب سے پیچیدہ اور گہرا پہلو صرف فوجی قبضہ یا سیاسی تسلط نہیں تھا بلکہ وہ سماجی انجینئرنگ تھی جس کے ذریعے انگریزوں نے ایک ایسا مقامی طاقتور طبقہ پیدا کیا جو ان کی حکومت کا محافظ، منتظم اور وارث بن گیا۔ پنجاب اس منصوبے کا سب سے اہم مرکز تھا۔ یہاں انگریزوں نے زمین، نہریں، فوج، مقامی سرداری، برادری، مذہب اور انتظامیہ کو آپس میں جوڑ کر ایک ایسا نظام قائم کیا جس کے اثرات آج بھی پاکستان کی سیاست، معیشت اور سماجی ڈھانچے میں موجود ہیں۔ اگر پنجاب کی جدید تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ برطانوی حکومت نے صرف قبضہ نہیں کیا بلکہ اس نے ایک نیا اشرافیہ طبقہ تخلیق کیا جس کی بنیاد وفاداری، زمین اور طاقت پر رکھی گئی۔

1849ء میں جب سکھ سلطنت ختم ہوئی اور پنجاب برطانوی حکومت کے قبضے میں آیا تو انگریزوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ اس خطے کو مستقل طور پر کیسے قابو میں رکھا جائے۔ پنجاب کی جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ تھی۔ ایک طرف یہ شمال مغربی سرحد کا محافظ تھا جہاں روسی پیش قدمی کا خوف موجود تھا، دوسری طرف یہ ہندوستان کی سب سے زرخیز زمینوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ پنجاب کی آبادی جنگجو سمجھی جاتی تھی۔ سکھ سلطنت کے دور میں یہاں کے لوگوں نے منظم فوجی طاقت دیکھی تھی، اس لیے انگریز جانتے تھے کہ اگر پنجاب بغاوت کرے تو برطانوی اقتدار کے لیے شدید خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

ابتدائی برسوں میں انگریزوں نے پنجاب میں سخت فوجی اور انتظامی نظام نافذ کیا۔ انہوں نے مقامی سرداروں، قبائلی رہنماؤں اور زمینداروں کا تفصیلی ریکارڈ تیار کیا۔ ہر قبیلے، ہر خاندان اور ہر علاقے کی سیاسی حیثیت کا جائزہ لیا گیا۔ انگریز افسروں نے جلد محسوس کیا کہ پنجاب میں براہِ راست حکومت کرنا مشکل ہوگا۔ انہیں ایسے مقامی اتحادی درکار تھے جو عوام اور حکومت کے درمیان پل کا کام کریں۔ یہی وہ سوچ تھی جس نے بعد میں وفادار جاگیردار طبقے کو جنم دیا۔

1857ء کی جنگِ آزادی اس سارے عمل کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ جب دہلی، کانپور، لکھنؤ اور شمالی ہندوستان کے کئی علاقوں میں بغاوت پھیلی تو انگریزوں کو خدشہ تھا کہ پورا ہندوستان ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ لیکن پنجاب کے بہت سے بااثر خاندانوں، قبائل اور فوجی گروہوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ سکھ سرداروں، بعض راجپوت خاندانوں، جاٹ زمینداروں اور مقامی نوابوں نے نہ صرف بغاوت میں حصہ لینے سے انکار کیا بلکہ انگریز فوج کی مدد بھی کی۔ پنجاب سے بھرتی کیے گئے سپاہیوں نے دہلی کی بازیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ تھی کہ جنگ کے بعد انگریزوں نے پنجاب کو “وفادار صوبہ” قرار دیا۔

برطانوی حکومت نے 1857ء کے بعد ایک نئی حکمتِ عملی اختیار کی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ طاقت کو بندوق کے بجائے مفادات کے ذریعے قائم رکھا جائے گا۔ زمین اس حکمتِ عملی کا سب سے اہم ہتھیار بنی۔ پنجاب میں نہری کالونیوں کا منصوبہ اسی سوچ کا نتیجہ تھا۔ اس منصوبے کے ذریعے لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو نہروں کے ذریعے قابلِ کاشت بنایا گیا۔ لیکن یہ زرعی ترقی محض معاشی منصوبہ نہیں تھی بلکہ ایک سیاسی منصوبہ تھی۔ انگریزوں نے زمین ان خاندانوں میں تقسیم کی جو ان کے وفادار تھے یا جنہیں وہ مستقبل میں اپنا اتحادی بنانا چاہتے تھے۔

پنجاب کی نہری کالونیاں برطانوی دور کا سب سے بڑا سماجی تجربہ تھیں۔ چناب کالونی، گگھیرا برانچ، جہلم کالونی، لوئر باری دوآب اور ساندل بار جیسے علاقے دراصل طاقت کی نئی تقسیم کے مراکز تھے۔ انگریز انجینئروں نے نہریں نکالیں، جنگلات کاٹے، زمینوں کو مربعوں میں تقسیم کیا اور پھر آبادی منتقل کی گئی۔ یہ پورا عمل انتہائی منظم تھا۔ ہر خاندان کو زمین اس کی وفاداری، سماجی حیثیت اور فوجی خدمات کے مطابق دی جاتی تھی۔ بعض خاندانوں کو ہزاروں ایکڑ زمین ملی جبکہ عام کسانوں کو محدود رقبہ دیا گیا تاکہ وہ ہمیشہ بڑے زمیندار کے محتاج رہیں۔

لیالپور، جو آج فیصل آباد ہے، اس منصوبے کا دل تھا۔ یہ شہر محض ایک زرعی بستی نہیں بلکہ برطانوی سیاسی انجینئرنگ کی علامت تھا۔ اس کے آٹھ بازار برطانوی جھنڈے کے یونین جیک کی طرز پر بنائے گئے۔ شہر کے گرد وسیع زرعی رقبے مخصوص خاندانوں میں تقسیم کیے گئے۔ انگریز حکومت نے یہاں فوجی ریٹائرڈ افراد، وفادار قبائل، جاگیردار خاندانوں اور بااثر برادریوں کو آباد کیا۔ مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا دیہی سماج پیدا کیا جائے جو مکمل طور پر برطانوی اقتدار سے جڑا ہو۔

ٹوانہ خاندان اس پورے نظام کی سب سے نمایاں مثال تھا۔ شاہ پور اور خوشاب کے علاقوں سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان پہلے بھی مقامی حیثیت رکھتا تھا لیکن انگریز دور میں اس کی طاقت غیر معمولی حد تک بڑھ گئی۔ سر عمر حیات ٹوانہ کو برطانوی حکومت نے اعزازات، جاگیریں اور سیاسی اختیارات دیے۔ وہ برطانوی وفاداری کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ انگریز حکومت انہیں نہ صرف زمین دیتی رہی بلکہ انہیں پنجاب کی سیاست میں مرکزی کردار بھی عطا کیا۔ خضر حیات ٹوانہ بعد میں پنجاب کے وزیرِاعلیٰ بنے اور یونینسٹ پارٹی کے اہم رہنما رہے۔ یونینسٹ پارٹی دراصل برطانوی پنجاب کے بڑے جاگیرداروں، سرداروں اور زمینداروں کا اتحاد تھی جس کا مقصد دیہی اشرافیہ کو متحد رکھنا تھا تاکہ کانگریس اور مسلم لیگ جیسی عوامی جماعتیں پنجاب میں مضبوط نہ ہو سکیں۔

نون خاندان بھی انہی وفادار اشرافیہ خاندانوں میں شامل تھا جنہوں نے برطانوی دور میں غیر معمولی ترقی کی۔ سر فیروز خان نون برطانوی حکومت کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔ وہ وائسرائے کی کونسل کا حصہ رہے، سفارتی عہدوں پر فائز ہوئے اور بعد میں پاکستان کے وزیرِاعظم بنے۔ ان کی سیاسی طاقت کی بنیاد وہ زمینیں تھیں جو انگریز دور میں خاندان کو حاصل ہوئیں۔ یہی صورتحال دولتانہ خاندان، لغاری خاندان، مزاری خاندان اور کئی دیگر جاگیردار گھرانوں کی بھی تھی۔ انگریزوں نے ان خاندانوں کو صرف زرعی زمین نہیں دی بلکہ انہیں مقامی عدالتوں، پولیس، ٹیکس وصولی اور انتظامی معاملات پر بھی اثر دیا۔

نمبرداری اور زیلداری کا نظام دراصل برطانوی حکومت کا دیہی کنٹرول کا سب سے مؤثر ذریعہ تھا۔ نمبردار حکومت اور گاؤں کے درمیان رابطہ ہوتا تھا۔ وہ ٹیکس جمع کرتا، سرکاری احکامات نافذ کرتا، پولیس کو معلومات فراہم کرتا اور مقامی آبادی پر نظر رکھتا۔ زیلدار اس سے بھی زیادہ طاقتور ہوتا تھا کیونکہ اس کے ماتحت کئی دیہات آتے تھے۔ یہ عہدے انہی خاندانوں کو دیے جاتے تھے جو انگریز حکومت کے وفادار ہوتے۔ اس طرح دیہات میں حقیقی طاقت انہی خاندانوں کے پاس چلی گئی۔

برطانوی حکومت نے پنجاب میں “مارشل ریس” کا نظریہ بھی متعارف کروایا۔ اس نظریے کے مطابق بعض قومیں فطری طور پر جنگجو اور وفادار سمجھی جاتی تھیں۔ راجپوت، جاٹ، اعوان، گکھڑ، بلوچ اور بعض پشتون قبائل کو اس فہرست میں شامل کیا گیا۔ ان برادریوں کو فوج میں بھرتی کے لیے ترجیح دی جاتی تھی۔ فوجی خدمات کے بدلے انہیں زمینیں، پنشن، اعزازات اور مراعات دی جاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں فوج اور جاگیرداری کا گہرا تعلق پیدا ہوا۔ بہت سے خاندان فوجی خدمات کے ذریعے زمین حاصل کرتے اور پھر سیاسی طاقت میں داخل ہو جاتے۔

جاٹ برادری کی ترقی بھی برطانوی پالیسی کا اہم نتیجہ تھی۔ انگریز جاٹوں کو محنتی کسان اور مضبوط سپاہی سمجھتے تھے۔ نہری کالونیوں میں جاٹ آبادکاروں کو بڑی تعداد میں زمینیں دی گئیں۔ ان میں سے کئی خاندان بعد میں بڑے زمیندار، صنعتکار اور سیاستدان بن گئے۔ پنجاب کی جدید سیاست میں جاٹ خاندانوں کی طاقت بڑی حد تک انہی برطانوی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

آرائیں برادری کو انگریز زرعی ماہر سمجھتے تھے۔ سبزی، باغبانی اور جدید کاشتکاری میں مہارت کی وجہ سے انہیں نہری علاقوں میں ترجیح دی گئی۔ فیصل آباد، اوکاڑہ اور ساہیوال میں کئی آرائیں خاندان اسی دور میں معاشی طور پر مضبوط ہوئے۔ وقت کے ساتھ ان کی طاقت صرف زراعت تک محدود نہ رہی بلکہ کاروبار، صنعت اور سیاست تک پھیل گئی۔

لیکن اس پورے نظام کا ایک تاریک پہلو بھی تھا۔ زمین کی تقسیم نے ایک شدید طبقاتی فرق پیدا کر دیا۔ ایک طرف ہزاروں ایکڑ زمین رکھنے والے جاگیردار تھے اور دوسری طرف وہ کسان جو انہی زمینوں پر مزارع بن کر کام کرتے تھے۔ دیہی پنجاب میں عام کسان معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر جاگیردار کے تابع ہو گیا۔ تعلیم، انصاف، پولیس اور روزگار سب کچھ انہی بااثر خاندانوں کے کنٹرول میں تھا۔ انگریز حکومت نے دانستہ طور پر اس طبقاتی فرق کو برقرار رکھا کیونکہ یہی فرق ان کی حکومت کی ضمانت تھا۔

پنجاب میں مزاحمت بھی موجود رہی۔ رائے احمد خان کھرل نے 1857ء میں ساندل بار کے علاقوں میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کی۔ انہوں نے مقامی قبائل کو متحد کیا اور برطانوی فوج پر حملے کیے۔ مراد فتیانہ، وٹو قبائل اور دوسرے کئی مقامی گروہ بھی مزاحمت میں شامل تھے۔ لیکن انگریز حکومت نے طاقتور وفادار خاندانوں کی مدد سے ان بغاوتوں کو دبا دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پنجاب کی تاریخ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ ایک طرف مزاحمت کرنے والے قبائل اور کسان تھے اور دوسری طرف وہ خاندان جو انگریز اقتدار کے ستون بن گئے۔

1947ء میں آزادی کے بعد بھی یہ نظام ختم نہ ہو سکا۔ پاکستان میں اقتدار انہی خاندانوں کے ہاتھ میں آیا جو برطانوی دور میں طاقتور بنائے گئے تھے۔ جاگیریں برقرار رہیں، زرعی اصلاحات ناکام رہیں اور دیہی سیاست خاندانوں کے گرد گھومتی رہی۔ پاکستان کی اسمبلیوں، بیوروکریسی اور فوج میں انہی اشرافیہ خاندانوں کا اثر قائم رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پنجاب کی سیاست میں کئی ایسے نام موجود ہیں جن کی طاقت کی جڑیں براہِ راست برطانوی دور تک جاتی ہیں۔

اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو برطانوی راج نے صرف زمین تقسیم نہیں کی بلکہ اس نے طاقت کی ایک مستقل ساخت قائم کی۔ اس ساخت میں زمین دولت کا ذریعہ تھی، دولت سیاست کو کنٹرول کرتی تھی، سیاست انتظامیہ کو متاثر کرتی تھی اور انتظامیہ دوبارہ انہی خاندانوں کو مضبوط بناتی تھی۔ یہ ایک ایسا دائرہ تھا جو آزادی کے بعد بھی ٹوٹ نہ سکا۔ پنجاب کی نہریں صرف پانی کا نظام نہیں تھیں بلکہ وہ ایک سیاسی ہتھیار تھیں جن کے ذریعے وفاداری خریدی گئی، سماجی ڈھانچہ تبدیل کیا گیا اور ایک ایسا اشرافیہ طبقہ پیدا کیا گیا جو نسلوں تک طاقت پر قابض رہا۔

اسی لیے پنجاب اور پاکستان کی موجودہ سیاست کو سمجھنے کے لیے برطانوی دور کی ان پالیسیوں کا مطالعہ ضروری ہے۔ آج کے بڑے سیاسی خاندان، دیہی طاقت کا نظام، وڈیرا کلچر، انتخابی دھڑے بندی اور زمین کی غیر مساوی تقسیم سب کسی نہ کسی شکل میں اسی نوآبادیاتی وراثت کا تسلسل ہیں۔ برطانوی حکومت نے صرف ایک ملک پر قبضہ نہیں کیا تھا بلکہ اس نے ایک ایسا طبقہ تخلیق کیا تھا جو اس کے جانے کے بعد بھی اس کے بنائے ہوئے نظام کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

انگریز کی مغل دربار  میں پہلی حاضری 10 جنوری 1616۔ بظاہر یہ صرف ایک درباری ملاقات تھی۔ ایک انگریز سفیر، چند تحائف، ایک د...
29/05/2026

انگریز کی مغل دربار میں پہلی حاضری

10 جنوری 1616۔ بظاہر یہ صرف ایک درباری ملاقات تھی۔ ایک
انگریز سفیر، چند تحائف، ایک درخواست، اور مغل دربار کی شان و شوکت۔ مگر تاریخ کے لمبے سفر میں یہی لمحہ برصغیر کی تقدیر بدلنے والے سب سے سنگین موڑوں میں شمار ہوا۔
اس پینٹنگ میں تخت پر بیٹھا شخص نورالدین محمد جہانگیر ہے، اکبر اعظم کا بیٹا اور مغل سلطنت کا چوتھا بادشاہ۔ سامنے کھڑا انگریز سفیر سر تھامس رو ہے، جو برطانیہ کے بادشاہ جیمز اول کا نمائندہ بن کر آیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں درخواست ہے، لیکن حقیقت میں وہ درخواست نہیں، آنے والے دو سو برسوں کی غلامی کا ابتدائی پروانہ تھا۔
یہ پینٹنگ مغل دور کی منی ایچر روایت سے متاثر بعد کے زمانے کی تاریخی مصوری مانی جاتی ہے۔ اصل ملاقات کی کئی تصویری تشریحات بعد میں یورپی اور ہندوستانی مصوروں نے بنائیں، اس لیے اس مخصوص تصویر کا حتمی مصور متعین کرنا مشکل ہے، لیکن اس کا منظر تاریخی حوالوں سے مشہور ہے: سر تھامس رو کا جہانگیر کے دربار میں حاضر ہونا۔
سر تھامس رو 1615 میں ہندوستان پہنچا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اس سے پہلے بھی کوششیں کر چکی تھی کہ مغل سلطنت سے باقاعدہ تجارتی اجازت حاصل کی جائے، مگر پرتگیزی اثر و رسوخ، درباری سازشیں اور مغل دربار کی پیچیدہ رسومات انگریزوں کے راستے میں رکاوٹ تھیں۔ رو کو مہینوں انتظار کرنا پڑا۔ کبھی درباری اسے اندر نہ جانے دیتے، کبھی ملاقات ملتوی ہو جاتی۔ مغل سلطنت اس وقت دنیا کی امیر ترین سلطنتوں میں شمار ہوتی تھی، جبکہ انگلستان ایک ابھرتی ہوئی بحری طاقت تھا۔ جہانگیر کے لیے یہ چند تاجروں کی درخواست تھی، لیکن ان تاجروں کی پشت پر ایک ایسی سلطنت کھڑی ہو رہی تھی جو سمندروں پر قبضہ جما رہی تھی۔
آخرکار 10 جنوری 1616 کو یہ ملاقات ہوئی۔ جہانگیر کو تحائف پیش کیے گئے۔ انگریزوں نے عاجزی دکھائی، دوستی کی بات کی، تجارت کی اجازت مانگی۔ مغل دربار نے شاید اسے ایک معمولی سفارتی واقعہ سمجھا۔ انہیں اندازہ نہ تھا کہ ساحلوں پر تجارتی کوٹھیاں مانگنے والے یہی لوگ ایک دن توپوں کے دہانے پر پورا ہندوستان کھڑا کر دیں گے۔
پہلے انہوں نے صرف تجارت کی۔ سورت، مدراس، بمبئی اور کلکتہ میں فیکٹریاں قائم ہوئیں۔ پھر انہوں نے مقامی سیاست میں مداخلت شروع کی۔ ایک ریاست کو دوسری کے خلاف استعمال کیا۔ مقامی نوابوں اور درباریوں کو خریدا گیا۔ اور پھر وہ وقت آیا جب تجارت کرنے والی کمپنی نے فوج کھڑی کر لی۔
1757 میں پلّاسی کی جنگ ہوئی۔ بنگال کے نواب سراج الدولہ کو میر جعفر کی غداری کے ذریعے شکست دی گئی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ایسٹ انڈیا کمپنی پہلی بار صرف تاجر نہیں رہی بلکہ حکمران بن گئی۔ بنگال کی دولت انگریز خزانے میں بہنا شروع ہوئی۔ ہندوستان کے وسائل نے برطانیہ کے صنعتی انقلاب کو ایندھن فراہم کیا۔
1616 سے 1757 تک تقریباً 141 سال لگے کہ ایک تجارتی کمپنی سیاسی طاقت میں تبدیل ہو جائے۔ اور پھر 1757 سے 1857 تک مزید سو برس میں پورا برصغیر انگریز اقتدار کے شکنجے میں چلا گیا۔
1857 کی جنگِ آزادی دراصل اسی ملاقات کا آخری باب تھی۔ وہی کمپنی جس نے جہانگیر کے دربار میں اجازت مانگی تھی، دو صدیوں بعد دہلی کے لال قلعے پر قبضہ کر چکی تھی۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو رنگون جلا وطن کر دیا گیا۔
تاریخ کے عجیب منظر ہوتے ہیں۔ جہانگیر کے دربار میں شاید کسی نے نہیں سوچا ہوگا کہ ایک معمولی سا انگریز سفیر، جو دربار میں داخلے کے لیے ترس رہا ہے، آنے والے وقت میں ایسی طاقت کی بنیاد رکھ رہا ہے جو تاجِ مغلیہ ہی نہیں، پورے برصغیر کی قسمت بدل دے گی۔
یہ صرف ایک ملاقات نہیں تھی۔
یہ ہندوستان میں انگریز اقتدار کے پہلے قدم کی دستک تھی۔
ایک خاموش دستک… جس کی گونج دو سو سال تک سنائی دیتی رہی۔

1919 یعنی 107 سالہ یادگار نقشہ صوبہ سرحد چیف کمشنر لیفٹیننٹ کرنل سر جارج روس کیپل چھترارو دورہ گیکو وختو فوٹومہتر سر شجا...
23/05/2026

1919 یعنی 107 سالہ یادگار نقشہ
صوبہ سرحد چیف کمشنر لیفٹیننٹ کرنل سر جارج روس کیپل چھترارو دورہ گیکو وختو فوٹو

مہتر سر شجاع الملک بولو سوم بیتی لواری ٹاپ بی ہورو استقبالو کوری گانی انگویان
ہاتو بچن کیلاشن پھونیکو وا عام رویان درون پھیسیکو وا ایشٹوکو جشن دی بیرو بیرائے
تھے وا حیران کو بومیان افارگیاک مینونتن پروشٹ بیک قدیمار تان شاک بیرائے ( کی نو)

Lieutenant-Colonel Sir George Roos-Keppel, the Chief Commissioner of North West Frontier Province 1919.

Courtesy: National Army Museum, UK.

👍Riaz Karim

23/05/2026
ایسا لگتا ہے کہ موجودہ پی ٹی آئی قیادت اور اراکین 2008 کی اے این پی حکومت کی کرپشن کے ریکارڈ بھی توڑ رہے ہیں۔ یہ بات ایم...
23/05/2026

ایسا لگتا ہے کہ موجودہ پی ٹی آئی قیادت اور اراکین 2008 کی اے این پی حکومت کی کرپشن کے ریکارڈ بھی توڑ رہے ہیں۔ یہ بات ایم این ایز اور ایم پی ایز کے اثاثوں، اور انتخابات سے پہلے اور اب گزشتہ 13 سال حکومت میں رہنے کے بعد اُن کی ذاتی اور خاندانی زندگی کے انداز سے واضح ہوتی ہے۔
اللہ ہمارے صوبہ خیبر پختونخوا کے غریب لوگوں پر رحم فرمائے۔

22/05/2026

یہ شخص خیبر پختونخوا کابینہ میں وزیر بن گیا جو ذاتی حیثیت اور وقار کے لحاظ سے گاؤں کا کونسلر بننے کے بھی قابل نہیں تھا۔ جیسا کہ پہلے بھی بات ہو چکی ہے، یہ ایک باہر سے آیا ہوا کوچی کابلی (احمدزئی) ہے جو شبقدر دوآبہ میں آباد ہوا، مگر پھر بھی مسلسل شبقدر دوآبہ عوام کو دھوکہ دے رہا ہے۔ بدقسمتی سے اس نے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا کام نہیں کیا، جیسا کہ خیبر پختونخوا کے دیگر حلقوں کے نمائندوں نے کیا، جہاں قابل منتخب نمائندوں نے نمایاں ترقی فراہم کی ہے۔

گزشتہ 13 برسوں میں اس نے معمولی اور روایتی کاموں کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ شبقدر دوآبہ کے عوام نے باہر سے آئے ہوئے، کرپٹ اور نااہل ایم پی اے اور ایم این اے کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اب عوام ان کی حقیقت کو پہچان چکے ہیں اور پی ٹی آئی اور عمران خان کے نام پر ایسے افراد کو ووٹ دینے پر پچھتا رہے ہیں۔ ان شاء اللہ، اگلے انتخابات میں وہ یہ غلطی دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔

پشاور کا مشہور "باڑہ کا پانی یہ جملہ آپ سب نے کئی دفعہ سنا یا پڑھا ہوگا کہ پرانے پشاور میں باڑہ کا پانی خاص سرکاری نلکوں...
22/05/2026

پشاور کا مشہور "باڑہ کا پانی
یہ جملہ آپ سب نے کئی دفعہ سنا یا پڑھا ہوگا کہ پرانے پشاور میں باڑہ کا پانی خاص سرکاری نلکوں میں آتا تھا ،جو کہ بہت ہی میٹھا اور ذودہاضم تھا ۔
تو آج جانتے ہیں کہ یہ باڑہ کا پانی کیا تھا ۔
یہ 19ویں صدی کا وہ منصوبہ تھا جو پشاور شہر کے لیے پینے کے صاف پانی کی شہ رگ سمجھا جاتا تھا۔
باڑہ کا پانی کیا ہے؟
دریائے باڑہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے تیراہ کے پہاڑوں سے نکلتا ہے اور پشاور کے جنوب مغرب سے گزر کر کابل دریا میں گرتا ہے۔ اس پانی کی شہرت صدیوں پرانی ہے۔
لوگ اسے "افسانوی طاقت اور پاکیزگی" والا پانی کہتے تھے کیونکہ:
- پہاڑی راستے سے آنے کی وجہ سے قدرتی طور پر صاف اور ٹھنڈا ہوتا تھا
- اس کی مٹی اور پانی دونوں زرخیز سمجھے جاتے تھے
- اسی پانی سے اگنے والا "باڑہ چاول" پورے علاقے میں مشہور تھا۔
علی مردان خان مغل شہنشاہ شاہ جہان کے مشہور انجینئر اور گورنر تھے۔ 17ویں صدی میں انہوں نے لاہور میں شالیمار باغ اور پشاور کے آس پاس بھی نہری نظام بہتر کیے۔
علی مردان خان نے باڑہ کے پانی کو نہروں کے ذریعے باغات تک پہنچایا۔ اسی وجہ سے پشاور کے گردونواح میں سرسبز باغات اور پھلوں کے باغ لگے۔ اسی پانی اور سرخ مٹی کی وجہ سے "باڑہ چاول" کا ذائقہ اور خوشبو مشہور ہوئی
انگریزوں کے دور حکومت میں ایک دفعہ پشاور میں ہیضے کی وبا پھوٹ پڑی ،تو فرنگیوں نے پشاور کے لئے صاف پانی کی تلاش شروع کردی۔
1869 میں، پشاور ڈویژن کے ایگزیکٹو انجینئر کیپٹن بلیئر نے دریائے باڑہ کو میدان کے مشرق کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے پشاور کی طرف قدرتی بہاؤ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے سب سے موزوں ذریعہ قرار دیا۔ اس کی رپورٹ نے خطے کے 30 سے 50 فٹ فی میل کے قدرتی میلان کو دیکھتے ہوئے، اوپن کٹ چینل یا پائپ سسٹم کے ذریعے دریا کے بہاؤ کو کشش ثقل کے ذریعے پشاور تک پہنچانے کی فزیبلٹی کو اجاگر کیا۔
قلعہ باڑہ کے قریب دریائے باڑہ کا بیڈ پشاور چھاؤنی کے مغربی سرے سے 305 فٹ بلند ہے اور شہر کے کابلی دروازے سے 433 فٹ بلند ہے، جو پمپ کی ضرورت کے بغیر کشش ثقل کے بہاؤ کو یقینی بناتا ہے۔ یہ دریا 1.6 کلومیٹر زیر زمین سرنگ میں داخل ہوتا ہے، جسے سکھ دور کے باڑہ (کشن گڑھ) قلعے کے قریب پانچ تلچھٹ کے ٹینک بنتے ہیں۔ وہاں سے، زمین کے اوپر اور نیچے دونوں اینٹوں کی نالیاں، مین باڑہ روڈ پر واقع پشتخرہ فلٹریشن بیڈز تک پانی کو 6 کلومیٹر تک لے جاتی ہیں۔
1883 میں، پشاور کے میڈیکل آفیسر نے نوٹ کیا کہ کھلی نالیوں کو تبدیل کرنے اور فلٹریشن کے ذریعے پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے لوہے کے پائپ متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ محکمہ تعمیرات عامہ کے ایگزیکٹو انجینئر سر گنگا رام نے پشاور شہر کے لیے پانی کی فراہمی اور نکاسی کی پہلی وسیع اسکیم دی جسے بعد میں دوسرے شہروں میں بھی نقل کیا گیا۔ 1898 سینیٹری کمیشن کی رپورٹ نے دریا سے پانی نکالنے، نجاستوں کو حل کرنے، ریت اور شنگلی کی تہوں سے فلٹر کرنے اور بند ذخائر کے اندر پانی کو محفوظ کرنے کے وسیع عمل کو بیان کیا۔ 1918 تک، نظام اچھی طرح سے قائم ہو چکا تھا، صاف اور موثر تقسیم کو یقینی بناتا تھا۔
اس کے کئی اہم حصے تھے
- مین ممبع/سورس: دریائے باڑہ
- فلٹریشن پلانٹ: پشتخرہ فلٹریشن سٹیشن، جو اب بھی مین باڑہ روڈ پر موجود ہے
- پہاڑوں سے پانی کو نہروں اور پائپ لائنز کے ذریعے بغیر پمپ کے گریویٹی سے پشاور تک لایا جاتا تھا
یہ اس زمانے کے لیے انجینئرنگ کا کمال تھا۔ پشاور کا پانی اسی نظام سے پورے شہر میں سپلائی ہوتا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 140 سال بعد بھی یہ نظام مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
- پشتخرہ فلٹریشن پلانٹ اب بھی جزوی طور پر چلتا ہے
- لیکن آبادی بڑھنے اور مینٹیننس نہ ہونے کی وجہ سے اب یہ پشاور کی کل ضرورت کا صرف ایک چھوٹا حصہ پورا کرتا ہے
- زیادہ تر پانی اب ٹیوب ویلز اور دوسرے ذرائع سے آتا ہے

اس لیے لوگ اب بھی "باڑہ کا پانی" کو خالص اور صحت بخش سمجھتے ہیں، اور پرانے پشاوری اس کے ذائقے کو یاد کرتے ہیں۔
مختصر یہ کہ باڑہ کا پانی پشاور کے لیے صرف پانی نہیں، ایک تاریخی ورثہ اور شناخت ہے۔ مغل دور سے لے کر برطانوی راج تک یہ شہر کی ترقی کا بنیادی سبب رہا۔
آپ لوگوں کی یادیں وابستہ ہیں تو زرا سب سے بانٹئے ۔

یہ تصویر 1920 کی ہے ۔
جس میں قلعہ باڑہ ، دریائے باڑہ اور پانی ذخیرہ کرنے کا تالاب دکھائی دے رہا ۔

ہزارہ ڈویژن کے 3 بڑے اضلاع میں پشتون دوسری سب سے بڑی آبادی تھے۔ہزارہ گزٹیئر کے مردم شماری چارٹ میں 1881، 1891 اور 1901 ک...
21/05/2026

ہزارہ ڈویژن کے 3 بڑے اضلاع میں پشتون دوسری سب سے بڑی آبادی تھے۔

ہزارہ گزٹیئر کے مردم شماری چارٹ میں 1881، 1891 اور 1901 کی مردم شماری کے مطابق مختلف قبائل کی آبادی درج ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق اعوانوں کے بعد “پٹھان” تینوں بڑے اضلاع میں دوسری بڑی آبادی تھے۔

1881 — 64,695
1891 — 76,225
1901 — 52,127

یہ اعداد و شمار صرف تین بڑے اضلاع — ہری پور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ — کے تھے۔ اگر پشتون اکثریتی اضلاع جیسے بٹگرام، تورغر اور کولئی پالس کوہستان کو بھی شامل کیا جائے تو پورے ہزارہ ڈویژن میں پشتون سب سے بڑی قوم بنتے ہیں۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہزارہ ڈویژن تاریخی طور پر ہمیشہ ایک مضبوط پشتون اکثریتی خطہ رہا ہے۔

پنڈیالی سے تعلق رکھنے والا یہ بیرونی ایم این اے شبقدر دوآبہ کے لوگوں کا مذاق اڑا رہا ہے۔یہ جنازگاہ کی تعمیر کو “ترقی” قر...
19/05/2026

پنڈیالی سے تعلق رکھنے والا یہ بیرونی ایم این اے شبقدر دوآبہ کے لوگوں کا مذاق اڑا رہا ہے۔
یہ جنازگاہ کی تعمیر کو “ترقی” قرار دیتا ہے، جبکہ اصل ترقی نئے ہسپتالوں، موٹروے کی توسیع، یونیورسٹی کیمپسز اور صنعتی زونز ہوتے ہیں، جو علاقے کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
مگر یہ لوگ عوامی فنڈز ایسے منصوبوں پر صرف کرتے ہیں تاکہ کمیشن کھا سکیں ۔موران، کورونہ مٹہ مغل خیل شبقدر دوآبہ میں قبضہ شدہ زمینوں پر کسانوں کی زندگی گزارنے والے آج اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ Imran Khan کے نام پر معصوم ووٹروں کو بے وقوف بنا رہے ہیں اور اسلام آباد میں عیش و عشرت کی زندگی گزار سکیں، جبکہ ان کی اولاد لگژری گاڑیوں، کلبوں اور گالف سے لطف اندوز ہوں۔
افسوس شبقدر دوآبہ کے لوگوں پر۔

عمران خان کا کرپشن کے خلاف اسٹانس اتنا مضبوط تھا کہ انہوں نے Pervez Musharraf جیسے ڈکٹیٹر کو بھی سپورٹ کیا، کیونکہ وہ کر...
19/05/2026

عمران خان کا کرپشن کے خلاف اسٹانس اتنا مضبوط تھا کہ انہوں نے Pervez Musharraf جیسے ڈکٹیٹر کو بھی سپورٹ کیا، کیونکہ وہ کرپشن کے خلاف ایکشن چاہتے تھے۔ تو پھر وہ اپنے ہی ایم این اے اور ایم پی اے کو، خاص طور پر ہمارے علاقے شبقدر دوآبہ میں ہونے والی بڑی کرپشن پر، کیسے اسپیر کر سکتے ہیں؟

Address

Matta Mughal Khel , Doaba
Shabqadar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tareekhe Shabqadar Doaba ملک گیگیانی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share